حاجی صاحب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جالندھر میں پیدا ہوئے۔ 47 میں ہجرت کے وقت چار پانچ سال کے تھے۔ ہنستے بستے گھر چھوڑ آنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ دادا جنت مکانی لائلپور میں آ ٹھہرے۔ بہت عرصہ تک یہی کہتے اور سمجھتے رہے کہ یہ عارضی مشکل ہے۔ ہم واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے۔ ایسا کچھ نہ ہوا۔

پودا اکھڑ جائے تو نئی جگہ جڑ پکڑتے دیر لگ جاتی ہے۔ سکول جانا شروع کیا تو شاید پانچویں جماعت تک ہی پڑھ سکے۔ گھر میں عسرت تھی۔ بتاتے تھے کہ شاید کتابوں کے پیسے نہیں تھے تو سکول چھوڑ دیا۔ جھنگ بازار میں سبزی کا ٹھیلا لگا لیا۔ جو کچھ یافت ہوتی، ماں کے ہاتھ پہ رکھ دیتے۔ بتایا کرتے تھے کہ امی کے ساتھ گھر کے کام بھی کرتے تھے۔ سب سے بڑے بھائی 47 میں بچھڑ گئے تھے۔ تقریباً دس سال بعد ملے۔ دادی کو ان سے اور ابو سے زیادہ لگاؤ تھا۔ آخری عمر تک رہا۔

سلمی ستارے کا کام سیکھا اور نوجوانی تک وہی کام کیا۔ سب سے بڑے بھائی درزی تھے۔ جناح کالونی لائلپور میں ٹیلرنگ کی دکان تھی۔ ان سے درزی کا کام سیکھا۔ آخری عمر تک پرانے ملنے والے ماسٹر جی پکارتے تھے۔ شادی کے بعد اپنا کاروبار شروع کیا۔ جناح کالونی میں اس وقت ہوزری مارکیٹ کا آغاز تھا۔ وہی کام شروع کیا۔ گنی اور محنتی تھے۔ کاروبار میں برکت ہوئی۔ چند سال میں اپنا گھر بنا لیا۔

جوانی میں حج بھی کر لیا۔ اس کے بعد جگت حاجی صاحب ہو گئے۔ گھر، باہر سب یہی پکارتے تھے۔ بہن بھائیوں میں چھوٹے تھے، آخری سے پہلا نمبر۔ خاندان میں مگر رتبہ بڑوں جیسا تھا۔ بڑے بھائی بھی ان کو بڑا سمجھتے اور مانتے تھے۔ کسی معاملے، مناقشے، مسئلے میں ان سے رجوع کرتے۔ ان کی رائے کو ترجیح دی جاتی۔

تحمل تھا، کبھی طیش میں نہیں دیکھا۔ اس زمانے بلکہ آج بھی دیسی معاشرے میں بچوں کی تربیت اور مار پیٹ کو مترادف سمجھا جاتا ہے۔ ساری زندگی میں ان سے ایک تھپڑ کھایا۔ اس کی الگ کہانی ہے۔ کبھی گالی نہیں سنی۔ بہت غصہ میں ہوتے تو ’گدھا‘ کہہ دیتے۔ اس سے زیادہ نہیں۔ چلا کے بات کرتے کبھی نہیں سنا۔ چھوٹے، بڑے سب کو ”تسی“ سے مخاطب کرتے۔

جوانی میں حج کر لیا تھا۔ مذہب سے لگاؤ ساری زندگی رہا۔ نماز کے پابند۔ زاہد خشک مگر نہیں تھے۔ کبھی پابندیاں نہیں لگائیں کہ یہ پہنو، یہ مت پہنو۔ بال کٹواؤ، داڑھی چھوڑو۔ مطالعہ کا شوق ان سے ہوا۔ بیٹھک میں ایک الماری کتابوں سے بھری ہوئی تھی۔ مذہبی لٹریچر سے لے کر سیاست اور ادب تک بہت سے کتابیں۔ بہار شریعت سے گلستان و بوستان، چودھری افضل حق کی ’زندگی‘ ، ’جواہرات‘ اور ایس ایم ظفر کی ’ڈکٹیٹر کون‘ سے شبلی کی ’الفاروق‘ تک۔ سکول کے دور میں ایک دفعہ مظہر کلیم کی عمران سیریز کا ناول ہمارے ہاتھ میں دیکھا تو بہت ناراض ہوئے۔ کہا کہ پڑھنا ہے تو ابن صفی کو پڑھو۔

زندگی میں پیسہ بھی کمایا، خرچ بھی کیا۔ خود پر کم، دوسروں پر زیادہ۔ خدا کے بعد ان کا محنت پر ایمان تھا۔ ادھیڑ عمری کے اختتام پر بحران کا شکار ہوئے۔ زندگی میں جو کچھ بنایا، ختم ہو گیا۔ مال بھی، تعلق بھی۔ رشتہ دار، دوست کترانے لگے۔ کبھی زبان سے تو نہیں کہا لیکن حالت حال سے پتہ چلتا تھا کہ دکھ ہے۔ پھر نئے سرے سے محنت شروع کی۔ ہم نے بھی ہجرت کی اور روزی کی تلاش میں خلیج آ گئے۔ محنت کا جو سبق ان سے سیکھا تھا، کھرا پایا۔

آخری دو تین سال کے علاوہ جب کمزور ہو گئے تھے، ساری زندگی اپنے ہاتھ سے کمایا۔ کبھی کسی کے احسان مند نہ ہوئے۔ ہم بڑے ہوئے تو ان سے تعلق دوستانہ ہو گیا۔ سیاست، کھیل، مذہب سب پر گپ شپ ہوتی جیسے دوستوں میں ہوتی ہے۔ ملک چھوڑنے کے بعد یہ سب ختم ہوا۔ چھٹی پر آنا ہوتا تو سامان کھولنے باندھنے میں ہی دن گزر جاتے۔

مارچ میں پاکستان آیا تو وبا کی وجہ سے رکنا پڑا۔ تقریباً چھ مہینے ان کے ساتھ گزارے۔ کمزور اور ضعیف ہو گئے تھے۔ یادداشت بھی اچھی نہیں رہی تھی۔ مگر ان کی زندہ دلی برقرار تھی۔ آتے ہوئے ان سے کہا کہ اگلی دفعہ میں نے آنا ہے تو آپ مجھے ائرپورٹ لینے کے لئے آئیں۔ ہنس دیے۔

یہ ان کی آخری یاد ہے۔
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جعفر حسین

جعفر حسین ایک معروف طنز نگار ہیں۔ وہ کالم نگاروں کی پیروڈی کرنے میں خاص ملکہ رکھتے ہیں۔

jafar-hussain has 88 posts and counting.See all posts by jafar-hussain