آصف فرخی کا اداس جنم دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج آصف فرخی کی اکسٹھویں سالگرہ کا دن ہے۔ گویا کہ اگر وہ اور جیتے رہتے تو آج ہم ان کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے اور جواب میں شاید وہ کہتے ” بھئی گویا کہ دوست مجھے باور کرانا چاہتے ہیں کہ میں سٹھیا گیا ہوں۔” یا شاید وہ ایک کالم ہی سٹھیائے جانے پر لکھ ڈالتے۔ ادب میں کہاں کہاں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ کیسے استعمال ہوا ہے اور یہ لفظ آیا کہاں سے۔ آصف یہ سب کچھ کھوج نکالتے۔ آصف کے ویڈیو کالم ہوں یا تحریری کالم، سب میں ان کے مزاج کی شگفتگی جھلکتی تھی اور ان کے دل کا درد جھانکتا تھا۔

اگر میں یہ کہوں کہ آصف نے اپنی عمر چھپا رکھی تھی تو برا نہ مانیے گا۔ آصف نے اپنی عمر دو طرح سے چھپا رکھی تھی۔ ان کے اندر پچھلی صدی کے کسی جیّد بزگ کی روح تھی جو فرخ آباد کے دیوان خانے سے نکل کر ان میں حلول کرگئی تھی اسے لوگ فرخّی کے نام سے جانتے تھے اورایک بچہ تھا جسے لوگ آصف کے نام سے پکارتے تھے۔ یہ دونوں روحیں ان کے اندر بڑی دوستی کے ساتھ رہتی تھیں۔ آصف کے اندر کے اس بچے کو کوئی فن پارہ نظر آتا تو وہ چہکنے لگتا تھا۔ اس کی شربتی آنکھوں میں ایک غیر معمولی چمک پیدا ہوتی تھی۔ ۔ آصف فرخّی در اصل دو تہذیبوں کی یکجائی کا نام تھا۔ آصف کو میں نے ان کے طالبعلموں کے جھرمٹ میں بھی دیکھا اور بزرگوں کی مجلس میں بھی۔ وہ بچوں میں جس قدر مقبول تھے بزرگوں کے بھی اتنے ہی محبوب تھے۔ انتظار صاحب کے یہاں آصف آتے تھے تو انتظار صاحب کی خوشی دیدنی ہوتی تھی۔

اپنے آخری دنوں میں آصف وبا جیسے لایعنی موسم کو بامعنی بنانے اور ان یاد داشتوں کومحفوظ کرنے کی جلدی میں تھے جو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گہری خراشیں چھوڑ جانے والی تھیں۔ وہ تالا بندی کا روزنامچہ لکھتے ہوئے ابتدائی دنوں کا جو نقشہ کھینچتے ہیں اس میں اس شہر کے روز مرہ معمولات زندگی اور اس کی گہما گہمی کم ضرور ہوئی تھی لیکن پوری طرح جامد نہیں تھی۔ نکڑ پر ایک بزرگوار کرسی ڈالے بیٹھے ہیں۔ لڑکے گلی میں باتیں کر رہے ہیں۔ کہیں سے بچوں کے شور کی آواز آرہی ہے، یہ شور کچھ مدھم ہے لیکن معدوم نہیں ہے۔ میں نے بھی اپنی کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھا تھا۔ اسے نظم بھی کیا تھا اور آصف کی فرمائش پر فوراً برقی ڈاک کے حوالے کیا تھا۔ مگر ہر شہر اور ہر خطے کی تالا بندی کا منظر نامہ الگ تھا۔ آصف نے اپنے شہر کے اس منظر نامے کو تسلسل کے ساتھ قلم بند کرکے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا۔ تاریخ لکھنے والے وبا میں مرنے والوں کے اعدادو شمار تو لکھ سکتے ہیں لیکن اصل تاریخ ہمیں ادب پڑھ کر ہی معلوم ہوتی ہے۔ آصف کو اس بات کا شاید شدت سے احساس تھا۔ میں نے بھی تالا بندی کی فرصت میں قلم کا سہارا لیا تھا۔ قلم بھی کتنی بڑی نعمت ہے۔ لیکن یوں لگا جیسے کاغذ کے یہ پرزے حالا ت کی آندھی یک دم اڑا لے گئی۔ تالا بندی کی اس جان لیوا خاموشی میں روح اور دل پر کیا گزر گئی، لکھنے بیٹھوں تو کاغذ کم پڑ جائے۔

 لیکن میں تو ذکر کررہی تھی آصف کی سوگوار سالگرہ کا۔ ان کے ویڈیو کالمز کا۔ سوچتی ہوں آصف ہوتے تو آج کیا لکھتے؟ مجھے یقین ہے کہ آج بھی ان کے کالم کا عنوان ہوتا “ماتمِ یک شہرِ آرزو”۔ وہ لکھتے کہ باران رحمت نے ان کے شہر پر کیا قیامت ڈھائی ہے۔ شاید وہ آج بھی کراچی کا نوحہ لکھتے۔ اپنے جنم دن پر وہ ہمیں اس دکان پر لے جاتے جہاں سے سالگرہ کا کیک لایا کرتے تھے۔ وہ ہمیں دکھاتے کہ وہ دکان تو گھٹنوں گھٹنوں پانی میں ڈوبی ہوئی ہے وہاں تو سب کچھ ڈوب گیا۔ آصف ہوتے تو اتنی جزویات کے ساتھ ان ڈوبنے والی دکانوں کا ذکر کرتے کہ لگتا وہ اینٹ پتھر کی تعمیر نہیں، جیتے جاگتے زندہ کردار تھے۔ پھر ان تباہ کاریوں کے بعد آنے والے اس معاشی بحران کی طرف اپنے قاری کی توجہ مبذول کراتے۔ وہ ارباب اقتدار کی بے حسی اور عام شہری کی بے بسی پر کن کن پہلوؤں سے احتجاج کرتے کہ ہم بھول جاتے کہ آج آصف کا جنم دن ہے۔

آصف ہمیں کہانی سے حقیقت اور حقیقت سے کہانی کی بھول بھلیوں میں لے جانے کا ہنر جانتے تھے۔ انہیں داستان گوئی کا ہنر آتا تھا۔ مگر ان کی داستان زندہ اور جیتے جاگتے انسانوں کی داستانیں تھیں۔ آج آصف ہوتے تو اپنے جنم دن پر تعلیم و تربیت اور نونہال کے ان شماروں کی بات کرتے ان کتابوں کو یاد کرتے جو ابا اور اماں انہیں سالگرہ پر دیتے تھے۔ پھر ہمیں اردو بازار لے چلتے۔ اور اردو بازار کی جل تھل سڑکوں اور دکانوں میں ٹھاٹھیں مارتا پانی اور غرقاب کتابیں دکھاتے۔ خود بھی آنسو بہاتے اور ہمیں بھی رلاتے۔ یہ کاغذ کے قیمتی گٹھے جنہیں کتاب کے قالب میں ڈھلنا تھا۔ جنہیں انسانی ہاتھوں کے لمس کی آرزو تھی اب مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی تھیں۔ آصف ہر غم ہر تکلیف برداشت کر سکتے تھے لیکن کتابوں کی بربادی اور دریا برد ہونا ان کے لئے سب سے بڑا المیہ ہوتا۔ شاید وبا سے بھی بڑا المیہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •