سب سے بڑی غلطی پرانی غلطیوں کو غلط نہ ماننا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ، انسانی تجربات کا نہ ختم ہونے والا وہ سلسلہ ہے جسے ہم جاننا چاہیں یا اس سے صرف نظر کریں، اس کا پہیہ مسلسل چلتا رہتا ہے اور اس عمل سے جنم لینے والے اثرات، محرکات، واقعات، اختلافات، نظریات، مشاہدات اور امکانات، محسوس اور غیر محسوس طریقے سے اپنی جگہ بنا رہے ہوتے ہیں اور یوں یہ عناصر، انسانی زندگی کی ڈگر میں آہستگی یا تیز رفتاری سے، منفی یا مثبت تبدیلیاں لا رہے ہوتے ہیں۔

ایسا لگتا ہے جیسے انسانی تجربات کا یہ دائرہ کسی سماج، عہد، وقت، اور جغرافیہ، تک مقید نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے حاصل شدہ نتائج کو کسی مخصوص سانچے کے لئے ہی موزوں اور کارگر قرار دیا جا سکتا ہے۔ مماثل معاملات، ممکنہ طور پر، مماثل نتائج کو جنم دے سکتے ہیں، اگر ان کے پس منظر اور بنیاد میں یکسانیت اور مماثلت موجو ہو۔

انسانی جبلت نے اس مٹی کی مورت کو ایسا روپ دیا ہے، کہ دہرائے ہوئے سبق کو جتنا بھی دہرایا جائے، آزمائش اور امتحان کی گھڑی میں یہ دعوی کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ اب وہ نہیں کرے گا جس سے اسے روکا گیا ہے۔ یوں غلطی کا اعادہ مزید غلطیوں کے لئے راستے وا کر دیتا ہے۔

آخر ایسا کیا ہے کہ غلطی کے ارتکاب سے گریز کیوں نہیں ہو پاتا؟ کیوں اس راستے سے ہٹ کر چلنا مشکل ہو جاتا ہے، جہاں خطرے کی نشاندہی واشگاف انداز میں نمایاں ہوتی ہے۔ کیوں اپنے سے پہلے وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور ان کے نتائج میں پوشیدہ حکمت اور ہدایت، آنکھوں میں دھندلا جاتی ہے۔ طالع آزمائی کہاں اور کیوں در آتی ہے کہ (بسا اوقات) تاریخ سے آنکھیں چار کرنا، دو بھر ہوجاتا ہے۔

مشہور تاریخ دان ای ایچ کار (E۔ H۔ Carr) کا کہنا ہے کہ ”تاریخ، حال اور ماضی کے درمیان نہ ختم ہونے والا مکالمہ ہے اور تاریخ دان ( یا تاریخ سے اکتساب کے خواہش مند ) کی مہارت اور“ قیافہ شناسی ”یہی ہے کہ وہ آج کی باریکیوں کو سمجھنے کے لئے، گزرے ہوئے کل کی جزئیات پر گہری نظر رکھتا ہو۔“

گویا یہ سب جانچنے اور سمجھنے کے لئے، اس سارے مرحلے میں اختیار کیے گئے ( یا اثر انداز ہونے والے ) عوامل مثلاً ”، طے کیا گیا ہدف، اختیار کی گئی سمت، اپنائی گئی حکمت عملی، مقرر کیے گئے مقاصد، اور (سب سے بڑھ کر ) ظاہر یا پوشیدہ ( انفرادی اور گروہی ) مفاد کے بارے میں جاننا ضروری ہے جس کی خاطر میدان سجایا جاتا ہے۔ شاید یہی وہ پہلو ہے جس کی معروضیت کو حقیقت پسندانہ سطح پر، پرکھنا اور پھر غیرجانبدار نہ معیار پر کھنگالنا، ہی وہ کٹھن مرحلہ ہے جہاں سے منطقی نتائج تک پہنچنے کی راہ نکالی جا سکتی ہے۔

بلا شبہ تاریخ، انسانی رویے اور طرز عمل کی چشم دید گواہ ہے اس لئے، بعد از عمل، اس کے نزدیک ”اگر اور مگر“ کی کوئی حیثیت اور گنجائش نہیں۔ پیش قدمی سے پہلے پیش بندی اور عمل درآمد سے پہلے ذہن سازی، وہ دانشمندانہ اور حکیمانہ گر ہے جو نتائج کو بہتر امکانات کی طرف لے جا سکتا ہے۔

کہتے ہیں کہ تاریخ کا یہ سبق ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتا، مگر یہ بھی تاریخ کا ہی سبق ہے کہ اس سبق کو دہرانا ( اور بار بار دہرانا) اس لئے ضروری ہے تاکہ انسانی جبلت سے مجبور، ہوش مندوں اور دور اندیشوں میں یہ احساس اجاگر کیا جا سکے کہ سب سے بڑی غلطی، پرانی غلطیوں کو غلط نہ ماننا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •