ایک لڑکی کا یادگار خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ملک میں طبقاتی نظام تعلیم کے باعث ہماری اشرافیہ کے بچوں کے لیے انگلش میڈیم طریقہ تعلیم رائج ہے۔ ان کے لیے نظام تعلیم اور نصاب تعلیم آکسفورڈ اور کیمبرج سے منگوایا جاتا ہے، ایک خاص کیپسول کے ماحول میں انہیں بند رکھا جاتا ہے، انہیں مڈل کلاس اور لوئر کلاس کی مخلوق کی ہوا تک نہیں لگنے دی جاتی۔ درآمد شدہ نصاب میں اس ملک کی مٹی کی خوشبو، ادب، اقدار، روایات، احساسات، جذبات اور خیالات شامل نہیں ہوتے۔ جس کی وجہ سے ہماری نئی نسل حب الوطنی کے جذبات سے عموماً عاری ہوتی ہے۔

اردو سے دوری اور انگریزی کی قربت کی وجہ سے تعلیم فروشی کی باقاعدہ صنعت وجود میں آ چکی ہے، جس کی وجہ سے اردو عدم توجہی کا شکار ہے۔ اشرافیہ کے بچوں کا اردو میں اچھا گریڈ بھی آ جائے تو وہ اسے اپنی عظمت کے منافی سمجھتے ہیں حالانکہ اس ملک میں اردو ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو ہمیں ہر طرح کی صوبائی عصبیت سے نکال کر ایک قومی لڑی میں پرو سکتی ہے۔ او۔ لیول کے نظام کے تحت اردو کے ساتھ جو مذاق ہو رہا ہے وہ نا گفتہ بہ ہے۔

ایک تو نصاب ایسا مرتب کیا گیا ہے جو کسی قوم کی قومی زبان کے بالکل شایان شان نہیں ہے۔ کس بھی قوم کا نصاب تعلیم نہ صرف لفظ سیکھاتا ہے بلکہ اس قوم کی فکری تشکیل میں بھی کلیدی کردار اداکرتا ہے۔ او۔ لیول کا موجود نصاب کوڈ ( 3248 ) جسے اردو بطور ثانوی زبان کہا جاتا ہے ایک بہت بڑا مذاق ہے یہ نصاب دراصل ان طلبا کے لیے ہے جن کی زبان اردو نہیں یاجو عرصہ دراز سے بیرون ملک مقیم ہیں جو وہاں عربی، انگریزی، فرانسیسی یا دیگر زبانیں بول رہے ہیں ان کے لیے ایک مختصر سا (Short cut ) کورس ہے جس کے ذریعے وہ اردو میں معمولی سی سوجھ بوجھ حاصل کر لیتے ہیں لیکن ہمارے اداروں نے یہ نصاب سب کے لیے یکساں کیا ہوا ہے، حالانکہ یہ نصاب ان طلبہ کے لیے قطعی مناسب نہیں جو پاکستان میں پیدا ہوئے، یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

ایسے طلبہ کے لیے ایک جاندار نصاب کی ضرورت ہے جو میٹرک کے ہم پلہ ہو۔ ورنہ ہماری نسلیں اپنی زبان ثقافت اور ادب سے بیگانہ ہو کر رہ جائیں گی۔ مگر ہمارے چند اداروں اور ٹیوشن مافیا نے اسی نصاب کو اختیار کیا ہوا کیونکہ اس میں بغیر کسی محنت کے اچھے گریڈ آ جاتے ہیں جس سے تعلیم فروش اداروں اور ٹیوشن مافیا کی وقتی واہ واہ ہو جاتی ہے لیکن طلبا کی قابلیت صفر رہتی ہے۔ اسی وجہ سے ہماری نئی نسل میں لکھنے کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے۔

اگر لکھتے بھی ہیں تو ان میں املاء کی اتنی غلطیاں ہوتی ہیں کہ نئے نئے لطائف وجود میں آتے رہتے ہیں۔ مجھے بھی ایک زمانے میں او۔ لیول اے۔ لیول پڑھانے کا اتفاق رہا۔ ایک مرتبہ ایک لڑکی کو بطور ذمیہ کام ایک خط لکھنے کو دیاجس کا عنوان تھا ”آپ بورڈنگ ہاؤس میں مقیم ہیں آپ کو اپنے بھائی کے خط کے ذریعے معلوم ہوا کہ آپ کی والدہ کی طبعیت خراب ہے آپ والدہ کوخط لکھ کر ان سے ان کی طبعیت کے بارے میں پوچھیں“

لڑکی نے املا طبعیت کی بجائے تربیت لکھ دیا وہ یاد گار خط میرے پاس محفوظ ہے آپ بھی ملاحظہ کریں :
ماڈل ٹاوٴن،
ا، ب، ج۔
3۔ ستمبر8۔ 2ء
پیاری امی جان!
السلام علیکم!

کل ہی احمد کا خط ملا، جس میں اس نے لکھا تھا کہ آپ کی تربیت بہت زیادہ خراب ہے۔ امی جان آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے گھر کا تمام نظام آپ کے دم قدم سے ہے اگر آپ کی تربیت خراب ہوگی تو ہمارا کیا ہو گا۔

امی جان! مجھے معلوم ہے کہ آپ ہر وقت کام کاج میں مصروف رہتی ہیں اسی وجہ سے آپ کو اپنی تربیت کا ذرا بھی خیال نہیں ہے۔ محسن ابھی کم عمر ہے اگر آپ کی تربیت کا یہی حال رہا تو اس بے چارے کا کیا بنے گا۔ میں نے سنا ہے کہ نانی اماں کی تربیت بھی کچھ ٹھیک نہیں اس لیے آج کل خالہ ان کے پاس رہتی ہیں۔ آپ کی تربیت بھی اگر ٹھیک نہیں ہوتی تو آپ بھی چھوٹی خالہ کو بلا لیں تاکہ وہ آپ کی تربیت کاخیال رکھیں کیونکہ تربیت خراب ہو تو کوئی کام بھی ٹھیک طرح سے نہیں ہو پاتا اور نہ ہی اپنے بچوں کی صحیح طرح سے دیکھ بھال کی جا سکتی ہے۔

امی جان! میں نے ابو کو بھی خط لکھ دیا ہے کہ آپ کی تربیت خراب ہے اس لیے وہ بھی بیرون ملک کاروبار چھوڑ کر فوراً وطن آرہے ہیں اور آکرآپ کی تربیت کے بارے میں کسی اچھے ڈاکٹر سے مشورہ لیں گے تاکہ آپ کو کچھ نہ کچھ فرق تو پڑے۔

جیسے ہی میرے امتحانات ختم ہوں گے میں آپ کے پاس پہنچ جاؤں گی اور گھر کا سارا نظام سنبھال لوں گی کیونکہ آپ اسی طرح کام کرتی رہیں گی تو آپ کی تربیت کو ذرا بھی فرق نہیں پڑے گا۔

میری دلی دعا ہے کہ اللہ آپ کو اچھی تربیت دے تاکہ آپ کی بہتر تربیت کی وجہ سے ہمارے گھر کا ماحول اچھا ہو جائے گھر ماں کی مسکراہٹ کے ساتھ جنت کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے اگر ماں کی ذرا بھی تربیت خراب ہو تو وہ جہنم بن کر رہ جاتا ہے۔

میری طرف سے تمام اہل خانہ کو سلام۔ اللہ حافظ!
آپ کی بیٹی،
ن، م، س۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •