پاکستانی معاشرہ اور سول سوسائٹی کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں پاکستان میں ہونے والیے زیادتی کے ہونے والے انتہائی دل خراش اور انتہائی افسوس ناک واقعات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ایسے گھناؤنے جرائم واقعات چاہیے وہ لاہورشہر میں رات کے وقت کھڑی گاڑی میں ہو یا کسی گاؤں میں کسی کھیت میں۔ سب کے سب انتہائی قابل مذمت ہے کیوں کہ جرم ہر جگہ جرم ہی تسلیم کیا جانا چاہیے اس بات سے ہمیں فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ جرم چھوٹے شہر یا گاؤں میں ہوا یا پھر بڑے شہر میں ہوا۔

لاہور میں ہونے والے واقعے نے مجھے ذاتی طور پر ہلا کر رکھ دیا اور مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہم کس قسم کے معاشرے میں رہتے ہیں؟ آخر کون ہے یہ درندہ صفت لوگ جو اس قسم کے گھناؤنے جرائم کرکے معاشرے میں خوف وہراس پھلاتے ہیں؟ ان کا سدباب کرنا ہوگا۔ ایسے واقعات کی وجہ سے عوام میں بہت غم وغصہ پایا جاتا ہے

اور اسی طرح ہوا لاہور والے واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں 95 ٪ فیصد سے زائد لوگوں کا مطالبہ تھا کہ مجرموں کو سرعام پھانسی دی جائے اور ان کو عبرت ناک نشان بنایا جائے تاکہ دوبارہ کوئی ایسا جرم کرنے کا ارادہ بھی نہ کرے یہ صرف ایک جذباتی فیصلہ ہے۔ بے شک ایسے واقعات میں مظلوم کے ساتھ فوری انصاف ہونا چاہیں مگر ہم انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرنا چاہتے جو کہ ایک معزز قوم کی علامت نہیں ۔ انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ وہ ملزم اور مظلوم دنوں کی سنتا ہے جو قصور وار ٹھہرتا ہے وہ سزا بھی پاتا ہے مگر کچھ واقعات میں واضح تو ہوتا ہے کہ کون ظالم ہے اور کون مظلوم ہے مگر پھر بھی انصاف کے تقاضوں کا پورا ہونا لازمی ہے۔

مگر سوچنے سمجھنے کی بات ہے کہ گزشتہ سال قصور میں زینب کیس کے مجرم عمران کو پھانسی دی گئی تھی مگر وہاں تو ایک سال بھی خوف نہیں رہا؟ قصور سے زینب کے بعد بھی کیس رپورٹ ہوتے رہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گناہ اورجرائم کسی بھی معاشرے میں ختم نہیں ہوتے ہاں مگر کم ضرور ہو جاتے ہیں تو ہمیں بھی جرائم کو کم کرنے کے لئے سوچنا ہوگا۔ ایسی طرح ہمیں سمجھنا ہوگا ان پہلوؤں کو جو ہم نظر انداز کر رہے ہیں اور ایسے جرائم کم ہونے کی بجائے زیادہ ہو رہے ہیں۔

سب سے بڑا پہلو ہے تربیت جو بنیادی طور پر انسان کی اس کے گھر سے ہوتی ہے ہمارے معاشرے کو گھر وں میں تربیت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہیں ہم گھروں میں ہی تو تربیتی پہلو نظر انداز نہیں کر رہے کہ جس کے نتیجہ میں معاشرے میں درندہ صفت لوگوں میں اضافہ ہو رہا ہے؟ خاص کر سوچ تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ میں نے اکثر اپنے معاشرے میں دیکھا ہے کہ جب بھی کوئی ایسا جرم ہوتا ہے تو جرم کرنے والا کم اور مظلوم جس کے ساتھ ظلم ہوا ہوتا ہے اس کو زیادہ زیر بحث لایا جاتا ہے کہ اس مظلوم کا قصور ہے اس نے کپڑے ایسے پہنے ہوں گے یا وہ اکیلی کیوں نکلی رات کو یا وہ زیادہ بہادر بنتی تھی وغیرہ وغیرہ۔ خدارا اس سوچ کو تبدیل کریں۔ اور دیکھیں جرم کو جرم سمجھیے۔ ایسی سوچ سے جرائم کرنے والیے درندہ صفت لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، اسی لیے ایسے جرائم میں دن بدن اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔

والدین کو خاص کر اپنے بچوں اور بچیوں کی تربیت پر خاص توجہ دینا ہوگی کہ وہ کس قسم کے سوچ رکھتے ہیں اور بروقت ان کے سوچ کو تبدیل کر سکے۔ ہر شہری کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری ریاستی اداروں کی ہوتی ہے ہمارے معاشرے میں ہونے والے جرائم پر جو ریاستی اداروں کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ تو اپنی جگہ ہے مگر بطور شہری اس معاشرے کی تربیت اور اصلاح کی ذمہ داری ہم سب پر واجب ہے کہ ہم اس معاشرے کو پرامن معاشرہ بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

ہم لوگ جذباتی فیصلوں پر مبنی ایسے جرائم کے خلاف براہ راست پھانسی اور عبرت ناک سزاؤں کا انصاف چاہتے ہیں مگر ہم معاشرے میں ایسے لوگوں کی سوچ کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے جو سوچ ان کو درندہ صفت بنانتی ہے۔ ہمارے معاشرتی رویے ہی معاشرے میں ہونے والے جرائم کی وجوہات بنتے ہیں۔ ہمیں معاشرتی طور پر ذہنیت کو تبدیل کرنا چاہیے۔ اگر کوئی مرد کسی عورت یا بچے کو ہراساں کرتا ہے تو ساتھ دوسرے مرد کو چاہیے کہ وہ ایسے مرد کے خلاف آواز اٹھائے مگر افسوس ہم شاید تب تک آواز نہیں اٹھاتے جب کہ یہ جرم خدا نخواستہ ہمارے اپنے گھروں کی عورتوں یا بچوں کے ساتھ نہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •