ڈاکٹر شیرشاہ سید کی نئی کتاب: ”امراض سے آگہی اور ہسپتالوں کی تاریخ“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہو گا
ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلا یا ہوگا

اس شعر کو پڑھ کر مجھے ڈاکٹر شیرشاہ سید کی آبلہ پائی یادآجاتی ہے جوبطور معالج اورادیب حالات کی آندھی اور مخالف ہوا کے سامنے مسلسل علم و آگہی کا چراغ جلانے میں کوشاں ہیں۔

”نہ ستائش کی تمنا اور نہ صلہ کی پرواہ“ پہ عمل پیرا انسان دوست شیر شاہ سیدمسلسل اپنی تحریروں سے علم و آگہی کے سلسلہ کو دراز رکھے ہوئے ہیں۔ ایک مصروف سرجن ہوتے ہوئے انسانی حقوق کی بحالی سے متعلق مختلف نوعیت کے کاموں کو مسلسل سر انجام دیتے رہنا ایک معجزہ سالگتا ہے۔ کبھی محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے دن کا دورانیہ چوبیس گھنٹوں سے بھی کئی گھنٹے زیادہ کاہے۔ اگر بطور سرجن ایک طرف وہ کوہی گوٹھ ہسپتال کراچی میں علاج، پاکستان کے گاؤں گاؤں میں فیسٹیولا فری کیمپ کا انعقاد اور کسی مقصد کے لیے میراتھن دوڑ لگاتے ہیں تو دوسری جانب قلم سے سماج کی جراحی کا کام بھی لیتے ہوئے خون دل میں ڈوبی انسانی سماج میں بکھرے آلام کی سچی کہانیاں بھی لکھتے ہیں۔

تاہم کچھ سال قبل انہوں نے اشاعتی ادارہ ”آگہی“ کے زیر اہتمام علم و آگہی کاسلسلہ بھی شروع کیا ہے۔ جس کے تحت انہوں نے دنیا کی جامعات، کتب خانے، عجائب خانے اور ہسپتالوں کی اب تک کی تاریخ کو چار علیحدہ کتابوں میں رقم کیاہے اور میرے علم کے مطابق غالباً یہ پہلی بار ہے کہ کسی نے اس قدر جانفشانی سے اردو میں تاریخ کو مختلف اہم زاویوں سے کھنگالنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ یہ کتابیں علم کی طلب رکھنے والوں، خصوصاً نوجوان طالب علموں کے لیے گرانقدر سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کا درجہ اردوانسائکلو پیڈیا کا سا ہے۔

اس سلسلے میں ان کی تازہ ترین کتاب ”امراض سے آگہی اور ہسپتالوں کی تاریخ“ ہے۔ چونکہ خود ڈاکٹر شیر شاہ کا تعلق طب سے ہے لہٰذا ا س میں شک کی گنجائش نہیں کہ انہوں نے پوری دلجمعی سے امراض سے آگہی اور ہسپتالوں کا تاریخی جائزہ لیا ہوگا۔ جو ان کی اس دلچسپ اور کتاب سے ظاہر بھی ہوتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ صدیوں پہ محیط تاریخی معلومات کے ذخیرے سے تمام خزینہ کو کشید کرنا ممکن نہیں۔ مصنف نے انسانی سماج کی تاریخ میں طب کے میدان میں اپنا نمایاں کردار ادا کرنے والی ان چیدہ شخصیات کا ذکر تفصیل سے کیا ہے جن کی علمیت اورجانفشانی کے بغیر طب کے ارتقا کا یہ سفر ناممکن تھا۔

کتاب کو اس کے متن کے اعتبار سے مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مثلاً ادوار کے اعتبار سے دنیا کے مختلف خطوں کے نظام صحت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ جیسے قدیم مصر، قدیم یونان، قدیم روم، قدیم ایران، مسلمانوں کے دور اور قدیم چین، جاپان، کوریا، انڈونیشیا، اور ملائیشیا میں صحت کا نظام۔ اس کے ساتھ ہی ان ریاستوں یا ممالک کی طب کے حوالے سے اہم شخصیات کے متعلق دلچسپ معلومات۔ ایک حصہ سب سے قدیم ہسپتال سے شروع ہوکر آج تک کے ہسپتالوں کی تاریخ اور وہ ہستیاں جن کے تعاون اور علمی پیاس نے ان ہسپتالوں کا قیام اور مریضوں کے لیے علاج کی سہولت ممکن بنائی۔

اس انتہائی عرق تیزی سے لکھی کتاب کو پڑھ کے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ صحت و طب کی ترقی کا یہ سفر ہزاروں سالوں کی جدوجہد کے خار دار راستوں سے گزرا ہے۔ گو آج بیماریوں کا علاج جدید ترین ادویات، جراحی اور ویکسینز سے ہوتا ہے۔ مگرابتدائی کم علمی کے دور میں مرض سے پناہ، دیوی اور دیوتاؤں کا عذاب سمجھ کر دعاؤں، چڑھاوؤں اور قربانیوں میں ڈھونڈی جاتی تھی۔ جس کی وجہ سے عبادت گاہوں اور مذہبی رہنماؤں کو اس وقت خاص حیثیت حاصل رہی۔

عبادت گاہوں کے مذہبی لیڈروں کی اجارہ داری کے باوجود طب سے متعلق عظیم مفکروں اور عالموں کی طبی تحقیق اور سوچ بچار کے سبب بتدریج بیماریوں کے علاج اور احتیاطی تدابیر کو اپناتے ہوئے انسانی صحت بھی سنورتی ہی چلی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا سے کئی مہلک بیماریوں کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ ماسوا ان ممالک کے جو غربت اور جہالت کے اعلی مقام پہ ہیں۔ یہ لکھتے ہوئے تکلیف اور شرمساری محسوس ہو رہی ہے کہ پوری دنیا سے پولیو کا خاتمہ ہو چکاہے ماسوا پاکستان اور افغانستان کے۔

قدیم زمانے کے میسو پوٹومیا میں ملنے والے مٹی کے کتبوں سے پتہ چلا کہ اس وقت بھی دوسو سے زیادہ نباتات اور ایک سوسے زیادہ نمکیات اور دواؤں سے مختلف بیماریوں کا علاج ہوتا تھا۔ میسو پوٹومیا کے 1810 ء قبل مسیح میں پیدا ہونے والے قدیم حکمران ”حمورابی“ نے علاج کرنے والوں کے بارے میں پہلی بار باضابطہ قوانین مرتب کیے۔ جس کے مطابق ڈاکٹر علاج کے ناکامی کا ذمہ دار تھا۔ اور اس کی علاج کی فیس کا بھی تعین کیا گیا۔

اسی طرح ہزاروں سال پہ پھیلی قدیم مصر کی تہذیب میں بیماریوں کو علاج کے ساتھ سے احتیاط مثلاً اچھی غذا کو صحت کی ضمانت سمجھا گیا۔ دو ہزار سات سو قبل مسیح میں پیدا ہونے والے ”امہوتپ“ کو بابائے طب کا درجہ حاصل تھا جو بہت سے شعبوں میں مہارت رکھتے تھے۔ جس کی تفصیل قدیم شہر ”ٹب ٹونس“ کے مندر میں ملنے والے پاپائرس کے کاغذات میں ملتی ہے۔ جو بات مجھے دلچسپ لگی وہ طب کے شعبہ میں عورتوں کاکردارتھا۔ مثلاً شاہی طبیبہ ”میرٹ پتاہ“ جن کو طب میں مہارت حاصل تھی، 2700 ء قبل مسیح میں پیدا ہوئیں۔ آج سیارہ زہرہ پہ ایک وادی کا نام ان پر رکھا گیا ہے۔ دوسری خاتون ”پیسشٹ“ تھیں جو قدیم مصر میں سرکاری طور پہ معالجوں کی نگراں ڈاکٹر تھیں۔ اس وقت بھی اہرام مصر میں میں معذور افراد کے استعمال مثلاً ڈنڈا اور جسم کے مصنوعی متبادل اعضا بھی ملے ہیں۔

460ء قبل مسیح میں پیدا ہونے والے قدیم یونان کے بقراط کو جدید طب کا باباآدم کہا جاتا ہے۔ جنہوں نے شدیدمخالفتوں کے باوجود، تعویز گنڈوں کے بجائے سائنسی علاج اور جدید میڈیکل کالج کی بنیاد رکھی۔ اسی یونان میں تھالیز، ارسطو اورگیلن جیسے عالموں نے اپنے علم کے اثرات رہتی دنیا تک چھوڑے۔ گیلن نے پہلی دفعہ انسانی جسم میں دوران خون کو سمجھا۔ قدیم روم میں کئی ہسپتالوں کا پتہ ملتا ہے جہاں مختلف بیماریوں کے شعبہ تھے۔ مثلاً عورتوں کی بیماریاں پیشاب اور آنکھوں کی بیماریاں وغیرہ۔

قدیم ایران کے تیسری صدی کے عظیم شہنشاہ اردشیر کے بیٹے شاہ پور نے گوندی شاہپور یونیوورسٹی اورمنظم ہسپتال تعمیر کیا۔ ایران کے قدیم ڈاکٹرز دماغ کی جراحی، ٹوٹی ہڈیوں اور عورتوں کے امراض کے علاج کے ماہر تھے۔ پھر مسلمان فاتحین نے ایران کے مدرسوں درسگاہوں اور جامعات کو تباہ کرکے کتب خانے کو آگ لگا کے بہت سی کتابیں جلا دیں۔ خلیفہ ہارون رشید نے گوندی شاہ پور کے بہت سے غیر مسلم عالموں کو بغداد بلایا جہاں انہوں نے کتابوں کے تراجم کیے اور بغداد میں اپنے وقت کے مشہورترین، گوندی شاہ پور کے طرز کا ہسپتال ”بیمار ستان“ بنایا۔

ہندوستان میں جڑی بوٹیوں اور مصالحہ جات کے استعمال کے علاوہ آیورویدک مروج طریقہ علاج تھے تو چین میں جڑی بوٹیوں اور ایکوپنکچر اور غذا وغیرہ سے علاج مستعمل تھا۔

اب اگر مسلمانوں کے دور کی جانب نظر کریں تو پتہ چلتا ہے کہ رواداری پہ یقین رکھنے والے مسلمان حکمرانوں نے صحت کامنظم نظام رکھنے کی شعوری کوشش کی اور ریاست میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ یہودیوں، عیسائیوں اور ہندو عالموں کے لیے اپنے در کھول رکھے تھے۔ ان کی سرپرستی میں ایران اور کے عالموں نے یونانی رومن ہندی اور زرتشیوں کی طب کی کتابوں کا ترجمہ کیا اور مسلمان عالموں کی کتابیں بھی شائع ہوئیں۔ ابن سینا، الراضی، ابن نفیس، الفارابی، منصور بن الیاس، جابر بن حیان جیسے عالموں نے بانیان علم کا لوہا منوایا۔ ابن سینا نے قانون طب لکھی تو ابن رشد نے میڈیکل انسائیکلوپیڈیا لکھا۔

جس وقت یورپ اندھیروں میں ڈوباہوا تھا اسلامی دنیا میں علم کا آفتاب روشن تھا۔ ایک دلچسپ واقعہ اس حوالے سے ہے کہ سن 958 ء میں جب ”سانشو اول“ جو اندلس کی عیسائی سلطنت میں لیون کا حکمران تھا، کے خلاف دربار میں اس لیے بغاوت ہوگئی کہ وہ اپنے موٹاپے کی وجہ امور سلطنت نہیں نپٹا پا رہا تھاتو اس بغاوت سے نپٹنے کے لیے بادشاہ کی دادی ملکہ ”ٹو ڈا“ نے نے قرطبہ کے حکمران خلیفہ عبدالرحمن سوئم سے درخواست کہ ان کی شاہی ڈاکٹروں کی مدد سے سانشو کا وزن کم کرنے میں مدد دی جائے۔

جس پر اس نے اپنے یہودی طبیب ”حسدائی ابن شپروط“ کو بھیج کر اس کو بادشاہ کا معالج مقرر کیا اور یوں موٹاپے پہ قابو پانے کی وجہ سے اس کے خلف بغاوت کا خاتمہ ہوا۔ مگر جب اسلامی دنیا میں رواداری کی کمی اور اور تنگ نظر متعصب مولویوں نے حکمرانوں کے ساتھ مل کر سائنس، علم ادب اور روشن خیالی کے خلاف محاذ کھول لیا تو مسلمان ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئی۔ اور آج جو حال ہے وہ ہم سب جانتے ہیں۔

اس کتاب میں مشہور نمائندہ ہسپتالوں اور ان شخصیات پہ دلچسپ باب ہیں جن کی محنتوں کی وجہ سے طب کے شعبہ کو فروغ ملا اور ہسپتالوں میں بہترین علاج کی سہولت مہیا ہوئی۔ اس وقت دنیا میں انیس ہزار سے زیادہ چھوٹے بڑے ہسپتال ہیں۔ ایک وقت تھا کہ جب اسلامی دنیا میں قائم ہسپتالوں میں بہترین علاج کے لیے یورپ سے لوگ آتے تھے۔ بدقسمتی سے آج صورتحال بالکل الٹ ہے۔ یہاں میں ایک خط نقل کر رہی ہوں چو دہویں صدی کے قرطبہ کے ہسپتال سے ایک فرانسیسی مریض نے اپنے والد کو لکھا تھا۔

محترم والد صاحب

آپ نے گزشتہ خط میں میرے علاج کے لیے پیسے ارسال کرنے کی بابت پوچھا تھا۔ عرض ہے کہ مسلمانوں کے اس ہسپتال میں علاج و ادویات بالکل مفت ہیں۔ اس لئے آپ کو پیسے ارسال کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کی اطلاع کے لیے اس ہسپتال میں علاج کے بعد ہر مریض کو نئے کپڑے اور پانچ دینار اس غرض سے دیے جاتے ہیں کہ مریض کام کرنے کے بجائے کچھ آرام کرکے۔

محترم والد صاحب! اگر آپ مجھے دیکھنے آنا چاہتے ہیں تو مجھے سرجری اور جوڑوں کے علاج والے دفتر کے ساتھ ملحق کمرہ میں مل سکتے ہیں۔ آپ جیسے ہی ہسپتال کے مرکزی دروزے سے داخل ہوں تو سامنے نرسوں کا محکمہ اور ابتدائی معائنہ کا کمرہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی میرا کمرہ ہے۔ اس سے آگے ایک لائبریری اور تعلیمی کمرہ ہے۔ جہاں مختلف ڈاکٹرز امرض کے متعلق نئے ڈاکٹرز کو لیکچرزدیتے ہیں۔ اس سے آگے زچگی کا کمرہ ہے جہاں مرد حضرات کا داخلہ ممنوع ہے۔ آگے صحن کے بعد کا علاقہ ایسے مریضوں کے لیے مختص ہے جو بعد از علاج آرام کی غرض سے یہاں رہائش پذیر ہیں۔ اس حصے میں لائبریری کے ساتھ موسیقی کے آلات بھی دل بہلانے کے لیے موجود ہیں۔

والد محترم! میرا کمرہ صفائی کے لحاظ سے بہترین ہے۔ ہسپتال کے تمام کمروں کے اندر تازہ پانی پائپ کے ذریعے پہنچایا گیاہے۔ بستر اور تکیہ، دمشق کے باریک کپڑے میں نرم اون بھر کر بنائے گئے ہیں اور سردی سے بچاؤ اور کھانا گرم کرنے کے لئے آتش دان بھی موجود ہے۔ ہسپتال کا کھانا اتنا لذیذ ہے کہ کئی مریض کئی دن اس کھانے کی لذت کے لیے ہسپتال میں داخل رہتے ہیں۔

(حوالہ عربی میں لکھی گئی کتاب، اسلامی سائنس کا عروج: امیر ظفرالرشدی بیروت 1990 )

کتاب میں دنیا کے تمام قدیم تا جدید ہسپتالوں کے علاوہ صحت عامہ کے تمام اداروں تمام اہم اداروں مثلاً یونیسف، ریڈ کراس اور ورلڈ ہیلتھ ارگنائزیشن کی تاریخ بھی درج ہے۔ جس کی تفصیل جاننے کے کیے آپ کویہ غیرمعمولی اور دلچسپ کتاب پڑھنی ہو گی۔ کتاب کو فضلی سنز لمیٹڈ نے ادارہ شہرزاد کے توسط سے شائع کیا ہے۔ کتاب کی تمام آمدنی کوہی گوٹھ فری ہسپتال کے لیے مختص ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •