درخت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریر: ہر من ہیس
انگریزی ترجمہ: جیمز وائٹ
اردو ترجمہ۔ ۔ ۔ خالد سہیل

میری نگاہ میں درختوں نے ہمیشہ بلند و بالا بزرگ مبلغوں کا مقام پایا ہے۔ جب میں انہیں جنگلوں اور بیابانوں میں کنبوں اور قبیلوں کی طرح پاتا ہوں تو انہیں بڑے شوق سے دیکھتا رہتا ہوں۔ میری نگاہ میں ان کی عزت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب میں انہیں کسی مقام پر بالکل تنہا کھڑے ہوئے پاتا ہوں۔ وہ مجھے تنہا انسانوں کی یاد دلاتے ہیں ’ایسے تنہا نہیں جو اپنی کمزوریوں کی وجہ سے باقی لوگوں سے کنارہ کش ہو گئے بلکہ نطشے اور بیتھوون کی طرح جو اپنی عظمت کی وجہ سے انفرادیت حاصل کر گئے۔

ان کے سائے میں باقی دنیا زندگی سے نبرد آزما ہوتی ہے وہ اپنی ساری زندگی اپنی مخفی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کے لیے وقف کر دیتے ہیں‘ ان کی زندگیاں ان کے اپنے قوانین کے تابع ہوتی ہیں۔ ان کا ظاہر ان کی باطن کی نمائندگی کرتا ہے۔ درخت ’تناور درخت خوبصورت اور مقدس چیزوں کی عمدہ مثال ہوتا ہے۔ اگر ایک درخت کاٹ دیا جائے تو انسان اس کی تنے میں اس کی زندگی کی ساری روداد اس کی ساری خوشیاں اور غم‘ نشیب و فراز دائروں کی صورت میں دیکھتا ہے۔ ہر کسان کا بیٹا جانتا ہے کہ بہت سے خوبصورت مضبوط اور قیمتی درخت پہاڑوں کی چوٹیوں پر پروان چڑھتے ہیں جہاں انہیں بہت سے ناسازگار حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

درخت دانشور عابدوں کی طرح ہوتے ہیں جو ان سے گفتگو کے فن سے واقف ہوتے ہیں ان پر بہت سی حقیقتیں بے نقاب ہو جاتی ہیں۔ درخت روزمرہ زندگی کے خیالوں کی باتیں نہیں کرتے بلکہ زندگی کے ازلی و ابدی قوانین کی طرف ہماری توجہ مبزول کرتے ہیں۔

ہر درخت کہتا ہے ’میرے اندر ایک خیال‘ ایک چنگاری ’ایک زندگی کی ”لو“ پوشیدہ ہے۔ فطرت میری ماں نے مجھے بڑے ناز سے بنایا ہے‘ میری جلد ’میری پتیاں‘ میری شاخیں ’میرے سراپا کی ہر تفصیل فقط میرے لئے مخصوص ہے۔

ہر درخت گویا ہے ’میری خود اعتمادی میں میری قوت مضمرہے۔ مجھے اپنی ذات پر بھروسا ہے‘ نہ تو مجھے اپنے آبا و اجداد کی خبر ہے اور نہ مجھے اپنے ان ہزاروں بچوں سے شناسائی ہے جو ہر موسم بہار میں میری ذات سے وجود میں آتے ہیں۔ میں تو اپنے بیچ کے ہر راز کو اس کے آخری مقام تک پہنچانے کے فرض کو پورا کرنے میں مصروف ہوں ’میرا ایمان ہے کہ خدا میرے اندر جلوہ گر ہے میرایقین ہے کہ میری محبت مقدس ہے۔ اسی ایمان پر میری زندگی کا دار و مدار ہے۔

جب انسان مصائب سے گھبرا جاتا ہے اور زندگی سے عاجز آ جاتا ہے تو درخت اس سے مخاطب ہو کر کہتا ہے ”میری طرف دیکھو ’استقامت کا درس سیکھو۔ زندگی آنسوؤں اور مسکراہٹوں سے ماورا ہے۔ اگر تم اپنی زندگی کی گہرائیوں میں اترو گے تو خدا کو بولتا ہوا پاؤ گے۔ کیا تم نے ابھی اس بات کا عرفان حاصل نہیں کیا کہ انسان کا ہر قدم اس کے گھر کی جانب بڑھتا ہے۔ انسان کا گھر زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے۔ انسان اپنا گھر یا تو اپنی ذات کے اندر پاتا ہے یا کہیں نہیں پاتا۔

جب میں شام کے وقت درختوں کی سرسراہٹ اور ان کی شاخوں کے نکلنے کی آوازیں سنتا ہوں تو باہر نکلنے کے لئے بے چین ہو جاتا ہوں اگر انسان ان آوازوں کو دیر تک سنتا رہے تو اسے زندگی کے بہت سے معانی سے آگاہی حاصل ہو سکتی ہے۔ یہ آوازیں یا د دہانی کراتی ہیں کہ انسان کا ہر قدم پیدائش ہے اور ہر قدم موت اور انسان کی قبر اس کی ماں کی آغوش کی طرح ہے۔

کئی درخت اپنی شاخوں کے ساتھ جھوم رہے ہوتے ہیں اور دیگر اوقات بڑے سکون سے ساکت کھڑے ہوتے ہیں۔ درختوں کے غور و فکر کے انداز ان کی زندگیوں کی طرح طویل ہوتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے انسانوں سے لمبی زندگی پاتے ہیں۔ جب انسان درختوں سے فیض حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں تو ان کی مختصر زندگیاں پر معنی ہو جاتی ہیں اور ان کے دل میں درخت بننے یا ان کی طرح طویل زندگی پانے کی خواہش نہیں رہتی وہ جان جاتے ہیں کہ انسان کے لئے انسان بننا ہی فطرت کا تقاضا ہے۔ یہی ان کی زندگی کا منتہیٰ ہے اور یہی ان کی خوشی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 370 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail