پاکستان عورتوں کے لیے غیر محفوظ کیوں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان اگر غیر محفوظ ملک بنتا جا رہا ہے تو اس کی وجہ آزادی نہیں، پابندی ہے۔

٭٭٭     ٭٭٭

بلا شبہ پاکستان عورتوں کے لیے غیر محفوظ ملک بن چکا ہے۔ جہاں عورت شلوار قمیص پہنے یا جینز، دپٹا پہنے یا دپٹے سے بے نیاز ہو، چادر میں لپٹی ہو یا بغیر آستینوں کے ہو، اس کی عمر تین سال ہو یا پچھتر سال ہو، وہ ریپ ہو جاتی ہے۔ اب تو صورت حال اس قدر ابتر ہو چکی ہے کہ کفن اور منوں مٹی اوڑھ کر بھی محفوظ نہیں۔ ایسے درندے بھی موجود ہیں جو قبروں سے نکال کر بھی ریپ کر دیتے ہیں۔

اب تو یہاں بلی محفوظ ہے نہ گائے، بھینس۔ ڈولفن تک کو نہیں چھوڑا جاتا۔ اس کے باوجود ایسے ”اہل دانش“ کی کمی نہیں جو یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ اخلاقیات کے حوالے سے ہم ساری دنیا سے بہتر ہیں۔ خاص طور پر مغرب کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہی ”دانشور“ حیرت انگیز طور پر یہ بھی کہتے پائے گئے کہ موٹر وے ریپ کیس کا شکار ہونے والی خاتون کی اپنی غلطی تھی کہ وہ رات ایک بجے کسی محرم کے بغیر سڑک پر نکل آئی۔ اسے سمجھنا چاہیے تھا کہ یہ فرانس نہیں پاکستان ہے۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔ جس مغرب کی اخلاقیات کا رونا روتے رہتے ہیں اسی کے ایک ملک کو بالواسطہ محفوظ قرار دے رہے ہیں۔

اپنی اخلاقیات کا ڈھول پیٹنے والے فوراً ہی کسی روزی کی بائیک والی تصاویر سوشل میڈیا پر لگا کر ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان بڑا محفوظ ملک ہے۔ اسے تو کچھ نہیں ہوا۔ مگر اس کے ساتھ اسلام آباد کی اس مقامی سائیکلسٹ خاتون کی تصویر نہیں لگاتے جو رو رہی ہے کہ آتے جاتے پاکستانی اسے ہراساں کرتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ قوم کی اکثریت کو مسائل کا ادراک ہی نہیں ہے۔ ایک عجیب قسم کے احساس برتری کا شکار ہیں۔ سوچنے سمجھنے کی تو کبھی ضرورت محسوس نہیں کی، لیکن خود جو سمجھتے ہیں اسی کو صحیح مانتے ہیں اور منوانا بھی چاہتے ہیں۔ اب اس کیس میں خاتون کو قصوروار ٹھہرا کر مطمئن ہیں کہ سب ٹھیک ہے۔ شاید انہیں معلوم نہیں کہ یہ آگ ایسے نہیں بجھے گی اور فقط دوسروں کے گھر نہیں جلائے گی، ان کے اپنے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ اس کے باوجود خود فریبی میں مبتلا ہیں۔

زیادہ سے زیادہ ان کے پاس مسئلے کا حل یہ ہے کہ عورتیں جو پہلے ہی سات پردوں میں ہیں ان پر مزید سختی کی جائے۔ کوئی عورت اکیلی گھر سے نہ نکلے، بلکہ گھر سے ہی نہ نکلے۔ جون کی گرمی میں بھی برقع پہنے۔ اپنے آپ کو انسان نہ سمجھے، چلغوزہ وغیرہ سمجھے کیوں کہ اگر اس کے جسم کا کوئی حصہ مردوں کو دکھائی دے گیا تو بے چارے خود پر قابو نہیں پا سکیں گے اور ریپ کرنے پر مجبور ہوں گے۔

جس مغرب کے ناقدین ہیں، اسی کے ممالک کا ویزہ لاکھوں روپے دے کر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہاں پہنچ جائیں تو ان ممالک میں اپنی بیٹیوں کو اکیلے باہر بھیجتے ہوئے زیادہ مطمئن ہوتے ہیں۔ حالاں کہ وہاں تو نائٹ کلب بھی کھلے ہیں، شراب پر پابندی نہیں ہے، ساحلوں پر، سڑکوں پر، ہر طرف عورتیں اپنی مرضی کا لباس پہن کر پھرتی ہیں خواہ وہ مختصر سی بکنی ہی کیوں نہ ہو۔

دراصل خود فریبی کی وجہ سے کبھی اصل مسئلہ سمجھا ہی نہیں گیا۔ مسئلہ ذہن کا ہے۔ مائنڈ سیٹ کا ہے۔ عورت پر جتنی مرضی پابندیاں لگا لیں، گھروں میں قید کر لیں یا دیواروں میں چنوا دیں، جب تک ذہن نہ بدلے وہ ریپ ہوتی رہے گی۔ مختصر لباس، میک اپ اور باہر نکلنے کی دلیل دینے والوں کو تو قبروں نکال کر ریپ ہونے والی عورتوں، ہیجڑوں، مدرسے کے لڑکوں، بلیوں، گائے بکریوں، بھینسوں اور ڈولفن کے ریپ کی خبروں کے بعد چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے۔

پاکستان اگر غیر محفوظ ملک بنتا جا رہا ہے تو اس کی وجہ آزادی نہیں، پابندی ہے۔ ستر اور اسی کی دہائی سے پہلے کا پاکستان کچھ اور تھا اور آج کچھ اور ہے۔ اس دور میں سینما تھا، موسیقی تھی، رقص تھا، کھیل کے میدان آباد تھے، مخلوط محفلوں کے ناقدین کم تھے لیکن ملک زیادہ محفوظ تھا۔ ایک دوسرے کا احترام اور برداشت کا مادہ بھی زیادہ تھا۔ اب تو عدم برداشت آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔

نام نہاد دانشور کسی بھی سنگین جرم پر فوراً کیبل، ٹی وی، موبائل، انٹر نیٹ کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں اور خواتین کی بے حیائی پر بات ختم کر دیتے ہیں۔ عورتوں اور مردوں کو الگ الگ خانوں میں رکھنے کا سلسلہ اتنا دراز ہو چکا ہے کہ مخلوط تعلیم دینے والے تعلیمی اداروں میں بھی اب برائے نام مخلوط تعلیم رہ گئی ہے۔ طلبہ و طالبات کلاس فیلو ہونے کے باوجود اکثر ایک دوسرے کے نام تک سے واقف نہیں ہوتے۔

حد درجہ سختی اور پابندیوں نے ایک گھٹن اور فرسٹریشن پیدا کر دی ہے۔ عورت اور مرد بنیادی طور پر انسان ہیں لیکن عورت کو ایک ”چیز“ بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ ایسے میں نوجوان ذہنوں کی کیا تربیت ہو گی؟ وہ عورت کو اپنے جیسا انسان کیسے سمجھیں گے؟ نوجوانوں سے تفریح کے تمام مواقع چھین لیے گئے ہیں۔ فلم، ٹی وی، تھیٹر، موسیقی، رقص، مصوری، موبائل، انٹر نیٹ، ہر چیز پر اعتراض ہے۔ کئی صالحین ایسے بھی ہیں جنہیں کرکٹ میں بھی فحاشی نظر آتی ہے۔

اس قدر گھٹن زدہ معاشرے میں انسان نہیں درندے پیدا ہوتے ہیں۔ درندے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے عاری ہوتے ہیں وہ بس چیر پھاڑ کرتے ہیں۔ اب درندے بڑھتے جا رہے ہیں لیکن آفرین ہے ان پر جو اب بھی ہمارے ملک کو کمزوروں،عورتوں، بچوں اورمذہبی اقلیتوں کے لئے محفوظ سمجھتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •