گجرپورہ ریپ کیس کا مرکزی ملزم لاہور کے نواح میں بار بار پولیس کو چکمہ دے کر فرار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گجرپورہ زیادتی کیس کا مرکزی ملزم پولیس کو چکمہ دے کر فرار: اے آر وائی نیوز

مورخہ 17 ستمبر 2020

لاہور: گجرپورہ زیادتی کیس کا مرکزی عابد ملہی ننکانہ صاحب پولیس کو چمکا دے کر فرار ہوگیا۔ اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق گجرپورہ لنک روڈ زیادتی کیس کے ملزم عابد ملہی کو پولیس گرفتار کرنے پہنچی تو وہ پولیس کو چمکہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ننکانہ صاحب پولیس کی بھاری نفری عابد ملہی کو ڈھونڈے میں مصروف ہے، پولیس کی بھاری نفری نے دھولر والے قبرستان کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ننکانہ صاحب میں ملزم عابد ملہی آج دوپہر اپنی سالی کے گھر آیا تھا، عابد کی سالی کشور بی بی پرانا ننکانہ کی رہائشی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کو عابد کی موجودگی کی اطلاع پہلے ہی مل چکی تھی لیکن پولیس 30 منٹ تاخیر سے پہنچی۔

مرکزی ملزم کی سالی کشور بی بی نے پولیس کو دئیے گئے بیان میں بتایا کہ عابد ملہی رائے بلار بھٹی پارک میں میرے ساتھ موجود تھا، پولیس اہلکاروں نے عابد کو پکڑنے کی کوشش کی تو ملزم دھکا دے کر فرار ہوگیا۔

ملزم کی سالی کشور بی بی کا کہنا ہے کہ عابد کے فرار ہونے کے بعد ہماری جان کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل گجرپورہ لنک روڈ پر خاتون کو بچوں کے ہمراہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا، کیس میں نامزد دو ملزمان شفقت اور بالامستری گرفتار ہوچکے ہیں جبکہ مرکزی ملزم عابد کی گرفتاری میں پولیس کو ابھی تک کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

موٹروے گینگ ریپ کیس:ملزم عابد چھلاوا بن گیا،تیسری بار فرار ہونے میں کامیاب: دنیا نیوز

مورخہ 17 ستمبر 2020

لاہور: (دنیا نیوز) ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کو راجہ جنگ میں موٹر وے گینگ ریپ کیس میں ملوث مرکزی ملزم عابد ملہی کی آمد کی اطلاع ملی تھی۔ ملزم آیا لیکن شبہ ہوتے ہی کھیتوں میں فرار ہو گیا۔ دنیا نیوز ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس کی نا اہلی کی وجہ سے موٹر وے گینگ ریپ کیس کا مرکزی ملزم عابد ملہی ایک مرتبہ پھر ہاتھ سے نکل گیا ہے۔

عابد ملہی کے تیسری بار فرار ہونے کی کہانی سامنے آ گئی ہے۔ پولیس کو گزشتہ رات ملزم عابد کے راجہ جنگ گاؤں میں آنے کی اطلاع ملی تو اہلکار اس کے رشتہ دار کے گھر گھات لگا کر بیٹھ گئے۔

لاہور پولیس کو آبائی گاؤں راجہ جنگ ہزارہ روڈ قصور میں عابد کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ حویلی آف شیخ شمس میں عابد علی کی بہن اور بہنوئی کام کرتے تھے۔ ذرائع کے مطابق عابد گزشتہ رات پونے آٹھ بجے مذکورہ حویلی میں بہن کے پاس پر پہنچا تھا۔

مبینہ طور پر پولیس کے صرف 4 اہلکار راجہ جنگ کے گھر میں موجود تھے۔ ملزم عابد کو پولیس کی موجودگی کا شک ہوا تو فوراً فرار ہو گیا۔ ملزم عابد ملہی کے فرار ہونے کے بعد پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری 5 گھنٹے تک سرچ آپریشن کرتی رہی لیکن ملزم ہاتھ نہ آیا اور دوبارہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

دوسری جانب پولیس نے ملزم عابد کی بیوی کا ابتدائی بیان ریکارڈ کر لیا ہے جبکہ بارہ سو اہلکاروں نے قصور میں سرچ آپریشن کے دوران ملزم کے پانچ قریبی رشتہ داروں کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ ملزم شفقت سے جیل میں تفتیش جاری ہے۔

ملزم عابد کی دوسری بیوی بشریٰ بی بی کے بیان کے مطابق واقعے کے بعد عابد گھر آیا تھا، وہ کافی پریشان دکھائی دے رہا تھا، اس کی شناخت ہوئی تو وہ فرار ہو گیا، س کے بارے میں پتا نہیں کہ وہ کہاں ہے؟

قصور روڈ کے قریب واقع نواحی گاؤں راؤ خان والا میں لاہور پولیس، سی ٹی ڈی، سی آئی اے اور مقامی پولیس کی بھاری نفری نے ملزم عابد علی کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن کیا، پھر بھی مرکزی ملزم ہاتھ نہ آیا۔

تاہم پولیس نے ملزم عابد سے مسلسل رابطے میں رہنے والے اس کے دو کزنوں، ایک خاتون اور دیگر دو رشتہ داروں کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دو روز قبل ان تمام افراد کا عابد ملہی سے رابطہ ہوا تھا۔ زیر حراست افراد کو قصور سے لاہور منتقل کر دیا گیا ہے۔

ادھر حکام کا کہنا ہے کہ ملزم وقار احسن کی ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد ہی اسے رہا کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ ہوگا۔ خیال رہے کہ موٹروے گینگ ریپ کیس کا مرکزی ملزم عابد ملہی اس سے قبل مانگا منڈی اور شیخوپورہ سے بھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •