یوں اندھیری رات میں اے چاند تو چمکا نہ کر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شام کھانے کے بعد ہسپتال کے چکروں کی نقاہت کے باوجود جی پھر چاہا کہ کچھ پیدل چل لیا جائے۔ نکلتے نکلتے اندھیرا ہوچکا تھا۔ ایک ہاتھ میں چھڑی اور دوسرا ہاتھ بیٹی نے تھاما دھیرے دھیرے چلتے اپنے گھر کی عقبی سڑک پہ آئے تو اس ہمیشہ سے فسوں بھری سڑک پر۔ کہ شہر کے بیچ ہوتے بھی اسے بطور یادگار اسی طرح رکھا گیا ہے جس طرح کبھی اسد سلیم شیخ کی ”ٹھنڈی سڑک“ ہوا کرتی تھی۔ گیارہویں شب کا چاند بادلوں سے اٹکھیلیاں کر رہا تھا۔ دونوں طرف درختوں کے بیچ بل کھاتی ڈھلوان سڑک اور کرونا کی نوازش سے بغیر کاروں کی قطار اس وقت جنگل کا سا سکوت لئے تھی۔ موڑ پر سانس لینے رکا تو اچانک گیارہویں کا چاند شفاف آسمان پر سرمئی بادلوں سے کچھ اس طرح جھانکا کہ خدا تعالی کی حمد سے لبریز دل گنگنا اٹھا

چاند کو میں دیکھ کر کل سخت بے کل ہوگیا
کیوں کہ تھا اس میں نشاں کچھ کچھ جمال یار کا

موبائل فون میں یہ نظارہ قید کر گھر واپس آ چکا تھا۔ سونے کے لئے کمرے میں آیا کھڑکی کھولی تو اب صاف آسمان پر دوسری منزل سے سامنے نظر آتے قدرتی ماحول میں چمکتا چاند مجھ سے اپنی پرانی چاہتوں کی داستانیں سننے لگا۔

باسٹھ برس قبل کالج کے دوسرے سال میں ہوتے اپنی دکان کے لئے لاہور سے سامان لئے رات خاصی دیر بس پہ روانہ ہوا۔ شاہد رہ سے شیخو پورہ اور وہاں سے فیصل آباد تک چند قصبوں کے علاوہ یا درختوں کے جھنڈ تھے یا ویرانے۔ بس خالی ہی تھی۔ اچانک کھڑکی سے چودھویں کا چمکتا چاند نظر پڑا۔ دونوں طرف درختوں کے جھنڈ سے اوپر۔ کبھی ٹہنیوں سے جھانکتا عجیب نظارہ مجھے اپنے فسوں میں جکڑ گیا۔ میں آخری خالی لمبی نشت پر جا لیٹا۔ چاند اب وہاں لیٹے میرے پیچھے پیچھتے بھاگتا نظر آر ہا تھا۔

۔ ۔ کبھی بیٹھ کر پیچھیے سڑک اور کھیتوں کھلیانوں کی چاندنی نظر پڑتی کبھی پیچھا کرتا چاند۔ جانے کیسے اچانک ایک اور نظارہ میرے سامنے گھوم گیا۔ کلکتہ سے واپسی براستہ کانپور۔ کہ بڑی ہمشیرہ وہاں تھی۔ سے ہوتے ہم لاہور کی طرف رواں تھے کھڑکی میں سے ایسے ہی چاند کے نظارہ میں یہ شاید پانچ سالہ بچہ مگن تھا۔ اچانک سب مسافر کھڑکیاں کھولنے لگ گئے۔ ٹرین آہستہ ہوگئی۔ اور اچانک ہر طرف سے چھنن چھنن کی آواز شروع ہوگئی۔

ٹرین دریا کے پل سے گزر رہی تھی۔ میں نے حیران ہوکر ماں سے پوچھا تو بہت پیار سے سمجھایا۔ پتر یہ متبرک شہر بنارس ہے اور دریا گنگا بھی برکت والا شمار ہوتا ہے یہ مسافر مٹھیاں بھر بھر سکے پھینک رہے ہیں اور اپنی دعائیں اور منتیں مانگتے ہیں۔ ۔ ۔ بھر پور چاندنی میں دریائے گنگا پر بنارس پل سے گزرتے لوہے کے گرڈرز سے سکوں کے ٹکرانے کی یہ چھن چھن شاید چاندنی سے میرا پہلا پیار تھا۔

Benaras Ganga Bridge

کالج کے آخری سال بقرعید کے روز لیہ کی ریت میں رہتے ملک رمضان (بعد میں ایف سی کالج اور دیال سنگھ کالج میں پڑھاتے ریٹائر ہوئے) کہ میرے کلاس فیلو تھے اور ان کے بھائی عبدا لرحمان (داؤد خیل سیمنٹ فیکٹری میں چیف برنر رہے) کے ساتھ دریائے چناب کے ورلے کنارے جا نکلے۔ کشتی کی سیر گھومتے گپ مارتے پتہ نہیں کب شام ہو چکی تھی۔ پل پر واپس پہنچے۔ اب بس کا انتظار۔ مگر ہم بھول گئے تھے کہ بقرعید کی چھٹی ہے بھائی۔

اب بے بس گزارا کرو۔ بے بس کسی ٹرک تانگہ کے انتظار سے مایوس ہوکر ہم پیدل چنیوٹ کو روانہ ہوئے۔ اور چاند ہمارے آگے آگے چلنے کو تیار تھا۔ دریا کی چھلکتی لہروں پر جھلملاتی چاندنی۔ پل کے سرخ رنگ سے ٹکراتی۔ کبھی پہاڑی کی چوٹی کے اوپر سے کبھی اس کے پیچھے سے جھانکتی چاندنی۔ اور پھر سڑک کے دونوں طرف ریت کے اوپر موتی بناتی چاندنی سارے دن کی تھکاوٹ کے بعد یہ چھ سات کلومیٹر اور بھوک اور پیاس (ایک نلکا تھا رستے میں۔شاید آدھی وال نام تھا اس کوٹھری کا) اور چاندنی کا ساتھ۔ چنیوٹ ڈھونڈتے ڈھانڈھتے ریلوے سٹیشن کے قریب ایک بند کرتے ہوٹل سے بچا کچھا ٹھنڈا ٹھار کھانا قربانی کی عید کا جذبہ پیدا کرنے کو کافی تھا۔ ماڑی انڈس ٹرین فیصل آباد کے لئے رات جانے کا ہمیں علم تھا۔ اب ٹھنڈ بھی ناقابل برداشت۔ ٹکٹ گھر کے ساتھ بنی کوٹھری نما جگہ پڑے بنچ پر ایک دوسرے سے خوب چمٹ کر بیٹھے وقت گزارا۔ کوئی تین بجے صبح کے لگ بھگ فیصل آباد ریلوے سٹیشن سے باہر نکلے تو وہی ستم۔

چاندنی پھر سامنے تھی۔ پھر پیدل چل پڑے اور ستیانہ روڈ سڑک کنارے پھر ایک گھاس لگی جگہ آدھ گھنٹہ گزار کر اپنے گھروں کو نکلے۔ بڑی ہمشیرہ کو بتا گئے تھے۔ درواز کھلا اور بیشتر اس کے کہ ان کی نظر پڑتی ہم میز پر پڑی گھڑی کو چار بجے سے ساڑھے بارہ بجے پہ لا چکے تھے۔ اگلے دن پتہ چلا کہ یہی واردات وہ دو بھائی بھی دکھا گئے۔

اب مری کی وہ خنک رات یاد آئی جب شاید انیس سو اٹھاسی اکتوبر میں الیکشن کی چھٹی تھی۔ وہاں مال پہ کھانا کھا کر گھوم رہے تھے بچے ایک دوسرے کو تنگ کرتے لطیفے سناتے شاپنگ کرتے لطف لیتے دیکھ ہمیں افضال خداوندی کا شکر ادا کرنے کا ایک اور موقع فراہم کر چکے تھے۔ کہ ڈرائی فروٹ مارکیٹ میں ایک کیسٹ والی دکان سے لتا کی سریلی آواز ابھری۔ ”یہ راتیں یہ موسم یہ ہنسنا ہنسانا۔ ہمیں بھول جانا انہیں نہ بھلانا۔ بھلانا“ یہ تو شاید پنکج ملک کا تھا۔ بے اختیار آواز کی طرف بڑھا اور لتا منگیشکر کی اپنے ساتھیوں کو خراج عقیدت میں گائے گانوں کی یہ کیسٹ خریدی۔ کار میں کشمیر پوائنٹ کی طرف اپنے ہوٹل آتے پھر دائیں طرف پورا چاند سامنے تھا۔ کہ اچانک وہ جگہ آ گئی جہاں دائیں طرف کوئی عمارت سڑک پر نہ تھی۔ سڑک کنارے کار روکی چاروں دروازے کھولے۔ نیچے وادی میں اونچے نیچے پہاڑوں۔ کہیں دھند۔ گھروں سی نکلتی ٹمٹماتی روشنیاں اور اوپر صاف آسمان پر چمکتا چاند اور کار کیسٹ پلیئر سے نکلتی لتا کی مدھر آواز۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ راتیں۔ یہ موسم۔ یہ ہنسنا ہنسانا۔ ہمیں۔ ہمیں بھول جانا انہیں نہ بھلانا۔ بھلانا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہم ان شیریں لمحوں کو آج تک دہراتے وہیں پہنچ جایا کرتے ہیں۔ ۔ ۔

Chiniot Bridge

چند برس بعد وادیٔ سون سکیسر کا ذکر ہے۔ سرگودھا کے پیارے دوست شوکت پراچہ نے اپنے ٹرانسپورٹر دوست کے ذریعہ بقرعید ہی کی چھٹیوں میں سکیسر کے ریسٹ ہاؤس میں بکنگ ہو جانے کا مژدہ سنایا۔ تو ہم قربانی کا گوشت تقسیم کرنے کے فوراً بعد نکل پڑے۔ اور جوش میں شوکت کے گھر سے پرمٹ پکڑے بغیر نکل گئے۔ خوبصورت ہریالی اور اونچے نیچے دل خوش کن نظارے رک رک دیکھتے ہم مغرب سے کچھ قبل ریسٹ ہاؤس پہنچے۔ تو وہاں بندہ نہ بندے کی ذات۔

آخر ایک بندہ نظر آیا۔ کہ چوکیدار تھا۔ کہنے لگا ہمیں تو کوئی اطلاع نہیں پرمٹ آپ کے پاس نہیں۔ اسے یقین دلایا تو کہنے لگا ٹھیک ہے آپ دور سے آئے ہیں میں کمرہ کھول دیتا ہوں، مگر سارا عملہ چھٹی پہ ہے۔ کھانے کا کوئی سامان مہیا نہیں۔ یہ برتن ہے یہ چولہا ہے۔ کچھ لکڑیاں میں لا دیتا ہوں۔ نیچے پہلے گاؤں سے فٹا فٹ جائیے اور ڈھونڈ ڈھانڈ پکانے کھانے کا سامان لے آئیے آپ پکائیے آپ کھائیے۔ میں بھی چھٹی جا رہا ہوں دو روز بعد آکر چابی لے لوں گا۔

اب ہماری بیگم تو مٹی کے تیل والے چولہے کے دور میں دلہن بنی تھیں انہیں۔ لکڑی کے چولہے اور پھکنی اور لکڑیاں جلانا کہاں پتہ۔ بڑی ہمشیرہ ساتھ تھیں۔ انہوں نے کہا۔ ٹھیک ہے تم جاؤ، ہو جائے گا۔ بچوں کو وہاں چھوڑا۔ بیگم کو ساتھ لئے گاؤں پہنچے۔ جو پہلا گھر آیا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔ اور اپنا مسئلہ بتا کر پوچھا کہ ہمیں تو مرچ مصالحہ سے لے کر پورا کچن گرہستی پورا کرنا ہے۔ وہ ساتھ ہو لئے۔ گھروں سے دکانداروں کو لاتے رہے اور ہم پڑیاں اور لفافے بھرتے رہے۔ کچھ برتن وغیرہ ساتھ تھے۔ دودھ گھی وغیرہ کے کام آئے۔ سبزی مرغی۔ سب نعمتیں مہیا ہونے کا سامان ہوگیا۔ خدا اجر دے انہوں نے۔ چائے بھی پلائی اور دو گھنٹہ بعد ریسٹ ہاؤس کا کچن آباد کر آپا اور بیگم کھانا بنا رہی تھیں۔

دوسری شام بادل برس مطلع صاف ہوچکا تھا دن بھر گھومتے رات کا کھانا کھاتے ہی اچانک بجلی بند ہو گئی۔ باہر نکلے اک سکوت ہر طرف پورا آسمان تاروں سے جھلمل جھلمل کرتا۔ اونچی نیچی سر سبز پہاڑیاں وادیاں بھرپور جوبن پہ آئی چاندنی میں نہائی۔ کسی کسی دور دراز کونے پر۔ کہیں اوپر چوٹی کے نزدیک اور کہیں دور نیچے وادی کی تہ میں ٹمٹماتا دیا سا۔ ۔ ۔ واہ خدایا تیرے رنگ نرالے۔ کہاں آ گیا اے خدا یہ مسافر۔ یہ کیسی زمیں یہ کیا آسماں ہے۔

ایک۔ طرف چاندنی دور اوپر ملک کی فضائیہ کے راڈار کا ہیولا پیغام دے رہا تھا۔ ہم جاگ رہے ہیں اور دوسری طرف وادیاں پہاڑ اور برساتی نالوں میں چاندی کی سی چمکتی پانی کی لکیریں اور اطمینان سے جاگتی سوتی آبادیاں۔ اس سوہنی دھرتی کا حسن اور آسمان کے رنگوں کی نا قابل برداشت حد تک دل کی گہرائیوں میں پہنچی خوشی۔ اور خدا کے کرم کہ مجھے اور میرے بچوں کو ان نظاروں سے مستفید فرمایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بس یہ ہی کہلا سکی

یوں اندھیری رات میں اے چاند تو چمکا نہ کر

یہ دو ہزار تین ہے۔ وطن عزیز میں ڈاکوں، چوریوں، دھمکیوں، مذہبی شدت پسندی اور بڑھتی اخلاقی پستی اور آئندہ اس میں اضافہ ہی ہوتے رہنے کا پیشگی ادراک کر کے میں مہاجر بننے کے بعد ٹورنٹو ائر پورٹ سے کوئی چالیس کلومیٹر شمال کیلیڈن کاؤنٹی میں سڑک کنارے ایک پرانے پٹرول پمپ پہ بیٹھا ہوں۔ ڈیڑھ ایکڑ کی اس جائیداد میں ساتھ ہی ساٹھ ستر سال پرانی چھوٹی سی عمارت جس کے نیچے کرایہ پر دیا ریسٹورنٹ ہے اور اوپر دو کمروں پر مشتمل چھوٹا سا اپارٹمنٹ۔ بس جتنا میرے فیصل آباد کے گھر میں فیملی روم اور کچن تھا۔ میرا مسکن ہے اور ہم باپ بیٹا اٹھارہ گھنٹے روز کام کر ہے ہیں۔ چاروں طرف دو دو تین تین سو ایکڑ کے فارم اور ان کے گھر ہیں۔ قریب ترین گھر نصف فرلانگ شمال اور ایک فرلانگ جنوب میں ہیں۔ مگر مجھے یہ سکون ہے کہ میں اور میرے بچے محفوظ ہیں۔ ٹیکنیکل ٹریننگ کالج پیپلز کالونی کے پچھلے سرونٹ کوارٹر کے دروازے سے صرف سو میٹر دور اپنی کوٹھی کے گیٹ سے میری بیوی کو بچی کے کمپیوٹر کورس کے لئے وہاں تک خود چھوڑنے نہیں جانا پڑتا۔

میں صبح یہ سوچتے گھر سے نہیں نکلتا کہ آگے میری دکان کا تالا توڑ کر کوئی مالک بنا بیٹھا ہو تو میں کیا بگاڑ لوں گا اور واپسی پر گھر پر بیوی بچے بیٹیاں سلامت ملیں گی کہ لاشیں پڑی ہوں گی ۔ میں دوبارہ الف سے شروع کرنے کی مشکلات کے باوجود قادر مطلق کے احسانوں پر خوش ہوں کہ سب کی جانیں اور آبرو محفوظ پہنچ پائی۔ سردیاں برف کی چادریں لئے آئیں چاروں طرف ایک دو کلو میٹر تک موٹی روئی کے گالوں کی سی تہہ ایک چادر کی شکل میں پھیل گئی۔

ایک رات نصف شب کے قریب موسیقی کی آواز نے جگایا تو باہر جھانکتے ہر طرف بھر پور چاندنی میں نہائی برف ایک روح پرور نظارہ دکھلا گئی۔ آواز کی سمت والی کھڑکی کے پاس گیا تو وہ نظارہ تھا جیسے خوشگوار خواب ہی ہو۔ کوئی پچاس میٹر دور برف میں ایک چھوٹا سا خیمہ نصب تھا۔ باہر بڑے سے آتش دان میں جلتی لکڑیوں کا الاؤ شعلے دے رہا تھا۔ چاندنی کے سفیدی اور شعلوں کی سرخی کا عکس اور دھوؤیں کی لکیر مل ملا عجیب قوس و قزح بنائے اپنے رنگ برف پہ بکھیر رہے تھے۔

اور ہمارے اس نصف فرلانگ دور والے لینڈ لارڈ کی بیر بہوٹی سی بہت ہی خوبصورت بیٹی شیرل جو نیچے ریسٹورنٹ میں کام بھی کرتی تھی۔ اور اس کا بوائے فرینڈ دنیا و مافیھا سے بے خبر کبھی دھیمی ٹھنڈی چاندنی جیسی اور کبھی تیز آگ جیسی موسیقی میں والہانہ ناچے جا رہے تھے۔ جانے کتنی دیر میں کبھی انہیں دیکھتا۔ کبھی ان کو دیکھتے نور پھیلاتے چاند کو دیکھتا چلا گیا۔ ۔ ۔

چاند ایک مرتبہ پھر اپنی محبت اور چاہت اور ٹھنڈک اور گرمائش سے مجھے نواز چکا تھا۔

یہ دو ہزار گیارہ کی گرمیاں ہیں۔ دل ناداں اپنی شرارتوں سے پھر گڑ بڑ پہ آمادہ ہے مگر شمالی برٹش کولمبیا کی پیالہ نما وادی میں انتہائی سر سبزو شاداب شہر پرنس جارج کے اوپر والی پہاڑی ڈھلوان پہ بنے شہر کے ایک نمایاں گھر میں مقیم میرا داماد اور بیٹی کے وینکؤور سے دنیا کے مشہور ترین ہبؔرڈ گلیشر الاسکا تک کی ایک لگثری بحری تفریحی جہاز میں نشستیں پہلے سے بک کروا چکے ہونے کے باعث ہم دونوں طرف پھیلے سبزہ سے ڈھکے چھوٹے بڑے جزیروں سے گزرتے سمندر کے نظاروں اور جہاز کی میزبانی کا لطف اٹھا رہے ہیں۔

ساڑھے چار ہزار مسافروں اور دو ہزار چھ سو کے عملہ اور خدمت گزاروں والی یہ دنیا رکتے چلتے تیسرے روز دوپہر کے کچھ بعد ہبؔرڈ گلیشر پہنچتی ہے۔ چاروں طرف چھوٹے ٹاپوؤں اور جزیروں کے درمیان تنگ راستوں سے گزرنے اور ارد گرد پہلے برف کے پہاڑوں سے گرے تیرتے برف کے تودوں سے بچنے کے لئے خصوصی موٹر بوٹ اور لانچز راہنمائی اور صفائی کرتی جاتی ہیں۔ کوئی تین گھنٹے جہاز اس علاقے میں کہیں کھڑے ہو کر اور کہیں آہستہ آہستہ گھومتے ہر پہلو دکھاتا رہا۔

ساحل ایک طرف پورا اونچے برف کے پہاڑ ہی کی صورت تھا۔ یہ ہبؔرڈ گلیشر تھا۔ ہر تھوڑی دیر بعد بڑی گرج پیدا ہوتی اور ایک بڑا ٹکڑا برف کا یا بڑا تودہ اوپر سے پھسلتا ساتھ برف کا غبار پیدا کرتا کئی اور ٹکڑوں سمیت سمندر کے پانی میں یا پہلے سے تیرتے تودوں کے اوپر آن گرتا اور ایک دوسری دل دہلا دینے والی گرج گونج جاتی۔ میری بیٹی داماد اور نواسے سب ان نظاروں کا بھرپور لطف اٹھانے عرشہ پر ادھر ادھر دوڑ رہے تھے اور ہماری سدا سے بہت بہادر بیگم خوف سے ہمارے ساتھ چمٹی ہر گونج پہ دھڑک اٹھتیں۔ (اس وقت مجھے یاد آیا کہ یہ جو میرے ساتھ چمٹی کھڑی ہے دو مرتبہ پاکستان میں کنپٹی پر پستول اور گردن پر چھری کا کس دانشمندی اور حوصلے سے مقابلہ کرتے جان اور عزت بچا چکی ہے)

جہاز واپسی کا سفر اختیار کرتے ان کھاڑیوں سے برف کے تودوں کو ہٹواتے نکل چکا تھا اور شام کے سائے پھیل رہے تھے۔ اور میرے ذہن میں بچپن سے پڑھتا سنتا آیا ایک فقرہ گونج رہا تھا جس میں غلامان محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک نے انہی غلاموں کے دنیا کے کناروں تک پہچنے کی نوید سنائی تھی۔۔۔ اور آج اس قادر مطلق اور مسبب الاسباب نے اس ناچیز کو جو کبھی صرف ایک آنہ کی استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے ریکس سنیما ستیانہ روڈ سے پاکستان ماڈل سکول گھنٹہ گھر فیصل آباد پیدل جانے اور تپتی دوپہر میں واپس آنے پر مجبور ہو گیا تھا۔ آج دنیا کے مغربی کنارے ایک اول درجہ کی سہولتوں سے مزین بحری جہاز کے ذریعہ لا کھڑا کیا تھا۔۔۔ تب میں نے کمرے میں آ کر خدا کے حضور سجدۂ شکر ادا کرتے دعا ہی کا سہارا لیا۔ اپنے والد مرحوم کے منہ سے ترنم سے اکثر سنے اس مصرعہ پر غور کر رہا تھا۔ ”اے مرے پیارے بتا۔ تو کس طرح خوشنود ہو“

٭٭٭           ٭٭٭

رات کھانا کھا لیٹنے کی سوچ رہے تھے کہ لاؤڈ سپیکر سے آواز گونجی کہ جہاز تھوڑی دیر میں اس مقام سے گزرنے والا ہے جہاں دو سمندر آپس میں ملتے ہیں مگر مدغم نہیں ہوتے۔ آیۂ کریمہ کے الفاظ مرج البحرین ذہن میں گونج اٹھی اور ہم لفٹ پہ چڑھتے عرشۂ جہاز پر پہنچ چکے تھے۔ عجیب نظارہ سمندر پر تھا۔ پورا چاند اپنی چمکار کا فسوں پھیلائے تھا عرشہ کی روشنیاں بالکل مدھم کر دی گئیں تھیں کہ باہر کا نظارہ نظر آ سکے۔ دور سے ایک لکیر نزدیک آتی نظر آ رہی تھی۔

تب یاد آیا کہ قرآن مجید میں سمندروں کے ملنے اور میٹھے اور کڑوے پانی والوں کا ذکر ہے جو بحر اسود اور سمندر کے پانی کا ملاپ ظاہر کرتا ہے۔ سپیکر پر تفصیل بتائی جا رہی تھی مگر ہم سمجھ نہ پائے۔ ۔ ۔ اور قدرت کے کارخانہ پر غور کر رہے تھے کہ ایک طرف سے برف سے ڈھکے پہاڑوں اور سمندر میں گرے تودوں سے پگھلا پانی ملا آ رہا ہے۔ اور دوسری طرف بھاری پانی ہے اور کثافت کا فرق دونوں کو ملنے سے روک رہا ہے۔ لکیر بھرپور چاندنی میں واضح نظر آتی حد نگاہ تک پھیلی تھی۔ دور پہاڑ کی جھلکی سی نظر آ رہی تھی (دنیا میں چند اور جگہ بھی یہ نظارہ موجود ہے)۔

واہ خدا تو نے کہاں کہاں کیا کیا نظارے میر ے لئے مسخر کر دیے۔ ایک عجب کیفیت تھی لوگ مست ہو کر ادھر ادھر بھاگتے ہوئے کیمروں میں منظر محفوظ کر رہے تھے اور میں جنگلے سے دو سمندروں کے ملاپ کی بھر پور چاندنی میں ابھری چمکتی لکیر دیکھتے۔ ۔ ۔ سبحان الذی سخؔر لنا ہذا و ما کنا لہ مقرنین کا ورد کرنے میں مصروف تھا۔ ۔ ۔ جہاز پانی کو چیرتے آگے بڑھتا جا رہا تھا پانی کی لہروں کا شور چندا کے سحر کو دلآویز بنا رہا رہا تھا ساتھ چاند بھی اتنا ہی آگے جا رہا رہا تھا۔ تب دل پھر حمد خداوندی کے گیت گاتے آستانۂ ا لوہیت کے آگے گڑگڑا اٹھا

بیٹھ کر میں عشق کی کشتی میں آؤں تیرے پاس
آگے آگے چاند کی مانند تو بھاگا نہ کر

ٹھنڈ بہت بڑھ چکی تھی میں عرشہ کے بالکل پچھلے حصہ میں بنے شیشے لگے کمرے کی سمندر کا رخ کیے نشست پر آ بیٹھا۔ جہاز کے آگے بڑھنے سے پچھلی طرف بننے والی لہریں جیسے گونجتی ہلتی چاند کو پکڑنے میں مصروف اچھلی جاتی ملتی نظر آئیں اچانک بائیں طرف سے شور اٹھا ایک بڑی وہیل مچھلی سمندر کی سطح سے کئی فٹ بلند تک چھلانگ لگاتی گرتی جارہی تھی اور پانی کی بوچھاڑ چاندی کے ستارے گراتی نظر آ رہی تھی۔ ۔ ۔

تب خدا تعالی کی حمد کے گیت گاتے اور ان نعمتوں سے نوازے جانے پر شکر ادا کرنے والے اکہتر سالہ لئیق احمد کو چونتیس سال پہلے کا وہ لئیق احمد یاد آیا جو فیصل آباد سرکلر روڈ پر ریل بازار پولیس چوکی کے عین سامنے سعید مارکیٹ میں واقع اپنی محنت کا اندوختہ اپنی دکان چند نادان بھڑکائے گئے شر پسندوں کے ہاتھوں جلنے کے بعد جون کے پہلے ہفتہ کی گرمی میں مارکیٹ کی راہداری میں ٹائیفائڈ میں مبتلا راکھ میں سے بچا سامان ڈھونڈتے تھک کر گتا بچھائے لیٹا ہوا خدا تعالی کے حضور گڑگڑانے میں مصروف تھا کہ سامنے کپڑا مارکیٹ کا ایک دکاندار طنزیہ مسکراہٹ لئے ہونہہ کہتے گزرا تو جانے کیسے کسی انجانی طاقت نے اس کے منہ سے اونچی آواز میں یہ فقرہ نکلوایا تھا۔ ۔ ۔ فکر نہ کریں انشاءاللہ میرا خدا مجھے بہت جلد پہلے سے آگے نکلا آپ کو دکھائے گا۔ اور شاید تین سال بعد ہی وہ طنزیہ مسکراہٹ حیرت سے کھلے منہ میں تبدیل ہو چکی تھی۔ فالحمد للہ علی ذالک۔ کہ اس وقت اسی مجذوب کا یہ شعر گر سکھا گیا تھا

ہے عمل میں کامیابی۔ موت میں ہے زندگی
جا لپٹ جا موج سے۔ ساحل کی کچھ پروا نہ کر۔

اور والد مرحوم کی ترنم بھری آواز میں میری بیٹی کو گود بٹھائے پڑھے جانے والے یہ الفاظ حمد کے ترانے گانے لگے۔

صد شکر ہے خدایا، تو نے یہ دن دکھایا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •