لبرل ازم اور ہم‎

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کافی دنوں سے ملک میں ایک بحث چل رہی ہے جس کے نتیجے میں بہت سے رد عمل دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ موٹروے ریپ کیس نے نا صرف ہر حلقے کو قوت گویائی بخشی ہے بلکہ سب ہی اپنے اپنے پلیٹ فارم پہ رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

بلاشبہ یہ واقعہ اور اس جیسے بہت سے واقعات قابل مذمت ہیں لیکن کیا آج تک ہم نے مذمت کے علاوہ کچھ کیا؟
ہم نے یہ سوچا کہ معاشرہ اس قدر گراوٹ کا شکار کیوں ہے؟

ہر واقعے پہ مختلف قسم کے لوگوں کا مختلف رد عمل سامنے آتا ہے اور ایسے معاملات پہ ایک طبقہ ایسا بھی سامنے آتا ہے جسے میں ”دیسی لبرل ٹولہ“ کہتا ہوں۔

ان کے مطابق مرد جانور بھیڑیا اور دنیا کی غلیظ ترین مخلوق ہوتا ہے جو ایسے سب معاملات کا ذمہ دار ہے۔ اس طبقے کا بس چلے تو مرد نام کی مخلوق کا وجود ہی دنیا سے ختم کردیں۔

لبرل ازم کیا ہے؟

لبرل ازم، سیکولر ازم، لبرل فاشزم (جس کو متنازعہ سمجھا جاتا ہے ) اور ان کے مقابلے میں روایت پسند، قدامت پسند، شدت پسند وغیرہ ایک بہت طولانی موضوع ہے، جس پر بلامبالغہ کتابیں لکھی جا سکتی ہیں تاہم اس مختصر مضمون میں سوشل میڈیائی لبرلوں کی اصل پہچان کرانا مقصد ہے۔

لفظ ”لبرل“ قدیم روم کی لاطینی زبان کے لفظ ”لائبر“ یا ”لیبر“ یا پھر اسی لفظ کے ایک مترادف ”لائبرالس“ سے نکلا ہے۔ جس کا مطلب ”جسمانی طور پر آزاد شخص“ ہے۔ یعنی ایسا انسان جو کسی کا غلام نہ ہو۔ یہ معنی اٹھارہویں صدی تک رہا اور ہر آزاد شخص کو لبرل کہا جاتا رہا۔ اٹھارہویں صدی میں اس کے معنیٰ میں یہ تبدیلی آ گئی کہ ”فکری“ طور پر آزاد شخص کو لبرل کہا جانے لگا۔

مشہور ہسپانوی فلسفی ہوزے اورٹیگا ای گیسٹ نے اپنی کتاب ”دی ریوالٹ آف دی ماسز“ میں لبرل کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے
”ایثار اور سخاوت کی آخری حد کو لبرل ازم کہتے ہیں، اپنے کمزور دشمنوں کے ساتھ اشتراک وجود کے عزم کا اظہار لبرل ازم ہے“

امریکی مصنف رابرٹ فراسٹ کے مطابق ”لبرل اس کشادہ ذہن آدمی کو کہتے ہیں جو مخالف کی گالیاں آرام اور سکون سے سہ لیتا ہے کیونکہ اس کا دماغ مطمئن ہوتا ہے وہ جمود کا شکار نہیں ہوتا اور لڑائی میں بھی صرف دلائل دینے سے غرض رکھتا ہے“

اس تعریف سے یہ معلوم ہوا کہ جو شخص بحث و مباحثے میں حوصلہ ہار کر گالیوں پر اتر آئے اسے لبرل ازم کی ہوا بھی نہیں لگی۔

آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق لبرل میں درج ذیل چیزوں کا پایا جانا اشد ضروری ہے۔
فیاض، سخی، بردبار، روادار، فراخدل، بے تعصب، حریت پسند، غیر قدامت پسند

لیکن یہاں سوشل میڈیا پر دیسی لبرلوں کو دیکھیے، ان کے کالم پڑھیے، ان کے میڈیا پر بیانات کا تجزیہ کیجیے،

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان میں لبرل ازم کا صرف ایک ہی مقصد ہے، ”اسلام کو ڈی گریڈ کرنے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کرنا“ ۔ یہ لبرل جو خود لبرل ازم کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ثابت ہوچکے ہیں، ان کے لہجوں میں چھپی نفرت اور ان کے لفظوں میں بجھے زہر کا مشاہدہ کیجیے اور پھر خود سے پوچھیے ”کیا یہ لوگ رواداری، فیاضی اور غیر متعصبانہ رویوں کے امام ہو سکتے ہیں“

جو مخالف کی تنقید سے گھبرا کر فوراً ذاتیات پہ اتر آتے ہیں۔

آج کل کا دیسی لبرل ازم صرف مرد کو ایک بے رحم مخلوق بتانا ہے۔ ریپ کیس سامنے آیا چلو اب لبرل ازم کی بندوقیں نکال لیں اور ”مرد ظالم ہے، خود کو حاکم سمجھتا ہے، مرد کی اجارہ داری قبول نہیں“ جیسے نعرے لگا کر مرد کو معتوب ٹھرا دو یہ دیکھے بغیر کہ اگر ایک مرد نے ریپ جیسا قبیح عمل انجام دیا ہے تو وہ سب مردوں کا آئینہ نہیں ہے لیکن اصل میں ہماری جنگ معاشرے کو سدھارنے کی ہے ہی نہیں بلکہ عورت اور مرد کی ہے۔ ایک طبقہ عورت کو غلط ثابت کرنے پہ مصر ہے تو دوسرا مرد کو بھیڑیا اور ظالم جابر کہنے پہ لگا ہوا ہے۔

اگر ہم بات کریں معاشرتی سدھار کی تو معاشرے کی تکمیل عورت اور مرد دونوں سے ہے تو ہم کسی ایک جنس کو بھی پیچھے رکھ کر دوسری جنس کے حقوق کیسے حاصل کر سکتے ہیں جب معاشرہ ہی ٹھیک نہیں ہوگا۔

کچھ ایکسٹریمسٹ سو کالڈ لبرلز کے مطابق ہر برائی کی جڑ مرد ہوتا ہے حالانکہ جنم انہوں نے بھی ایک مرد کے نطفہ سے لیا ہوتا ہے پھر بھی وہ غلطی اور برائی کو کھوجنے کی بجائے ایک پوری کمیونٹی کو الزام دیتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

حقوق نسواں ہوں یا ٹرانس جینڈر کے حقوق تب تک نہیں مل سکتے جب تک معاشرہ ایک صحت مند سوچ کا حامل نہیں ہوگا، ایک بہترین ڈگر پر گامزن نہیں ہوگا اور معاشرہ تب تک نہیں سدھر سکتا جب تک ہم مرد اور عورت کے جھگڑے سے نکل کر Beyond the gender چیزوں کو نہیں دیکھیں گے۔

جیسے کچھ عورتیں تمام عورت برادری کا چہرہ نہیں ہوتیں اسی طرح تمام مرد بھی مرد کمیونٹی کا چہرہ نہیں ہیں۔
ایک اچھے معاشرے کی تشکیل کے لیے حد نگاہ وسیع کرنے کی کوشش کریں ورنہ آپ خود پہ لبرل کا ٹیگ لگا کر بھی کنویں کے مینڈک ہی رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •