ہمارے اصل معمار ہیرو


ایک تو ہیرو قصے کہانیوں میں پائے جاتے ہیں جن کا کہانیوں سے باہر کوئی وجود بھی نہیں ہوتا۔ قصے کہانیوں سے باہر جو وجود رکھتے ہیں۔ ان کے اندر بھی کوئی نا کوئی ہیرو وجود رکھتا ہی ہے۔ خیالی اور حقیقت سے دور۔

لیکن حقیقی دنیا میں بھی ہیرو پائے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی صلاحیتوں، لگن، محنت، جانفشانی، خیالات اور سوچ سے اپنے علاقے، ملک، قوم اور معاشرے پر اثرات چھوڑے ہوتے ہیں اور کسی نا کسی طرح لوگوں کی زندگی اور رہن سہن اور سوچ پر ان کے نقش نمایاں ہوتے ہیں۔

بچہ جب گھر میں ہوتا ہے تو ماں باپ اس کے ہیرو ہوتے ہیں۔ اسکول پہنچتا ہے تو ٹیچر یہ جگہ لے لیتا ہے اور جیسے جیسے زندگی کے رنگ دیکھتا جاتا ہے۔ ایسے ایسے اس کے ہیروز بھی تبدیل ہوتے جاتے ہیں۔

دنیا میں ایسے افراد بہت کم ہوتے ہیں جن کے سامنے کوئی بلند مقصد ہو اور وہ اس کو پانے کے لیے جانیں تک کھپا دیں، ایسے ہی عظیم افراد سے قوموں کو نئی زندگی ملتی اور ملکوں کی تاریخ بنتی ہے۔ قوموں کی زندگی کے چراغ روشن رہتے اور آنے والی نسلیں ان پر فخر کرتی ہیں۔ دنیا میں جو لوگ عزت و شہرت حاصل کرتے ہیں۔ ان کی زندگی شروع ہی سے عام آدمیوں سے مختلف ہوتی ہے۔ کچھ حاصل کرنے کے لیے اپنی صحت داؤ پر لگانا پڑتی ہے۔

لوگ بڑے پیدا نہیں ہوتے بلکہ اپنی محنت، جد و جہد اور بے پناہ ایثار و قربانی کے بعد آخرکار دنیا سے اپنی شخصیت کا لوہا منوا لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرتی، ہمت بلند ہو اور یقین کامل کہ جس مقصد کو لے اٹھے ہیں وہ ہر لحاظ سے درست ہے تو معمولی سامان سے بھی بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں اور انسان کو اس کی کوشش کے مطابق ہی ملتا ہے۔ صحبت ہمیشہ انسان کو متاثر کرتی ہے۔ کامیاب انسان بننے کے لیے کامیاب لوگوں کی صحبت اختیار کرنا لازمی ہے۔ اچھی عادتیں انسان کو اچھا اور بری عادتیں انسان کو برا بنا دیتی ہیں۔

جاہل اگر دانش وروں کی صحبت میں بیٹھیں تو رفتہ رفتہ ان میں علمی خصوصیات پیدا ہونے لگتی ہیں۔ غیر صحت مندانہ عادات کی اقوام صحت مندانہ صلاحیتیں رکھنے والی اقوام سے میل ملاپ اور تعلقات و قربت کی بدولت صحت مندانہ عادات کی مالک ہوجاتی ہے جو قومیں خود اپنی زندگی کا محاسبہ کرتی اور ان کے افراد خود اپنا احتساب کرتے ہیں۔ وہ کبھی ناکام نہیں ہوتیں بلکہ کامیابی کی ایسی عظیم منازل طے کرتی ہیں کہ تمام دنیا والوں کے لیے مشعل راہ و مینارۂ نور کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ فرد سے افراد، افراد سے معاشرہ اور معاشرے سے اقوام تشکیل پاتی ہیں۔ اس لیے اسلام نے اپنا محاسبہ کرنے کی تلقین کی۔ دوسروں کی عیب جوئی اور عزتیں اچھالنے سے بہتر ہے۔ خود کو بہتر کریں، معاشرہ بہتر ہو جائے گا۔

یوں ہر قوم ہی زندگی گزارتی ہے لیکن زندہ رہنے اور جینے میں بڑا فرق ہے اور پھر کامیابی کے ساتھ جینے میں تو بہت ہی فرق ہے۔ ایک کامیاب قوم کے اوصاف میں وقت کا بہتر استعمال، کاہلی سے بچنا، بہتر منصوبہ بندی، شخصیت سازی، حق گفتگو، افراد کار سے تعلقات، ٹیم ورک، تفویض امور اور کئی انفرادی و اجتماعی صلاحیتوں کے معاملات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ خود احتسابی کسی بھی قوم کے لیے اللہ کا سب سے بڑا تحفہ ہے جو اس میں صبح بیداری سے رات سونے تک کا ذمے دارانہ لائحہ عمل سکھاتی ہے کہ دن بھر جو وقت گزارا کیا اس کا صحیح مصرف ہوا۔

کہیں وہ بے کار تو نہیں گیا؟ کیریئر پلاننگ، اجتماعی، دفتری زندگی، عملی میدان اور انفرادی صلاحیتوں کی نشوونما اور ٹائم مینجمنٹ ایک فن ہے اور اس فن پر عبور کامیابی کی کنجی ہے۔ یہ ایسی کنجی ہے جس قوم کے پاس ہو اس میں بل گیٹس جیسے کامیاب لوگ جنم لیتے ہیں۔ یہ وہ گر ہیں جن پر عمل زندگی کی کایا ہی پلٹ دیتا ہے۔

زندگی میں کامیابی کے لیے زندگی گزارنے کے عظیم اصولوں کے صحیح ترین استعمال کا زریں لائحہ عمل اختیار کرنا نہایت ضروری ہے جن کی مثال ہمیں کامیاب شخصیات کی زندگی میں بخوبی اور بدرجہ اتم نظر آتی ہے اور منظم متوازن، موثر، مستعد اور بامقصد زندگی کے حامل شخصیات کو کامیابی خود تلاش کرتی ہے۔ یہی کامیابی آپ کی منتظر بھی ہو سکتی ہے۔ عظیم انسان ہی مہذب اقوام کی ضمانت ہوتے ہیں۔

آج میں ایسے ایک ہی قوم کے ایک عظیم ہیرو جناب احمد حاجی رضا صاحب کو اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں جس نے قوم کو العصر اکیڈمی جیسا عظیم درسگاہ دی جس نے قوم کو ادب، آرٹ، فلسفہ، فکر، سائنس، ، طب دفاع ہر میدان میں قوم کو مایہ ناز جوان دیے وہ بھی پسماندہ ترین علاقے میں جہاں سماج کی ہر قسم کی پستی کا راج تھا اور آج تک پستیوں کی کمی ایسے حالات میں ایسے خیالات اور عملاً خیالات کو وجود دینے والے یقیناً قوم کے ہیرو ہوتے ہیں۔

Facebook Comments HS