حلال اور حرام پیزا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوست بتا رہا تھا سردیوں میں منفی چالیس تک درجہ حرارت گر جاتا ہے ‌۔ ستمبر میں جرسی پہننا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہم تیرہ ستمبر کو لینڈ کر رہے تھے اس لیے حفظ ماتقدم ہم نے پہلی لینڈنگ اناؤنسمنٹ پہ جرسی پہن لی۔ ہمارا حال ویسے ہی تھا جیسے کراچی والے مری دیکھنے آتے ہیں۔ تو کراچی سے سویٹر پہن کے آتے ہیں ‌۔ اتر کے فون کیا تو دوست نے بتایا اس کی پروفیسر کے ساتھ میٹنگ ہے، اس لیے لینے نہیں آسکتا‌۔

خیر ترقی یافتہ ممالک میں بہترین جنگلہ بسیں (میٹرو) چلتیں ہیں۔ وہ بی آر ٹی پشاور کی طرح نکمی جنگلہ بس نہیں ہوتی۔ میٹرو سٹیشن کے آخری سٹاپ پہ میرا دوست مجھے رسیو کرنے کھڑا تھا۔ کھانے کے بعد اس نے کہا صبح آٹھ بجے یونیورسٹی ایڈمنسٹریشن پہنچ جانا ہے۔ صبح صبح بغیر ناشتے کے بھاگے بھاگے یونیورسٹی پہنچے ‌۔ بہتیرا کہا کے شاہ جی ایک فوٹو کھینچنے دو۔ اس یونیورسٹی گیٹ کو ہمیشہ گوگل امیجز میں دیکھا ہے۔ آرزو ہے کہ فوٹو کھینچ لو مگر شاہ جی بضد تھے آخر پہ کہنے لگے۔ پوری ڈاکٹریٹ میں یار اسے دیکھ دیکھ کے تو پک جائے گا۔

خیر چپ ہو کے ایڈمیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف چل پڑے۔ رجسٹریشن کے بعد میں سٹوڈنٹ ڈارمیٹری میں آ گیا۔ کمرہ الاٹمنٹ کروائی۔ کمرے میں سامان سیٹ کرنے کے بعد شاہ جی مجھے حلال کھانوں کے ہوٹل دکھانا شروع ہو گے ‌۔ وہاں ایک ہوٹل یمنی بھائی کا تھا۔ جو پیزے بناتا تھا۔ چکن، بیف اور سؤر کے گوشت کا پیزا بناتا تھا۔ شاہ جی نے کہا یار اگر کبھی گوشت ضرور کھانے کا دل چاہے اور حلال بھی مسئلہ ہو تو مچھلی کھا لیں۔ ویسے بھی یہاں میکڈونلڈ کا فش برگر بہت اچھا ہوتا ہے۔

خیر مجھے کھانا پکانے کا اتنا ہی شوق تھا جتنا ریسرچ کا۔ اس لیے میں نے ہوٹلنگ بہت کم کی‌۔ کبھی کبھار یمنی کے پاس جاتے ہیں۔ میں نے ایک دن دل بڑا کر کے پوچھ لیا کہ یہ سؤر کے پیزے کے پیسے کا کیا کرتے ہو۔ یہ تو مکمل طور پہ حرام ہے۔ اس نے کہا چکن اور بکرے والے پیزے کے پیسے گھر والوں کو بھیجتا ہوں۔ سؤر کے پیزے کے پیسے میں ادھر بیرون ملک ہی استعمال کرتا ہوں۔ کیونکہ حرام کے پیسے مذہبی لحاظ سے بالکل بھی گھر والوں پہ خرچ نہیں کر سکتا۔ اس لیے اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے میں نے یہی جواز تلاش کیا ہے کہ حرام گوشت کے پیسے میں بیرون ملک پیزوں کے کاروبار میں خرچ کروں گا‌۔

وہ خوب خوش ہے، ابھی ایک اور ہوٹل سینٹرل سٹریٹ میں بھی بنایا ہے۔ کہہ رہا تھا مکمل سؤر کے گوشت کی کمائی کا ہے۔ ایک بیٹا بزنس سٹڈیز میں ماسٹر کرنے امریکہ جا رہا ہے۔ اب مجھے لگتا ہے وہ اب اپنے سؤر کی کاروباری چین امریکہ تک پھیلائے گا۔ ویسے بھی میرے لیے اچنبھے کی بات نہیں ہمارے تو سارے فیصلہ ساز یورپ امریکہ میں کاروبار کرتے ہیں۔ باقی حلال کی تنخواہ پہ تو یہ معصوم پاکستان میں مشکل سے گزارہ کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •