بیسیویں صدی کا ہیرو وحید مراد اور اکیسویں صدی کے پرستار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کو بنے تقریباً ”پندرہ سال ہوئے تھے جب پاکستانی فلم انڈسٹری کے نامور ہدایت کار ایس ایم یوسف نے فلم اولاد کا آغاز کیا ہوگا اور ڈسٹری بیوٹرز، ناقدین اور فلم بین اسے بھی ایس ایم یوسف کی ایک اور سماجی اور گھریلو فلم کے طور پر دیکھ رہے ہوں گے ( اور ہوا بھی یہی کہ یہ سرکٹ پر خواتین کی پسندیدہ، سپر ہٹ موضوعاتی فلم ثابت ہوئی ) مگر یہ فلم اولاد کا محض معاشرتی اور تجارتی پہلو تھا، اس کا تاریخی پہلو، اس فلم تک محدود نہ تھا۔ ہاں اس حوالے سے، اس فلم کی کنٹری بیوشن یہ تھی کہ یہ فلم، اداکاری کی دنیا کے ایک روشن باب کی بنیاد رکھنے جا رہی تھی۔

تب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ سینیر اداکاروں کی جھرمٹ میں شامل ایک نیا چہرہ، کل، پاکستان فلم انڈسٹری کی پہچان بن جائے گا۔ فلم ساز کی حیثیت سے کیریر کا آغاز کرنے اور خود کو اپنی ابتدائی دونوں ذاتی فلموں میں، صرف فلم سازی تک محدود رکھنے والے، ہیرو کے لئے، شاید خود بھی یہ خوشگوار سرپرائز رہا ہوگا جو پذیرائی، اداکاری کی دنیا میں، اس کی منتظر تھی۔

آج، نامور فلمی ہیرو وحید مراد کو فلم بینوں سے بچھڑے تقریباً ”37 سال ہونے کو آئے ہیں۔ اس طویل مدت کے باوجود، روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر دستیاب ان کی وڈیوز اور اس کے لئے موجود، عوامی پسندیدگی کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے وہ اب بھی اپنے مداحوں اور فلم بینوں کے درمیان موجود ہیں۔ یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جس طرح انھوں نے خود، اداکاری میں منفرد انداز اختیار کیا تھا، ان کے پر ستاروں نے بھی اس انفرادیت کو برقرار رکھتے ہوئے، اپنے ہیرو کو اپنی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔

وحید مراد کے ساتھ پرستاروں کے گہرے تعلق کا اس سے بڑا اظہار کیا ہو سکتا ہے کہ ویب سرچ انجن Google کے مطابق 2019 میں پاکستان سے جن دس شخصیات کو نیٹ پر سب سے زیادہ search کیا گیا، وحید مراد اس میں شامل تھے۔ اس جستجو اور تعلق کی اہمیت اس بات سے اور نمایاں ہو جاتی ہے کہ اس فہرست کے باقی تمام اسٹارز وہ تھے جو ہمارے درمیان موجود ہیں، صرف یہ واحد شخصیت ہیں جو اس دنیا میں موجود نہیں مگر انھیں اس قدر تسلسل سے یاد کیا گیا۔

ان کی فنکارانہ صلاحیت اور پرستاروں کی ان سے عقیدت کو دیکھتے ہوئے، پچھلے سال ان کی 81 ویں سالگرہ کے موقع پر Googleکی طرف سے بھی انھیں خراج عقیدت پیش کیا گیا اوراس کے لئے ان کا خصوصی Doodle بھی، گوگل کے سرورق پر نمایاں کیا گیا۔

وحید مراد کے حوالے سے ایوارڈز کا اجرا، فلم فیسٹیولز کا انعقاد، لٹریچر کی اشاعت اور ان کی یاد میں اجتماعات، ہیرو اور پرستار کے گہرے تعلق کی وہ مثالیں ہیں جو غالباً اس سے پہلے ہمارے ملک میں دیکھنے میں نہیں آئیں۔

بلاشبہ ہیرا اور پتھر سے شروع ہونے والا اور ارمان سے عروج پر پہنچ جانے والا ہیرو شپ کا سفر، پاکستان فلم انڈسٹری میں بجا طور پر خوشگوار تبدیلی کی وہ لہر تھی جس نے ہماری سکر ین کو زیادہ قابل دید بنا دیا۔ وحید مراد کے آنے سے پہلے، 1964 اور اس سے قبل کے ہیروز، body language کی اہمیت اور استعمال سے یکسر لاتعلق تھے۔ ان ہیروز سے تقابلی جائزہ کرنے سے وحید مراد کا فنکارانہ قد کہیں بلند ہو جاتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے ضروری ہو گا کہ پرانی فلموں کو دیکھا گیا ہو۔ مثلاً ”ماضی کے بہت اچھے اچھے گانے جن کی آڈیو سننے میں بہت لطف دیتی ہے، ان کی وڈیو، پرفارمنس کے اعتبار سے، ان نغموں کے معیار سے بالکل میل نہیں کھاتی۔ مختصراً یہ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا کہ وحید مراد کی شمولیت نے فلم سکرین کو متحرک اور جاذب نظر بنا دیا۔

اسی حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ وحید مراد کے گانوں کی فلم بندی نے دل موہ لینے والے، جو نئے رجحانات جنم دیے اور اداکاری کے جو شاہکار پیش کیے، ان کی مقبولیت، پسندیدگی اور دلکشی کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ نسل جو ان کے دور میں، شعور کے اس مرحلے میں نہ تھی، اب اسی ذوق و شوق سے اس سے لطف اندوز ہوتی ہے جیسے کبھی سینیئرز ہوا کرتے تھے یا ہوا کرتے ہیں۔

لفظ ”سٹائل“ اگر کسی پاکستانی اداکار کے لئے موزوں دکھائی دیتا ہے تو اس کے حقدار بھی وحید مراد ہیں۔ ان کی کرشماتی شخصیت کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ اور ان کا نام، ہمارے معاشرے میں، اب ہیرو کا مترادف بن چکا ہے۔ کسی افسانے، ناول یا ڈرامے میں ہیرو کا حلیہ، وحید مراد سے مختلف ہونا اب ممکن نہیں رہا۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہ شناخت اب سرحد پار کر چکی ہے، غالباً یہی وجہ ہے کہ ہالی ووڈ کی فلم Agent Cody Banks 2، Destination London میں دو مشہور کرداروں Spider۔ Man اور Comic کیریکٹر Lara Croft کے مقابلے میں تیسرے کردار کے لئے وحید مراد کو ریفرینس بنایا گیا۔

پاکستان کے سب سے خوش قسمت اور سب سے طویل عرصہ راج کرنے والے ہیرو ندیم کی فراخدلی کی تعریف کی جانی چاہے جو یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان فلم انڈسٹری میں ایک ہی ہیرو تھا جسے میگا اسٹار کہا جا سکتا ہے اور وہ یقیناً، کوئی اور نہیں، صرف وحید مراد تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •