ایک سرکاری ہسپتال کے جنرل وارڈ میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے ابھی دو گھنٹے مزید یہاں گزارنے ہیں۔

یہ ایک سرکاری ہسپتال کا بچوں کا وارڈ ہے جہاں زیادہ تر ایسے بچے ہیں جو انتہائی نگہداشت سے یہاں لائے گئے ہیں، کیونکہ وہاں بستروں کی کمی کی وجہ سے اب صرف ایسے مریض ہیں جو ابھی بھی اجل سے دست و گریباں ہیں۔ کبھی ان کے پیاروں کی دعائیں اور تقدیر کی لکیرانہیں اس طرف لے جاتی ہے جہاں ہے یہ خرابہ جسے زندگی کہتے ہیں۔ اور کبھی وہ ان سب سے ماورا موت کی وادی میں سرکنے لگتے ہیں۔

میرے سامنے بیڈ پر سنہری رنگت اور بڑی بڑی بادامی آنکھوں والا ایک بچہ ہے جس کا باپ کچھ دیر قبل بینچ پر سو گیا تھا۔ سیکورٹی کے عملے نے جہنم کے داروغہ کی طرح آکر صدا لگائی ’اٹھو! یہ سونے کا وقت نہیں ہے۔‘ بچے کو بے تحاشا نلکیاں لگی ہوئی ہیں۔ خوراک کے لئے، دواوں کے لئے، رفع حاجت کے لئے۔ جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ اٹھنے سے قاصر ہے۔ اگر کبھی ناشکری کا آسیب دل میں سر اٹھائے تو یہ سوچ لیجیے گا کہ رب نہ چاہے تو انسان حواس خمسہ بھی استعمال نہیں کر سکتا ہے۔

میرے دائیں طرف ایک سات آٹھ برس کی گڑیا ہے جسے ڈھانچہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اس کے اندر دھنسے ہوئے گالوں اور ہنسلی کی ہڈی پر چپکی ہوئی کھال، جب ایک زیروبم کے ساتھ اوپر نیچے ہوتی ہے، تو احساس ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہے اور سانس لے رہی ہے۔ اس کی رنگت اتنی سیاہ ہے جیسے اپنے جسم کی بے اعتنائی کی داستان سنا رہی ہو اور پیٹ بہت پھولا ہوا ہے۔ اس کی بے رونق آنکھوں میں ایک اضطراب اور بے زاری ہے جیسے انتظار کر رہی ہوکہ یا رب بہت ہو گئی زندگی، اب سکون دے دے! وہ تھیلیسیمیا کی مریضہ ہے اور اب نمونیا بھی ہو گیا ہے۔

کمرے کے کونے والے بستر پر ایک گیارہ سالہ بچہ ہے جس کی رنگت اتنی نیلی ہے، کہ پہلی نظر میں یہ گمان ہوتا ہے کہ خدانخواستہ لاش ہے۔ لیکن وہ قضا سے لڑ رہا ہے سانس لے رہا ہے، اپنی تمام تر قوت صرف کر کے سانس لے رہا ہے۔ اس کے دل میں سوراخ ہے اور اب خون جمنا شروع ہوگیا ہے۔ وہ بھی مسیحا سے کسی معجزے کی امید لگا کر بیٹھا ہے اور اس کی ماں بھی۔ جس نے ہر بیماری کے خطرے سے بالاتر ایک سرخ و سپید گڑیا اٹھائی ہوئی ہے جو اس کی چھوٹی بہن ہے۔

دوسرے کونے والے بستر پر لال کپڑوں میں ملبوس شیر خوار بچہ آدھے گھنٹے سے تڑپ تڑپ کر رو رہا ہے اور اس کی ماں بے اختیار کبھی اسے چومتی ہے، کبھی سینے سے لگاتی ہے، اور کبھی ٹہلنے لگتی ہے۔ اب رو رو کر اس بچے کی آواز دب گئی ہے، شاید کچھ دیر میں نڈھال ہو کر سو جائے۔ سامنے سے دائیں طرف کھڑکی کے پاس والے بستر پر جو بچہ ہے اس کا بھائی کہیں جانے کی ضد کر رہا ہے اور ماں کبھی ڈانٹتی ہے کبھی رندھی ہوئی آواز میں پچکار دیتی ہے کہ تیرا بھائی ٹھیک ہو جائے تو ہم ضرور چلیں گے۔

خاکروب کوڑے دان خالی کرنے آئے ہیں۔ لال لباس والا بچہ رو رو کر سو گیا ہے۔ خاکروب آپس میں جھگڑ رہے ہیں اور پھر کوڑے دان اٹھا کر پھینکنے لگتے ہیں۔ کوئی پرسان حال نہیں، کوئی روک ٹوک نہیں! کیونکہ یہاں صرف غریب اور لاچار آتا ہے جس کے لیے تین وقت کھانے کی قطار میں لگ کر سالن روٹی لینا ہی ایک نعمت ہے۔ اسے کیا غرض کہ ہسپتال کے اصول قائم ہیں یا نہیں، اس کا حق پامال ہو رہا ہے یا نہیں! میں نے اٹھ کر دونوں خاکروبوں کو تنبیہ کی۔ دونوں ایک لمحے کو ٹھٹکے کہ یہ کیا مخلوق ہے غریب تو ایسے نہیں کرتا، اور پھر قہقہے لگاتے ہوئے باہر چلے گئے۔

سامنے والے بچے کا باپ باہر گیا ہے شاید دوائی لینے یا کسی اور ضرورت سے۔ بچے کا ایک پاؤں پلنگ سے نیچے آ گیا ہے۔ پاؤں میں ہوتی ہوئی حرکت سے محسوس ہورہا ہے کہ وہ اپنا پاؤں اوپر کرنا چاہتا ہے لیکن طاقت نہیں۔ میں نے جا کر آہستگی سے اس کا پاؤں اوپر کر دیا۔

قریب جا کر، ماسک نیچے کر کے اس کی آنکھوں کے سامنے آ کر مسکرائی اور کہا، ”کیا نام ہے تمہارا؟“ جواب تھا خاموشی۔ اس کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں بس مجھے دیکھ رہی تھیں ہر جذبے سے عاری۔ دل کو جیسے کسی نے برچھی ماری، آنسو نکل آئے میں واپس اپنی جگہ پر آ گئی۔

تھیلیسیمیا والی بچی کی ماں نے کہا ”تمہارے فون میں پیسے ہیں؟“ میں نے کہا جی ہیں۔ کہنے لگی گھر فون کرنا ہے بچوں کی خیریت کے لئے۔ فون کے بعد اس نے مجھے بتایا تھا کہ اس کا ایک بیٹا پہلے اسی بیماری میں فوت ہو چکا ہے۔

گود میں لیٹے ہوئے شیر خوار بچے، ماؤں سے چمٹے ہوئے لاچار بچے، جن کے ننھے وجود میں پے در پے سوئیاں لگی ہوئی ہیں۔ کسی کے بازو میں کسی کے ہاتھ پاؤں میں کسی کے سر میں کینولا لگا ہوا ہے۔ میں نے چشم تصور سے بچوں کو ہمیشہ پھولوں کی طرح تروتازہ اور ہنستے مسکراتے دیکھا ہے۔ یا رب یہ کون سی دنیا ہے؟ ہائے میری کوتاہ نظری! کیا بے بسی ہے کہ گندے فرش پر کیڑے مکوڑوں کی طرح بیٹھے ہوئے لواحقین۔ ڈاکٹروں، نرسوں، کھانا دینے والوں اور خاکروبوں کی جھڑکیاں برداشت کرتے ہوئے اپنی عزت نفس کا جنازہ اٹھائے ہوئے انسان، اور تروتازگی سے محروم بچے، زندگی سے محروم بچے!

دبیز ریشمی پردوں کی خواہشیں، مہنگے لباس، بیش قیمت کھلونے، صاف ستھرا سجا سجایا گھر، تہذیب و تمدن اور زبان و بیان کے سب پندار یہاں دم توڑتے ہوئے محسوس ہورہے ہیں۔ یہ حقیقت کا وہ آئینہ ہے جس سے ہم سب صرف نظر کرتے ہیں۔

اگر آپ سکون قلب اور حقیقی خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کسی سرکاری ہسپتال کے بچوں کے وارڈ میں میں ہر ماہ ایک چکر ضرور لگا لیا کریں۔ ان بچوں کو تحائف دیں یا ان کے ماں باپ کی مالی امداد کیجیے، یقین جانیے پروردگار آپ کی روح کو سرشار کر دے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ربیکہ سکندر کی دیگر تحریریں