سانحہ موٹروے! چند گزارشات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہمیں نصاب میں جھوٹ کیوں پڑھایا جاتا ہے۔ مطالعۂ پاکستان میں یہ کیوں لکھا جاتا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے جس کی تعلیمات کے مطابق بنیادی حقوق کے لحاظ سے سب انسان برابر ہیں۔ عورت وہ لفظ ہے جو انسان کو عزت و حرمت سے آگاہ کرتا ہے۔ غلط۔ تمام مذاہب بشمول اسلام ہر قسم کے نسوانی تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ غلط۔ اسلام نے خواتین کو حکومت، سیاست، قیادت اور مشاورت سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں اہم ذمہ داریاں سونپی ہیں۔

غلط۔ اکثر عورتیں اس تصور کی بنا پر تشدد کا شکار ہوجاتی ہیں کہ وہ مردوں کی نسبت کم تر ہیں۔ کیوں آخر یہ سب کیوں پڑھایا جا رہا ہے؟ بعض واقعات کسی بھی معاشرے اور قوم کے مردہ ہونے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ کسی ایسے معاشرے میں جو اسلامی جمہوریہ کہلاتا ہو وہاں پانچ سال کی بچی کو اٹھا کر ریپ کرنے کے بعد اس کی سوختہ لاش کو بوری میں بند کر کے پھینک دیا جاتا ہے۔ صرف پنجاب میں پچھلے دو سالوں میں خواتین اور بچیوں سے زیادتی کے ان گنت کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

کیا ان عدالتوں کے جج بھنگ پی کے مست رہتے ہیں جو ان سے انتہائی حساس نوعیت کے کیسز بھی نپٹائے نہیں جاتے۔ ہمارے علما کرام کیوں خاموش ہیں؟ کچھ رنگین مزاج عالم اپنی ویڈیو وائرل کروا کے شرمندہ ہونے کی بجائے اسے اپنی عزت افزائی سمجھتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار صاحب اپنی نظریں چراتے ہوئے دھیمے دھیمے پریس کانفرنس کر کے بتاتے ہیں کہ ہم مجرم تک پہنچ گئے تھے لیکن وہ فرار ہو گیا۔ مجرم کی گرفتاری پہ مدد دینے والوں کو 25 لاکھ روپے انعام دیے جائیں گے۔

تو حضور! ساہیوال کے واقعے میں کیا ہوا؟ وہ تمام مجرم رہا ہو گئے تھے۔ موٹر وے پہ اس ظلم و بربریت پہ مبنی واقعے کے محرکات دیکھنا ہوں گے۔ موٹر وے سے ملحقہ لنک روڈ پہ گجر پورہ جہاں پہلے بھی ڈکیتی کی وارداتوں کے بے شمار واقعات پیش آچکے ہیں۔ سوال ہے کہ کیا یہ معاشرہ صرف مجرموں کی پشت پناہی کرنے لگا ہے۔ مظلوم کو الٹا مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اس واقعے کے ایک چشم دید گواہ نے ایک نجی ٹی وی پہ بتایا کہ میں نے دیکھا کہ ایک عورت بھاگتی ہوئی سڑک پہ آئی اور کسی مرد نے اس پہ دست درازی بھی کی۔

اس عینی شاہد کا کہنا تھا کہ میں بھی شاید خوف کے مارے رک نہ پایا۔ افسوس ہے معاشرے کے ایسے کمزور مردوں پہ جو ظلم دیکھ کر بھی اپنی جان بچا کر نکل گئے۔ دوسری طرف وہ سی سی پی او صاحب ہیں جو فرماتے ہیں یہ کوئی فرانس ہے کہ عورت آدھی رات کو اپنی گاڑی کا پٹرول چیک کیے بغیر کیوں نکلی۔ جب وہ اپنے بچوں کے سامنے نام نہاد ریاست مدینہ میں اپنی عزت لٹوا چکی تو سی سی پی او صاحب نے اس کے ادھڑے جسم پہ درد کا مرہم رکھنے کی بجائے فرمایا:۔

”ہم کیا ہماری پوری سوسائٹی عزت دیتی ہے عورت کو ہم اس عورت کے ساتھ بہترین طریقے سے پیش آئے ہم اس کو کسی تھانے میں نہیں لے کر گئے کہ چل سانوں بیان دے چل سانوں دس کہ کی ہویا تیرے نال“ ۔ اب ایسے سی سی پی او کو تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پولیس کے محکمے سے ہی نکال دینا چاہیے۔ ایسے لنک روڈ جہاں اندھیرے بسیرا کرتے ہیں اور پولیس کبھی پٹرولنگ کرتے ہوئے نہیں پائی گئی اسے آخر آمد و رفت کے لیے کھولا ہی کیوں گیا۔ ٹول ٹیکس کیا اس لیے ہیں کہ لوگ اپنی عزتیں اور مال درندوں کے ہاتھوں گنوا دیں۔

ہم تقاضا کرتے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قائم مقام وزیر اعظم سے کہ ان مجرموں کو فوری طور پر دس دفعہ سر عام پھانسی پہ لٹکایا جائے۔ عبرت ناک سزائیں جب تک نہ دی جائیں یہ واقعات بڑھتے ہی جائیں گے۔ بتایا جا رہا تھا کہ یہ سی سی پی او صاحب پولیس کے محکمہ میں کوئی انقلاب برپا کرنے جا رہے تھے۔ کہاں ہیں وہ ساری اصلاحات جو پنجاب میں لاگو ہونے جا رہی تھیں۔ امن و امان دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ پولیس فورس نظم و ضبط کے بغیر کام نہیں کر سکتی۔

پولیس کو غیر سیاسی کیا جائے۔ سی سی پی او نے پانچویں روز شاید حکام بالا کی طرف سے بڑھنے والے دباؤ کی وجہ سے معذرت کی۔ افسوس ہے کہ عمر اسد جیسے سچ بولنے والے تعلیم یافتہ لوگ بھی اس کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ ظلم و بربریت کا شکار ہونے والی اس عورت کا بیان بھی وائرل ہوچکا ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ جونہی موٹر وے پہ پہنچی تو ان کی گاڑی کا پٹرول ختم ہو گیا۔ انھوں نے اپنے خالہ زاد بھائی کو فون کیا تو اس نے کہا 130 پہ فون کرو موٹر وے پولیس مدد کو آ جائے گی میں بھی پہنچتا ہوں۔

خاتون نے 130 پہ کال کی بتایا میں اکیلی ہوں یہ مسئلہ ہو گیا ہے جواب ملا یہ ہمارا علاقہ نہیں۔ تو صاحب! یہ ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان (ریاست مدینہ) کہ کسی تنہا عورت کی مدد کے لیے انسانیت مر چکی ہے۔ خاتون نے حفظ ما تقدم کے طور پہ بین الاقوامی اصول کی پیروی کرتے ہوئے کار کی پارکنگ لائٹس آن کردیں۔ کچھ ہی دیر میں ڈاکو جو عادی مجرم ہیں وہ وہاں پہنچ گئے۔ گاڑی کے شیشے توڑے، خاتون کو زبردستی کار سے نکالا، اس پر تشدد کیا اور پھر اس کے تینوں بچوں کے سامنے اسے بے آبرو کر دیا۔

اسی لنک روڈ کی خبریں آ رہی ہیں کہ آج سے ٹھیک دو ماہ پہلے ایک خاتون کمپاؤنڈر رات دس بجے اپنی ڈیوٹی کے بعد واپس جا رہی تھی اور بالکل یہی اندوہناک واقعہ اس کے ساتھ پیش آیا۔ انسان نما درندوں نے اس کے پاس موجود معمولی نقدی اور اس کی قیمتی عزت اجتماعی طور پر لوٹی۔ تف ہے ایسے سسٹم پہ جو عام شہریوں کو تحفظ دینے کی بجائے ان کی عزتوں سے کھیلتے ہیں۔ موٹر وے ریپ کیس میں ملوث عابد ملہی کو سات سال پہلے خبریں اخبار اور چینل 5 کی انویسٹی گیشن ٹیم نے اسی قسم کے گھناؤنے جرم میں جہاں اس نے ایک ماں اور اس کی ذہنی معذور بیٹی کو گینگ ریپ کیا۔

اس وقت کا یہ مظلوم خاندان فورٹ عباس کے قریب چک 257۔ IRمیں نمبردار کی زمین پہ رہائش پذیر تھا۔ علاقے کے زمین دار نے روزنامہ خبریں کے ضیا شاہد صاحب کو خط لکھا اور ملزمان گرفتار ہوئے پھر نجانے کس کی پشت پناہی پہ ضمانت ہو گئی۔ سی سی پی او عمر شیخ جو ایک ہیش ٹیگ بن چکا ہے اسے عہدے سے کیوں نہیں ہٹایا گیا؟ کیوں اب تک شہزاد اکبر اس سی سی پی او عمر شیخ کی حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں؟ کیوں اس لنک روڈ پر کوئی پٹرول پمپ نہیں ہے؟

کیوں یہ سڑک اب تک کسی کے حق اختیار میں نہیں؟ اگر ایسا ہے تو اسے چوروں کو تحفظ دینے کے لیے کھولا گیا ہے۔ کیا پاکستان کا آئین عورتوں پر تشدد کی اجازت دیتا ہے؟ پنجاب تحفظ نسواں ایکٹ 2016 کے مطابق تشدد کا شکار ہونے والی عورتوں کو فوری انصاف دلوانا ہے۔ ضلعی سطح پہ قائم تحفظ خواتین کمیٹیوں میں عورتیں کتنی تعداد میں بھرتی ہیں؟ ٹال فری نمبر 1043 پہ خواتین اپنے ساتھ ہونے والے تشدد کی شکایت کر سکتی ہیں۔ پاکستان کے 1973 کے آئین کے مطابق تمام انسانوں کو آزادانہ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔

جب تک خواتین عدم مساوات اور ظلم کا شکار ہیں جو کبھی اپنا جائز مقام حاصل نہیں کر سکتیں۔ خواتین پر یہ ہونے والے تشدد، استحصال اور جرائم کے خلاف خاموشی بے شمار مزید مظالم کا سبب بنتی ہے۔ خواتین، بچوں اور معصوم بچیوں پر جنسی ہراسانی شدید تشدد کے زمرے میں آتا ہے اس کی وجوہات کچھ یوں ہیں : 1۔ کیا معاشرے نے اس کو بالعموم مشترکہ عمل سمجھ کر قبول کر لیا ہے؟ 2۔ مجرموں کے خلاف سزا پہ کوئی عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ 3۔ معاشرے میں عدم مساوات ہے۔ 4۔ قوانین اسلام کے مطابق دیے گئے حقوق کے بارے میں خواتین آگاہ نہیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •