جماعت اسلامی اپوزیشن کی اے پی سی میں کیوں شریک نہیں ہوئی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جماعت اسلامی جو ہر دور میں خود کو عوام دوست اور جمہوریت کا داعی قرار دیتی رہی ہے، نے اتوار کو حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کرنے والی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا تھا۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے یہ کہا گیا تھا کہ ملک کی دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیاں دراصل حکومت کی بی ٹیم کی حیثیت رکھتی ہیں اور ملک میں سامراجی ایجنڈا نافذ کرنے کے لئے تحریک انصاف کا ساتھ دے رہی ہیں۔ اس حوالے سے حال ہی میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے مطالبے پورے کرنے کے لئے منظور کئے گئے قوانین کا حوالہ دیا گیا تھا۔

تاہم اے پی سی میں نواز شریف کی دبنگ تقریر اور اس اعلان کے بعد کہ ملک میں اپوزیشن کی جد و جہد عمران خان یا موجودہ حکومت کےخلاف نہیں ہے بلکہ نظام میں موجود ان عناصر کے خلاف ہے جو ایسی حکومتوں کو عوام پر مسلط کرتے ہیں۔ اسی کو نواز شریف نے متوازی ریاست کی بجائے بالائے ریاست کا نام دے کر صورت حال کی سنگینی اور سفر کی صعوبت و پیچیدگی کا اظہار بھی کیا ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں کی گئی اس تقریر کے بعد ہی جماعت اسلامی کے عذر اور مجبوری کا اندازہ ہوگیا تھا لیکن اگر حکومتی حلقے اتوار کو منعقد ہونے والی اے پی سی سے پہلے پارلیمانی لیڈروں اور پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے درمیان ہونے والی ملاقات کا ’احوال‘ بیان نہ کرتے تو شاید جماعت اسلامی کی عدم شرکت کو ان کی اس مجبوری سےزیادہ اہمیت نہ دی جاتی کہ وہ بہر صورت اسٹبلشمنٹ کے ساتھ رہنا چاہتی ہے کیوں کہ اسے کامل یقین ہے کہ اسلام کی انتہاپسندانہ تفہیم پر مبنی جو معاشرہ وہ پاکستان میں استوار کرنا چاہتی ہے، وہ مقصد فوج کی امداد اور سرپرستی کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

سابق فوجی آمر جنرل ضیا الحق جب اپنے اقتدار کو طول دینے اور جواز فراہم کرنے کے لئے اسلام کا نعرہ استعمال کررہے تھے تو جماعت اسلامی ان کا دست و بازو بن کر اپنا سیاسی ایجنڈا پورا کرنے کی کوشش میں مصروف رہی تھی۔ اس وقت اسے قطعی احساس نہیں تھا کہ ملکی سیاست میں بدعنوانی کے بیج بونے کے علاوہ افغان جنگ کے نام پر جو کانٹے جنرل ضیا اس خطے میں بچھا رہا تھا اس سے اسلام اور مسلمانوں کو آنے والی دہائیوں میں کتنا نقصان پہنچے گا۔ حیرت ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں کے المناک تجربوں کے بعد بھی جماعت اسلامی بدستور جابرانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنا مذہبی سیاسی ایجنڈا ملک پر مسلط کرنے کا خواب دیکھتی ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ فوج ہو یا طالبان جیسے مسلح جتھے، کسی بھی طاقت کے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہے۔ اپنی پارٹی میں جمہویت کا دعویٰ کرنے والی جماعت اسلامی دراصل اسلام کے نام پر ملک میں ایسا جابرانہ و آمرانہ نظام مسلط کرنا چاہتی ہے جہاں لوگوں کو رائے دینے اور بات کہنے کے علاوہ اپنی مرضی کی زندگی جینے کا حق بھی حاصل نہیں ہوگا۔ وہ انہی طریقوں کو درست ماننے اور ان پر عمل کرنے پر مجبور کئے جائیں گے جو سینیٹر سراج الحق جیسے لوگوں کے خیال میں درست ہوں گے۔ اس کا عملی نمونہ دیکھنے کے لئے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ طالبان کے دور حکومت میں افغانستان کی صورت حال کا مشاہدہ کافی ہوگا۔

اے پی سی میں جماعت اسلامی کے شرکت سے انکار کے تناظر میں، اب گزشتہ بدھ کو پارلیمانی لیڈروں اور فوجی قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقات کی اطلاع سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ اگر عمران خان اور ان کے ساتھی کانفرنس کے ایجنڈے سے بے خبر بھی تھے لیکن عسکری قیادت کو اتوار کے روز ہونے والی اے پی سی میں نواز شریف کے دبنگ بیان اور کسی لگی لپٹی کے بغیر بات چیت کا اندیشہ تھا۔ اس پس منظر میں جماعت اسلامی کے امیر سینیٹرسراج الحق کی ہفتہ کے روز ایک تقریب میں کی گئی تقریر کو پڑھا جائے تو کئی تاریک گوشے منور ہو سکتے ہیں۔ حکمرانوں کی بے بسی اور ریاست بالائے ریاست کا حقیقی مفہوم عملی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔ ورنہ جماعت اسلامی حکومت کے ساتھ ساز باز کا جو الزام اپوزیشن پارٹیوں پر عذر لنگ کے طور پر استعمال کر رہی ہے وہ دراصل اس کے اپنے کردار کا عملی نمونہ ہے۔ جب تک فوج کا دست شفقت عمران خان اور تحریک انصاف کے سر پر موجود رہے گا جماعت اسلامی اور سراج الحق اسے جواز فراہم کرنے کے لئے ہر حد پار کرنے پر تیار رہیں گے۔ یوں بھی عمران خان مطلق العنانیت، آزادیوں سے انکار اور طاقت کے زور پر ایک مرکز کو وفاقی اکائیوں پر مسلط کرنے کا جو نظام لانا چاہتے ہیں، وہی جماعت اسلامی کا مطمح نظر بھی ہے۔ ایک ہی منزل کے مسافر ایک دوسرے سے کیوں کر پنجہ آزما ہو سکتے ہیں۔

سرکاری حلقوں نے فوجی قیادت کی اپوزیشن کے تمام اہم لیڈروں سمیت پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے جو دور کی کوڑی لانے کی کوشش کی ہے، اسے کھسیانی بلی کھمبا نوچے سے زیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی۔ یہ اجلاس دراصل گلگت بلتستان کی آئینی و انتظامی حیثیت کے بارے میں تبادلہ خیال کے لئے منعقد کیا گیا تھا۔ عسکری اداروں کو سیاست میں ملوث نہ کرنے کا مشورہ دینے والی حکومت کو بتانا چاہئے کہ اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ ایک آئینی مسئلہ پر فوجی قیادت کی ملاقات کی وجہ تسمیہ کیا تھی؟ کیا یہ معاملہ پارلیمنٹ کی کمیٹی میں زیر بحث نہیں آنا چاہئے تھا اور کیا حکومت کا فرض نہیں تھا کہ وہ فوج سمیت دیگر متعلقہ اداروں جن میں وزارت خارجہ و داخلہ بھی اہم ہو سکتی ہیں، کی رائے اور مشوروں کو سرکاری بریفنگ میں پارلیمانی لیڈروں کے سامنے غور کے لئے پیش کرتی؟

 اس حوالے سے قدرے غیر متعلقہ مگر دلچسپ نکتہ یہ بھی ہے کہ آئینی معاملہ ہو یا انتظامی امور، جب بھی سیاسی لیڈر عسکری قیادت سے ملتے ہیں تو صرف فوج ہی کے نمائندے اس میں شامل ہوتے ہیں۔ کیا ائیر فورس اور بحریہ کے سربراہ اسٹیٹس اور ملکی سلامتی کے حوالے سے اپنے کردار کی نوعیت میں آرمی چیف سے کم تر ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ نواز شریف ہو یا دوسرے سیاسی لیڈر جب بھی سیاست میں مداخلت کا شکوہ کرتے ہیں تو فوج ہی کی طرف انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔ کبھی ائیر فورس یا بحریہ کے کسی شعبہ کو اس قسم کی بے اعتدالی کا الزام نہیں دیا جاتا۔ کیا اس کی واحد وجہ یہ نہیں کہ مسلح افواج کے ان دو حصوں یعنی بحریہ اور فضائیہ نے سیاسی امور میں مداخلت سے گریز کیا ہے اور کبھی اقتدار یا سیاسی اثر و رسوخ میں حصہ نہیں مانگا۔ یہی وجہ ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے سوال پر جو دلچسپی دکھائی جاتی ہے اس کا عشر عشیر بھی فضائیہ یا بحریہ کے سربراہ کی تعیناتی کے حوالے سے نظر نہیں آتا۔

گزشتہ بدھ کو آرمی چیف اور اپوزیشن سمیت پارلیمانی لیڈروں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بارے میں یہ اطلاع بھی سامنے آئی ہے کہ اس ملاقات کے لئے جو طریقہ کار طے ہؤا تھا، اس کے مطابق یہ ملاقات ’خفیہ‘ سمجھی جانی تھی۔ یعنی اس میٹنگ میں شریک ہونے والا کوئی شخص نہ تو اس بارے میں بات کرنے کا مجاز تھا اور نہ اس کے ایجنڈے اور وہاں ہونے والی گفتگو کے بارے میں خبر سامنے آنی چاہئے تھی۔ اسی لئے فوج یا پارلیمنٹ کی طرف سے کوئی بیان یا پریس ریلیز بھی جاری نہیں کی گئی۔ تاہم اے پی سی کے بعد متعدد سرکاری ذرائع نے اس حوالے سے میڈیا کو خبر فراہم کی ہے لیکن وزیر ریلوے شیخ رشید سب پر بازی لے گئے جنہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اس ملاقات کی جزیات تک سے آگاہ کیا ہے۔

شیخ رشید اور دیگر نے جو تفصیلات فراہم کی ہیں، ان کے مطابق اس ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپوزیشن لیڈروں کو متنبہ کیا تھا کہ وہ فوج کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش نہ کریں کیوں کہ ملک میں انتخابات یا احتساب سمیت کسی بھی سیاسی معاملہ سے فوج کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی مشکل میں ضرورت ہوئی تو فوج حکومت وقت کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ شیخ رشید کی سند کے ساتھ اس رپورٹ کو درست مانتے ہوئے موجودہ صورت حال میں دو سوال بے حد اہم ہیں: 1)گزشتہ بدھ کو ہونے والی اس ملاقات کو اتوار تک راز رکھنے کے بعد اسے فاش کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ کیا حکومت نواز شریف کی تقریر سے اس قدر بدحواس ہو گئی کہ اسے قوم کو یہ بتانا پڑا کہ دیکھیں اپوزیشن لیڈر تو خود فوج سے ملتے ہیں؟ یا یہ کہ فوج نے تو انکار کیا تھا لیکن اپوزیشن پھر بھی فوج پر الزام لگانے سے باز نہیں آئی؟ 2) اگر اس وقت سیاست میں فوجی مداخلت بالکل ختم ہوچکی ہے اور نواز شریف سمیت تمام اپوزیشن لیڈر اس حوالے سے ’این آر او‘ کے لئے دباؤ ڈالنے کی غرض سے فوج پر بے بنیاد الزام لگا رہے ہیں تو بھی کیا فوجی قیادت کے ساتھ سیاسی لیڈروں کی ’خفیہ ملاقات‘ کا ذکر کرکے اور یہ بتا کر کہ وہاں آرمی چیف نے کیا کہا تھا، فوج کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کون کر رہا ہے؟ یہ کوشش وہی نہیں کر رہا جسے اس وقت فوجی خوشنودی اور سرپرستی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

 بات ملاقات کے بارے میں معلومات دینے تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ شیخ رشید نے تو یہ تفصیل بھی بتائی ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کے صاحبزادے اور قومی اسمبلی کے رکن اسد الرحمان سے کہا کہ’ اگر ان کی جماعت موجودہ اسمبلیوں کو جائز نہیں مانتی تو ان کے والد مولانا فضل الرحمان صدارت کے امید وار کیوں تھے‘؟ اگر شیخ رشید کا یہ حوالہ درست ہے تو پوچھا جا سکتا ہے کہ جنرل باجوہ سے منسوب یہ بیان بھی اگر سیاسی نہیں ہے تو سیاست کی اور کیا علامات ہوتی ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1645 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali