پانچ بیٹیوں کے باپ پر جنس معلوم کرنے کے لیے حاملہ بیوی کا پیٹ کاٹنے کا الزام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا میں پولیس کے مطابق ایک مرد نے درانتی سے مبینہ طور پر اپنی حاملہ بیوی کا پیٹ کاٹ دیا جس کے بعد ایک مردہ بچے کی پیدائش ہوئی۔

خاتون کے اہلِ خانہ نے ان کے شوہر پر الزام عائد کیا ہے کہ ایسا اس نے بچے کی جنس کا پتا لگانے کے لیے کیا۔ انھوں نے کہا کہ پانچ بچیوں کو جنم دینے کے بعد شوہر خاتون پر بیٹا پیدا کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا۔

پولیس نے اس شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس کا موقف ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو دانستہ طور پر نقصان نہیں پہنچایا اور یہ محض ایک حادثہ تھا۔

یہ واقعہ بھارت ریاست اتر پردیش کے بدایوں ضلع میں پیش آیا۔ انڈیا کے شمال میں واقع ریاست اترپردیش ملک کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے۔

پولیس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ زخمی خاتون ہسپتال میں ہیں اور ان کی حالت اب بہتر ہے جبکہ ان کے شوہر حراست میں ہیں۔

خاتون کی بہن نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ میاں بیوی کی آپس میں اکثر بیٹے کی پیدائش کے موضوع پر لڑائی ہوتی تھی۔ ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ اتوار کو ڈاکٹروں کی ہدایت پر وہ خاتون کو نئی دہلی لے کر گئے کیونکہ ان کی حالت نازک تھی۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں زندہ جلائی گئی خاتون دم توڑ گئی

انڈیا میں 86 سالہ خاتون کے ریپ پر غم و غصہ

انڈیا: خاتون کو عدالت کے راستے میں آگ لگا دی گئی

شوہر کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی پر حملہ دانستہ طور پر نہیں کیا اور مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے درانتی ان کی طرف پھینکی تھی لیکن انھیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ زخمی ہو جائیں گی۔

انھوں نے کہا ’میری پانچ بیٹیاں ہیں اور اب میرا ایک بیٹا مر گیا ہے۔ مجھے پتا ہے کہ بچے خدا کا تحفہ ہیں۔ اب جو ہونے کو ہے وہ ہو کر رہے گا۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تحقیقات جاری ہیں۔

بھارتی والدین میں بیٹیوں کے بجائے بیٹوں کی خواہش کی وجہ سے ملک میں دونوں جنس کے درمیان اعداد و شمار کے حوالے سے توازن بگڑ گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ آبادی فنڈ کی جون میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق کے مطابق گذشتہ پچاس برسوں میں انڈیا میں پیدا ہونے والی چار کروڑ ساٹھ لڑکیوں کے بارے میں معلوم نھیں کہ وہ کہاں ہیں۔

جبکہ ہر سال چار لاکھ 60 ہزار لڑکیوں کو اسقاطِ حمل کے ذریعے مار دیا جاتا ہے کیونکہ والدین کو بیٹے کی خواہش ہوتی ہے۔ انڈیا میں خواتین کے مرنے کی شرح اس وجہ سے بھی زیادہ ہے کیونکہ پیدائش کے بعد لڑکیوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

سنہ 2018 میں بھارتی حکومت کی جانب سے شائع کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ لڑکوں کی پیدائش کی خواہش کی وجہ سے دو کروڑ دس لاکھ لڑکیاں پیدا ہوئیں جن کی ان کے والدین کو خواہش نھیں تھی۔ وزارتِ خزانہ کی اس رپورٹ میں کہا گیا کہ جوڑے بیٹے کی خواہش میں بچے پیدا کرتے جاتے ہیں۔

تجزیہ، گیتا پانڈے

بی بی سی انڈیا ایڈیٹر برائے خواتین اور سماجی امور


انڈیا ایک ایسا ملک ہے جہاں پر بہت عرصے سے روایتی طور پر لڑکوں کی پیدائش کو پسند کیا جاتا ہے اور ترجیح دی جاتی ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے یہاں بیٹے کی پیدائش سے وہ مالی طور پر بہتر ہوں گے اور بیٹا بڑھاپے میں ان کی دیکھ بھال بھی کرے گا اور خاندان کا نام بھی آگے بڑھائے گا۔ اس کی نسبت بھارتی معاشرے میں اگر آپ کے گھر لڑکی پیدا ہوئی ہے تو وہ شادی کے بعد گھر چھوڑ جائے گی اور اسے بہت سارا جہیز بھی دینا پڑے گا۔

بیٹوں کی پیدائش کو ترجیح دینے کے ساتھ ساتھ بچےکی پیدائش سے پہلے اس کی جنس معلوم کرنے کی ٹیکنالوجی کی وجہ سے انڈیا میں دونوں جنس کے درمیان اعداد و شمار کے حوالے سے توازن بگڑ گیا ہے۔ عرصہ دراز سے سینکڑوں لڑکیوں کا قتل کیا گیا ہے، بعض اوقعات ماں کی پیٹ میں اور کئی بار پیدائش کے بعد انھیں مکمل طور پر نظر انداز کرنے کے وجہ سے۔

1961 میں سات برس سے کم عمر کے 1000 لڑکوں کے مقابلے میں 976 لڑکیاں موجود تھیں، لیکن 2011 میں کی گئی آخری مردم شماری کے بعد اب یہ نمبر 914 ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے اسے ’قتلِ عام‘ قرار دیا ہے۔ سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اسے عمل کو ’قوم کے لیے شرم کا مقام‘ کہا تھا اور لڑکیوں کی زندگیاں محفوظ کرنے کے لیے عوام کو ’جنگ‘ کرنے کے لیے کہا۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ’بیٹوں کے لیے تڑپنا بند کریں‘ اور ’بیٹے کی امید پر لڑکیوں کو قتل نہ کریں۔‘

پانچ برس قبل انھوں نے بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ مہم کا آغاز کیا تھا، اس کے علاوہ انھوں نے ملک میں موجود تمام مردوں سے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ ایک سیلفی لے کر انھیں بھیجیں۔ تاہم ان کی کوئی بھی مہم کارگر ثابت نہیں ہوئی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ حالات کو بدلنے کے لیے بھارتی معاشرے میں سوچ کو تبدیل کرنا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16096 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp