عورت کی حفاظت نہ کرسکنے والا مرد نہیں؟ (آخری قسط)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


سہیل کے وین لے جانے پہ وہ دونوں لڑکے ایک دم گھبرا گئے۔ اس وقت تک جو بھی چھینا تھا وہی لے کر فوراً بھاگ گئے۔

جب یہ سب ہوگیا تو بسمہ کو اندازہ ہوا کہ اس کے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے اور دل کی دھڑکن تیز تھی۔ اس نے بختاور کی طرف دیکھا۔

”اب کیا کریں؟“
” تمہاری کیا کیا چیزیں چھینی ہیں؟“
” بس موبائل اور تھوڑے پیسے“

”ہمم میرا بھی بس یہی لیا چلو پہلے آفس چلتے ہیں پھر تھوڑا ریلیکس کر کے رپورٹ لکھوانے چلیں گے۔ رستے میں نمبر بھی بند کروا لیں گے موبائل سروس پروائیڈر کے آفس سے۔“

”اور سہیل؟“
”وہ آ جائے گا آفس رستہ پتا ہے اسے“
”وہ ان سے ملا ہوا تو نہیں تھا؟ میڈم آپ اس کی بھی رپورٹ لکھوایئے گا“
”آفس چلو پھر دیکھتے ہیں۔ ویسے بھی وہ ڈرائیور ہے گارڈ نہیں۔ ہماری حفاظت اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔“
”مگر میڈم اس کی کچھ تو ذمہ داری اخلاقی بھی بنتی ہے وہ اکیلا مرد تھا ہمارے ساتھ“
”تو یہ کیا اس کی غلطی ہے کہ وہ مرد تھا اور اس کے لیے مدد کرنا ضروری تھا؟“

بسمہ کو بختاور کی سہیل کے لیے بلا وجہ کی حمایت اس وقت بہت کھل رہی تھی۔ مگر بہرحال وہ باس تھی اس لیے بسمہ کو خاموش ہونا پڑا۔

ان لوگوں نے قریبی مین روڈ سے رکشہ لیا اور آفس آ گئیں۔ آفس کے گیٹ پہ اتری ہی تھیں کہ اندر سے بہت سارے آفس کے مرد باہر آگئے۔

” میڈم آپ لوگ ٹھیک ہیں ناں۔ ارشد اور منیر گئے ہیں وین لے کر اس جگہ۔“ ایک کلرک نے بتایا
”اب وہاں کیا ملے گا؟ انہیں کال کریں واپس بلائیں۔ سہیل کہاں ہے؟“

” گارڈ کے روم میں ہے۔ آتے ہی بے ہوش ہوگیا تھا۔ اسے پانی میں گلوکوز پلا دیا ہے۔ مگر رو رہا ہے بیٹھ کے۔“

”اسے کسی نے کچھ الٹا سیدھا ڈانٹا تو نہیں؟“

”اسلم صاحب ہیں ابھی، انہوں نے تھوڑا ڈانٹا کہ دو خواتین کو ایسے چھوڑ کے کیوں آئے۔ میں نے بتایا بھی انہیں سہیل کا مسئلہ مگر وہ کافی ناراض تھے“

”ٹھیک ہے سہیل کے پاس بس کوئی ایک بندہ رہے مجمع نہ لگائیں۔ سب ٹھیک ہے کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے بس انہوں نے ہمارے پیسے اور موبائل لیا ہے۔ آپ لوگ اپنی روٹین کنٹینیو ( روزمرہ کے کام جاری) رکھیں۔ اور اسلم ہے تو اسے میرے آفس میں بھیج دیں“

”میڈم میں باہر ویٹ کروں؟“

بسمہ نے پوچھا۔ اسے لگا اندر اسلم کو ڈانٹ پڑنے والی ہے۔ اب اس کا کافی دفعہ اسلم سے سامنا ہوتا رہتا تھا۔ اپنے خیال کے برعکس اسے ایک دفعہ بھی خوف محسوس نہیں ہوا۔ پہلے وہ تھوڑا کتراتی تھی اس جگہ سے جہاں اسلم ہو مگر اسلم نے کبھی اس کی طرف توجہ نہیں دی۔ اب یہ ہچکچاہٹ بھی ختم ہوگئی تھی۔ مگر فی الحال معاملہ الگ تھا وہ اور بختاور دونوں دیور بھابھی تھے ان کی بات چیت آفیشل ( دفتری) سے زیادہ گھریلو ہونے کا خدشہ تھا اور بختاور کے تیور سے لگ رہا تھا کہ وہ ذرا سختی سے بات کرے گی۔ اس لیے بسمہ کو بہتر لگا کہ باہر ہی رہے۔

”نہیں آجاؤ اندر ہی، اچھا ہے ایک ہی ساتھ دونوں سے سہیل کا مسئلہ ڈسکس ہو جائے گا۔“
وہ دونوں اندر پہنچی ہی تھیں کہ پیچھے سے اسلم بھی آ گیا۔
” بھابھی آپ نے بلایا تھا؟“
”ہاں بیٹھو“
”جی“
اسلم بسمہ سے ایک کرسی چھوڑ کے بیٹھ گیا۔
”تمہاری سہیل سے کوئی بات ہوئی ہے ابھی؟“

”ہاں بھابھی عجیب بندہ ہے آپ لوگوں کی مدد کرنے کی بجائے بھاگ کے آ گیا۔ اب بچوں کہ طرح رو رہا ہے۔ اگر وہ لڑکے آپ لوگوں کو کوئی نقصان پہنچادیتے تو؟“

”تمہیں پتا ہے کہ ان کے پاس ہتھیار بھی تھے انہیں نقصان پہنچانا ہوتا تو سہیل کی موجودگی میں بھی پہنچا سکتے تھے۔“

”ہاں وہ تو ہے مگر کچھ تو اس کی ذمہ داری بھی تھی ناں۔ کیسا مرد ہے دو خواتین کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا۔ میں آپ کا سن کے ویسے ہی پریشان ہوگیا تھا۔ اسے اگر ہتھیار سے ڈر لگتا ہے تو نکال دیں کوئی ایسا ڈرائیور رکھیں جو ایسی سچویشن میں مدد تو کرسکے۔“ اسلم نے بالکل وہی بات کی جو بسمہ سوچ رہی تھی۔

”مدد تو بسمہ بھی نہیں کرپائی۔ یا میں بسمہ کی نہیں کرپائی پھر؟ ہمیں بھی نکال دیا جائے؟“
”بھابھی آپ دونوں کی ذمہ داری تھوڑی ہے یہ، آپ لوگ تو عورتیں ہیں۔“

”تو وہ بھی ڈرائیور ہے گارڈ نہیں۔ اسلم مجھے افسوس یہ ہورہا ہے کہ تم اب بھی مرد عورت کو صرف انسان سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ اگر ایسی کسی سچویشن میں عورت ڈر سکتی ہے تو مرد بھی ڈر سکتا ہے۔ اور اگر یہ عورت کے لیے برائی نہیں تو مرد کے لیے کیوں؟“ پھر بسمہ کی طرف دیکھا۔

”تمہیں بھی ساتھ بٹھانے کا مقصد یہی تھا۔ کیونکہ مجھے اندازہ ہوا کہ تم بھی سہیل کے رویے پہ حیران ہو۔ دیکھو ڈرنے کا تعلق کسی جنس سے نہیں ہوتا آپ کس ماحول میں رہے ہیں اس سے ہوتا ہے۔ زیادہ تر عورتیں ڈرپوک ہوتی ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انہیں مشکل حالات کا مقابلہ کرنا ہی نہیں سکھایا جاتا ہر جگہ گھر کے مرد آگے آ جاتے ہیں حد یہ کہ چھپکلی چوہا بھگانے کے لیے بھی۔ یہی ڈرپوک عورت جب ماں بنتی ہے تو بہت بہادری کا مظاہر کرتی ہے جب اپنی اولاد کو خطرے سے بچانا ہو مگر وہ بھی سب نہیں، کچھ ہمت نہیں بھی کرپاتیں۔

ہم اس سے سیکھنے کی بجائے اسے مقدس اور کوئی الوہی قوت بنا دیتے ہیں۔ جبکہ یہ بہت عام سی نفسیاتی بات ہے کہ آپ کے پاس جب بھاگنے کا یا خطرے سے بچنے کا راستہ نہ ہو تو آپ کے پاس صرف لڑنے کا آپشن رہ جاتا ہے۔ ایسے میں پہلے سے ذہنی طور پہ تیار شخص لڑتا ہے اور گھبرا جانے والا اپنے حواس کھو دیتا ہے۔ اسی لیے کچھ دفعہ مائیں بھی گھبراہٹ میں وہ فیصلے کر جاتی ہیں جو بچوں کو فائدہ کرنے کی بجائے نقصان پہنچا دیتے ہیں۔

اس میں غلطی اس عورت کی نہیں ماحول کی ہے جس نے اسے بہادر بننے کا موقع ہی نہیں دیا۔ یہی مسئلہ سہیل کے ساتھ ہے۔ جس عمر میں اسے بہادر بننا تھا اس عمر میں اس کے ذہن میں خوف بٹھایا گیا تاکہ وہ ہمیشہ فرمانبردار رہے۔ مگر ایک مسئلہ ہے جس پہ اس کا ردعمل بہت شدید ہوتا ہے۔ ہاتھا پائی سے دور تو رہتا ہے مگر ڈرتا نہیں ہے۔ مگر جہاں بھی ہتھیار نظر آئیں اس کے حواس ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ پہلے تو گارڈز سے بھی ڈر جاتا تھا اب کم از کم اتنا ہوا ہے کہ جب تک پسٹل ہولڈر میں ہوتی ہے یہ پرسکون رہتا ہے مگر مذاق میں بھی کوئی پسٹل ہاتھ میں لے لے تو رونا شروع کردیتا ہے۔ دیکھنے میں کوئی نفسیاتی مسئلہ لگتا ہے مگر کیا، یہ سمجھ میں نہیں آرہا۔ بسمہ تم عموماً مسئلہ کو نئے سمت سے دیکھنے کی کوشش کرتی ہو تمہارے ذہن میں کوئی خیال ہو تو بتاؤ تاکہ اس کی مدد کی جاسکے۔“

”میڈم ایسا تو عموماً فوبیاز میں ہوتا ہے۔“

”ہاں مگر اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے ناں۔ میں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی مگر پہلے تو کہتا ہے ایسا کچھ یاد نہیں پھر سر درد کا بہانا کر کے ادھر ادھر ہوجاتا ہے۔“

”بھابھی ایسا نہیں ہو سکتا کیا کہ کسی ماہر نفسیات سے بات کر کے دیکھ لیں یا اس کی ملاقات سہیل سے کروادیں شاید وہ کوئی مدد کر سکے؟“

اس بار اسلم نے مشورہ دیا

”ہاں ہو تو سکتا ہے مگر ماہر نفسیات کا نام سن کر ہی لوگ دور بھاگتے ہیں کہ ہمیں پاگل نہ کہا جائے۔ اسی لیے میں سہیل کو یہ مشورہ دیتے ہوئے ہچکچا رہی تھی۔“

”ہم پہلے کسی ماہر نفسیات سے خود بات کر لیں اگر وہ کوئی ایسا طریقہ بتائے جو ہم استعمال کرسکیں تو سہیل کو لے کے نہیں جانا پڑے گا۔“ بسمہ کے مشورے پہ بختاور نے سر ہلایا پھر اپنی ڈائری نکال کر ایک ماہر نفسیات کا نمبر نکالا اور فوراً ہی بات کرلی۔ اس سے فارغ ہو کر اس نے پھر اسلم کو مخاطب کیا۔

”اسلم، سہیل کا مسئلہ تم یقیناً سمجھ گئے ہوگے۔ لیکن ایک اصول کو عادت بنا لو۔ کسی کا مسئلہ سمجھے بغیر کسی کی بے عزتی کرنے کا کسی کو کوئی حق نہیں۔ دوسری بات وہ تمہاری ماتحتی میں کام نہیں کرتا۔ تمہیں کسی ملازم کی کسی عادت سے شکایت ہے تم ڈائریکٹ اس سے بات نہیں کرو گے بلکہ اس کے مینیجر سے بات کرو گے۔ ورک پلیس (کام کی جگہ) پہ اپنی اور دوسروں کی عزت اور حفاظت دونوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ کبھی کبھی کوئی ملازم اسے انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ بہتر ہوتا ہے کہ مسائل آفیشل طریقے سے حل ہوں تاکہ ماحول بہتر رہے۔“

”ٹھیک ہے آئندہ خیال رکھوں گا۔“
”اچھا تمہارا یہ پروجیکٹ تو اب ختم ہورہا ہوگا؟“
”جی آخری مہینہ ہے“

”اس کے بعد چاہو تو دوسرے پراجیکٹ کے لیے انٹرن شپ اپلائی کردو۔ تمہارا گریجویشن ہوچکا ہوتا تو جاب کے لیے اپلائی کر سکتے تھے۔“

”فرق کیا ہوگا“

”تنخواہ میں فرق ہوگا ایز انٹرن تمہیں ایکچوئل سیلری سے ہاف ملے گی۔ اور ذمہ داریاں کم ہوں گی ں۔ اچھا بسمہ تمہارا ابھی انٹر چل رہا ہے تمہیں ہم فیلڈ ورک کے لیے سیلیکٹ کر سکتے ہیں کیونکہ تم ایک سال اس قسم کی خواتین کے ساتھ کام کرچکی ہو۔ اس تجربے کی بنیاد پہ۔ فیلڈ میں ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو لوگوں کو ڈیل کرنا جانتے ہوں اور پر اعتماد ہوں۔“

”آپ نے تو سہیل کے لیے بھی کہا تھا۔“

”ہاں بالکل سہیل کے پاس بہت اچھے آئیڈیاز ہوتے ہیں مگر لوگوں کے درمیان نہیں بولتا۔ مجھے یہ پتا ہے کہ باقاعدہ انٹرویو میں وہ فیل ہو جائے گا مگر میں پوسٹ کی ڈسکرپشن ایسی بنانے کی کوشش کرتی ہوں جس میں اس کو ڈرائیور اور فیلڈ اسسٹنٹ کے طور پہ رکھا جاسکے۔ اصل میں ہمارے یہاں انٹرویو کے لیے جو طریقہ استعمال ہوتا ہے اس میں حقیقی معنوں میں کام کا بندہ چننا تقریباً ناممکن ہے رٹے رٹائے سوال سنا دینے والے کامیاب ہو جاتے ہیں اور اصل باصلاحیت بندہ رہ جاتا ہے۔

میری عموماً کوشش ہوتی ہے کہ میرے ساتھ دو تین ایسے بندے ہوں جو واقعی کام کر کے دکھا سکیں اور ضرورت مند ہوں ان کو ذہن میں رکھ کر میں پراجیکٹ پروپوزل میں جاب ڈسکرپشن بناتی ہوں۔ باقی اوپر والوں کو خوش کرنے کے لیے الٹی سیدھی بھرتیاں بھی ہوتی ہیں انہیں روکنا میرے بس میں نہیں۔“ یہ بات کرکے بختاور کھڑی ہوگئی

”بسمہ چلو تو رپورٹ بھی لکھوا دیں اور میڈم شمسہ سے بھی مل لیں۔“ اس نے ماہر نفسیات کا نام لیا۔

وہ باہر نکلے تو اسلم اپنے کام نپٹانے چلا گیا اور یہ دونوں گارڈ روم کے پاس آ گئیں۔ سہیل اب پرسکون لگ رہا تھا مگر آنکھیں کچھ لال لگ رہی تھیں۔

”سہیل بیٹا اب طبعیت ٹھیک ہے؟“
”جی میڈم“

”ڈرائیو کر لو گے؟ تو رپورٹ لکھوا کے آجائیں۔ پھر ایک جگہ کام سے جانا ہے“ بختاور اپنی عادت کے مطابق اپنی سے چند سال ہی چھوٹے سہیل کو ہمیشہ شفقت سے ہی مخاطب کرتی تھی۔ شاید اس کی وجہ سہیل کا دنیا میں بالکل اکیلا ہونا بھی ہو۔ بختاور کے اپنے بچے تو ابھی اسکول جانا شروع ہوئے تھے۔

”چلیں میڈم“

وہ لوگ آدھے گھنٹے میں رپورٹ لکھوا کر فارغ ہوگئے اور میڈم شمسہ کے کلینک آگئے۔ انہوں نے تینوں کو ہی اندر بلا لیا۔ تھوڑی بہت سلام دعا کے بعد بختاور نے مسئلہ بتانا شروع کیا۔

”میڈم ابھی ابھی ہمارا موبائل اور پیسے چھین لیے گئے۔ میرے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ایسا کچھ ہوتا ہے میں دوسروں کے سامنے تو بڑی بہادر بننے کی کوشش کرتی ہوں مگر پھر بھی اندر سے بہت ڈر جاتی ہوں۔ نیند اڑ جاتی ہے۔ ہر ہر بات پہ لگتا ہے دوبارہ ایسا کچھ ہونے والا ہے۔ کئی دن تک کام نہیں کرپاتی۔ اس دفعہ ایسا ہوا تو سوچا آپ سے مشورہ کر ہی لوں۔ پہلے یہ سوچ کے ٹال دیتی تھی کہ لوگ مجھے پاگل نہ سمجھیں۔“

میڈم شمسہ شگفتگی سے مسکرا دیں

”بہت اچھا کیا جو آپ آ گئیں۔ یہ لفظ پاگل اصل میں کم فہم لوگوں کا نکالا ہوا ہے۔ ہمارے شعبے میں ہم کسی کو بھی پاگل نہیں کہتے ہیں نہ سمجھتے ہیں۔ تھوڑے بہت نفسیاتی الجھن سے کوئی ذہنی مریض یا پاگل نہیں ہوجاتا۔ آپ خود بتائیں نزلے زکام میں مبتلا شخص معذور تو نہیں کہلائے گا۔ ایسے ہی بہت سے نفسیاتی مسائل ہوتے ہیں چھوٹے چھوٹے۔ ساتھ ساتھ حل ہوتے رہیں تو زندگی پرسکون رہتی ہے۔“

”جی یہ بات تو ٹھیک ہے اب یہ بتائیں میرے مسئلے کا کیا حل ہوگا۔ مجھے سمجھ ہی نہیں آتا جب کوشش کرتی ہوں کہ اس کے بارے میں سوچوں تو سر میں درد ہونے لگتا ہے۔“

”اصل میں ایسے خوف کسی سنجیدہ واقعے کے بعد ذہن میں بیٹھتے ہیں وہ واقعہ اتنا تکلیف دہ ہوتا ہے کہ ذہن اسے بھول جاتا ہے مگر اس کا اثر رہ جاتا ہے جب بھی کوئی اس واقعے سے متعلق چیز نظر آتی ہے تو ڈر لگنے لگتا ہے۔ اگر یاد کرنے کی کوشش کرو تو ہمارا لاشعور اسے یاد آنے سے روکتا ہے تاکہ ہم جذباتی تکلیف سے بچ سکیں اس کی وجہ سے سر درد ہوتا ہے۔“

”یہ تو میرے ساتھ بھی ہوتا ہے جی“

سہیل ایک دم بول پڑا۔ بختاور نے نامحسوس انداز میں بسمہ کی طرف مسکراتی نظروں سے دیکھا۔ بسمہ نے ہلکے سے سر ہلایا

”آپ کچھ تفصیل بتائیں۔“ میڈم شمسہ نے سہیل سے پوچھا۔ سہیل نے ساری کیفیت تفصیل سے بتا دی۔ تقریباً ایک گھنٹے کی کونسلنگ کے بعد جو نتیجہ نکلا وہ کافی حوصلہ افزاء تھا۔ سہیل جب 8 سال کا تھا تب ایک دن کچھ لوگوں نے گھر پہ حملہ کر دیا تھا پہلے وہ اس کے باپ سے بحث کرتے رہے وہ کسی معاملے کا حوالہ دے رہے تھے اور اسے کہہ رہے تھے کہ کہ تم نے بہت برا کیا تمہیں نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ بہت دیر بحث کے بعد ان لوگوں نے باپ کو گولی مار دی اور سہیل کے سر پہ پستول رکھ کے اپنے ساتھ اغواء کر کے لے آئے۔

ایک سال تک اس سے اپنی خدمتیں بھی کرواتے رہے اور اسے اپنی تسکین کے لیے بھی استعمال کرتے رہے پھر 20 ہزار میں ایک گروہ کے ہاتھ بیچ دیا۔ کچھ عرصے اس سے ایک جگہ بے گار میں کھدائی کا کام کروایا گیا اور پھر اس ہوٹل والی عورت کو 40 ہزار میں بیچ دیا گیا۔ سہیل اس سے پہلے یہ سب بھولا ہوا تھا اسے یا تو والدین کا ساتھ یاد تھا یا ہوٹل والی زندگی۔ یہ سب سہیل نے سیشن کے بعد انہیں بتایا۔ ورنہ سہیل سے بات کرنے کے لیے میڈم شمسہ نے انہیں باہر بٹھا دیا تھا۔

بسمہ گھر آئی تو اس کا دل بہت بوجھل ہورہا تھا۔ ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ سہیل اب بہتر ہو سکتا تھا مگر جتنی مشکل زندگی اس نے گزاری تھی وہ بسمہ کے لیے تصور کرنا ہی بہت تکلیف دہ تھا۔ وہ تو سمجھتی تھی کہ صرف عورت کو ہی دبایا جاتا ہے اور صرف عورت کو ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا اب مزید شدت سے دل چاہ رہا تھا کہ وہ سہیل کے مدد کرے اس کے تمام دکھ سمیٹ لے۔ اسے یہ خیال بھی تھا کہ یہ یقیناً وقتی جذبات ہیں جیسے باسط کا بیان پڑھنے کے بعد تھے۔

مگر شاید اس کا خیال غلط تھا۔ دن گزرتے گئے سہیل کے لیے اس کی جذبات یونہی رہے۔ نیا پراجیکٹ شروع ہوا تو اسلم بسمہ اور سہیل کا آپس میں کام اور بات چیت زیادہ بڑھ گئی۔ ان کے ساتھ ایک لڑکی اور بھی تھی زہرہ وہ بھی کافی پر اعتماد اور باصلاحیت لڑکی تھی۔ وہ اور بسمہ الگ الگ جھونپٹر پٹیوں یا فقیروں کی بستیوں میں جاتیں خواتین سیلیکٹ کرتیں اور ان کے دو گروپ بنا دیتیں۔ اگلے مرحلے میں ایک گروپ ایک پروفیشنل تھیٹر ایکٹر کے سپرد کیا جاتا جو انہیں اسٹریٹ ڈرامہ کی ٹریننگ دیتا اور دوسرا گروپ ایک گورنمنٹ کے ٹرینر کے سپرد ہوتا جو انہیں مکینک اور الیکٹریشن کا کام سکھاتا۔ اس سے اگلے مرحلے میں پہلے گروپ کے اسٹریٹ تھیٹر شروع کروائے جاتے اور دوسرے گروپ کی خواتین ایک نامور کمپنی کے سروس سینٹرز پہ بھیجی جاتیں۔

اتنے عرصے میں بسمہ کی اسلم اور سہیل دونوں سے ہی کافی بے تکلفی ہوگئی تھی۔ شروع شروع میں زہرہ دونوں مردوں سے کچھ لیے دیے رہتی تھی مگر پورے دن کا ساتھ ہو ساتھ کھانا پینا ہو تو ایسا رویہ رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ تکلف کام کی بات کرنے میں بھی آڑے آتا ہے۔ دوسری بات یہ بھی تھی کہ اسلم اور سہیل دونوں بہت احترام سے بات کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ وہ بھی تینوں کے ساتھ پرسکون محسوس کرنے لگی۔

سہیل کے کونسلنگ سیشنز بھی چل رہے تھے اور اس کی شخصیت میں مثبت تبدیلی آ رہی تھی۔ مگر کافی آہستگی سے۔ وہ لوگ کھانا وغیرہ کا بریک کرتے تو عموماً کام پہ ہی گفتگو ہوتی تھی۔ ایک دن سہیل کسی کام سے کھانا کھانے سے پہلے کہیں چلا گیا اور زہرہ آئی نہیں تھی۔ اسلم اور بسمہ کسی بات پہ بحث کر رہے تھے بسمہ اسلم کی بات ماننے کی بجائے دلیل دیے جارہی تھی آخر میں چڑ کے اسلم نے کہا

”اففو حالت دیکھو بندہ بات کرے تو ہر بات کا پوسٹ مارٹم کر دیتی ہو اس سے تو تم اسکول میں اچھی تھیں بالکل اچھی بچی ٹائپ ہوتی تھیں۔ بس اپنے آپ میں مگن“ بسمہ کہنا نہیں چاہتی تھی مگر پتا نہیں کیوں شکایت کر گئی

”مگر پھر بھی تم نے مجھے وہ آفر دی۔“

”ہاں اور میں اس پہ شرمندہ بھی بہت ہوا بعد میں۔ اصل میں ہمارے گھر کا ماحول ایسا نہیں تھا۔ جس اسکول سے میں آیا تھا وہاں بھی کلاس فیلوز کے درمیان اس قسم کی باتیں بہت کم تھیں۔ مگر جب تمہارے والے اسکول میں آیا تو ایک تو یہ ذہن میں تھا کہ اب میں جوان ہوگیا ہوں۔ دوسرا جن لڑکوں سے میری دوستی ہوئی وہ بہت غلط عادتوں کا شکار تھے۔ ان میں، میں سب سے اچھی شکل کا تھا اور میری وجہ سے ان کی لڑکیوں سے دوستیاں ہوتی تھیں تو وہ مجھے زبردستی ساتھ رکھتے تھے اور اس کے لیے انہوں نے میرے غیر ضروری تعریفیں بھی کرنی شروع کردیں۔

رہی سہی کسر کچھ لڑکیوں کے فدا ہوجانے والے رویئے نے پوری کردی۔ میرے گھر کی تربیت کے برخلاف ان لوگوں نے میرے ذہن میں یہ بھی بٹھا دیا کہ جو لڑکی آسانی سے نہیں مانتی وہ اصل میں صرف نخرے دکھا رہی ہوتی ہے تاکہ اسے اہمیت دی جائے ورنہ سب صرف جسمانی تعلق کے لیے انتظار کرتی ہیں کہ کب کوئی لڑکا توجہ دے۔ مجھے اب حیرت ہوتی ہے کہ اتنی گھٹیا سوچ پہ میں نے اس وقت یقین کیسے کیا۔ اسی سوچ کا اثر تھا کہ تمہارے ذرا سے مثبت رویئے کا میں نے بالکل غلط مطلب نکالا۔ تمہارے سخت ردعمل سے اس وقت تو مجھے غصہ آیا مگر بعد میں اسی وجہ سے میں نے دوبارہ اپنی سوچ پہ غور کیا تو اپنی سوچ کے سطحی پن کا اندازہ ہوا۔ اس کے بعد تم سے رابطہ ہی نہیں ہوپایا کہ معافی مانگ سکتا۔“ اسلم شاید کافی عرصے سے یہ کہنا چاہتا تھا اسی لیے بسمہ کی ذرا سی شکایت پہ ساری تفصیل بتادی۔

”یہ تو تم صحیح کہہ رہے ہو اسکول کی عمر میں ہمارے دماغ میں ہمیشہ یہی بٹھایا جاتا ہے کہ دوسری صنف والے ہیں ہی برے ان سے بچ کے رہو۔ ایسے میں ہم بہت سے اچھے ساتھیوں کو کھو دیتے ہیں۔ جن کے ساتھ اگر مثبت ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے تو بہت کچھ سیکھ لیں۔“

اسلم نے سر ہلا دیا۔ پھر وہ لوگ اپنے کاموں میں لگ گئے مگر بسمہ کے ذہن میں کافی عرصے سے جو الجھن تھی وہ رفع ہوگئی۔ وہ یہ سوچ رہی تھی کہ ہم کسی واقعے کی بنیاد پہ کسی شخص کے لیے کتنی غلط رائے قائم کر لیتے ہیں جیسا وہ شخص بالکل بھی نہیں ہوتا۔ اور جب تک اس سے بات چیت نہ ہو یہ غلط فہمی کبھی دور نہیں ہوسکتی۔ ان دو سالوں میں اس کا مرد ذات کے بارے میں نظریہ بہت بدل گیا تھا۔ اسے اب مردوں کے غلط رویوں کے پیچھے کی وجوہات بھی پتا تھیں۔

مگر سچی بات یہ ہے کہ اس نظریے کے بدلنے میں سہیل کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ سہیل بختاور اور بسمہ کی انتہائی عزت کرتا تھا مگر اس کے علاوہ بھی اس کا رویہ ہر شخص سے اتنا اپنائیت والا ہوتا تھا جیسے وہ اس کا کوئی سگا رشتے دار ہے۔ لڑائی جھگڑوں سے وہ ابھی بھی کتراتا تھا مگر اس کے علاوہ کسی کو کسی بھی قسم کی ضرورت پڑتی سہیل کا بس نہیں چلتا تھا کہ اپنا سب کچھ بیچ کے بھی دوسرے کی ضرورت پوری کردے۔ بسمہ کو افسوس یہ ہوتا تھا کہ لوگ سہیل کی اس عادت کا غلط فائدہ اٹھاتے تھے اس سے مدد بھی لیتے اور پھر ڈرائیور ہونے کی بنیاد پہ تذلیل بھی کرتے تھے۔

ان کے خیال میں یہ سہیل کی ذمہ داری تھی کہ اپنے سے زیادہ عہدے والوں کے لیے ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہے۔ حد یہ کے دوسرے ڈرائیور اور چوکیدار بھی سہیل سے باس والا رویہ رکھتے تھے۔ بختاور کے سامنے اگر کبھی ایسا کچھ ہوتا تھا تو وہ لوگ اچھی طرح ڈانٹ بھی کھاتے تھے۔ مگر شاید یہ ان کی فطرت کا حصہ بن گیا تھا۔

پتا ہی نہیں چلا تین سال کا پراجیکٹ جیسے لمحوں میں ختم ہوگیا۔ بسمہ کا گریجویشن پورا ہوگیا اسلم کا ماسٹرز کا آخری سال آ گیا اور سہیل اب انٹر میں تھا۔ کئی دفعہ لوگ اسے مشورہ دے چکے تھے کہ پڑھائی کی نہ تمہاری صلاحیت ہے نہ ضرورت تو چھوڑ دو مگر اس پہ وہ بہت مضبوطی سے ڈٹا ہوا تھا۔ اس کے ذہن میں بیٹھ گیا تھا کہ اچھی تعلیم ہو تو تعلیم سے میڈم بختاور جیسے لوگ بنتے ہیں اور ایسے لوگوں کی معاشرے کو ضرورت ہے۔ مگر وہ اپنے ان خیالات کا اظہار صرف بسمہ، اسلم اور زہرہ کے سامنے ہی کرتا تھا۔ اتنے عرصے میں ان تینوں کی سپورٹ سے اس نے لوگوں کی سامنے بھی اپنی آئیڈیاز بتانے شروع کردیئے تھے۔ عموماً اپنے ڈر کی وجہ سے وہ جب اپنے خیال کو ہر طرح سے جانچ لیتا تب ہی بتاتا تھا اور اسی لیے عموماً اس کا آئیڈیا بہت مکمل ہوتا تھا۔

سہیل زہرہ سے بات کرتا تھا تو بسمہ کو برا تو نہیں لگتا تھا مگر بس بلا وجہ وہ اداسی محسوس کرتی تھی۔ آہستہ آہستہ اسے بہت واضح ہوگیا تھا کہ سہیل اس کے لیے اہم ہوگیا ہے۔ کئی دفعہ اسے لگتا تھا کہ شاید سہیل کے بھی یہی جذبات ہیں مگر پھر وہ کنفیوز ہوجاتی تھی کہ شاید یہ صرف احترام ہو۔ مگر جن نظروں سے وہ بسمہ کو دیکھتا تھا وہ کچھ الگ تھیں احترام کے ساتھ اور بھی بہت کچھ ہوتا تھا ان میں۔

بسمہ کو دوبارہ اپنے جذبات وہی نوعمر لڑکی جیسے لگنے لگے تھے۔ اسے سہیل کے بارے میں سوچنا اور سوچتے رہنا اچھا لگتا تھا۔ آفس اور یونیورسٹی میں ایک بہت پروفیشنل اور پریکٹیکل قسم کی لڑکی اس معاملے میں بہت رومانوی ہوجاتی تھی۔ اس ایک خواہش جس سے وہ باسط سے شادی کے بعد دست بردار ہوگئی تھی وہ دوبارہ سے شدید ہوگئی تھی۔ ایک عزت کرنے والا خیال رکھنے والا اور بہت رومانوی شریک حیات۔ دو خصوصیات میں تو سہیل بلامقابلہ جیت گیا تھا۔ مگر تیسری کا پتا نہیں چل رہا تھا۔ ہاں ایک اور بھی معیار تھا مگر اب وہ اتنا بے معنی ہوگیا تھا کہ بسمہ نے اس طرف سوچا ہی نہیں وہ تھا خوبصورتی کا۔ اسے واجبی سی شکل کا سہیل سب سے خاص لگنے لگا تھا۔

ان کا پراجیکٹ ختم ہوا تو بختاور اور ایریا مینیجر کی طرف سے ڈنر بھی دیا گیا جس میں ٹیم کے سارے لوگ موجود تھے ان چار کے علاوہ پانچ لوگ اور تھے جن کا کام ڈاکیومنٹیشن اور فنانس وغیرہ سے متعلق تھا۔ ڈنر کے ساتھ ہی کوئی مووی دیکھنے کا پلان بنا۔ مگر یہ فیصلہ نہیں ہوپایا کہ کون سی فلم دیکھی جائے۔ ہر فلم پہ کوئی نہ کوئی اعتراض کر دیتا۔ اس میں بہت فائٹ ہے، اس میں ایکٹنگ اچھی نہیں، اس کا ٹاپک بکواس ہے۔ ایک مووی پہ اسلم بولا

”نہیں نہیں یہ رومینٹک مووی ہے سہیل آدھی میں بھاگ جائے گا۔“
بسمہ کا دل ڈوب گیا۔ مطلب اسے رومان پسند نہیں
”لو کیوں بھاگ جائے گا“ زہرہ کی طرف سے بسمہ کے دل کا سوال پوچھ لیا گیا

”ان سے سیڈ اینڈنگ برداشت نہیں ہوتی تین دفعہ میرے ساتھ مووی دیکھنے گیا آدھی میں چھوڑ کے بھاگ گیا۔ کہنے لگا بعد میں، میں خود ہیپی اینڈنگ سوچ لوں گا“

باقی تو سہیل کی حرکت پہ ہنسے مگر بسمہ اور سہیل کی نظریں غیر ارادی طور پہ ایک دوسرے کی طرف اٹھیں ان کی مسکراہٹ زیادہ گہری تھی۔

”واہ ہاتھ ملاؤ میں بھی یہی کرتی ہوں“
بسمہ غیر ارادی طور پہ کچھ ایکسائیٹڈ ہو کے بول گئی۔

” اوئی اللہ، جلدی کیا ہے میری تعلیم تو پوری ہونے دیں پھر ہاتھ مانگ لیجیے گا جی۔“ سہیل نے مذاق میں شرما کے کہا مگر اس کی شرارت بھری مسکراہٹ نے بسمہ کو کنفیوز کر دیا۔

”گڈ آئیڈیا۔ بسمہ آپ دونوں کی تعلیم مکمل ہو جائے تو آپ اپنے والدین کو لایئے گا ہم اپنے بیٹے کے فرض سے بھی سبک دوش ہوجائیں گے۔“ بختاور فوراً سہیل کی والدہ کے عہدے پہ فائز ہوگئی۔

”اوہو میں تو بلینک چیک کے انتظار میں تھی کہ آپ کہتیں یہ لو اور نکل جاؤ میرے بیٹے کی زندگی سے۔“

بسمہ نے بے ساختہ کہا تو سب اور زور سے ہنس دیے۔ کہنے کو ان سب کے لہجوں میں شرارت تھی مگر سب کو ہی بسمہ اور سہیل کے جذبات کی سچائی پتا تھی۔

بسمہ اور سہیل کی زندگی کم از کم اس نہج پہ پہنچ گئی تھی جہاں سب اچھا بھلے نہ ہو مگر دونوں کو یہ اطمینان تھا کہ دونوں نے ایک دوسرے کو صرف اچھائیوں کے ساتھ نہیں بلکہ تمام کمیوں کے ساتھ بھی قبول کیا ہے۔

بسمہ کو پتا تھا کہ سہیل کے لیے گھر والے آسانی سے نہیں مانیں گے۔ مگر باسط کو ملا کر ان کے تین فیصلوں نے ثابت کر دیا تھا کہ اچھے فیصلے کے لیے صرف اولاد کی محبت کا دعویٰ نہیں زمانے اور انسانوں کی صحیح سمجھ ہونا بھی ضروری ہے۔

سہیل کے لیے دلیل دینی پڑے یا اسٹینڈ لینا پڑے وہ تیار تھی۔ اسے اپنے لیے لڑنا آ گیا تھا۔

اس سیریز کے دیگر حصےفقیرنیاں بڑا اچھا ڈرامہ کرتی ہیں
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 85 posts and counting.See all posts by absar-fatima