جرم و سزا اور رائے عامہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رائے عامہ کسی بھی سیاسی نظام کا پرائم موور ہوتی ہے۔ رائے عامہ کی تشکیل معاشرے کے سیاسی سماجی حالات کرتے ہیں۔ اس کی رہنمائی سیاستدان، دانشور اور صحافی کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ کسی ایشو پر رفتہ رفتہ عوامی رائے متشکل ہوتی ہے۔ یہ رائے مختلف چینلز سے ہوکر اوپر کی سطح تک پہنچتی ہے۔ ان چینلز میں میڈیا، سیاسی جماعتیں، پارلیمنٹ وغیرہ شامل ہیں۔ ان مرحلوں سے گزرتے ہوئے عوامی رائے میں موجود کمزوریوں اور ابہامات کو دور کیا جاتا ہے اور یہ ریفائن ہوکر اوپری سطح تک پہنچتی ہے۔ اوپر کی سطح پر رائے عامہ قانون سازی اور پالیسیوں / فیصلوں کی تشکیل پر اثر انداز ہوتی ہے۔ قوانین، فیصلے اور پالیسیاں نافذ ہونے کے بعد رائے عامہ کو متاثر کرتے ہیں۔ اس طرح یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوتا ہے۔

یہ عمل جمہوری معاشروں میں زیادہ موثر اور متحرک ہوتا ہے۔ جہاں جمہوریت جتنی کم ہوتی ہے، سیاسی عمل اتنا ہی سست ہوتا ہے۔ تاہم یہ عمل کسی نہ کسی درجے میں ہر معاشرے میں موجود ہوتا ہے، یہاں تک کہ انتہائی جابرانہ معاشرے بھی سیاسی عمل سے یکسر خالی نہیں ہوتے۔ سیاسی عمل کی مقدار اور رفتار کے علاوہ اس کا معیار بھی فرق ڈالتا ہے۔ لکھے پڑھے اور باشعور معاشروں میں رائے عامہ واضح اور پختہ ہوتی ہے جب کہ علم و شعور سے بے بہرہ معاشروں میں رائے پراگندا اور خام شکل میں اوپر کی سطح تک پہنچتی ہے۔

سیاسی عمل میں رائے عامہ کے کردار کی ایک مثال ان دنوں پاکستان میں ریپ کے ایک واقعے پر سامنے آنے والے رد عمل کا ہے۔ اس ایشو پر عوام نے اپنی رائے نہایت بلند آواز میں ظاہر کی۔ اس کا فوری عمل ہوا اور حکومت نے اس سے نمٹنے کے لیے قانون سازی اور فیصلہ سازی کی کوشش کی۔ ہمارا سیاسی نظام کمزور ہے اور اس کے مختلف کل پرزے اپنا اپنا کام درست انداز میں کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اول تو عوام میں آگہی کی کمی ہے۔ وہ مسئلے کی نوعیت اور اس کے حل کے بارے میں سوچ بچار کرنے سے قاصر ہیں۔

اس لیے ان کا رد عمل اکثر و بیشتر جذباتی ہوتا ہے۔ پھر سیاستدانوں اور دانشوروں میں صلاحیت نہیں کہ وہ عوام کی رہنمائی اور تربیت کرسکیں۔ میڈیا عوام میں آگہی پیدا کرنے کی بجائے ان کو اشتعال دلانے کا کام کرتا ہے۔ ان تمام کمزورویوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ عوامی رائے اوپری سطح تک پہنچنے تک خام ہی رہی اور اس میں عملی کمزوریوں اور تضادات کی بھرمار ہے۔ ایسی ناپختہ عوامی رائے کی بنیاد پر جن قوانین اور پالیسیوں کی تشکیل ہوگی وہ بھی کمزور اور ناپختہ ہوں گی ۔

مثلاً یہ مطالبہ کہ ملزموں کو کڑی سزائیں دی جائیں۔ لوگوں کے ذہن میں کڑی سزا کا مطلب سزائے موت ہے۔ موجودہ قوانین کے تحت عصمت دری کی سزا موت ہی ہے۔ اس لیے کڑی کی شرط بے معنی ہے۔ اس موضوع پر بات کریں تو کہا جائے گا کہ اس پر عمل کہاں ہوتا ہے۔ یعنی مثلاً سزا کے ہلکے ہونے کا نہیں بلکہ قانون پر عملدرامد نہ ہونے کا ہے۔ ایک اور رائے یہ ہے کہ اسلامی سزائیں نافذ ہونی چاہئیں۔ یہاں بھی آگہی کا فقدان ہے۔ اصل صورت حال یہ ہے کہ زنا کے بارے میں اسلامی سزائیں ملک میں نافذ تو ہیں لیکن ان کے تحت کسی پر زنا کے الزام کو ثابت کرنا اور سزا دینا مشکل ثابت ہورہا تھا۔

اسی لیے 2006 میں نئے قوانین نافذ کیے گئے جن کے ذریعے عصمت دری کے لیے پچیس سال قید یا موت کی سزا تجویز کی گئی۔ اور اگر ملزم ایک سے زیادہ ہوں تو ہر ایک کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جائے گی۔ باقی رہا سزائے موت کو بر سر عام دینا۔ یہ کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں۔ سزا کا کا مقام ہی تو بدلنا ہے۔ اگر اس سے کوئی بڑا فرق پڑتا ہے تو اس کو بھی کر کے دیکھ لیں۔

صورت حال یہ نہیں کہ ملک میں زنا یا زنا بالجبر کے خلاف کڑی سزائیں نہیں۔ بلکہ یہ کہ عدالتوں سے ان قوانین کے تحت سزائیں نہیں دی جارہی ہیں، یا سزاؤں پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ عدالتوں میں سزائیں نہ ملنے کی کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ پولیس ملزموں کے خلاف کافی شواہد پیش نہیں کرسکتی۔ اس کے علاوہ عدالتی نظام کی سست روی بھی ایک وجہ ہے۔ عدالتوں سے سزائے موت ملنے کے بعد ان پر عمل نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بین الاقوامی طور پر سزائے موت کے خلاف رجحان ہے۔ بہت سے ملکوں میں سزائے موت کو قانون سے نکال دیا گیا ہے۔ اگرچہ پاکستانی قوانین میں سزائے موت موجود ہے اور بہت سے جرائم پرعدالتیں یہ سزا دیتی بھی ہیں، لیکن بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ جب تک یہ بنیادی وجوہات اپنی جگہ موجود ہیں، نئے نئے قوانین بنانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

جرائم کے تدارک میں سزا صرف ایک فیکٹر ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی فیکٹر ہیں جیسے مذہب، نظام تعلیم، پولیسنگ، میڈیا وغیرہ۔ صرف سزأؤں کو بڑھانے سے جرم نہیں رکتا۔ ہمارے ہاں مذہب کا تصور صرف سزا سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ مذہب کا بنیادی وظیفہ تزکیہ ہے۔ تزکیہ کے معنی انسانوں کے اخلاق کو بہتر بنانا ہے۔ معاشرے میں اخلاقی اقدار جتنے پختہ ہوں گے ، جرائم اتنے ہی کم ہوں گے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ممتاز حسین، چترال

ممتاز حسین پاکستان کی علاقائی ثقافتوں اور زبانوں پر لکھتے ہیں ۔ پاکستان کے شمالی خطے کی تاریخ، ثقافت اور زبانوں پر ایک ویب سائٹ کا اہتمام کیے ہوئے ہے جس کا نام makraka.com ہے۔

mumtaz-hussain has 6 posts and counting.See all posts by mumtaz-hussain