’غدار‘ صحافی اور ایک پیج کی دیانت دار حکومت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موٹروے ریپ کیس، اس پر پنجاب حکومت کی پھرتیوں اور وزیر اعظم کے مشیروں کی وضاحتوں بھری ستائش کے علاوہ لاہور کے سی سی پی او کے مضحکہ خیز مگر شرمناک و افسوسناک بیان پر ہونے والے ہنگامے میں کسی کو خبر بھی نہ ہوئی کہ پنجاب اور سندھ کی مستعد و چوکس پولیس نے دو ’غدار‘ صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرکے ان کی ’وطن فروشی‘ کے بارے میں تفتیش کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔

عام لوگوں تک یہ خبر پہنچ جاتی تو سی سی او پی لاہور کے ایک بیان پر ہونے والی تنقید کے ساتھ ہی پولیس کی ’اعلیٰ کارکردگی‘ کو سراہنے کا سلسلہ بھی شروع ہوسکتا تھا۔ آخر پولیس سندھ کی ہو یا پنجاب کی، اس پر آپ ہزار الزام دھر لیں لیکن کراچی کے ایک انگریزی اخبار کے نیوز ایڈیٹر بلال فاروقی اور پیمرا کے سابق چئیرمین اور ممتاز صحافی ابصار عالم جیسے چھپے ہوئے ’غداروں‘ کے خلاف کارروائی کا آغاز کرکے ان دونوں صوبوں کی پولیس نے فرض شناسی کے علاوہ حب الوطنی کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ اس کارکردگی پر متعلقہ افسروں کو اعلیٰ سویلین اعزاز تو ضرور ملنا چاہیے بلکہ نئے پاکستان کے سربراہ عمران خان کو بذات خود انہیں وزیر اعظم ہاؤس میں بلا کر عزت افزائی کرنی چاہیے کہ کوئی تو ہے کہ جسے غیر ضروری مباحث میں بھی ملک و قوم کی فکر ہے اور وہ کسی گھڑی اپنے فرض سے بے خبر نہیں۔

کراچی پولیس کی مستعدی کا تو یہ عالم ہے کہ 9 ستمبر کو ایک فیکٹری کارکن کی طرف سے بلال فاروقی کی ’فوج دشمن اور مذہبی منافرت‘ پر مبنی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی شکایت موصول ہوئی تو 11 ستمبر کو اس خطرناک ملزم کو اس کے گھر سے پکڑ کر حوالات میں بند کردیا گیا۔ آخر قوم کے وقار، فوج کی عزت اور معاشرے میں امن و سکون سے زیادہ تو کوئی مقصد نہیں ہوسکتا۔ اب پنجاب کے ایک قصبے دینہ کے ایس ایچ او نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ابصار عالم کے خلاف ایف آئی آر تو درج کرلی گئی ہے، اب ان کی گرفتاری کے لئے کوشش شروع کردی جائے گی۔

مستعد اور فرض شناس ایس ایچ او کو شاید خبر نہیں ہوسکی کہ ابصار عالم تو اسلام آباد میں اس ایف آئی آر کے بارے میں میڈیا کو اپنا مؤقف دینے میں مصروف تھے اور انہوں نے روپوش ہونے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ شاید ہر قانونی معاملہ کی کچھ حرمت اور حساسیت ہوتی ہے کہ اس ’غدار‘ کو پکڑنے میں صبر کا مظاہرہ کیا گیا ہے، ورنہ پنجاب کی مستعد پولیس جو تین دن میں ایک ریپ کیس کے ملزموں کا سراغ لگا سکتی ہے، اس کے لئے ابصار عالم کی گردن دبوچ لینا کیا مشکل تھا۔

خبر کا گلا گھونٹنے اور رائے کو دبانے کے حوالے سے پاکستانی حکومت اور اداروں کی مستعدی اور ہوشیاری کے قصے تو گزشتہ کافی عرصہ سے پاکستان کی حدود سے نکل کر چہار دانگ عالم میں شہرت پاچکے ہیں اور انسانی حقوق اور صحافیوں کی آزادی کے لئے کام کرنے والی متعدد عالمی تنظیمیں نہ صرف سنسرشپ اور میڈیا پر سرکاری کنٹرول کے بارے میں پریشانی کا اظہار کرتی رہتی ہیں بلکہ ملک میں صحافیوں کے خلاف ہونے والے جرائم پر شدید تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔

تاہم نئے پاکستان میں مدینہ ریاست کا نظام استوار کرنے میں مگن وزیر اعظم عمران خان نے واضح کردیا ہے کہ ’صحافیوں کو ہراساں کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ وہ خود بیس برس تک برطانیہ میں رہ چکے ہیں اور اپنے ذاتی مشاہدہ اور تجربہ کی روشنی میں کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت میڈیا کو جتنی آزادی ہے وہ تو یورپی ملکوں میں بھی حاصل نہیں ہے‘ ۔ ملک کے حوصلہ مند وزیر اعظم عالمی تنظیموں کی رپورٹوں اور ان کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات میں پوشیدہ دھمکیوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ وہ ویسے بھی اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور قوم کو بس ایک ہی سبق سکھاتے ہیں کہ مشکلیں جس طرح آئی ہیں، ویسے ہی چلی بھی جائیں گی۔ انہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ’بس گھبرانا نہیں ہے‘ ۔

غدار صحافیوں کا قصہ کچھ یوں ہے کہ بلال فاروقی کے فوج کے خلاف اور نفرت انگیز فیس بک نوٹس اور ٹوئٹ پیغامات کا سراغ تو ایک فیکٹری کارکن نے لگایا اور حب الوطنی کے جذبہ سے مجبور ہوکر پولیس کو شکایت کی۔ ترنت اس نفرت پھیلانے والے کو دھر لیا گیا تاہم اس کے وکیل کی ذاتی ضمانت پر اسے گھر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ لیکن کراچی پولیس پر عزم ہے کہ ملک وقوم کے خلافکیے گئے اس جرم کی سزا دلوا کر رہے گی۔ ادھر پنجاب میں بھارت کے مشہور شاعر گلزار کی جنم بھومی کے طور پر مشہور قصبہ دینہ کی پولیس کو تحریک انصاف کے حامی انصاف لائرز فورم کے ایک عہدیدار کی طرف سے ابصار عالم کی ’غداری‘ کے بارے میں شکایت موصول ہوئی تھی۔ اس درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ’سابق چیئرمین ابصار عالم نے ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پر افواج پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کے خلاف انتہائی گھٹیا زبان استعمال کی ہے‘ ۔ انصاف لائرز فورم کے صدر چوہدری نوید احمد ایڈووکیٹ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ یہ بیان بازی غداری کے زمرے میں آتی ہے۔

اس شکایت پر درج کی گئی ایف آئی آر میں پاک فوج اور آئینی شقات کے بارے میں ایسی معلومات بھی فراہم کردی گئی ہیں جو پہلے عام پاکستانیوں کی نظر سے اوجھل تھیں۔ اس ایف آئی آر کی حکمت و دانش سے بھرپور عبارت اس قابل ضرور ہے کہ ملک کی انصاف پسند حکومت طالب علموں کے لئے جو نیا یکساں نصاب تیار کرنے کی جو کوشش کررہی ہے، اس قسم کی پولیس رپورٹوں کو بھی اس میں شامل کرلیا جائے۔ کیوں کہ عملی تجربوں سے علم کے جو جوہر دستیاب ہوسکتے ہیں، وہ عام کتابی اسباق میں ناپید ہیں۔ دینہ میں ابصار عالم کے خلاف درج شکایت میں بتایا گیا ہے کہ ’افواج پاکستان دنیا کی واحد ایسی فوج ہے جس پر ساری دنیا فخر کرتی ہے۔ میری افواج پاکستان کل بھی زندہ باد اور آج بھی زندہ باد‘ ۔

شکایت کنندہ ایڈووکیٹ نے بتایا ہے کہ ابصار عالم نے فوج کے خلاف ہی نہیں بلکہ وزیر اعظم پاکستان کے خلاف بھی ’ہرزہ سرائی اور انتہائی نامناسب زبان استعمال کی ہے۔ حالانکہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایماندار اور دیانتدار وزیر اعظم اس قوم کو نصیب ہوا ہے۔ جو دن رات ایک کر کے قوم و ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے تگ و دو کر رہا ہے‘ ۔ فاضل ماہر قانون چوہدری نوید احمد ایڈووکیٹ نے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا ہے کہ ’ابصار عالم نے افواج پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر انتہائی نامناسب زبان استعمال کر کے دستور پاکستان کے آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کا ارتکاب کیا ہے‘ ۔

غداری کے بارے میں آئینی شق کی ایسی توجیہ و تشریح اس سے پہلے کسی ماہر قانون کو کہاں نصیب ہوئی تھی۔ تحریک انصاف کے کرپشن سے پاک نظام سے پہلے وکیل بھی اپنے مفاد کے اسیر ہوتے تھے۔ اب انصاف لائرز فورم نہ صرف معاشرے میں سچائی پھیلانے کا کام کررہا ہے بلکہ آئین کی ایسی تشریح و توضیح بھی پیش کررہا ہے جس پر عمل کرنے سے ملک مساوات و انصاف کے ایک نئے درخشاں دور میں داخل ہوسکتا ہے۔

یہاں یہ نوٹ کرنا اہم ہے کہ ملک و قوم کے خلاف ایسی گھناؤنی سازش کرنے والے دو معتبر صحافیوں کی قانون شکنی کا پتہ کسی سرکاری ادارے، محکمے یا ایجنسی نے نہیں لگایا۔ نہ ہی ایسے اہلکاروں کی طرف سے یہ سراغ لگایا جاسکا تھا جو سائیبر کرائمز کی کھوج لگانے پر مامور ہیں۔ جن کا کام ہی سوشل میڈیا کو کھنگال کر ہمہ قسم ’انصاف دشمن‘ مواد کی چھانٹی کرتے رہنا ہے۔ ان گھناؤنی سرگرمیوں کی اطلاع کراچی کے ایک مزدور اور جہلم کے ایک وکیل نے اپنی حب الوطنی کے ہاتھوں مجبور ہو کر پولیس کو دی تھی۔

اب دو صحافیوں کے خلاف کارروائی شروع ہوئی ہے تو ان کے باقی ہم خیالوں کے ہوش بھی ٹھکانے آجائیں گے کہ عمران خان کی سربراہی میں اہل پاکستان بیدار ہوچکے ہیں۔ اب ملک کا ہر شہری بے تیغ سپاہی بن چکا ہے۔ دشمن کے دانت کھٹے کرنے ہوں، سوشل میڈیا پر طوفان برپا کرنا ہو یا اپنی صفوں میں چھپے ’دشمنوں‘ کا سراغ لگانا ہو، عمران خان کے رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ ٹائیگرز ہمہ وقت ہوشیار ہیں اور قومی مفاد کا پرچم تھامے ہوئے ہیں۔ ان دو واقعات نے ثابت کردیا ہے کہ کس طرح دو عام شہریوں نے کسی بڑے ادارے کی سرپرستی کے بغیر خطرناک جرائم کا پردہ چاک کیا۔

یہ بھی جان لینا چاہیے کہ دو صحافیوں کی ’ملک و سماج دشمنی‘ کا سراغ لگانے سے پہلے ملک میں انوسٹی گیٹو جرنلزم کے نام پر امریکہ میں بیٹھے ہوئے ایک پاکستانی صحافی احمد نورانی نے سی پیک اتھارٹی کے چئیرمین اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں کے بارے میں بے بنیاد معلومات عام کی تھیں۔ عاصم باجوہ نے یہ رپورٹ مسترد کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کے خاندان کے 70 ملین ڈالر کے اثاثوں کی بنیاد صرف 74 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری تھی۔

اس میں بس ان کے بھائیوں کی محنت اور اللہ کی مہربانی شامل تھی۔ عاصم باجوہ کی دیانت داری کی اس سے بڑھ کر مثال اور کیا ہوگی کہ جس کاروبار میں ان کی اہلیہ 18 سال تک شریک رہیں، جنرل عاصم باجوہ کے اثاثوں کا حلف نامہ داخل کروانے سے محض تین ہفتے پہلے اس سے علیحدگی اختیار کرلی تھی تاکہ کسی سرکاری کاغذ پر کوئی غلط بات درج نہ ہوجائے۔

اس احتیاط اور صداقت کو ملک میں دیانت داری کی نئی تفہیم متعارف کروانے والے وزیر اعظم ہی سمجھ پائے ہیں۔ انہوں نے عاصم باجوہ کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں بتایا تھا کہ حکومت اور ملک کو آپ کی شدید ضرورت ہے۔ آپ بے فکر ہوجائیں، آپ کا بیان جھوٹے الزامات کا پردہ فاش کرچکا ہے۔ اس سبق آموز وقوعہ کے بعد بھی بعض پاکستانی صحافی شرارت کرنے اور حکومت کے خلاف شوشے چھوڑنے سے باز نہیں آتے۔ البتہ اب چوکنے اور حب الوطن شہریوں کے ذریعے صحافیوں کی گردن ماپنے کا جو طریقہ شروع ہؤا ہے، امید ہے اس سے اختلاف کی رہی سہی آوازیں بھی دم توڑنے لگیں گی تاکہ انصاف کا پھریرا پوری آن بان سے لہرا سکے۔

اس صورت حال میں سوچنا چاہیے کہ صحافی کی آواز، اختلاف کے امکان اور سچ تلاش کرنے کی کوششوں کا قلع قمع کرنے کے بعد ظلم واستبداد کا یہ سیلاب کس طرف جائے گا؟ حکومت بغیر حکمت عملی کی جس حکمت پر عمل کررہی ہے، اس راستے میں عوام کی خوشحالی کا تو کوئی امکان نہیں، البتہ دہشت اور خوف کی فضا پیدا ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔ عمران خان بس یہ سوچ لیں کہ جبر کی بنیاد پر حکمرانی کی خواہش رکھنے والے وہ پہلے شخص نہیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1616 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali