انوشکا شرما اور سنیل گاوسکر کی کرکٹ کمنٹری کے معاملے پر گرما گرمی اور فیمینزم کے متعلق کچھ سوالات

منیشا پانڈے - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انوشکا اور گاوسکر

Getty Images
تین دن پہلے ٹوئٹر پر 'بائیکاٹ گواسکر' کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا تھا اور جب میں کل صبح اٹھی تو ایک نیا ہیش ٹیگ 'بائیکاٹ فیمینزم' نظر آیا ہے۔ تاہم یہ ہیش ٹیگ اتنا مقبول نہیں تھا کہ ٹرینڈ کرنے لگتا۔ آخر یہ سب کیا ماجرہ ہے؟

سوشل میڈیا پر طائرانہ نظر ڈالی تو اس کے متعقل چار چھ پوسٹیں نظر آئیں کہ ان دنوں خودمختاری کے نام پر خواتین کسی بھی بات کو مسئلہ بنا دیتی ہیں، تل کا تاڑ یا رائی کا پربت (یعنی پہاڑ) بنا دیتی ہیں۔

تل یا تاڑ کو سمجھنے کے لیے معاملے کو شروع سے ہی سمجھنا ہوگا۔ آئیے، چند دن پیچھے چلتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں آئی پی ایل کے میچز کھیلے جا رہے ہیں۔ 24 ستمبر کو جمعرات کا دن تھا۔ کنگز الیون پنجاب اور رائل چیلنجر بنگلور کے درمیان مقابلہ تھا۔ پنجاب نے پہلے بلے بازی کی اور تیزی سے بڑا سکور بنایا۔

ان کی اننگز میں دو ایسے مواقع آئے جب وراٹ کوہلی نے اگر کے ایل راہل کی آسمان پر سیدھی جانے والی گیند کو کيچ کر لیا ہوتا تو نہ ان کی سنچری بنتی اور نہ ہی رائل چیلنجرز کو اتنی بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑتا۔

یہ بھی پڑھیے

کوہلی اب سچن سے بھی آگے

بالی وڈ میں ادھیڑ عمر میں محبت پر فلم کیوں نہیں بنتی؟

کیا شاہ رخ بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ ہو سکتے ہیں؟

وراٹ کے چاہنے والے اس امید پر ٹی وی کے سامنے بیٹھے تھے کہ اب کیچ لیا جائے گا، اب لیا جائے گا۔۔۔ لیکن دونوں کیچ چھوٹ گئے۔ پھر وراٹ بیٹنگ کے لیے آئے تو محض ایک رن بناکر آؤٹ ہوگئے۔

اسی وقت سابق انڈین کرکٹرز سنیل گاوسکر اور آکاش چوپڑا میچ کی کمنٹری کر رہے تھے۔ تبصرے کے دوران گاوسکر نے کہا: ‘لاک ڈاؤن تھا تو صرف انوشکا کی گیندوں کی پریکٹس کی انھوں نے۔’

انوشکا شرما کا ردعمل

ایک انگریزی اخبار نے اپنی ٹویٹ میں اس تبصرے کو اس طرح لکھا: ‘انھوں نے لاک ڈاؤن میں تو صرف انوشکا کی گیندوں پر ہی مشق کی۔’ بعد میں ہر جگہ یہی تبصرہ نقل کیا گیا۔

اس کے بعد صحافی ناویکا کمار ‘بائیکاٹ گواسکر’ ہیش ٹیگ کے ساتھ سوشل میڈیا میں کود پڑیں۔ معروف صحافی برکھا دت نے کہا کہ مردوں کی ہر بکواس کا جواب دینا چاہیے۔

دراصل کوئی اور جواب دے اس سے پہلے خود انوشکا شرما نے گاوسکر کو جواب دے دیا تھا۔

انھوں نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا: ‘یہ تو سچ ہے کہ آپ کا تبصرہ اچھا نہیں تھا، لیکن میں یہ جاننا چاہوں گی کہ آپ کے ذہن میں کسی کی ناقص کارکردگی کا الزام اس کی بیوی کے سر منڈھنے کا خیال کیسے آیا۔ یقینا اتنے سالوں سے آپ نے ہر کھلاڑی کے کھیل پر تبصرہ کرتے ہوئے اس کی ذاتی زندگی کا احترام کیا ہے۔ آپ کو نہیں لگتا کہ مجھے اور ہمیں بھی اتنی ہی عزت ملنی چاہیے۔ یقینا آپ کے پاس میرے شوہر کے کھیل پر تبصرہ کرنے کے لیے بہت سارے الفاظ اور جملے رہے ہوں گے، یا آپ کے الفاظ اسی وقت حسب حال ہوں گے جب اس میں میرا نام آئے گا۔ یہ سال 2020 ہے اور اب بھی میرے لیے چیزیں نہیں بدلی ہیں۔ کب آپ سب کرکٹ میں میرا نام گھسیٹنا اور مجھ پر زہر آلود تبصرے کرنا بند کریں گے۔ آپ ایک لیجنڈ ہیں۔ میں آپ کا بہت احترام کرتی ہوں۔ میں صرف اتنا کہنا چاہتی تھی جو آپ کی بات سن کر مجھے محسوس ہوا۔’

وہ گریبان میں جھانکیں گے، لیکن۔۔۔

گھر کی چہار دیواری میں، بھری محفلوں میں، گلی محلے میں، سڑک، دفتر میں یا کسی بھرے سٹیڈیم میں اگر کسی عورت پر کوئی ایسا تبصرہ ہے جو اسے ناگوار گزرے تو اس کو جواب دینا چاہیے۔ اس کے جواب کو سنا جانا چاہیے۔ اس کو سمجھنا چاہیے۔ قبول کیا جانا چاہیے اور اپنے گریبان میں جھانکنا بھی چاہیے۔

ہمارا خیال تھا کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکیں گے، لیکن جب وہ سامنے آئے تو انھوں نے اپنی صفائی پیش کرنا شروع کردی۔ ایک انگریزی چینل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ان کی بات کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ میں صرف یہ کہہ رہا تھا کہ لاکڈاؤن کے دوران کھلاڑیوں کو کافی پریکٹس کرنے کا موقع نہیں ملا۔ میرا تبصرہ صرف ایک ویڈیو تک محدود تھا جو انٹرنیٹ پر وائرل ہوا تھا، جس میں وہ اپنے گھر کے احاطے میں کرکٹ کھیل رہے ہیں اور انوشکا بولنگ کر رہی ہیں۔

گاوسکر کا یہ تبصرہ بھی بہت وائرل ہو رہا ہے۔ نیز اس تبصرے پر اس طرح کے تمام تبصرے کہ فیمینزم کے نام پر خواتین کچھ بھی بڑ بڑ کرتی ہیں۔ خواتین کو تو تل کا تاڑ بنانے کی عادت ہے۔ اگر مرد ذرا سا منہ کھولیں تو وہ ان کی زبان پکڑ لینا چاہتی ہیں۔

انوشکا اور گاوسکر

Getty Images
گاواسکر کے تبصرے میں سیکسزم پوشیدہ ہے

اس معاملے میں سوشل میڈیا سے لے کر مین سٹریم میڈیا تک دو گروہوں میں تقسیم نظر آتا ہے۔

گاوسکر کے تبصرے میں بہت اندر کہیں سیکسزم پوشیدہ ہے اور انوشکا کو جو غصہ آیا تو وہ یوں ہی بیٹھے بیٹھے نہیں آیا۔ اس کے پیچھے چھ سال پرانی تاریخ بھی ہے۔

ہم سب گواہ ہیں کہ کس طرح وراٹ کی ہر ناکامی، ہر شکست کا ذمہ دار انوشکا کو ٹھہرایا گیا ہے۔ وراٹ جتنی بار ہارے گالیاں انوشکا کو پڑیں۔ لیکن اس کے برعکس ایسا کبھی نہیں ہوا کہ مہندر سنگھ دھونی ہارے ہوں تو گالیاں ان کی اہلیہ ساکشی کو دی گئی ہوں۔

وجہ ایک ہی ہے۔ مسز دھونی سے زیادہ ساکشی کی کوئی شناخت نہیں ہے۔ لیکن انوشکا صرف مسز وراٹ کوہلی نہیں ہیں۔ وہ خود ایک مکمل نام اور شخصیت ہیں۔ وراٹ سے پہلے بھی اور آج بھی ہیں۔

سچ تو ہے کہ ہر بات، ہر لفظ، ہر جملے کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ ہوتا ہے جو بظاہر نظر آتا ہے۔ انوشکا کا نام لیا جانا معمولی سا مزاح نہیں ہے۔ سیاق و سباق ایک ویڈیو ہوسکتی ہے لیکن اس کے معنی بہت گہرے ہیں۔ مطلب بہت گہرا ہے۔ یہاں تک کہ ان باتوں کے معانی بھی بہت گہرے ہیں جو گاسکر کی حمایت میں فیمینزم کو نشانہ بنا رہے ہیں خواتین پر بڑبولے پن کی مہر لگا دی ہے۔

لیکن ابھی ان گہرے معانی کی جانچ نہ کرتے ہوئے میں صرف یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ عورت مخالف زمانے اور معاشرے میں کون سی لڑائیاں اور سوالات ایسے ہیں جنھیں روکا جانا چاہیے، اور کون سے معاملات ہیں جنھیں مؤخر کر دینا چاہیے۔

چند سوالات

اور جن خواتین کے لیے ‘بائیکاٹ گواسکر’ ہی سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے وہ خواتین کی زندگی کے اہم سوالوں پر کہاں کھڑی ہیں؟

اس معمولی سی بات پر حقوق نسواں کے جھنڈے کو بلند کرنے والی میڈیا کہاں کھڑی ہے؟

بالی وڈ میں منشیات کے معاملے میں جس طرح سے خواتین کی تفتیش کی جارہی ہے اور جس طرح میڈیا دن بھر ان کے سینے، چولی، کلیویج اور رانوں پر فوکس کرتی تصاویر اور ویڈیوز دکھا رہا ہے اس پر ہم سب کہاں کھڑے ہیں؟

روزمرہ کی زندگی میں جتنے ظالمانہ انداز اوربے شرمی سے عورتوں کے خلاف نفرت اور بے عزتی کی تجارت ہو رہی اس پر ہم کہاں کھڑے ہیں؟

یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا جتنا بنا دیا گیا۔ گاوسکر کو اس حد تک ٹرول کیا گیا کہ ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جانے لگا، یہ انتہائی مضحکہ خیز اور احمقانہ تھا۔

ہم نے کسی بیماری کے علاج کے نام پر دوا کی زیادہ مقدار لے لی ہے۔ ایسے معاملے کو خواتین کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بتانے والے مرد اور خواتین بھی در حقیقت اصل مسائل سے ہماری توجہ ہٹانے کے لیے ہیں۔

میڈیا کو تو شور مچانے کا موقع چاہیے تاکہ شور کی آواز میں اصلی آوازیں دب جائیں۔

کنگنا برانڈ فیمینزم کو بالی وڈ کا پہلا فیمنسٹ موومنٹ ثابت کردیا جائے اور دو ماہ سے اتنی ہمت کے ساتھ ہر پریشانی، ہر احتجاج کے سامنے کھڑی ریا چکرورتی کو ڈائن ثابت کر دیا جائے۔

حمایت و مخالفت

Getty Images
اور چلتے چلتے ایک پرانا قصہ۔ یہ کہانی کوئی چار سال پرانی ہے۔

راجدیپ سردسائی انڈیا کی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا کا انٹرویو لے رہے تھے۔

درمیان میں انھوں نے پوچھا کہ وہ کب سیٹل ہوں گی۔ ثانیہ نے فورا جواب دیا: ‘آپ کو نہیں لگتا کہ میں پہلے سے ہی سیٹٹل ہوں۔’ دس سیکنڈ میں راجدیپ کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ اگلے ہی لمحے انھوں نے معافی مانگی اور کہا، ‘ہم کسی مرد سے ایسے سوال نہیں پوچھتے۔ یہ میری غلطی ہے۔’

یہ دونوں چیزیں اسی ایک منٹ میں پوری ہو گئیں، لیکن راجدیپ کے جواب کو نظرانداز کرتے ہوئے، میڈیا دو دنوں تک راجدیپ کے سوال اور ثانیہ کے جواب کی ویڈیوز چلاتا رہا اور انھیں سیکسسٹ کے طور پر ٹرول کرتا رہا۔

بہتر ہوتا کہ ایسے ہی بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنیل گواسکر بھی بجائے اپنی وضاحت پیش کرنے کے یہ کہا ہوتا کہ ‘یہ جملہ درست نہیں تھا۔ ایسے ہلکے پھلکے مزاح کی جگہ ہماری نجی محفلیں تو ہوسکتی ہیں لیکن بھرا سٹیڈیم نہیں۔ اور میں ماضی کے ان تمام واقعات سے بھی واقف ہوں جب انوشکا کو غیر ضروری طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کا غصہ معقول ہے۔ میرے خیال میں مجھے یہ نہیں کہنا چاہیے تھا۔’

بہرحال، یہ ایک فرضی جواب ہے، یہ سچ نہیں ہے۔ لیکن ہم خواتین کے جوابات خیالی تو نہیں ہوسکتے کیوں کہ ہماری زندگی میں لڑائیاں اور ہمارے دکھ خیالی نہیں ہیں۔

لیکن ہم یہ تو طے کرسکتے ہیں کہ ہم کون سے لڑائ لڑیں گے اور کون سی لڑائ چھوڑ دیں گے۔ اپنی طاقت بچانے کے لیے صحیح وقت پر صحیح چیز کے لیے پوری قوت کے ساتھ کھڑی ہونے کے لیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16041 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp