کورونا وائرس کے معاشی اور سماجی اثرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نومبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے کورونا وائرس ( جسے کووڈ۔ 19 کا نام دیا گیا) دیکھتے ہی دیکھتے 2020 ع کے اوائل میں دنیا کے کئی ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اب تک دنیا بھر میں 2 کروڑ 93 لاکھ لوگ اس مہلک وائرس کا شکار ہوچکے ہیں جس میں سے 9 لاکھ 29 ہزار 900 لوگوں کو اموات ہوئی اور 2 کروڑ ایک لاکھ 41 ہزار 9 سو لوگ صحتیاب ہوچکے ہیں، دنیا بھر نیں وائرس پھیلنے کے ساتھ ح فیبروری 2020 کو پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس سامنے آیا جس کے بعد پاکستان نے بھی 23 مارچ سے لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے ساری سماجی اور سیاسی سرگرمیاں معطل کردیں اور ایمرجنسی بنیادوں پر ہسپتالوں اور ملکی سرحدوں پر کورونا سے بچاؤ کے سخت اقدامات کیے گئے۔

پاکستان میں اب تک 3 لاکھ 20 ہزار افراد کورونا وائرس کا شکار ہوئے جس میں سے 6383 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ تاحال کئی مریضوں کا علاج جاری ہے۔ کورونا وائرس کے باعث جہاں دنیا بھر میں سماجی سرگرمیاں معطل کی گئی اور لوگ گھروں تک محدود ہوگئے وہیں سپر پاور ملک امریکہ اور چین سمیت ہر ملک کو معاشی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا جو تاحال جاری ہے، کورونا وائرس کے باعث ہی دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مائنس میں چلی گئی جس کا براہ راست عرب ممالک، روس اور امریکہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، اس وائرس کے باعث دنیا بھر میں مصنوعات کی آمد رفت معطل ہوگئی جس سے بڑی بڑی کمپنیوں کے ساتھ ممالک کو نقصان پہنچا، ایسی صورتحال میں پاکستان ایران، یونان، آفریکن ممالک کو ملکی معاملات چلانے کے لیے امداد کا سہارا لینا پڑا اور آئی ایم ایف سمیت دیگر مالیاتی اداروں سے قرض معاف کرنے کی بھی درخواستیں دی گئیں

، کورونا وائرس کے بعد اب کچھ ترقی یافتہ ممالک نے اپنی معیشت کی بہتری کے لیے متبادل اقدامات اٹھانے لگے وہیں ترقی پذیر ممالک کو اس صورتحال سے نکلنے کے لئے کافی وقت درکار ہے۔ کورونا وائرس کے بعد جہاں دنیا کو معاشی نقصانات اٹھانے پڑے وہیں دنیا کی مختلف سوسائٹیز میں نئے رجحان بھی متعارف ہوئے، کورونا وائرس کے باعث ہی دنیا بھر میں اٹھنے بیٹھنے ہاتھ ملانے اور تقریبات میں شرکت کے نئے آداب بھی متعارف ہوئے مختلف ممالک میں تو سماجی اقدار کا بھی ازسرنو جائزہ لیا گیا تاکہ اس صورتحال کے بعد وہ سماج سے ناکارہ اور بوسیدہ روایات اور عادتوں کو ختم کرکے رجحانات متعارف کرائیں۔

اس لاک ڈاؤن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم بھی اپنے سماج کہ بہتری اور اس کے بوسیدہ روایات کو تبدیل کرنے کے لئے اقدامات کرتے تو یقیناً آنے والے وقت میں ہمارے سماج میں پازیٹیو ایکٹیویٹیز کو مزید تقویت ملتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •