چراغ سب کے بجھیں گے، ہوا کسی کی نہیں

پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ ایک بار پھر سلگ رہی ہے۔ یہ فتنہ جو کچھ عرصہ دبائے رکھا گیا تھا ایک بار پھر سر اٹھانے لگ گیا ہے۔ فرقہ واریت کا لاوا جب پھوٹتا ہے تو یہ بہتا ہے، اور بہتا چلا جاتا ہے۔ یہ سونامی جب آتی ہے تو فتنہ و فساد اور قتل غارت بھی ساتھ لاتی ہے۔ پاکستان میں فرقہ واریت کی یہ آگ آج کی لگائی ہوئی نہیں بلکہ اس کی ایک تاریخ ہے۔

ویسے تو اسلام میں فرقہ واریت کو لگ بھگ چودہ سو سال ہوئے ہیں لیکن پاکستان میں اس فتنے کو فقط ستر سال ہی ہوئے، یعنی جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے تب سے۔ 1949 ki قرارداد مقاصد نے پہلی مرتبہ مولوی کو ریاست پر مسلط کیا اور یہیں سے مسئلے کا چشمہ پھوٹا۔ مزید جلتی پہ تیل کا کام 1953 کے لاہور میں احمدی فسادات اور آیوب دور میں شیعوں کے جلوس پر مسلح حملے نے ادا کیا۔ رہی سہی کسر 1979 کے ایرانی انقلاب، افغانستان میں مجاہدین کے عروج اور سب سے بڑھ کر ضیاء کے اسلامائیزیشن نے پوری کر دی۔

ان تمام عناصر میں سب سے اہم کردار ضیاءالحق کی اسلامائیزیشن نے ادا کیا، اسی کی بدولت پاکستان، مملکت خداداد پاکستان سے مملکت ضیا داد بنا اور آج تک چلتا آ رہا ہے۔ انہی کے دور حکومت میں انقلاب ایرانی کو دبانے کی غرض سے ریاستی سرپرستی میں فرقہ واریت کو فروغ ملا۔ شیعوں کو دبانے کی باقاعدہ سازشیں ہوئیں۔ نتیجتاً شیعوں نے ”تحریک نفاذ جعفریہ“ کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس کے رد عمل کے طور پر 1985 میں سپاہ صحابہ کی بنیاد رکھی گئی۔

1988 میں تحریک نفاذ جعفریہ کے قائد، عارف حسین الحسینی کو شہید کیا گیا۔ اور پھر کیا تھا۔ دو عشروں تک مذہب کے نام پر خون کی ایسی ہولی کھیلی گئی جسے دیکھ کر انسانیت شرما جائے۔ اور یہ سلسلہ وہاں ختم نہیں ہوا بلکہ تا حال جاری ہے۔ آج بھی سپاہ صحابہ اور لشکر جنگوی کے مصلح آلہ کار ریاستی ریٹ کو روندھتے ہوئے سر عام دھنداتے پھر رہے ہیں۔

ویسے تو پاکستان میں فرقہ واریت کے پیچھے کئی ایک عوامل و عناصر کارفرما ہیں لیکن ان میں سر فہرست مذہبی شدت پسندی ہے۔ اور یہ رجحان دو طرفہ ہے۔ محرم الحرام شروع ہوتے ہی کچھ انتہا پسند ذاکرین اور مولوی منبروں پر براجماں ہو کر لعن و طعن کا سلسلہ چھیڑ دیتے ہیں تو رد عمل میں باقی مسالک کے انتہا پسند عناصر بھی سر اٹھانا شرو کر دیتے ہیں اور یوں ایک ایسا نا ختم ہونے والا سلسلہ جنم لیتا ہے کہ جس کا خاتمہ فتنہ و فساد اور قتل غارت پر ہی ہوتا ہے۔

گزشتہ دنوں ہنگو، پشاور، کراچی اور دیگر کئی اہم شہروں میں جلسے منعقد ہوئے جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور سر عام شیعہ کافر شیعہ کافر کے نعرے لگتے رہے۔ اور اس امر پہ ریاست کا تماشائی بن کر خاموش رہنا ریاستی اداروں اور حکومت وقت کے لئے ایک بہت بڑاسوالیہ نشان ہے۔ اور سوال کا ممکنہ جواب ایک ہی ہے کہ کہیں ریاست ملک کے ہر کونے سے اٹھنے والے سوالات سے توجہ ہٹانے کی کوشش تو نہیں کر رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں فرقہ واریت کے پیچھے کچھ بیرونی عناصر بھی کارفرما ہیں، جیسا کہ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر بھارتی خفیہ ایجنسی کے ایک اہلکار کی ویڈیو وائرل ہوئی جن میں وہ بڑی وضاحت کے ساتھ بتاتا ہے کہ کس طرح ہم پاکستان کے شدت پسند مولویوں کو پیسے دے کر اپنا آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اور کس طرح فرقہ وارانہ فسادات کرا کے اپنے سیاسی مفادات حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح ایران، افغانستان اور بیرونی طاقتیں بھی اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لئے باقاعدہ فرقہ واریت کا استعمال کرتے آئے ہیں اور کر رہے ہیں۔

لیکن ان دونوں صورتوں میں، عناصرچاہے بیرونی ہو یا اندرونی ریاست اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو جاتی۔ یہ بات واضح ہے کہ ریاست نے ہمیشہ سے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے فرقہ وارانہ تنظیموں کی پشت پناہی کی ہے۔ ریاست نے فرقہ واریت کی روک تھام کے لئے کبھی کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے نا ہی کوئی ٹھوس پالیسی اور قانون سازی میں اپنا کردار ادا کیا۔ ہر مسلک، ہر فرقہ، ہر مولوی ہر مفتی آزاد ہے جب چاہے کسی پر بھی کفر کا فتوی لگائے، کسی کو بھی واجب القتل قرار دے۔ لہذا ریاست کو چاہیے اس ضمن میں اقدامات اٹھائے، قانون سازی کرے، مدرسوں اور تعلیمی اداروں کو باقاعدہ و منظم کیا جائے اور نصاب پہ کام کیا جائے۔

پاکستان اب وہ حمام بن چکا ہے جہاں سب ننگے ہیں۔ شہر کی 72 شاہراہوں پر 72 لاوڈسپیکر نسب ہیں اور ہر لاؤڈ سپیکر کی آواز دوسرے سے بلند تر ہے۔ یہاں ہر مسلک دوسرے مسلک کے خلاف کفر کا فتوی جیب میں رکھ کے گھومتا ہے۔ بریلوی کے لئے شیعہ کافر ہے، دیو بندی کیلے بریلوی کافر ہے، شیعہ کے لئے اہل حدیث کافر ہے۔ اور یوں کافر کافر کا ایک ایسا فتنہ شروع ہے کہ جس کا نہ سر ہے نا پیر۔ یہاں کوئی ایک بھی ایسی مسجد، ایک بھی ایسا مدرسہ موجود نہیں کہ جہاں ایک ساتھ نماز پڑھی جاتی ہو۔ کیونکہ ہر مسلک دوسرے مسلک کے خون کا پیاسا ہے۔

اس سے پہلے کہ فرقہ واریت کا یہ ناسور پھیل کر اس امت کو مزید کھوکھلا کر دے، اس پہلے کہ ہر فرقہ دوسرے فرقے کے خلاف اور ہر مسلک دوسرے مسلک کے خلاف برسرپیکار ہو، ریاست کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے۔ کیونکہ یک کے بعد دیگرے ایک ایک کرکے ہر مسلک کو دائرہ اسلام سے خارج کرتے کرتے وہ دن دور نہیں کہ جب مملکت ضیا داد کا ہر فرد دوسرے فرد کو کافر اور واجب القتل قرار دے۔ کیونکہ فتوے سب کے پاس ہے، بس لگانے کی دیر ہے۔ نا صرف ریاست بلکہ بحیثیت پاکستانی یہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ اس آگ کے دریا کو روکنے میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words