انگریزی ادب میں گوتھک روایت کے کچھ شاہکار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اٹھارہویں اور اننیسویں صدی کے یورپ خصوصاً انگلستان میں خوفناک کہانیوں اور ناولوں کی ایک صنف نے جنم لیا جو گوتھک ادب کہلائی۔ گوتھک ادب کے بنیادی عناصر مخصوص تھے : ایک قدیم قلعہ نما عمارت جس کا ارکیٹیکچر بڑی حد تک گوتھک ہو، آسیبی فضا، پراسرار واقعات، ایک چالاک و سفاک اور بعض حالات میں مافوق الفطرت قووتوں کا مالک ولن، مشکلات میں گھری ہوئی حسینہ اور رومانوی خصوصیات کا حامل ہیرو۔ یوں تو یورپ کی تقریباً ہر زبان میں گوتھک ادب لکھا گیا مگر اسے سب سے زیادہ مقبولیت انگلش اسپیکنگ دنیا میں ہی ملی۔ بیسویں صدی میں سنیما اور ٹی وی کی آمد کے بعد یہ صنف کتابوں کی دنیا سے نکل کر نئی شاہراؤں پہ گامزن ہو گئی۔ اپنے عہد میں تماتر مقبولیت کے باوجود گوتھک ادب کا بڑا حصہ فی زمانہ فراموش کیا جاچکا ہے، تاہم کچھ تحریریں عالمی ادب کے کلاسک میں شمار ہوتی ہیں۔ یہاں ہم ایسی ہی کچھ تحریروں کا جائزہ لیں گے۔

فریکینسٹائن،ز مونسٹر

میری شیلی کا ناول فریکینسٹائنز مونسٹر بلاشبہ گوتھک ادب کا شاہکار ہے جو اپنے ہولناک پس منظر اور پلاٹ کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ایک کامیاب گوتھک ناول کے تمام عناصر سموئے ہوئے ہے۔ یہ کہانی بظاہر ایک نوجوان ساٰئنسدان کے ایڈونچر اور پھر اس کے نتیجے میں پیش آنے والے خوفناک واقعات کا بیان ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کہانی کے ہیرو کے المیائی انجام کی یونانی دیومالا کے کردار پرومیتھئس سے مماثلت ناول کو ایک نئی جہت عطا کرتی ہے۔

پرومیتھئس کی طرح فرینکنسٹائن بھی عظمت انسانی کے خبط میں مبتلا ہو کر علوم کے ان سرچشموں کی جانب جا نکلتا ہے جو فکر انسانی کے لیے ممنوع ہیں۔ وہ غیر حیاتی اجزا سے حیات تخلیق کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک تجربے کے دوران ایک عفریت تخلیق کر بیٹھتا ہے جو بعد میں اس کے خاندان اور خود اس کی موت کا باعث بنتا ہے۔ میری شیلی نے یہ ناول بیس سال کی عمر میں دوستوں سے شرط لگا کر لکھا تھا اور اس کی کامیابی سے متاثر ہو کر اس صنف میں طبع آزمائی جاری رکھی مگر فریکینسٹائنز مونسٹر جیسی چیز دوبارہ نہ لکھ سکیں۔ غالیبا آمد اور آورد کا فرق اسی کو کہتے ہیں۔

ڈریکولا

گوتھک مصنفین میں سے کسی اور کے حصے میں وہ شہرت اور پذیرائی نہ آئی جو آئرش ادیب بارم سٹوکر کو ملی۔ اس کا ناول ڈریکولا غالباً سب سے زیادہ پڑھا جانے والا گوتھک ناول ہے جس کا مرکزی کردار کاونٹ ڈریکولا عالمی ادب کے مقبول ترین کرداروں میں سے ایک ہے جو بیسویں صدی میں لاتعداد کہانیوں اور فلموں میں نمودار ہوا۔ فریکینسٹائن ز مونسٹر کی طرح ڈریکولا بھی ایک قدیم قلعے سے متاثر ہو کر لکھا گیا اور اس کی کہانی بھی کئی راویوں کی زبانی بیان ہوئی ہے مگر جہاں میری شیلی نے فریکینسٹائنز مونسٹر تقریباً قلم برداشتہ لکھا تھا وہیں بارم سٹوکرنے ڈریکولا کے لیے آٹھ سے دس سال تحقیق کی اور سارے یورپ کی لوک داستانوں کو کھنگال ڈالا۔ یوں بھی ڈریکولا کی اشاعت تک گوتھک ادب اپنا بہترین دور دیکھ چکا تھا، یہ سارا ورثہ بارم سٹوکر کے کام آیا۔ ڈریکولا کے بعد بارم سٹوکرنے گوتھک ادب میں مزید قسمت آزمائی کی اور کئی مشہور ناول اور کہانیاں لکھیں جس میں دی لئیر آف وائٹ وارم اور ڈریکولا کے کردار پر مشتمل کہانیاں شامل ہیں۔

اسٹرینج کیس آف ڈاکٹر جیکل اینڈ مسٹر ہائڈ

جادو بیان مصنف رابرٹ لوئی اسٹیفنسن یوں تو اپنے ایڈونچر ناولوں کی وجہ سے مشہور ہے مگر اس کا غالباً سب سے مشہور ناول ڈاکٹر جیکل اینڈ مسٹر ہائڈ ہے۔ لوئی اسٹیفنسن کے دیگر ناولوں کی طرح یہ ناول بھی مختصر مگر دلچسپ ہے جو قاری کو پہلی سطر سے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ یہ ناول بھی ایک ناکام سانسی تجربے سے پیدا ہونے والے خوفناک حالات کا بیان ہے۔ جبرائل اوٹرسن اپنے مؤکل ڈاکٹر ہنری جیکل کے متعلق پریشان کن خبریں سنتا ہے، ان خبروں کا مرکز ڈاکٹر جیکل کا پراسرار دوست ایڈورڈ ہائڈ ہے۔

فکرمند اوٹرسن ہائڈ کی سرگرمیوں اور ڈاکٹر جیکل سے اس کے تعلق پر تحقیق شروع کرتا ہے اور یوں حیرت انگیز انکشافات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو ایک قتل سے ہوتا ہوا اوٹرسن اور ڈاکٹر جیکل کے مشترکہ دوست کی المناک موت تک جا پہنچتا ہے۔ روایتی گوتھک ناولوں کے برخلاف اس کہانی میں خوفناک واقعات کا تسلسل ہے اور نہ مافوق الفطرت قوتوں کا ٹکراؤ، مگر اس کمی کو سسپنس نے پورا کر دیا ہے۔

دی پکچر آف ڈورین گرے

آسکروائلڈ انیسویں صدی کا مقبول ترین انگریزی ادیب ہے۔ اس کے ناول دی پکچر آف ڈورین گرے کا شمار بھی بڑے گوتھک ناولوں کیا جاتا ہے۔ ناول کا مرکزی خیال گوئیٹے کے فاؤسٹ سے مماثل ہے جس میں نوجوان ڈورین گرے ہمیشہ رہنے والی جوانی کے عوض شیطان کو اپنی روح بیچنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے، کسی پراسرار قوت کے زیر اثر یہ خواہش پوری ہو جاتی ہے۔ فاؤسٹ کے برعکس اس ناول میں شیطان کا کوئی خارجی وجود نہیں بلکہ بڑی حد تک یہ ہیرو کی باطنی کشمکش کا احوال ہے یا پھر کہیں کہیں لارڈ واٹن کے نشاط پرست فلسفے کی صورت میں نظر آتا ہے۔

اسی نشاط پرستی کے زیر اثر ڈورین گرے معمولی فریب اور بے وفائی سے لے کر قتل اور بلیک میلنگ جیسے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے۔ ناول میں مافوق الفطرت واقعات اور خوف و تحیر کی فضا پیدا کرنے سے زیادہ انسان کے اندر نیکی اور بدی کی ازلی جنگ کو موضوع بنایا گیا ہے۔ آسکروائلڈ کے کاٹ دار فقروں اور گہرے سماجی طنز کی وجہ سے یہ کتاب سنجیدہ مطالعے کی حقدار ہے۔

یہاں ہم آسکروائلڈ کے ایک اور ناول کنٹروائل کا بھوت کا ذکر بھی کرنا چاہیں گے جس میں ایک امریکی خاندان انگلینڈ کے ایک قدیم قلعے کو خرید کر اس میں رہائش اختیار کرتا ہے اور قلعے کا بھوت انہیں بھگانے کی کوشش کرتا ہے، یون دونون کے درمیان کشمکش شروع ہو جاتی ہے جو آ خر کار بھوت کی موت کے راز سے پردہ اٹھاتی ہے۔ یہ ناول گوتھک ادب میں ایک اچھوتا تجربہ ہے کیونکہ یہ خوفناک کے بجائے مزاحیہ ہے اور یوں اسے گوتھک ہارر کے بجائے گوتھک ہیومر کی صنف میں شامل کیا جانا چاہیے

دی لیجنڈ آف سلیپی ہولو

اب ذرا اوقیانوس کے پار چلتے ہیں جہاں یورپ سے درامد شدہ گوتھک ناولوں کی مقبولیت نے امریکی ادیبوں کو بھی اس میدان میں قسمت آزمائی پہ آمادہ کیا۔ سب سے پہلا نام واشنگٹن ارونگ کا آتا ہے۔ واشنگٹن ارونگ نے سوانح عمری بھی لکھیں اور سفرنامے بھی مگر اس کی شہرت بحیثیت کہانی نویس ہی ہے۔ لیجنڈ آف سلیپی ہولو عشق و رقابت کے پس منظر میں لکھی گئی طویل کہانی ہے جو خوف کی نفسیات کا بہترین تجزیہ ہے۔ کہانی کی ابتدا میں مصنف نے اٹھارہویں صدی کے امریکہ کی منظرکشی کی ہے جہاں مشرقی ساحل پہ یورپی آبادکاروں کی خال خال بستیاں ہیں جن کے درمیان وسیع و عریض جنگل اور بیابان ہیں۔

یہ سرزمین دیومالا اور اسرار کے لیے نہایت زرخیز ہے اور اسی لیے کہانی کے تمام کردار بھوت پریت اور آسیب کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ بتایا گیا کہ کہانی دو رقیبوں کے درمیان کشمکش کا بیان ہے جو ایک سر کٹے بھوت سے ڈرامائی ملاقات پہ ختم ہوتی ہے۔ کہانی کے ہولناک پس منظر کے باوجود واشنگٹن ارونگ نے اختتام کو مزاحیہ موڑ دیا ہے جو کمال فن کا ثبوت ہے۔ برسبیل تذکرہ یہ بتاتے چلیں کہ سلیپی ہولوکے نام سے بننے والی ہالی وڈ کی مشہور فلم کا واشنگٹن ارونگ کی اس کہانی سے کوئی تعلق نہیں۔

اے کرسمس کیرول

وکٹورین عہد کے عظیم ناول نگار چارلس ڈکنزکا یہ مختصر ناول بھی گوتھک ادب کا اہم حصہ ہے اور غالباً اولیورٹوئسٹ کے بعد اس کی مقبول ترین تصنیف بھی۔ بوڑھا اسکروج عالم خواب میں تین کرسمس کے بھوتوں سے ملاقات کرتا ہے جو اسے زمانہ حال ماضی اور مستقبل کے کرسمس کی جھلکیاں دکھاتے ہیں، اس سے پہلے اسکروج کا مرحوم دوست مارلی اسے کنجوسی اور زر پرستی کے انجام سے ڈرا چکا تھا۔ یوں اگلی صبح بیدار ہونے والا اسکروج ایک مختلف انسان بن جاتا ہے۔

یہ ناول ڈکنز کے فکشن کی سب سے بڑی خامی یعنی بے جا طوالت اور غیر ضروری تکرار سے پا ک ہے جس میں خوف اور تحیر کی فضا کے ساتھ ساتھ مصنف کے پسندیدہ موضوعات یعنی دولت کے ارتکاز کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اخلاقی برائیوں اور سرمایہ داری کے ابتدائی دور کے معاشی استحصال اور سماجی جبر کی بھر پور عکاسی کی گئی ہے۔ ڈکنز کی رجائیت پسند طبیعت کو میلوڈرامائی یا المیائی انجام سے چڑ ہے اس لیے کہانی کا اختتام ایک خوشگوار موڑ پر ہوتا ہے جہاں ایک خندہ زیرلب قاری کا منتظر ہے۔ کرسمس کے تہوار سے وابستہ عوامی ثقافت کی جاندار عکاسی کی وجہ سے اس کتاب کو مغربی دنیا میں ایک تہذیبی اہمیت بھی حاصل ہے۔

مین فریڈ

لارڈ بائرن کا منظوم ڈرامہ مین فریڈ، جسے وہ اپنا مابعد اطبیعاتی کارنامہ کہنے پر مصر رہا، میری اور پرسی شیلے کے ساتھ اسی مشہور زمانہ نشست کا نتیجہ ہے جس کا ذکر فریکینسٹائنز مونسٹر کے حوالے سے کیا جا چکا ہے۔ مین فریڈ ایلپس کی پہاڑیوں میں مقیم ہے جہاں وہ سحر اور سری علوم کی مدد سے کاینات کی خفیہ قووتوں کو طلب کرتا ہے۔ اس کا مقصد ان طاقتوں کی اعانت سے اپنے احساس جرم سے نجات پانا چاہتا ہے، اس جرم کی کوئی وضاحت نہیں دی گئی مگر ہم یہ جانتے ہیں کہ اس کا تعلق اس کی محبوبہ عاشطور سے ہے۔

یہ طاقتیں مین فریڈ کی مدد سے قاصر ہیں اور جب اس کا وفادار ملازم مذہب کے ذریعے نجات کا مشورہ دیتا ہے تو وہ اسے مسترد کرکے موت کو ترجیح دیتا ہے۔ اس ڈرامے کی تحریر کے زمانہ، 1815 تا 1818، میں بائرن کی زندگی شدید جذباتی اور اخلاقی تلاطم سے گزر رہی تھی، اپنے باطن کی اس کشمکش کو بائرن نے نہائیت خوش اسلوبی سے ڈرامے کے مافوق الفطرت عناصر میں سمو دیا ہے۔ اسی سوانحی جہت کی وجہ سے مین فریڈ کو بعض نقاد احساس جرم کے تحت لکھی گئی تحریر قرار دیتے ہیں۔

دی ہاؤنڈ آف باسکرول

شرلاک ہومز کے کردار سے کون واقف نہیں، آرتھر کونن ڈوئیل کا تخلیق کردہ جاسوس یوں تو پیچیدہ جرائم کی گتھئاں سلجھانے کا ماہر ہے مگر اس بار اس کا پالا مافوق الفطرت طاقتوں سے پڑا ہے۔ ایک بدعا ہے جو کئی صدیوں سے باسکرول خاندان کا پیچھا کر رہی ہے، انگلش مورز کے دلدلی میدانوں پہ چھائی ہوئی آسیبی دھند ہے اور ایک قوی ہیکل کتا ہے۔ کیا شرلاک ہومز اور اس کا دوست واٹسن باسکرول کے کتے کے راز سے پردہ اٹھا پائیں گے یہ جاننے کے لیے آپ کو کتاب کھولنی پڑے گی، اور یہ ہمارا دعویٰ ہے کہ ایک بار شروع کرنے کہ بعد آپ ختم کیے بغیر نہیں رکھیں گے۔

دی فال آف دی ہاؤس آف اوشرز

ایڈگر ایلن پو مختصر افسانے کے معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے ناولٹ دی فال آف دی ہاؤس آف اوشرز کو سری ادب کے کلاسک میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کہانی کے راوی کو اس کا دوست روڈرک اوشر اپنی خاندانی حویلی میں کچھ وقت قیام کے لیے مدعو کرتا ہے۔ یہ حویلی ایک دور دراز قصبے میں جھیل کے کنارے واقع ہے۔ حویلی پہ پہلی نگاہ پڑتے ہی راوی کو یہاں کسی پراسرار طاقت کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ یہاں روڈرک اوشر اور اس کی جڑواں بہن اکیلے رہتے ہیں اور اپنے خاندان میں موجود کسی موروثی بیماری کی وجہ سے موت کے منتظر ہیں۔

اس یقین نے ان کے اندر ایک سوگوار سپردگی پیدا کردی ہے جو راوی کو انجانے خوف کا احساس دلاتی ہے۔ کہانی میں روڈرک کی بہن کی اچانک موت سے ایک ڈرامائی موڑ آتا ہے جس کی نعش کو روڈرک کے اصرار پہ دونوں دوست ایک تہ خانے میں رکھ دیتے ہیں۔ ایڈگر ایلن پو نے اس کہانی کے مجموئی تاثر کو جان بوجھ کے مبہم رکھا ہے، یوں راوی اور اس کے توسط سے قاری آخر تک یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ اوشر خاندان واقعی کسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے یا وہاں کوئی شیطانی طاقت موجود ہے۔

ناول کی سن اشاعت سے لے کر اب تک اسے کئی معنی پہنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بعض نقاد اسے شعور اور لاشعور کی جنگ کا رزمیہ کہتے ہیں جس میں حویلی لاشعور کی علامت ہے اور اس کے مکین شعور کی جن کا ہر عمل اور رویہ لاشعور کی گرفت میں ہے۔ جبکہ دوسری طرف کچھ لوگ حویلی کو فرائڈ کی مشہور زمانہ موت کی جبلت کا استعارہ سمجھتے ہیں۔ روڈرک اوشر بیک وقت شاعر، موسیقار اور مصور ہے جس کے فن پاروں سے اس کا گھر بھرا ہوا ہے جبکہ اس کی بہن نہایت حسین ہے مگر ان دونوں بہن بھائیوں کی خوبیاں موت کی قدیم جبلت کے آگے سرنگوں ہیں۔

شاعری

شاعروں خصوصاً رومانوی شاعروں نے بھی گوتھک ادب میں بھرپور اضافہ کیا۔ یہاں سب سے پہلے کیٹس کی نظم لا بیل دیم ساں مرسی کا ذکر کریں گے جو بلا شبہ قافلہ شاعری کی سالار ہے۔ آسیبی خواب کی کیفیت سے لبریز یہ نظم گویا رومانوی شاعروں کی جواں مرگی کا استعارہ ہے۔ یہان یہ بھی واضح کرتے چلیں کہ جہاں گوتھک ناول اور کہانیاں بڑی حد تک کمرشل ضروریات کے تحت لکھا گیا وہیں رومانوی شاعری کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ رومانوی شاعروں خصوصاً کولرج کا مقصد کسی بھی جذبے کو اس کے خالص ترین شکل میں محسوس کرنا تھاٴ۔ اور یہ نطمیں زیادہ تر اسی منشور کے تحت لکھیں گئیں۔ اسی طرز کی نمایندہ نظموں میں کولرج کی بوڑھے ملاح کا گیت، ورڈذ ورتھ کی لوسی گرے اور کیٹس کی ہی ازابیلا شامل ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ثنا اللہ خان، کینیڈا کی دیگر تحریریں