شاداب زمینوں پر کھلے پھول
رات ڈھل رہی تھی اور کمرے کے اندھیرے میں بیگم اختر کی پرسوز آواز ڈوب اور ابھر رہی تھی۔
اے محبت تیرے انجام پے رونا آیا۔
شکیل بدایونی کی غزل کے بولوں کے ہم آہنگ ہارمونیم کی سنگت اور طبلے کی مدہم تھاپ نے ایک عجیب سماں باندھ رکھا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے ڈھلتی رات میں ساری کائنات چپ چاپ سن رہی تھی۔ وہ غزل کے سحر میں گرفتار دنیا و مافیہا سے بے خبر بہت دور پہنچا ہوا تھا۔ زندگی کی دوڑ میں گم انسان شاید ایسے ہی پرفسوں لمحات میں اپنے دل کے نہاں خانوں میں پوشیدہ محبتوں کی پوٹلی نکال بیٹھتا ہے۔ گزرے لمحوں کی وہ حسین یادیں اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تو کبھی آنکھوں میں نمی لے آتی ہیں۔
محبت کا قلزم تو ہر ایک کے سامنے بہتا ہے۔ یہ آبشار تو ہر ایک کو شرابور کرتی ہے۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کوئی کنارے پر کھڑا سود و زیاں کا حساب کرتا رہتا ہے اور کوئی اس بحر میں بے خطر کود پڑتا ہے۔ جو کود پڑے وہ عشق اور جو سوچتا رہے وہ عقل کا اسیر۔ پھر جب گئی عمر میں راتوں کو نیند اڑ جاتی ہے تو گاہے اپنی کم ہمتی پر رونا آتا ہے اور جرات پر پیار۔ شاید انسان کی اسی رنگارنگی سے قدرت کو بیک وقت اسے تماشا اور تماشائی بنانا مقصود ہوتا ہے۔
اسے بھی کبھی محبت ہوئی تھی اور وہ بھی اپنی سدھ بدھ کھو بیٹھا تھا۔ اپنی کم ہمتی سے مجبور وہ اپنی ذات کے کوکون میں چھپ کر محبت کے ریشمی تاروں میں خود کو لپیٹتا رہا اور اظہار کی جرات نہ کر سکا۔ لیکن کیا اظہار ضروری ہوتا ہے؟ محبت تو انسان کے پورے بدن کو اپنے محبوب کے سامنے ستار کا کسا ہوا تار بنا دیتی ہے جو ذرا سے دباؤ سے نغمہ چھیڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ محبت کے الوہی نغمے نے اس کے محبوب کے دل پر بھی دستک دی لیکن انا کا پندار زیادہ مضبوط نکلا۔
وہ اسے اپنے دل میں چھپائے چپ چاپ زندگی کرتا رہا۔ دن مہینے اور مہینے سالوں میں گزرتے رہے لیکن اس کا دل محبت کے اسی ریشمی الجھاؤ میں الجھا رہا۔ اس نے خود کو کبھی اس فسوں سے آزاد کرنے کی کوشش بھی نہ کی کیونکہ اس محبت نے اسے محبوب کے علاوہ سب کچھ بخش دیا تھا۔
پھر ایک دن اس نے دل کی اتھل پتھل ہوتی دھڑکنوں سے حیران ہو کر سر اٹھایا تو اسے سامنے پایا۔ زندگی دونوں پر مہربان رہی تھی اور وقت کے بے رحم دھارے نے بظاہر ان کی رعنائیوں کو زیادہ نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ اس کی نظروں نے پہلی بار شعوری طور پر ان جھیلوں کا سفر کیا تو وہ ویران جزیروں پر اپنا نام لکھا دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ سسک کر بولی تھی۔ کیا محبت اظہار کی محتاج بھی ہوتی ہے؟ محبت کی نادیدہ لہریں تو تن بدن سے پھوٹتی اور ٹھیک اپنے نشانے پر پہنچتی ہیں۔ جب بدن مضراب بن جائے تو زبان اور آنکھوں کی پیغام بری کی ضرورت نہیں رہتی۔ شاداب زمینوں پر کھلے محبت کے پہلے پھول سوکھ بھی جائیں تو کسی اور گلستان کے لیے جگہ نہیں بچتی۔


