شریعت الہی، فقہی قانون یا سیکولر قانون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شرعی قانون کی بنیادی شرط عدل و انصاف ہے۔ اگر ایک نظام قرآن و سنت پر مبنی ہونے کا دعوی کرے مگر اس کا نفاذ عدل کے بجائے ظلم کو فروغ دے تو وہ شرعی نظام نہیں ہو سکتا۔ اگر فقہی قانون کو دیکھا جائے تو پرانے زمانے کے فقہا نے قرآن و حدیث کی تشریح کر کے فقہی قانون ترتیب دیا۔ ان فقہا کی ذہنی استعداد اس زمانے کے لحاظ سے شاید قابل رشک ہو لیکن آج انسانی علم ترقی کرچکا ہے اور آج کے معیار کے مطابقت میں قدیم فقہا کی ذہنی استعداد بے انتہا محدود تھی۔

فقہ میں سیاسی اثر و رسوخ بھی تھا۔ کئی فقہی قانون خالص طاقتور طبقے کو فائدہ پہنچاتے نظر آتے ہیں۔ جیسے اولاد کو قتل کرنے پر سزا نہ ہونے کا قانون ان بادشاہوں کو فائدہ پہنچاتا ہے جو اپنی اولاد کو تخت کے لیے مار دیتے تھے۔ ان خامیوں کی وجہ سے فقہی قانون آج کے زمانے میں عدل و انصاف کے بجائے ظلم و ستم پھیلائیں گے، جیسا کہ سعودی عرب، طالبان کے افغانستان اور پاکستان مین جنرل ضیا کے دور میں واضح ہے۔ قرآن پاک میں ان کا ذکر ہے جو لیتے تو اللہ کا نام ہیں لیکن پھیلاتے فساد ہیں۔ آج کے زمانے میں فقہ پر اصرار کرنے والے بعینہ ان آیات پر پورا اترتے نظر آتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں سیکولر قانون نہ صرف حقوق انسانی اور عدل و انصاف کا ضامن ہے بلکہ مسلسل اپنے آپ کو بہتر کرنے پر یقین رکھتا ہے، تقلید کے نام پر لکیر کی فقیری نہیں کرتا۔ حقیقتاً شرعی قانون کہلانے کا حق صرف اور صرف سیکولر قانون کے ہی پاس ہے کیونکہ صرف سیکولر قانون ہی کی بنیاد امام ابو حنیفہ کے اصول استحسان پر ہے، فقہ کی نہیں۔ مطلب یہ کہ سیکولر نظام کا مقصد کسی بھی مقدس کتاب کے الفاظ کو ہو بہو لاگو کرنے کے بجائے ایسا قانون بنانے پر زور دیتا ہے جس سے عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ امام ابو حنیفہ کا اصول استحسان بعینہ یہی ہے جس کی بنا پر فقہا انہیں امام اعظم قرار دیتے ہیں مگر فقہی قانون کی بات کرتے ہوئے اصول استحسان ہی کو سب سے پہلے فراموش کر کے قدیم فقہا کے خیالات کو لفظ بہ لفظ لاگو کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔

سیکولر دنیا کا ہی کمال ہے کہ فقہی کمزوریوں کا کھلم کھلا مذاق اڑنا شروع ہوا ہے تو اب فقہ میں بھی اب عقل استعمال کرنا پڑ رہی ہے اور لکیر کے فقیر پیچھے ہٹ رہے ہیں، جیسا کہ ریپ کیسز میں چار گواہوں پر اصرار کرنے والے یا پھر خواتین کی آدھی گواہی ماننے والے ان اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح اکابر کو غلط بھی نہ ماننا پڑے مگر ان کے ارشادات کی کوئی نئی تاویل کردی جائے۔ مطلب خامی کو خامی تسلیم کیے بغیر درست کر دیا جائے۔ لیکن بجائے فقہ کے متروک نظام کو دوبارہ زندہ کرنے کے کیوں نہ سیکولر قانون کے اعلی نظام کو اختیار کیا جائے اور اسی کو قرآن و سنت کی روشنی میں بہتر کیا جائے؟

چاہے مسلمان علما کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو، لیکن سنت رسول ﷺ یہی ہے کہ زمانے کے بہترین نظام کو اختیار کر کے اس کو ہی بہتر کیا جائے۔ جیسے نبی نے بذات خود زمانہ جاہلیت کے عرب قانون کو مٹایا نہیں بلکہ صرف اس کی خلاف اسلام شقوں کو بدلا۔ خلفائے راشدین نے بھی جن ممالک کو فتح کیا وہاں پر افغانستان کے طالبان کی طرح کوئی نیا قانون لانے کے بجائے وہیں کے قانون کو قائم رکھا اور صرف خلاف اسلام شقوں کو بدلا۔ اسلام لانے کے بعد بھی وہاں کے لوگ پرانے قانون پر ہی عمل کرتے رہے۔ اسی طرح سے قدیم فقہ کے قانون پر اصرار کرنے کے بجائے سیکولر قانون کو ہی اپنانے اور بہتر بنانے کی سعی کرنا چاہیے۔ یہی سنت نبوی ہے اور یہی آگے بڑھنے کا طریقہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر نعمان شہیر کی دیگر تحریریں