بنگلا دیش کی عدلیہ پاکستان کے راستے پر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں تو انتظامیہ اور عدلیہ کی رسی کشی کی تاریخ خاصی پرانی ہے مگر اب لگتا ہے بنگلا دیش بھی اسی راستے پر چل رہا ہے۔ کچھ عرصے پیشتر بنگلا دیش سے یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ وہاں کے چیف جسٹس سریندر کمارسہنا نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

گوکہ اس بارے میں اتنظامیہ اور عدلیہ دونوں نے زیادہ تفصیلات نہیں بتائیں پھر بھی اس اعلان کے پیچھے بہت کچھ پوشیدہ ہے۔ سریندر کمار سہنا بنگلا دیش کے پہلے ہندو چیف جسٹس تھے جنہوں نے جنوری دو ہزار پندرہ میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

انہوں نے اپنے عہدے کے پہلے تین سال میں کچھ اہم فیصلے صادر کیے۔ لیکن اس پر بات کرنے سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ بنگلا دیش کی تاریخ میں عدلیہ کیا کچھ کرتی رہی ہے۔

اپنی تقریباً پچاس سالہ تاریخ میں بنگلا دیش نے بائیس چیف جسٹس دیکھے ہیں یعنی ایک چیف جسٹس کی اوسط مدت دو سال سے کچھ زیادہ رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کی تہتر سالہ تاریخ میں کل ستائیس چیف جسٹس ہوئے ہیں یعنی ایک چیف جسٹس کی مدت اوسطاً تین سال سے کچھ کم رہی ہے لیکن تفصیل دیکھیں تو ان ستائیس میں سے سات چیف جسٹس کل پینتالیس برس پاکستان کے چیف جسٹس رہے ہیں جن میں جسٹس محمد حلیم تقریباً نو سال جنرل ضیا الحق کا دم بھرتے رہے اور جسٹس کارنیلئس آٹھ سال جنرل ایوب خان کے ساتھ رہے۔

اسی طرح جسٹس حمود الرحمان 1968 سے 1975 تک تقریباً سات سال جنرل ایوب، جنرل یحییٰ اور پھر ذوالفقار علی بھٹو کے ادوار میں چیف جسٹس رہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے چیف جسٹس رہنے والے جسٹس محمد حلیم ہوں یا جسٹس کارنیلئس اور جسٹس حمود الرحمان کسی نے بھی حاکم وقت کو للکارنے کی زحمت گوارا نہیں کی اور ماسوائے اکا دکا ایسے فیصلوں کے جو نسبتاً بہتر تھے مجموعی طور پر یہ سب حاکمان وقت کی مرضی و منشا کے مطابق چلتے رہے۔

مثلاً جب جنرل ایوب خان آئین اور جمہوریت کا تیاپانچہ کر رہے تھے تو جسٹس کارنیلئس بالکل خاموش تھے جب فاطمہ جناح کو دھاندلی کے ذریعے ہرایا گیا اس وقت بھی چیف جسٹس کو ہوش نہ آیا۔

اسی طرح بنگلا دیش کے پہلے چیف جسٹس ابو صائم سے لے کر اب تک بنگلا دیش کی عدالت عظمیٰ سیاست میں بھی شامل ہوتی رہی اور شاید ہی کبھی اس نے کوئی دلیرانہ اور قانونی طور پر غیر جانب دارانہ کردار ادا کیا ہو۔ مثلاً 1972 سے 1975 کے درمیان چیف جسٹس ابو صائم نے کبھی شیخ مجیب الرحمان کی بڑھتی ہوئی اقتدار پرستی اور آمرانہ روش کو روکنے کی کوشش نہیں کی اور انہیں جمہوریت برباد کرنے کی کھلی چھٹی دی۔

حتیٰ کہ اگست 1975 میں مجیب الرحمان اور ان کے تقریباً پورے خاندان کے قتل کے بعد بھی جسٹس ابو صائم اپنے عہدے سے چپکے رہے۔ انہوں نے نومبر 1975 تک فوجی بغاوت کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ دوسرے الفاظ میں پاکستان کی عدلیہ کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ بنگلا دیش کے چیف جسٹس ابو صائم نے مجیب کے خلاف بغاوت کی مذمت نہیں کی بل کہ خود چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بننے کو خوشی خوشی قبول کیا اور پھر نومبر 1975 میں فوجی کے اشارے پر صدر کا عہدہ بھی لے لیا۔ اسی طرح غالباً وہ پہلے حاضر سروس چیف جسٹس تھے جو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی بنے۔

ابو صائم ٹھیک ایک سال چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹررہنے کے بعد نومبر 1976 میں عہدے سے سبک دوش ہوئے مگر صدر کے عہدے پر کل اٹھارہ ماہ براجمان رہنے کے بعد اپریل 1977 میں جنرل ضیا الرحمان کے کہنے پر ان کے حق میں دست بردار ہوگئے۔ جسٹس ابو صائم کا پورا دور بنگلا دیشی آئین کی توڑ مروڑ کا دور تھا۔ مگر چیف جسٹس کو اپنے نئے عہدوں سے زیادہ دلچسپی تھی۔ مثلاً مجیب الرحمان نے اپنے قتل سے قبل تین سالہ دور اقتدار میں کم از کم تین ایسی بڑی آئینی ترامیم کیں جنہوں نے بنگلا دیش کے پہلے آئین کا تقریباً جنازہ نکال دیا۔ ان ترامیم میں سب سے تباہ کن جنوری 1975 کی ترمیم تھی جس کے ذریعے حزب مخالف کو بالکل کچلنے کی کوشش کی گئی۔ مجیب الرحمان نے تمام سیاسی جماعتوں پر پابندگی لگاکر ایک جماعتی نظام اور صدارتی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی۔

اس کے ساتھ ہی مجیب الرحمان نے عدلیہ کی آزادی پر بھی شدید قدغنیں لگائیں مگر چیف جسٹس ابو صائم خاموش بیٹھے رہے۔ پھر جب مجیب کے قتل کے بعد 1975 سے 1979 تک فوجی حکومت نے کئی ایسے احکام جاری کیے جو آئین کے منافی تھے مگر عدلیہ کے کان پر جوں نہ رینگی۔

بنگلا دیش کے دوسرے چیف جسٹس سید محمود حسین نومبر 1975 سے جنوری 1978 تک فوجی حکومت کے تمام احکام پر سر تسلیم خم کیے بیٹھے رہے۔ پھر بنگلا دیش کے تیسرے چیف جسٹس کمال الدین حسین کا دور آتا ہے جو 1978 سے 1982 تک اپنے چار سال دور میں بھی یہی کچھ کرتے رہے۔ انہوں نے نہ صرف جنرل ضیا الرحمان کی فوجی آمریت کو تسلیم کیا بلکہ جنرل ضیا کے قتل کے بعد نئے حکم رانوں کے بھی معاون رہے۔

جنرل ضیا الرحمان نے بنگلا دیشی آئین کی سیکولر بنیادیں اکھاڑ کر اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی بالکل اسی طرح جیسے پاکستان میں جنرل ضیا الحق کرتے رہے تھے۔ ایک طرح سے یہ دونوں فوجی آمر ایک دوسرے سے سیکھ رہے تھے۔

1979 میں جنرل ضیا الرحمان نے اپنے تمام مارشل لا احکام کو زبردستی آئینی تحفظ دینے کے لیے پانچویں آئینی ترمیم مسلط کی مگر عدالت عظمیٰ پاکستان عدلیہ کی طرح کسی فوجی آمر کو للکارنے پر تیار نہ تھی۔ پھر 1982 میں بنگلا دیش کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے چیف جسٹس رہنے والے جسٹس فضل قادری عبدالمنیم حلف اٹھاکر ایک اور فوجی آمر جنرل ارشاد کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں چیف جسٹس محمد حلیم تقریباً نو سال عدلیہ کی قیادت کرتے ہوئے جنرل ضیا الحق کے شانہ بشانہ پاکستان میں جمہوریت کا قلع قمع ہوتے دیکھتے رہتے ہیں۔ بنگلا دیش میں جسٹس فضل قادری اور پاکستان میں جسٹس محمد حلیم اپنے اپنے فوجی آمروں کو تحفظ فراہم کرتے رہے۔

جب 1986 میں جنرل ارشاد نے بنگلا دیشی آئین میں چھٹی ترمیم مسلط کرکے اپنے تمام مارشل احکام کو آئینی تحفظ دینے کا اعلان کیا تو بنگلا دیش کے چیف جسٹس خاموش تماشائی بنے رہے۔ بالکل اسی طرح جیسے پاکستان میں آٹھویں آئینی ترمیم لائی گئی تھی۔ اتفاق یہ ہے کہ بنگلا دیش میں بھی آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے اسلام کو ریاستی مذہب کا درجہ دیا گیا۔

اس طرح سیکولر ازم کی جو تھوڑی بہت رمق بنگلا دیش اور پاکستان میں تھی اسے بھی اکھاڑ پھینکنے کی کوششیں کی گئیں اور نفرتوں کے سیلاب اور تعصب کی آندھیاں برصغیر پر نازل ہوگئے۔ رواداری اور ہم آہنگی کا خاتمہ کیا گیا اور اب تک بنگلا دیش میں بھی سیکولر نظریات رکھنے والوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

سیکولر ازم یہ کہتا ہے کہ مذہب کسی بھی فرد کا ذاتی معاملہ ہے اور اس میں ریاست کو مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ریاست کو مذہب کے معاملے میں غیر جانبدار رہنا چاہیے اور اپنے تمام باشندوں کو مساوی حقوق دینے چاہئیں۔ اب بنگلا دیش میں 2010 کے بعد عدلیہ نے کچھ اچھے فیصلے دیے ہیں جن سے پچھلے دس برس میں سیاسی ماحول اور سماجی رویے کچھ تبدیل ہوتے نظر آرہے ہیں۔ سب سے پہلے تو جسٹس تفضل اسلام جو صرف ڈیڑھ ماہ چیف جسٹس رہے نے جنرل ضیا الرحمان کی نافذ کردہ پانچویں آئینی ترمیم کو تیس سال بعد اکھاڑ پھینکا۔ جسٹس تفصل نے شیخ مجیب کے قاتلوں کو دی جانے والی سزائیں بھی برقرار رکھیں۔

اس طرح عوامی لیگ کی حکومت نے 1996 سے چلا آنے والا وہ نظام بھی ختم کر دیا جس کے تحت انتخابات کے لیے نگراں حکومت بنائی جاتی تھی۔

اب ہم جسٹس سہنا کے استعفے پر کچھ بات کرتے ہیں۔ اس کہانی کا آغاز ستمبر 2014 میں ہوا جب حکم ران جماعت نے سولہویں آئینی ترمیم متعارف کرائی۔ اس کے تحت اب پارلیمنٹ کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر ججوں کو برخاست کر سکتی ہے۔ مئی 2016 میں ایک اسپیشل ہائی کورٹ بینچ نے اس ترمیم کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا۔

جنوری 2017 میں حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا مگر جسٹس سہنا کی قیادت میں سات رکنی بینچ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا اس پر وزیر اعظم حسینہ واجد غصے میں آ گئیں اور عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیر اعظم حسینہ واجد کی قیادت میں بنگلا دیشی پارلیمان نے ستمبر 2017 میں ایک قرارداد منظور کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ عدلیہ کے فیصلے کو منسوخ کیا جائے۔

اس کے بعد اکتوبر 2017 میں جسٹس سہنا ایک مہینے کی رخصت پر آسٹریلیا چلے گئے اور جسٹس عبدالوہاب میاں نے قائم مقام چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا۔

اس کے چند دن بعد ہی نئے چیف جسٹس نے رنگ بدلا اور جسٹس سہنا کے خلاف ایک چارج شیٹ جاری کردی جس کے مطابق وہ خرد برد اور غبن میں ملوث تھے ان کے علاوہ کچھ اخلاقی الزامات بھی لگائے گئے۔

اطلاعات کے مطابق بنگلا دیش کے صدر عبدالحامد نے چار ججوں کو دستاویزی ثبوت فراہم کیے تھے۔ جسٹس سہنا کو ویسے بھی جنوری 2018 میں ریٹائر ہوجانا تھا شاید اسی لیے انہوں نے مقدمہ لڑنے کے بجائے صدر کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا۔

یہ تقریباً ویسے ہی حالات تھے جن میں پاکستان کے تیرہویں چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف 1997 میں ان کے ہی برادر ججوں نے ایکشن لے کر انہیں برطرف کر دیا تھا۔ جسٹس سعید الزماں صدیقی کی قیادت میں دس رکنی بینچ نے جسٹس اجمل میاں کو نیا چیف جسٹس مقرر کر دیا تھا۔

جولائی 2019 میں بنگلا دیش کے انسداد بدعنوانی کمیشن نے سابق جسٹس سہنا کو چار کروڑ ٹکے کی بدعنوانی کا مرتکب قرار دیا جسے جسٹس سہنا نے رد کر دیا جو اس وقت تک کینیڈا منقل ہو چکے تھے۔

مختصر یہ کہ بنگلا دیش کی تقریباً 50 سالہ عدلیہ کی تاریخ پاکستان سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے جہاں فوجی بغاوتوں کو عدلیہ نے تحفظ فراہم کیے اور سویلین حکومتوں کے خلاف فیصلے دیے۔

مگر پاکستان میں جسٹس افتخار چودھری نے انتظامیہ کے خلاف جانے کا جو رجحان شروع کیا وہ بنگلا دیش میں نیا ہے۔ ایسے میں صحیح اور غلط فیصلہ خاصا مشکل ہوجاتا ہے کیوں کہ نہ تو انتظامیہ معصوم ہوتی ہے اور پھر خود عدلیہ بھی غیر جانبداری اور شفافیت کا تاثر قائم کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •