درندگی کی سزا مزید درندگی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب بھی جنسی زیادتی کا واقعہ کسی عورت کے ساتھ پیش آتا ہے اعتراض متاثرہ عورت کے لباس یا اکیلے باہر آنے پر کیا جاتا ہے اور عورت پر ہی ذمے داری تھوپ دی جاتی ہے۔ اور جب جنسی زیادتی کا واقعہ کسی بچی یا کمسن بچے کے ساتھ پیش آتا ہے تو سر عام پھانسی کا مطالبہ کر کے جان چھڑا لی جاتی ہے۔ تاثر کچھ ایسا دیا جاتا ہے کہ کوئی انتہائی قدم اٹھائے بغیر معاشرہ تبدیل کیا جا ہی نہیں سکتا جب کے ایسا نہیں ہے۔ ہمارے ہاں ہر جرم پر ذاتی غصہ نکالنے کی روایت عام ہے یہ سوچے بغیر کے سزائیں ذاتی غصے اور بدلے لینے کہ بنیاد پر نہیں دی جاتی بلکہ ریاست قانون اور انسانیت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی مجرموں کو سزا دیتی ہے اور سزا کا مقصد بدلے کی آگ بجھانا نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح اور افراد کو مجرم بنانے سے روک کر سماج کا فعال شہری بنانا ہونا چاہیے۔ ایک مجرم کو اس کی درندگی کی سزا دینے کے لیے انسانی حقوق کے قوانین توڑ کر مجرم سے بڑھ کر درندگی کرنے کی اجازت نہ اخلاقیات دیتی ہیں اور نہ ہی انسانیت۔

آج کل جنسی زیادتیوں کے بڑھتے واقعات کی وجہ سے مجرموں کو سرعام سزائے موت دینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے لیکن معاشرے میں بڑھتی گھٹن اور جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجوہات پر غور نہیں کیا جا رہا۔ ایک عام نکتہ ہے کہ مسائل اور بیماریاں وجوہات جانے بغیر ختم نہیں کی جا سکتی۔ اول تو دنیا بھر میں ماہرین یہ بات تحقیق سے ثابت کر چکے ہیں کہ سزا کے خوف سے جرائم کم نہیں ہوتے مزید یہ حقیقت ہم خود مختلف واقعات میں بھگت چکے ہیں جیسے کے قصور میں زینب کے کیس میں مجرم کو باوجود سزائے موت دینے کے صرف قصور میں ہی جنسی زیادتیوں کے واقعات میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی۔

نیز ایسی سزاؤں سے معاشرے میں بے حسی اور جنون کی کیفیت بڑھے گی۔ عوام بشمول بچے لٹکتے، بے حس و حرکت جسم دیکھ کر جس نفسیاتی اذیت سے گزریں گے اس کا اندازہ کوئی بھی شعور رکھنے والا شخص لگا سکتا ہے کیونکہ اگر ایسے مناظر دیکھنا انسان کے لئے ممکن ہوتا تو ٹیلی۔ ویژن یا دیگر تصویری آلات پر سنگین مناظر دکھانے پر پابندی عائد نہ ہوتی۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ جس جہالت سے مسائل پیدا کیے اور بڑھائے گئے ہیں اسی جہالت کو جاری رکھتے ہوئے ان کو کم یا ختم کرنا ممکن نہیں۔ یقیناً ہمارے نظام، ہمارے رویوں میں کوئی کمی ہے جس کی وجہ سے ہم اتنی اخلاقی پستی کا شکار ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی اور اہم ذمے داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام انسانوں کو ان کی جنس اور عمر سے قطع نظر تحفظ فراہم کرے۔ حکومتی اہلکار اور عہدیدار سی سی پی او لاہور کی طرح کسی بھی قسم کے تعصب پر مبنی غیر ذمے دارانہ بیان نہ دینے کے سختی سے پابند ہوں اور ریاست عوام کے جان، مال اور عزت کے تحفظ کی ذمے داری اٹھائے۔

اس کے علاوہ اس بات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے کے سیکس انسان کی بنیادی ضرورت ہے جسے وہ کسی نہ کسی طرح ضرور پورا کرے گا۔ اس ضرورت کو بغیر درندگی کے پورا کرنے کے لیے ملک میں سیکس ورکرز کو کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے جیسا کہ دنیا کے زیادہ تر ممالک میں ہے حتیٰ کہ بنگلہ دیش میں بھی سیکس ورکرز قانونی طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ یقین کریں سیکس ورکرز کے کام کرنے سے کسی کی غیرت اور عزت پر ہر گز حرف نہیں آئے گا اور نہ ہی اس کا مطلب کسی کو زبردستی سیکس کی جانب دھکیلنا ہے بلکہ اس سے ہم ان عورتوں اور بچوں کو تحفظ دلا سکتے ہیں جو کسی کی جنسی ہوس کے باعث زیادتی کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

سیکس ورکرز، سیکس ٹوائے غرض انسان کی ذاتی فطری جبلت کے تقاضوں کو پورا کرنے والے تمام کاموں کی قانونی طور پر اجازت ہونی چاہیے جن تک رسائی نہ ہونے کے سبب گھروں میں چھوٹی بچیاں اپنے محرم اور مدرسوں میں کم سن بچے مولویوں تک کے ہاتھوں درندگی کا شکار بنتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ فطرت کو دبانا ممکن نہیں بلکہ فطرت کو دبانے سے معاشرے میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں قانون سازی کے لئے ان ترقی یافتہ ممالک کے نظام کو جانچا جاسکتا ہے جہاں مخصوص آزادی اور قانون پر بروقت عمل سبب جنسی زیادتیوں کی شرح انتہائی کم یا پھر نا ہونے کے برابر ہے۔ یہ نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ ریاست کسی فرد کی ذاتی زندگی یا ذاتی اعمال میں مداخلت کے بجائے مجموعی طور پر عوام کی حفاظت اور تحفظ کی ذمے دار ہے۔

دوسری اہم بات یہ کہ تمام بچوں کو اسکول کی تعلیم لازمی دی جائے جس میں ان کو بچپن سے ہی ان کے جسم کے متعلق آگاہی فراہم کہ جائے اور درجہ بدرجہ ان کی عمر کے حساب سے معلومات فراہم کی جائیں۔ ”اچھے“ اور ”برے“ لمس کے بارے میں بتایا جائے تا کہ وہ کم سنی کے باعث کسی کی درندگی کا شکار نہ ہوں یہاں میں یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتی ہوں کہ پاکستان میں جنسی تعلیم کو مذہبی طبقے کی جانب سے شدید رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ چار سال کا بچہ یا بچی جب قرآن پڑھنا شروع کرتا ہے تو اس میں مرد عورت کے مسائل اور جسم سے متعلق باتیں بھی پڑھتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مذہب اسلام میں جنسی تعلیم دینے کی کوئی ممانعت نہیں بلکہ اس کے متعلق علم دینا ضروری سمجھا گیا ہے۔ لہذا بچوں کے نصاب میں ہی جسم اور جنس سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے۔

اس کے علاوہ ماہر عمرانیات، ماہر نفسیات بالخصوص جرائم سے متعلقہ ماہر نفسیات سے قانون سازی کے لئے مدد لی جا سکتی ہے اور ان کے تجویز کردہ نکات پر عمل کر کے بہت حد تک معاشرے میں پھیلی جنسی گھٹن پر قابو پایا جاسکتا ہے البتہ پھر بھی جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آئیں تو مجرم کو بروقت سزا ضرور ملنی چاہیے لیکن اس سے مراد سرعام پھانسی دینے جیسا جنونی عمل نہیں ہونا چاہیے بلکہ انسانیت کے دائرے میں رہ کر مجرم کو بروقت اور کڑی سے کڑی سزا دی جائے اور عادی مجرموں کو سزائے موت دینا مقصود ہو تو بھی ان کو عوام کی نظر سے دور جیل میں ہی سزا دی جائے تاکہ مجرم کے افعال کہ سزا معاشرہ میں موجود لوگوں کو ذہنی تکلیف برداشت کر کے نہ بھگتنی پڑے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •