سیاحت کا عالمی دن اور کورونا


دنیا بھر میں سیاحت کا عالمی دن 27 ستمبر کو منا یا جاتا ہے، سیاحت کا یہ عالمی دن ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن کی ایگزیکٹیو کونسل کی سفارشات پر اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی قرارداد کے مطابق 1970 ء سے منایا جا رہا ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ سیاحت بین الا قومی برادری کے لیے ناگزیر ہے اور سیاحت سماجی، ثقافتی اور اقتصادی حالات پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کی 2019 کی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ آئندہ 10 سال میں سیاحت کے شعبے میں مزید وسعت آئے گی اور دنیا بھر کے ممالک کی معیشت میں سیاحت کا بڑا حصہ ہوگا لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے سیاحت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس سال مارچ کے بعد دنیا بھر میں سفری پابندیوں اور کورونا کے خوف کی وجہ سے سیاحوں کی کمی کی وجہ سے بین الاقوامی سیاحت کی تعداد میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے جس کے نتیجے میں معاشی نقصان اور نوکریوں کا ضیاع ہوا ہے۔

سیاحت کا بحران جنگلی حیات کے تحفظ کے اقدامات اور دنیا کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے بھی خطرہ ہے کیونکہ سیاحت کی آمدنی میں اچانک کمی نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لئے مالی اعانت ختم کردی ہے۔ سیاحت سے وابستہ افراد کا روزگار ختم ہونے کے بعد، غیر قانونی شکار اور لوٹ مار کے معاملات میں اضافے کی توقع ہے۔ وبائی بیماری کے نتیجے میں 90 فیصد عالمی ثقافتی ورثے کے مقامات بند ہونے کے بعد دنیا کے تمام حصوں میں ثقافتی ورثے کو خطرہ لاحق ہے۔

کورونا وائرس کے اس دور میں سیاحت کا عالمی دن اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ دنیا کو معاشرتی، ثقافتی، سیاسی اور معاشی اقدار کے پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے یکجا ہونا ہوگا۔ اقوام متحدہ کی عالمی سیاحت کی تنظیم (یو این ڈبلیو ٹی او) کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا کی وجہ سے سیاحت سے وابستہ 100 سے 120 ملین افراد کے روزگار اور کاروبار ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقیاتی کانفرنس میں عالمی جی ڈی پی میں 1.5 سے 2.8 فیصد کے نقصان کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔

اس سال مارچ سے عالمی سیاحت کی شرح میں بتدریج کمی ہوتی گئی، اس سال پہلے ماہ بین الاقوامی سیاحت میں 56 فیصد کمی ہوئی جو مئی میں مزید کم ہوکر 98 فیصد ہوگئی اگرچہ سرحدیں کھلنا شروع ہوگئی ہیں اور سفر ی پابندیاں ختم ہونا شروع ہوگئی ہیں لیکن سیاحت کی شرح کمی کے ساتھ برقرار ہے۔ کورونا کے باعث 850 سے ایک اعشاریہ ایک ٹریلین سیاحوں میں کمی ہوئی ہے جس کے باعث سیاحت کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن میں 910 بلین ڈالر سے 1.2 ٹریلین کا نقصان ہوا ہے۔ اس نقصان سے نمٹنے اور سیاحت کی بحالی کے لئے دنیا بھر کے تمام ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کو ایک دوسرے کی سپورٹ اور انتھک کوششیں کرنا ہوں گی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس سال جنوری سے مئی تک امریکہ میں سیاحوں کی شرح تعداد 47، یورپ میں 58، افریقہ میں 47، مڈل ایسٹ میں 52 فیصد تک کمی ہوئی۔

ورلڈ اکنامک فورم کی 2017 کی رپورٹ میں پاکستان کی رینکنگ 124، 2015 کی رپورٹ میں 125 ویں، 2013 کی رپورٹ میں 122 ویں جبکہ 2011 کی رپورٹ میں 125 ویں نمبر پر تھی۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جو ایڈونچر ٹورازم، قدرتی خوبصورتی، مذہبی سیاحت اور تاریخی مقامات سے مالامال ہے۔ یہاں ہندوؤں کے تاریخی مندر، سکھوں کے قدیم مذہبی مقامات اور بدھ مت کی تاریخی نشانیاں ٹیکسلا اور گندھارا کی قدیم تہذیبوں کی صورت میں موجود ہیں۔

ان کے علاوہ صدیوں پرانی تہذیب کے آثار قدیمہ، ثقافت اور صوفی ازم بھی سیاحوں کی خصوصی دلچسپی کا مرکز ہیں۔ ملک کے دلکش قدرتی مناظر کے بیشتر علاقے صوبہ سرحد اور شمالی علاقہ جات میں واقع ہیں ان میں مشرق کے سوئٹزر لینڈ وادی سوات کے علاوہ رومان پر ور وادی کاغان، گلیات، وادی کیلاش، وادی ہنزہ، شنگریلا وغیرہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی خاص توجہ کے مرکز ہیں۔ پاکستان میں کے ٹو، نانگا پربت، چترال، اسکردو، گلگت، ہنزہ، سوات، ہزارہ، مری اور کشمیر کے پہاڑی سلسلے سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا کورونا سے پیدا ہونے والے بحران سے نکلنے کے لئے سیاحت کو فروغ دینا ہوگا۔

Facebook Comments HS