فیصلہ کن پینتیس سیکنڈ

کچھ سال پہلے ایک انگریزی فلم ”سلی“ دیکھی جسے کچھ لوگ ”sully، the miracle on Hudson“ کے نام سے جانتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ وضاحت کر دوں کہ میں بہت کم فلمیں دیکھتی ہوں اور میاں صاحب اب اتنے مزاج آشنا ہو چکے ہیں کہ بس وہی فلم دکھاتے ہیں، جو پسند آتی ہے۔ سو، ٹام ہینکس کی اداکاری اور ایک خوبصورت مرکزی خیال کے گرد گھومتی یہ فلم واقعی قابل ذکر ہے۔ یہ ایک امریکی کپتان سلی سلنبرجر

Read more

سوچ کا دائرہ

موسم سرما کا یہ اداس جھٹپٹا گویا دل میں کسی یاد کی ہوک اٹھانے کو ناکافی تھا کہ افق پر بادلوں نے بھی سورج کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ نجانے کیا تھا بادلوں کی اس ادا میں کہ شفق کے چہرے پر سرخی دوڑ گئی۔ سرد شام اب نرم گرم اور گلابی ہو گئی۔ بے غرض اور حقیقی محبتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ دل میں گداز پیدا تو کرتی ہیں لیکن اشک شوئی کی اجازت نہیں دیتیں۔ وہ

Read more

ادبی ”ہلکے“ اور قومی مزاج

ہمارا تعلق ایک غیر ادبی گھرانے سے ہے۔ بچپن میں گھر میں کبھی مشاعرہ تو درکنار، بیت بازی کا چھوٹا موٹا مقابلہ بھی نہیں ہوا۔ تعلیم تقریباً انگریزی میڈیم حاصل کی۔ والدین سادہ طبیعت، تصنع سے عاری اساتذہ تھے لہٰذا کتب بینی کا شوق ان سے وراثت میں ملا۔ والدہ کا اردو لب و لہجہ بے حد خوبصورت اور شستہ تھا، کم و بیش وہی تمام بہن بھائیوں میں راسخ ہوا۔ طبیعت میں موزونیت فطری طور پر تھی۔ تک بندی

Read more

میرا بچہ منفرد ہے 3

اپریل کے مہینے کو پوری دنیا میں اوٹزم آگاہی مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے اور 2 اپریل عالمی یوم اوٹزم ہے، لہذا یہ مضمون اس اعصابی مسئلے کے بارے میں آگہی پھیلانے کی ایک سعی ہے۔ اس سلسلے میں اس سے پہلے بھی دو مضامین لکھے جا چکے ہیں جن میں اوٹزم کی بنیادی تعریف، بنیادی اصطلاحات، تشخیص اور درجہ بندی کے بارے میں چیدہ معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ ہم اوٹسٹک افراد کو

Read more

میرا بچہ منفرد ہے۔ دوسرا حصہ۔

اپریل کا مہینہ پوری دنیا میں آٹزم آگاہی مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ دو اپریل عالمی یوم آٹزم ہے۔ لہذا ایک سات سالہ آٹسٹک بچے کی ماں ہونے کے ناتے ہم نے اس کار خیر میں اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ہماری اولاد اور ایسے کئی بچے جس معاشرے میں پروان چڑھیں وہاں ان کا مذاق اڑانے کے بجائے، انہیں ماں باپ کے گناہوں کا نتیجہ سمجھنے کے بجائے، ان کے لیے زندگی آسان کی

Read more

میرا بچہ منفرد ہے

آج کی تحریر میرے لیے مشکل ہے۔ جب انسان اپنے دکھ کے بارے میں لکھتا ہے تو الفاظ کا چناؤ بہت سلیقے سے کرنا پڑتا ہے، وگرنہ لوگ ہمدردی کی بھیک کاسۂ دل میں ڈال دیتے ہیں۔ اور یہ ادراک نہیں کر پاتے کہ ہر دکھ ہمدردی سمیٹنے کے لیے ظاہر نہیں کیا جاتا، کچھ زخموں کی نمائش دوسروں کی تسلی اور حوصلہ افزائی کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ پانچ سال قبل وفاقی دارالحکومت میں وہ مارچ کا ہی ایک

Read more

پردیس سے ایک سہیلی کا خط

یقیناً تم اس وقت کوئی تحریر نہ پڑھ سکو گی، اور پڑھ بھی کیسے سکتی ہو؟ جب باپ جیسا سائبان سر سے اٹھے تو کچھ روز کے لیے آنکھیں غم کی دھوپ سے چندھیا جاتی ہیں۔ اور تم یہ جانتی ہو کہ یہ میں کیوں کہہ رہی ہوں، کیوں کہ میں اس صدمے سے گزر چکی ہوں۔ تب تم آئیں تھیں مجھ سے ملنے، کیوں کہ میں اسی شہر مہرباں میں تھی جہاں میں نے آنکھ کھولی، اپنی عمر کا بہترین حصہ تم جیسی پر خلوص سہیلیوں کے ساتھ گزارا اور پھر ایک دن وہاں سے ایسے رخصت ہوئی جیسے کوئی جڑوں سمیت کسی پیڑ کو اٹھا کر کہیں اور لگا دے۔ ایسا پیڑ کہاں پنپتا ہے بھلا؟

Read more

ہاجراؤں کے نام

ہاجرہ اس دن زندہ تھی۔ اس سے بات کرتے ہوئے میری آواز بھرا گئی تھی لیکن وہ ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھی۔ وہ عام عورتوں کی طرح برے خاوند کو اپنے پاؤں کی زنجیر نہیں سمجھتی تھی، نا ہی غربت اور مسائل کو اپنی بری تقدیر۔ اس لئے آج کی تحریر ہاجرہ کے نام!

میں اس سے بہت شاکی رہنے لگی تھی۔ بات بات پر سرزنش، اس کی صحت اور حالت پہ رحم نہ کھاتے ہوئے، ہر ناغے پر ناراض ہونا۔ لیکن وہ ہاجرہ تھی، بلا کی خود دار! اس نے مجھے شکایت کا موقع دینا کم کر دیا۔

Read more

ایک سرکاری ہسپتال کے جنرل وارڈ میں

مجھے ابھی دو گھنٹے مزید یہاں گزارنے ہیں۔ یہ ایک سرکاری ہسپتال کا بچوں کا وارڈ ہے جہاں زیادہ تر ایسے بچے ہیں جو انتہائی نگہداشت سے یہاں لائے گئے ہیں، کیونکہ وہاں بستروں کی کمی کی وجہ سے اب صرف ایسے مریض ہیں جو ابھی بھی اجل سے دست و گریباں ہیں۔ کبھی ان کے پیاروں کی دعائیں اور تقدیر کی لکیرانہیں اس طرف لے جاتی ہے جہاں ہے یہ خرابہ جسے زندگی کہتے ہیں۔ اور کبھی وہ ان

Read more