خواتین اور مدیران کی طرفداریاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صنف نازک میں اللہ تعالی نے کشش رکھی ہے۔ ساٹھ کا ہو یا آٹھ کا، ہر مرد ان کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔ مرد کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو صنف نازک کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے ہر وہ کام کر گزرتا ہے جس سے اس کی مراد بر آئے۔ مرد منسٹر ہو، استاد ہو، ڈاکٹر ہو، وکیل ہو یا کسی اور شعبے یا محکمے سے وابستہ ہو صنف نازک کو خاص رعایت اور توجہ دیتا ہے۔ مدیر حضرات اس سے مستثنیٰ نہیں۔ وہ صنف نازک کے تئیں زیادہ ہی جذباتی اور ان کے طرف دار نظر آتے ہیں۔

اگر ان کے پاس دو تحریریں آجاتی ہیں، ایک پہ امین خان لکھا ہو اور دوسری پہ امراؤ جان وہ امراؤ جان کو ہی اولیت و فوقیت دے دیتے ہیں۔ اگرچہ امین خان کی تحریر بنسبت امراؤ جان کے زیادہ شاندار اور جاندار ہی کیوں نہ ہو۔ پھر بھی ترجیحی بنیادوں پر امراؤ جان کی تحریر شائع ہو جاتی ہے۔ آپ بدگمان نہ ہوجائیں میرا مدعا و مقصد ہرگز یہ نہیں کہ کوئی شاعرہ اچھی شاعری نہیں کرتی یا کسی ادیبہ کا قلم زنگ آلود ہے، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اردو ادب میں قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، بانو قدسیہ، واجدہ تبسم، جیلانی بانو، شکیلہ اختر، جمیلہ ہاشمی، رضیہ بٹ، رشید جہاں، ہاجرہ مسرور، پروین شاکر، ادا جعفری اور عنبر حسیب عنبریں کی تحریریں و تخلیقات چیخ چیخ کر یہ اعلان کرتیں ہیں کہ یہ تحریریں اور تخلیقات نہ صرف بہترین تخلیقات ہیں بلکہ ان کا شمار ادب عالیہ میں ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں بھی صنف نازک کی اچھی خاصی تعداد ایسی ہیں جن کی تخلیقات کو بہترین، شاندار اور اعلی ترین کا درجہ حاصل ہے۔ ان ادیباؤں کی تحریریں کسی بھی ادیب کی لکھی ہوئی تحریروں سے کم نہیں۔ ہاں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مدیر حضرات مرد لکھاریوں کو گھاس تک نہیں ڈالتے، البتہ صنف نازک کی کوئی تحریر ان کی نظر سے گزرنے کی دیر ہوتی ہے کہ اس کو رعایتی نمبر دے کر بڑے اہتمام کے ساتھ اولین فرصت میں پہلے شمارے اور اولین صفحے کی زینت بنایا جاتا ہے۔

کسی اور زبان میں ایسا شاید نہ ہوتا ہو لیکن اردو میں ایسا ہوتا ہے اور اس کی مثالیں آج بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ پرانے وقتوں میں بھی ایسا ہوا کرتا تھا۔ وزیر آغا جیسے مصنف، نقاد اور عمدہ انشائیہ نگار کی مثال سامنے کی ہے کہ انہوں اپنی نظمیں ایک رسالے کو ارسال کر دی لیکن وہ رسالے کی زینت نہ بن سکی۔ انہوں نے ایک دوست سے شرط لگائی کہ مدیر حضرات صنف نازک کی طرفداری کرتے ہیں۔ دوست نے نفی میں سر ہلا کر اس کی تردید کی شرط لگ گئی اور ڈاکٹر وزیر آغا نے نصرت آرا نصرت کے نام سے ایک کم پایہ آزاد نظم ایک رسالے کو بغرض اشاعت ارسال کی۔

رسالے نے نہ صرف اس کی تعریف کی بلکہ اولین فرصت میں اس کو رسالے کی زینت بھی بنایا۔ دوسری مثال کشمیر کے معتبر افسانہ نگار نور شاہ صاحب کی ہے۔ نور شاہ صاحب نے اپنی ایک کہانی ایک رسالے کو ارسال کردی لیکن وہ شائع نہیں ہوئی۔ وہی کہانی انہوں نے تھوڑی ادل بدل کے بعد اسی رسالے کو بغرض اشاعت کے لیے شاہدہ شیریں کے نام سے بھیج دی۔ صنف نازک کا یہ نام ان کو بھا گیا اور وہ کہانی اسی رسالے میں چھپ گئی۔ ایسے بہت سے آغا صاحب اور نور شاہ صاحب ہیں جن کی مثالیں دے کر مدیر حضرات کی طرفداریوں کو واضح کیا جا سکتا ہے۔

ہمارے یہاں ایک مدیر صاحب ہیں۔ دو تین اخبار نکالتے ہیں۔ ایک عدد چینل کے بھی سوامی ہے۔ ان کے اخبار میں زیادہ تر مواد ان ہی کے متعلق چھپتا ہے یا ان کے دوست احباب کے دائرے کے تخلیق کار یا صنف نازک کی تحاریر کو اخبار کی زینت بنایا جاتا ہے۔ وہ ایک دو کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ ایسا کوئی دن نہیں جب وہ اپنی کتاب پہ تبصرہ شائع نہیں کرتے۔ ہر آئے روز ان کی چینل پہ صنف نازک کا جمگھٹا ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دنیا اپنے خاتمے پہ ہے۔ وجود زن ہی نظر آتا ہے۔ ان کے اخبارات اور چینل کو دیکھ کر خدشہ ہوتا ہے کہ شاید دنیا میں چند ہی مردوں کا وجود باقی رہا۔ ان کی بنائے ہوئے باغ میں زن ہی زن ہے، مرد دور دور تک اس باغ میں نظر نہیں آتے۔

میں قطعاً اس کے خلاف نہیں ہوں کہ صنف نازک کو مواقع نہیں دینے چاہیے۔ ان کے وجود سے ہی پوری کائنات کا وجود ہے۔ ان کی اہمیت مسلم ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے مقابلے میں مردوں کو مردہ سمجھ لیا جائے۔ یہ کوئی رجالیت کی تحریک نہیں نہ ہی صنف نازک کے خلاف کوئی محاذ چلانے کی کوشش ہے۔ یہ صرف اور صرف ایک آواز ہے، ایک ندا ہے جو مدیر حضرات کی طرفداری کے رویہ کو بدلنے کے لیے دی جاتی ہے۔ اس صدا سے شاید ان کا رویہ بدل جائے اور اردو کا بھی بھلا ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •