شیعہ اور سُنی نوجوان عقل کا دامن پکڑیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ستمبر 2012 کی بات ہے۔ میری شدید مشکلات کے دن تھے اور اسلام آباد جیسے شہر میں زندہ رہنے کی جہد میں مبتلا تھا۔ انہی دنوں، میں اسلام آباد سے شائع ہونے والے اک انگریزی اخبار میں کالم نویسی کرتا تھا۔ ستمبر کے مہینے میں ڈنمارک میں شائع ہونے والے اک اخبار میں آقا محمدﷺ کے خاکوں کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج کا موسم تھا۔ میں اس معاملہ کو اک طالبعلم کی حیثیت سے دیکھ رہا تھا۔

انہی دنوں اک بڑے احتجاجی جلوس کا اعلان ہوا تو میں نے سوچا کہ جلوس کا حصہ بن کر، اس کے شرکا سے گپ شپ کرتے ہوئے ان کے خیالات کے بارے میں تو کچھ جانا جائے۔ میں فیض آباد سے جلوس کا حصہ بنا اور راول ڈیم چوک تک ساتھ رہا۔ اس جلوس میں میری تقریباً ایک درجن شرکا سے گفتگو رہی، اور میں یہ بات حلفاً کہہ رہا ہوں کہ ان تمام کو موضوع کی جزئیات کا کچھ معلوم نہ تھا اور وہ راولپنڈی کے اک محلہ، صادق آباد سے مولوی صاحب کے کہنے پر جلوس کا حصہ بنے تھے جس کے اختتام پر انہیں پلاؤ کھلایا جانا تھا۔

اس جلوس کو سیرینا ہوٹل کے قریب کنٹینرز لگا کر اسلام آباد کی انتظامیہ نے روکا۔ جھڑپ شروع ہو گئی اور اس میں، اگر میرا ذہن ساتھ دے رہا ہے تو، شاید چھ احتجاجی شرکا مارے گئے تھے۔

آپ میں کسی ایک کو بھی ان چھ شرکا میں سے کسی ایک کا نام بھی معلوم ہے کیا؟ معلوم اس لیے بھی نہیں ہوگا کہ اندھے احتجاجوں میں، جذبات کے اندھے ہی شریک ہوتے ہیں۔ وہ اندھیری راہوں میں مارے جاتے ہیں اور کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔

یقین کیجیے کہ سنہ 2012 سے آپ، بطور اک پاکستانی، انقلاب و تبدیلی سمیت بہت سارے ٹرکوں کی بتیوں کے پیچھے بھگائے جاتے رہے ہیں۔ اور آپ عجب ہیں کہ آپ کو اپنے زخم زخم پیر اور دھونکنی کی طرح چلتے ہوئے سینے کے باوجود اپنا ہانپنا اور بے سمتی میں بھاگتے چلے جانے کا کوئی احساس بھی نہیں ہو پا رہا۔

پاکستان میں پچھلے تین ہفتوں سے اک دم ہی سر اٹھا لینے والی شیعہ و سنی گفتگو بھی عین اسی پرانے ٹرک کی نئی بتی ہے جس کے پیچھے آپ کو بھگایا جا رہا ہے۔

میں آپ کو کم از کم تین دوستوں سے کنفرم کر کے بتاتا ہوں کہ جس ذاکر کی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں تقریر پر میرے سنی، بالخصوص، دیوبندی دوست سیخ پا ہیں، وہ پاکستان میں موجود ہی نہیں۔ وہ یہاں سے بھاگ چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اک قابل احترام شیعہ عالم کی اک اجتماع میں کی گئی گفتگو موجود ہے جس میں وہ عین اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس ذاکر کو شیعہ زعما نے اپنی صفوں میں سے اک عرصہ سے نکال باہر کیا ہوا تھا، اور وہ ذاکر کسی طور بھی پاکستانی شیعان کی نمائندگی نہیں کرتا تھا۔ وہی عالم کہتے ہیں کہ اس ذاکر کو تو اسلام آباد اور نواح سے عزادار بھی کسی خاطر میں نہ لاتے تھے، اور اس ذاکر کے لیے ماتمی دستے، لاہور سے منگوائے گئے۔

پاکستان میں یہ کھیل جنرل ضیا الحق کے دور سے جاری ہے۔ تب افغان ”جہاد“ جاری تھا اور اس میں بین الاقوامی سازش کے ذریعے پاکستانی معاشرے کو مذہبی طور پر پرتشدد اور انتہا پسندی کی جانب دھکیلنا، اک لازمی جزو تھا۔ تاکہ افغانستان میں ”مجاہدین“ کی کھیپیں ہمیشہ مہیا رہیں۔ اس سازش کو فروغ دینے میں اک ”برادر“ عرب ملک کے ساتھ ساتھ آزادیوں کی ”محافظ“ اک بڑی مغربی طاقت اور پاکستان کے اس وقت کے فیصلہ سازوں کی حمایت حاصل تھی۔ پاکستان میں عوامی طور پر جماعت اسلامی، ”جہاد انکارپوریٹڈ“ میں اک اہم کردار ادا کرتی تھی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہمسایہ ملک میں ”انقلاب“ کے بعد، پاکستان میں شیعہ حضرات کو ولایت فقیہ کی بہت سخت آمد ہوئی، جس کے نتیجے میں جنرل ضیا الحق کے زیراثر، پاکستانی ریاست نے وہاں سے نام نہاد شیعہ انقلاب کی اپنے ہاں آمد روکنے کے لیے، سنی اسلام کا سہارا لیا۔ اس میں ”برادر“ عرب ملک کی مدد شامل حال رہی۔ احباب شاید جانتے نہ ہوں، مگر پاکستان میں ایرانی سفیر، احمقانہ طور پر شیعہ احتجاجوں کا حصہ بھی بنتے رہے۔

ہونا مگر یہ چاہیے تھا کہ شیعہ انقلاب کو روکنے کے ساتھ ساتھ، سنی انتہا پسندی بھی روکی جاتی، مگر اس طرف کوئی توجہ نہ دی گئی اور اس کا نتیجہ پاکستان کی گلیوں میں بہتے ہوئے خون کی صورت میں نکلا۔

میں آپ کو پورے یقین سے کہتا ہوں کہ شیعان کے ہاں خرابی کرنے والے نہ ہونے کے برابر ہیں اور بہت سارے بیانات اور پبلک سٹانس ان کے مذہبی اور سماجی رہنماؤں کے موجود ہیں جو صحابۂ کرام کی قدر و منزلت کی تصدیق کرتے ہیں۔ اور کون سا ایسا سنی ہو گا جو آقا حسینؑ کی قربانی اور اہلبیتؑ کی قدرومنزلت کا انکاری ہوگا؟

اختلاف، لازمی معاشرتی جزو ہوتے ہیں اور معاشرتی طور پر، پاکستان میں شیعہ و سنی کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ یہ سارا شغل دوسرے اہم مسائل سے آپ کی توجہ ہٹا کر، پرانے ٹرک کی نئی بتی کی طرف کروانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔

خدارا انکار کیجیے۔ انکار کیجیے۔ انکار کیجیے۔ ہر قسم کی انتہاپسندی اور تشدد کے ابھار سے انکار کیجیے۔ آپ انسان ہیں۔ کوئی سدھائے ہوئے جانور نہیں کہ آپ چند خودغرض تماش بینوں کے اشاروں پر ناچتے اور بھاگتے پھریں۔ اپنی اپنی حیثیت میں جہاں اور جتنا ممکن ہو سکے، اس شیعہ سنی فساد کی گفتگو کو رد کیجیے۔ یہ آپ کے مفاد میں نہیں۔ یہ بس چند لوگوں کے مفاد میں ہے، اور آپ اس مفاد کی توپ کا بارود مت بنیں۔

سوال پر بات ختم کرتا ہوں : ذرا سوچیں کہ ہمارے معاشرے کو تشدد کے ہیجان میں مبتلا کروانے والوں کی اپنی اولادیں اور اور وہ خود کہاں ہیں؟ عام پاکستانیوں کو کھیت کروانے والوں کی اپنی اولادوں میں سے کتنے شہدا اور غازی ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •