موٹروے ریپ کیس: کچھ باتیں ابھی رہتی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر بدقسمتی سے ریپ کا واقعہ آپ کے گاؤں یا علاقے میں ہوا ہے اور اس واقعہ کو میڈیا نے اٹھا لیا ہے۔ پولیس پر مجرم پکڑے کا شدید دباؤ ہے۔ آپ ایک شریف آدمی ہیں اور ریپ جیسا گھناؤنا جرم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے لیکن آپ کو ایک شدید خوف نے گھیر رکھا کیونکہ آپ قطار میں کھڑے اپنے ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔

ریپ یا زبر جنسی ایک گھناؤنا جرم ہے۔ ساری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ زیادہ تر تو عورتیں، بچیاں، بچے اور ٹرانس جینڈر اس کا شکار ہوتے ہیں لیکن مرد بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ مہذب دنیا نے اس پر قوانین کو بہتر کر دیا ہے اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کے ذریعے انہیں سیکس کرائمز پر حساس بنانے کی کوششیں بھی کی جاتی ہیں۔ قانون بہتر ہونے کی وجہ سے رپورٹ کرنا بھی کافی قدر آسان ہو گیا ہے۔

زبر جنسی کے وکٹم کو اس کا ذمہ دار بھی نہیں ٹھہرایا جاتا، اس سے الٹے سیدھے سوال بھی نہیں پوچھے جاتے کہ ”تم نے کچھ تو کیا ہو گا کہ تمھارے ساتھ یہ ہوا ہے“ ۔ معاشرتی روایات بہتر ہونے کی وجہ سے بے عزتی یا بدنامی بھی ریپ کرنے والے کی ہوتی ہے نہ کہ ریپ کا شکار ہونے والے اور اس کی فیملی کی۔ اس ظلم کا شکار ہونے والی اور اس کے گھر والوں کی عزت بھی نہیں لٹتی اور پھر اس عزت کو بحال کرنے کے لیے اسے خود کشی پر مجبور کیا جاتا ہے نہ اس کے بدلے میں جرم کرنے والی کی بہن کو اس کی سزا دی جاتی ہے۔

قانون اپنا راستہ لیتا ہے۔ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرتی نظر آتی ہے۔ کوئی ذمہ دار پولیس افسر ہمارے سی سی پی او لاہور جیسا احمقانہ بیان دینے کے بعد نوکری پر بھی نہیں رہ سکتا، عہدے پر برقرار رہنا تو بہت دور کی بات ہے، کجا یہ کہ یہاں آدھی کابینہ اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ ریپ کا شکار ہونے والے شخص کا نام اور شناخت بھی صیغہ راز میں رکھی جا سکتی ہے۔ انصاف ملنے کے امکانات بھی کہیں زیادہ ہوتے ہیں اس لیے وہاں پر ریپ کیسز کے رپورٹ ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہیں۔

پاکستان میں ناموافق حالات کی وجہ سے ریپ کیسز کے رپورٹ ہونے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ اس لیے جتنے کیسز سامنے آ پاتے ہیں وہ شاید آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں۔

لیکن ہمارے ہاں جب ریپ کا کوئی واقعہ سامنے آتا ہے تو ہر طرح کے میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو جاتا ہے۔ لگتا ہے جیسے اس ملک میں کمزور کے خلاف جنسی جرم پہلی دفعہ ہوا ہے۔ الٹا لٹکا دو، زندہ جلا دو، سرعام پھانسی دے دو۔ یہ انسان نہیں درندہ ہے یہ مسلمان نہیں ہے اور پتا نہیں کیا کیا کہا جاتا ہے۔ حکومتی اداروں پر دباؤ بڑھتا ہے۔ حکومت نتائج دکھانا چاہتی ہے۔ بوکھلاہٹ میں پکڑ دھکڑ شروع ہو جاتی ہے۔ غلطی کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے۔

اگر بدقسمتی سے ریپ کا واقعہ آپ کے گاؤں یا علاقے میں ہوا ہے اور اس واقعہ کو میڈیا نے اٹھا لیا ہے۔ پولیس پر مجرم پکڑنے کا شدید دباؤ ہے۔ آپ ایک شریف آدمی ہیں اور ریپ جیسا گھناؤنا جرم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے لیکن آپ قطار میں کھڑے اپنے ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار کر رہے ہیں تو آپ کو ایک شدید خوف نے گھیر رکھا ہو گا۔ اگر ڈی این ٹیسٹ میں غلطی ہو گئی تو کیا ہو گا۔ میری پھر کون سنے گا کہ میں نے یہ جرم نہیں کیا۔

اندھیرے اور اکیلے میں ہونے والے کسی بھی جرم میں مجرم کا سراغ لگانا بہت صبر آزما کام ہے۔ اس پر بہت انسانی اور مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ مجرم کا سراغ لگانے کے لیے کوئی ڈیڈ لائن دینا ناممکن ہوتا ہے۔ جتنا اہم مجرم کا پکڑنا ہے اس سے کہیں زیادہ اہم بے گناہ کو پکڑے جانے سے بچانا ہے۔ اس سلسلے میں غلطی بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔ اگر کوئی ڈیڈ لائن ہو گی تو غلطی کا امکان بڑھ جائے گا۔ ڈیڈلائن تو دور کی بات ہے، کوئی یہ بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ مجرم کا سراغ ضرور مل جائے گا۔ دنیا میں بہت واقعات ایسے ہوتے ہیں جن کے مجرم کا سراغ مل ہی نہیں سکا۔

غلطی (کہ کوئی بے گناہ نہ پکڑا جائے ) کے امکان کو کم بلکہ بالکل ختم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے بہت اہم ہے۔ اس کے لیے ماہر لوگوں کی خدمات حاصل کر کے اچھے پروٹوکول اور پروسیجرز بنانے ضروری ہیں۔ ڈی این کو ایک سے زیادہ مرتبہ ریپیٹ کرانا شاید مددگار ثابت ہو سکتا ہو۔ کسی شخص کا نام اس وقت تک راز میں رکھا جائے جب تک سو فیصد یقین نہ کر لیا جائے۔ جرم کا سراغ لگانا نہایت رازداری کا کام ہے۔ کوئی ایسی خبر میڈیا تک نہیں پہنچنا چاہیے جس سے پولیس کے کام میں رکاوٹ آئے۔

پاکستان جیسے پدر سری معاشرے میں جنسی جرائم کے خلاف تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں میں اس کے متعلق شعور بیدار کیا جائے۔ اسے سکولوں اور کالجوں میں تعلیم کا حصہ بنایا جائے۔ تمام انسانوں میں بحیثیت انسان برابری لانے کے لیے ہر لیول پر اقدامات کیے جائیں۔ جنسی فعل یا جنسی جرائم مرد کے لیے طاقت، مردانگی اور غرور کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ یہ اور اس طرح کی دوسری پیٹری آرکل روایات کے خلاف باقاعدہ تعلیم و تربیت کی جائے۔

جنسی جرائم کا شکار ہونے والے شخص کی بحالی کا نظام بنایا جائے۔ پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے لوگوں کی تربیت کی جائے اور انہیں حساس بنایا جائے۔ انصاف کرنے کی ذمہ داری حکومت اپنے سر لے تاکہ وکٹم کو انصاف کے لیے ایڑیاں نہ رگڑنی پڑیں۔ رپورٹنگ بڑھے گی تو مجرموں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ مجرموں کا ریکارڈ ماڈرن طریقے سے رکھا جائے اور بار بار ایسے جرائم کرنے والے کو نئے طریقوں سے کنٹرول کیا جائے جس میں اسے جنسی طور پر نیوٹرل کرنا بھی شامل ہو۔ ایسا کرنے سے اس بھیانک جرم پر کسی حد قابو پایا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 242 posts and counting.See all posts by salim-malik