مشیت ایزدی یا انسانی لاعلمی؟

مذہب اور سائنس میں اختلاف نظریہ ارتقا، زمین کے گول ہونے، یا سورج کے زمین کے گرد گھومنے کا نہیں ہے۔ ڈارون اور گلیلیو سے کئی ہزار سال پہلے قدیم یونان اور مصر کے پروہت تھیلز اور ایناگزاگورس کو قابل گردن زدنی قرار دے رہے تھے۔ نظریہ ارتقا سے کئی سو سال پہلے ہی غزالی اور ابن تیمیہ جیسے نابغے بوعلی سینا اور الفارابی کو واجب القتل بتا رہے تھے اور مجدد الف ثانی کہلانے والا شیخ احمد سرہندی افلاطون

Read more

ڈرامے کا سین اور علما کے فتوے

علمائے کرام اور مفتیان دین نے محترمہ ثمینہ پیر زادہ پر فتوی دیا کہ ان کی طلاق ہو گئی ہے, کیوں کہ انہوں نے ایک ڈرامے میں اپنے اصلی شوہر کے ساتھ طلاق کا سین کیا ہے۔ پورے ملک میں حلالہ امیدواروں کا طوفان مچ گیا۔ لوگوں نے حلالہ کرنے کے لیے لاکھوں کا حق مہر پیش کر دیا۔ حتی کہ ثمینہ پیر زادہ کا اپنا ڈرائیور بھی لائن میں لگ گیا کہ میڈم نیک کام کے لیے مجھے ہی منتخب کر لیں، گھر کی بات گھر میں رہ جائے گی۔

آخر کار امام اعظم ثمینہ پیر زادہ نے ان مفتیوں کی شرع اور اجماع وغیرہ کو جوتے کی نوک پر رکھا اور خود اجتہاد کر کے فرمایا کہ ڈرامے کے سین سے طلاق نہیں ہوتی۔ اب کوئی بھی بنیادی عقل و شعور والا انسان سمجھ سکتا ہے کہ کیا روایتی علم دین سے لا بلد، ثمینہ پیر زادہ کا موقف دین کی حقیقی روح کے قریب تھا یا پھر پوری زندگی قرآن و حدیث پڑھنے والے علما کا؟

Read more

شریعت الہی، فقہی قانون یا سیکولر قانون

شرعی قانون کی بنیادی شرط عدل و انصاف ہے۔ اگر ایک نظام قرآن و سنت پر مبنی ہونے کا دعوی کرے مگر اس کا نفاذ عدل کے بجائے ظلم کو فروغ دے تو وہ شرعی نظام نہیں ہو سکتا۔ اگر فقہی قانون کو دیکھا جائے تو پرانے زمانے کے فقہا نے قرآن و حدیث کی تشریح کر کے فقہی قانون ترتیب دیا۔ ان فقہا کی ذہنی استعداد اس زمانے کے لحاظ سے شاید قابل رشک ہو لیکن آج انسانی علم ترقی کرچکا ہے اور آج کے معیار کے مطابقت میں قدیم فقہا کی ذہنی استعداد بے انتہا محدود تھی۔

Read more