آل پارٹیز کانفرنس اور سیاسی پینترے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری مختصر تاریخ میں ایک حیران کن چیز کا جائزہ لیں۔ 1977ء کے انتخابات کے نتائج پر اپوزیشن کو شدید تحفظات تھے۔ انتخابات کے چند ہی دنوں بعد ملک ایک خوفناک صورتحال سے دوچار ہوا۔ ہوا کیا تھا یہ سمجھنا کوئی اتنا مشکل نہیں۔ پی این اے میں نو پارٹیاں شامل تھیں اور مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ انتخابات ہوئے ’نتائج کا اعلان جب کیا گیا تو میں نہیں مانتا کی گردان شروع ہوئی۔ اس وقت بھٹو مرحوم نے خود اپنے قریبی دوستوں کے سامنے اس بات کا کھلے عام اظہار کیا تھا کہ چالیس سیٹوں پر شدید دھاندلی ہوئی ہے اور اپوزیشن سے یہ رابطہ بھی ہوا تھا کہ ان چالیس سیٹوں پر اگر آپ چاہے تو ہم دوبارہ انتخابات کر سکتے ہیں لیکن اپوزیشن میں موجود تمام پارٹیاں ماننے کے لئے بالکل تیار نہیں تھیں۔

ہمارے ملک کی بدقسمتی ملاحظہ ہو حکومت اور اپوزیشن دونوں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھے کہ کسی طرح ایک ساتھ بیٹھ کر اس نئے ملک کو جو چند سال پہلے سقوط ڈھاکہ جیسی خطرناک سانحے کا سامنا کرچکا تھا ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔

بھٹو اپنی انا کے سامنے مجبور تھا اور اپوزیشن میں موجود رہنماؤں کی یہ شدید خواہش تھی کہ کسی طرح اقتدار کا ہما ان کے سر پر بیٹھ جائے بہرحال انتخابات کے فوراً بعد ہی احتجاج شروع ہوا۔

ہماری ہر حال میں یہ خواہش ہے کہ کسی طرح پاکستان سے تمام مسائل کا خاتمہ ہواور اس وقت بھی عام آدمی یہی چاہتا تھا کہ ملک میں حکومت کے حصول کے لئے برسوں سے جاری یہ رسہ کشی ختم ہو جائے۔ عام آدمی کو اس وقت یہ خبر تھی اور نہ اب ہے کہ ہمیشہ اس کے ذہن کے کمزور حصے ہی کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ خاص لوگ اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ تاریخ کے ان صفحات پر صرف خون کے دھبے اور ذاتی مفادات کا حصول ہی موجود ہے۔

آپ اندازہ لگائیے اس وقت جب اپوزیشن کا یہ احتجاج شروع ہوا تو اول اول اس میں بالکل جان نہیں تھی لیکن ملک کا بھلا چاہنے چاہنے والے سیاستدانوں نے اس احتجاج کو ”تحریک نظام مصطفیٰ“ کا نام دیا تو ہر گاؤں، ہر قصبے اور ہر شہر سے سادہ لوحوں کا ایک سمندر امڈ آیا اور بھلا کیسے نہ آتا کون یہ نہیں چاہتا کہ ملک میں نظام مصطفیٰ کا نفاذ ہو۔ اپوزیشن میں موجود نو پارٹیوں نے جب یہ واویلا مچایا کہ کیوں ایک اسلامی ملک کے اندر نظام مصطفیٰ کا نفاذ مشکل ہے تو انسانوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر کفر کی پرچھائیوں سے ملک کو بچانے نکل پڑا۔

آپ کو یہ جان کر بھی شدید حیرانی ہوگی کہ دھاندلی سے چھٹکارا پانے کا حصول جب مشکل ہوگیا تو اس وقت کے منتخب وزیر اعظم ہی کو کافر ٹھہرا دیا گیا۔ انتخابات سے پہلے جلسے جلوسوں میں علماء نے فتوے جاری کیے کہ بھٹو کو ووٹ دینا حرام ہے جو لوگ پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں گے ان کی بیویاں ان کی نکاح سے نکل جائیں گی۔ آپ میری طرح کانوں کو ہاتھ لگائیں گے جب تاریخ کے صفحات پر پی این اے سے منسلک علماء کے یہ فتوے پڑھیں گے جب جلسوں میں وہ ببانگ دہل یہ کہتے کہ پی این اے کو جو بھی ووٹ دے گا اس کو ڈھائی لاکھ نمازوں کا ثواب ملے گا۔

اس احتجاج کی وجہ سے ملک کے حالات اتنے خراب ہوئے کہ عام آدمی کی زندگی اجیرن بن گئی۔ حکومت میں موجود بڑوں نے بھی انتہائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ احتجاج کرنے والوں پر حد سے زیادہ ظلم کیا گیا۔ ملک میں انارکی اپنی آخری حدوں کو چھو رہی تھی۔ کروڑوں املاک کا نقصان ہوا لیکن غیر سنجیدگی کا یہ عالم تھا کہ کوئی بھی ایک دوسرے کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔

بعد کے حالات دنیا نے پھر دیکھے جن لوگوں نے 1977 ء کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا اور تحریک نظام مصطفیٰ کے نام سے تحریک چلائی وہ بار بار حکومتوں میں آئے اور اگر وہ چاہتے تو قلم کی ایک جنبش سے اس نظام کے نفاذ کو ممکن بنا سکتے تھے لیکن چونکہ ان کا مقصد یہ نہیں تھا اس لئے کبھی بھی اس نظام کے سنجیدہ نفاذ پر سوچ بچار نہیں کی گئی۔

اس وقت یہ خیال عام آدمی کے ذہن پر بھی حاوی ہوچکا تھا کہ صرف بھٹو کو منظر عام سے ہٹانا ہی تمام مسائل کا حل ہے اس لئے ان کو ہٹا دیا گیا لیکن ملک تباہی کی طرف گامزن رہا جوکہ ابھی تک گامزن ہے۔

ہم آج کے حالات پر سنجیدگی سے سوچ بچار کرنے کے اب بھی اہل نہیں بنے۔ موجودہ حکومت سے عام آدمی کے بھی شدید اختلافات ہیں۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ یہ حکومت ڈیلیور نہیں کرپارہی۔ اس حکومت کو بھی ملک چلانے کے لئے شاید اہل لوگ نہیں ملے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے پوری آبادی شدید پریشان ہے لیکن کیا ان تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ اس حکومت کو ہی چلتا کیا جائے۔

اپوزیشن میں موجود تمام رہنماء ایک بار پھر بیٹھک کر رہے ہیں کہ عام آدمی کے مسائل حل ہوجائیں لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ کسی کو بھی یہ فکر نہیں کہ حقیقی طور پر ان مسائل کا حل ڈھونڈا جائے۔

ہمارا بنیادی المیہ یہ رہا ہے کہ ہماری تاریخ میں موجود ہر سیاسی پارٹی کا اپنا ایک سیاسی پینترا ہے جس کو وہ بوقت ضرورت استعمال کرتے ہیں۔ میرا اپنا تجربہ اور میری اپنی یہ سوچ ہے کہ حقیقت میں یہ لوگ خود بھی نہیں چاہتے کہ جن نظریات کے لئے یہ لوگ برسوں سے لڑ رہے ہیں ان کا نفاذ ہو۔

آج بھی آل پارٹی کانفرنس میں یہ لوگ بیٹھیں گے تو صرف اس بات پر بحث ہوگی کہ کس طرح موجودہ حکومت سے جان چھڑائی جائے جوکہ بالکل بھی مسائل کا حل نہیں۔

جس مرحومہ بے نظیر بھٹو پر گستاخ رسول کا الزام لگا تھا اسی بے نظیر بھٹو کے ساتھ بعد میں الزام لگانے والے خود حکومت میں بیٹھ گئے تھے۔ میں سمجھتا ہوں عام آدمی کو ورغلانے کا یہ کام اب ختم ہونا چاہیے۔ ملک کے حقیقی مسائل پر سنجیدگی کے ساتھ غورو فکر کرنے کی جتنی شدید ضرورت اب ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ اب یہ بات کہ موجودہ حکومت ہی کو ختم کرنا چاہیے وہی تاریخ دہرانے کا عمل ہے جس سے ہم چھٹکارا پانے میں ناکام ہیں۔

ملک کے مسائل پر حکومت کو بھی کام کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اگر حکومت کام نہیں کرے گی تو انارکی کی یہ آگ دن بہ دن گرم ہوتی جائے گی جس سے خود کو بچانا کسی کے لئے بھی آسان نہیں ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •