مالشیے: سر جو تیرا چکرائے، یا دل ڈوبا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیسے ہی رات اپنے جوبن کی اور بڑھتی ہے، کاروباری مراکز بند ہونے کے بعد، ڈھابے طرز پر قائم ریسٹورنٹس، تفریحی پارک، تھڑے، یا مخصوص سڑکوں پر شیشے کی جھنکار سنائی دیتی ہے۔ سنٹرل پنجاب کے شہروں کے افراد، اس آواز سے مانوس ہیں، لیکن شہر اقتدار میں بھی تقریباً ہر سیکٹر میں ایسے کردار نظر آتے ہیں۔ یہ آواز مالشیوں کی بوتلوں سے پیدا ہوتی ہے، جو شیشے کی چھوٹی چھوٹی بوتلوں کو گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لئے پیدا کرتے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام کے مالشیے دستیاب ہیں، جو بنیادی طور پر روزی روٹی کی غرض سے نکلتے ہیں، لیکن بعضوں نے مالش کی آڑ میں مخصوص دھندے شروع کر رکھے ہیں۔ خیر! آج کل کے دور میں یہی لوگ کامیاب ہیں۔ چاہے یار لوگ میری اس بات سے اختلاف کریں لیکن قریب ہر شعبے میں جس طرح یہ مالشیے کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے جاتے ہیں، بندہ رشک سے دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔ گزشتہ روز جب وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس سے ورچوئل خطاب کیا تو بہت سے مالشیوں نے وزیراعظم کی 27 منٹ کی تقریر میں سے اپنی اپنی پسند کے ”اقتباسات“ لے کر قصیدے پڑھنا شروع کر دیے۔

میں یہ تقریر لائیو نہ سن سکا، البتہ وزیر اعظم کے میڈیا سیل کی جانب سے بھیجی گئی تقریر کو ضرور پڑھا۔ مگر یقین کریں، مجھے کوئی حیرانی نہیں ہوئی اور نا ہی کوئی اچھائی کی امید لگائی۔ ایسی ہی تقریر وزیراعظم نے گزشتہ سال نیویارک میں کی تھی، جس پر متعدد بار من چلوں نے ڈیسک بھی بجائے تھے۔ خطاب میں مسئلۂ کشمیر، فلسطین سمیت انسانی حقوق کے جذبے کے تحت بھارتی پائلٹ کو چھوڑنے کی بات کی گئی مگر کیا فائدہ ہوا؟ بلکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پہ آرٹیکل چھے نافذ کر کے اسے اپنا حصہ بنا لیا (اس مرتبہ بھی بھارتی وزیراعظم کی جوابی تقریر پڑھ کر دیکھ لیں ) ۔

ایسی ہی لچھے دار تقریریں نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور دیگر سابق وزرائے اعظم اقوام متحدہ سمیت دیگر کانفرنسوں میں کرتے رہے ہیں۔ عمران خان نے اپنے سیاسی جدوجہد کے علاوہ اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران میں پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر بنانے کی بات کی، لیکن عملی طور پر کیا کیا؟ عمران خان نے اسلاموفوبیا کی بات کی جس پر مجھے حیرانی ہوئی کہ جس ملک میں یہودی، سکھ، عیسائی بطور گالی استعمال ہوتا ہے، اس ملک کا وزیراعظم کہتا ہے کہ یورپ میں اسلاموفوبیا بڑھ گیا ہے۔

ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے جو اپنی اولاد کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ابھی کل ہی بات ہے کہ اشد ضروری ادویات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کیا گیا اور گزشتہ دو سالوں کے دوران میں جس طرز پر بنیادی ضروریات زندگی کی چیزوں کے نرخوں میں اضافہ کیا گیا اس سے واضح ہے کہ آنے والے دنوں میں زندگی اور بھی دشوار ہو جائے گی۔ ہو سکتا ہے کہ اب مالشیوں کا پیٹ تقریروں سے بھرتا ہو یا کوئی اور ذرائع آمدن ہوں لیکن حقیقت یہی ہے کہ تقریروں سے پیٹ نہیں بھرتے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے حکمران قومی اور بین الاقوامی سطح پر تقریر کرتے وقت فلسطین، کشمیر، بوسنیا اور دنیا بھر کے مصیبت زدہ مسلمانوں کی بات کرتے ہیں مگر اپنے ملک کے باسیوں کے لئے آئے دن زندگی اجیرن بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ تعلیم، صحت، روزگار، جائے سکونت، آزادی رائے اور تحفظ شہریوں کے بنیادی حقوق ہیں۔ حکمران کشمیر آزاد کرانے کے لیے تو 73 سالوں سے لاحاصل کھربوں روپے خرچ کرچکے ہیں مگر اپنے شہریوں کی خوش حالی کے لئے کچھ نہیں کرتے۔

زبان بندی کے لئے ملکی قوانین بنا رکھے ہیں مگر کشمیریوں کو آزاد کرانا اور ان کے حقوق کی بات کرنا اولین ترجیح ہے۔ اور تو اور ایک سرکاری محکمے پر بات کرنے پر غداری کے مقدمے درج کرنے کے لئے باقاعدہ قانون سازی ہوتی ہے۔ پیرس، نیوزی لینڈ، برطانیہ اور دیگر بیرونی ممالک میں بھی اسلاموفوبیا کے نام پر چھریاں لے کر باہر نکل آتے ہیں۔ پاکستان میں اسلام کے داعی دیگر مذاہب کے بارے میں کیسے کیسے غلط الفاظ بلکہ گالیاں تک دیتے ہیں مگر نہیں، اس وقت قانون اور سرکاری محکمے خاموش رہتے ہیں۔ کیوں کہ ہمیں صرف اپنے تحفظ سے غرض ہے۔

ملک میں بسنے والی اقلیتوں کو اپنے مفادات کے لئے جب جب استعمال کرنا مقصود ہو، تو ریڈ زون بھی کھول دیا جاتا ہے اور بینڈ باجے بجانے کی اجازت مل جاتی ہے، لیکن عام شہری اپنی چار دیواری میں خوشی منائے تو بینڈ باجے سمیت سب کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔ آفرین ہے ان اقلیتی راہنماؤں پر جو اپنی شو شا کے چکر میں استعمال ہوتے ہیں۔ اسی سلسلے میں وقتی فوائد حاصل کرلینا ہی کامیابی سمجھتے ہیں۔

اب میں اپنی حالت زار بیان کروں گا تو کہیں گے ذاتیات کی بنا پر تنقید کرتا ہے۔ میڈیا کے قریبی ساتھی نے فون کر کے کہا کہ ان کا بیٹا زیر تعلیم ہے۔ ایک تو وہ خود بیمار ہیں اور کرونا کی وجہ سے حالات دگرگوں ہو گئے ہیں۔ کہنے لگے کسی سے کہلوا کر بیٹے کی تعلیم کے سلسلے میں مدد کروا دو۔ ایسا ہی مسئلہ ایک اور قریبی دوست کا ہے، جس کا بیٹا فنانس اور اکاؤنٹنس کی تعلیم حاصل کر رہا تھا مگر مارچ سے لے کر اب تک کے کاروباری حالات کی وجہ سے دوسرے سمیسٹر کی فیس جمع نہیں ہو سکی۔ بیٹا اور وہ خاندان پریشان ہے۔

یہ صرف دو مثالیں ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔ دوسری جانب سیاسی پارٹیوں سے لے کر سرکاری اداروں نے اپنے اپنے طبلچی بھرتی کر رکھے ہیں، جو ان کی باتوں پر ڈھول بجاتے رہتے ہیں اور اگر کوئی اس سے اختلاف کرنے کی جرات کر لے تو سوشل میڈیا پر لعنت ملامت کرنے سے لے کر جان سے مارنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ محکموں کے کردار اور کارکردگی سے متعلق کیا بات کرنی، میرے جیسے لوگ تو ویسے ہی لکھنے سے ڈرتے رہتے ہیں کیونکہ شمالی علاقہ جات کی سیر کے لئے نہ بھی لے کر جائیں، ”تنظیم سازی“ کے نام پر ”ٹھکائی“ کروا کر ہر جگہ بے عزت کروا دیتے ہیں۔ اس صورت حال میں مالشیے بہتر ہیں لیکن اس ذلت کو کامیابی ہرگز نہیں کہہ سکتے۔

جیسے ہی رات اپنے جوبن کی اور بڑھتی ہے، کاروباری مراکز بند ہونے کے بعد، ڈھابے طرز پر قائم ریسٹورنٹس، تفریحی پارک، تھڑے، یا مخصوص سڑکوں پر شیشے کی جھنکار سنائی دیتی ہے۔ سنٹرل پنجاب کے شہروں کے افراد، اس آواز سے مانوس ہیں، لیکن شہر اقتدار میں بھی تقریباً ہر سیکٹر میں ایسے کردار نظر آتے ہیں۔ یہ آواز مالشیوں کی بوتلوں سے پیدا ہوتی ہے، جو شیشے کی چھوٹی چھوٹی بوتلوں کو گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لئے پیدا کرتے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام کے مالشیے دستیاب ہیں، جو بنیادی طور پر روزی روٹی کی غرض سے نکلتے ہیں، لیکن بعضوں نے مالش کی آڑ میں مخصوص دھندے شروع کر رکھے ہیں۔ خیر! آج کل کے دور میں یہی لوگ کامیاب ہیں۔ چاہے یار لوگ میری اس بات سے اختلاف کریں لیکن قریب ہر شعبے میں جس طرح یہ مالشیے کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے جاتے ہیں، بندہ رشک سے دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔ گزشتہ روز جب وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس سے ورچوئل خطاب کیا تو بہت سے مالشیوں نے وزیراعظم کی 27 منٹ کی تقریر میں سے اپنی اپنی پسند کے ”اقتباسات“ لے کر قصیدے پڑھنا شروع کر دیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •