میڈیا پر تنقید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریاست اور صحافت کے درمیان رسہ کشی کوئی نئی بات نہیں اور شاید ہی دنیا کا کوئی ملک ہو جہاں ریاست اور صحافت کے درمیان اختلاف نہ ہو۔ ریاست مختلف قوانین کے نفاذ کے ذریعے صحافت کو پابند کرنے کی کوشش میں رہتی ہے جبکہ صحافت آزادی اظہار کے معاملے میں کوئی سمجھوتا کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔ وطن عزیز میں بھی ابتداء سے صحافت اور ریاست کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔ وسعت اللہ خان، 12 اکتوبر 2018 کے بی بی سی ڈاٹ کام پر لکھے گئے اپنے کالم میں لکھتے ہیں۔

”کون کہتا ہے آج کے پاکستان میں صحافت آزاد نہیں؟ کیا پہلے کسی دور میں اتنے سارے نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز چینلز تھے کہ گننا مشکل ہو جائے۔ کیا آج کوئی ایوب خانی پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس ہے جو ہر اخباری ادارے، ادارتی پالیسی، سرکاری اشتہار اور کاغذ کے کوٹے پر تلوار کی طرح لٹکا رہتا تھا اور سیاسی چھوڑ کوئی فلمی رسالہ نکالنے کے لیے بھی متعلقہ مجاز ڈپٹی کمشنر کے تلوؤں کی مالش کرنا پڑتی تھی۔

کیا آج بھٹو دور کے ڈیفنس آف پاکستان رولز ہیں جن کے تحت کسی بھی اخبار یا رسالے کا ڈیکلریشن منسوخ ہو سکتا تھا اور صحافی یا ایڈیٹر سلاخوں کے پیچھے جا سکتا تھا۔ تب عدالتیں بھی آج کی طرح کہاں آزاد تھیں کہ ایگزیکٹو آرڈر معطل کر کے ضمانت پر رہا کر سکیں۔ آج تو بچارے پیمرا کی بھی کوئی نہیں سنتا۔

اور یاد کریں ضیا دور کو جب ایک ایک سطر شائع ہونے سے پہلے محکمۂ اطلاعات کے خوفزدہ افسروں کی نگاہوں سے گزرتی تھی اور اقبال کے اس شعر کا دوسرا مصرعہ بھی انسداد فحاشی و ننگ پن کی سنسرانہ تلوار تلے آ جاتا تھا۔ ”

آج کل پاکستان میں صحافت کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ موجودہ حالات خود صحافی حضرات کے لیے کچھ نئے تجربات ہیں مگر درحقیقت دیکھا جائے تو موجودہ ملکی اور عالمی سیاسی حالات بھی غیر معمولی ہی ہیں۔ یہاں الیکٹرانک نیوز میڈیا سے کئی صحافیوں کو نکال دیا گیا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر سیلف سنسر شپ کا نفاذ ہے اور صحافی برادری سراپا احتجاج ہے۔ موجودہ حالات کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مگر ان حالات کو صحافی ہارون رشید، 3 مئی 2017 کے بی بی سی ڈاٹ کام پر لکھے گئے اپنے کالم میں کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں۔

” پاکستان میں جس طرح سے الیکٹرانک میڈیا نے بغیر کسی منصوبہ بندی کے گزشتہ 16 برسوں میں ترقی کی ہے، کچھ سینیئر صحافیوں کے نزدیک اصل مسئلے کی جڑ شاید یہی ہے۔

سینیئر صحافی ناصر ملک کہتے ہیں کہ جب ٹی وی آیا تو مالکان نے 20، 20 سال تجربہ رکھنے والے پرنٹ کے سینیئر صحافیوں کو یہ کہہ کر ٹی وی میں جگہ نہیں دی کہ بقول ان کے انھیں ٹی وی نہیں آتا تھا۔

’اس کے مقابلے میں ایسے لوگوں کو ٹی وی میں رکھ لیا گیا جن کا اگر شادی کی ویڈیو بنانے کا تجربہ تھا تو اسے کیمرہ مین رکھ لیا۔ کسی کو تکنیکی سدھ بدھ تھی تو ایسے کو پروڈیوسر رکھ لیا گیا۔ ”

دنیا میں صحافتی آزادی کے لیے سرگرم تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے صحافتی آزادی کے سلسلے میں سن 2020 میں پاکستان کو 145 درجے پر رکھا ہے۔ اس درجے کو دیکھ کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہاں صحافت کن مسائل کا شکار ہے۔ پاکستان میں صحافیوں کو موجودہ مشکلات کے بارے میں وسعت اللہ خان، 12 اکتوبر 2018 کے بی بی سی ڈاٹ کام پر لکھے گئے اپنے کالم میں لکھتے ہیں۔

”جب ثبوت مانگا جائے کہ بھائی کون گلا گھونٹ رہا ہے ہمیں بھی تو دکھاؤ تو پھر اول فول بکنے لگتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کوئی سایہ ہے جو ان کی گردن پر 24 گھنٹے پھونکیں مارتا ہے، کبھی بتاتے ہیں کہ انھیں جن اٹھا کے لے گیا اور دو چار پٹخنیاں دے کر چند دنوں بعد چھوڑ دیا۔ جب ان سے پوچھا جائے کہ بھائی ہم کم عقلوں کو سمجھانے کے لیے کھل کے نام کیوں نہیں لیتے تو پھر ادھر ادھر کی ہانکنا شروع کر دیتے ہیں۔ مقتدر حلقے، خلائی مخلوق، محکمۂ زراعت، اسٹیبلشمنٹ، فیصلہ ساز ادارے، اعلی عدلیہ، لینڈ مافیا وغیرہ وغیرہ۔ نہیں نہیں ان میں سے کوئی نہیں، یہ سب تو اچھے لوگ ہیں، چلے جاؤ یہاں سے، مرواؤ گے کیا، دفع ہو جاؤ میری نظروں سے دور، شکل نہ دکھانا آئندہ۔“

بہرحال موجودہ حالات دیکھ کر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آج وطن عزیز میں صحافت اور ریاست کے درمیان اختلافات اپنے عروج پر ہیں۔ ان حالات کے حوالے سے صحافی حضرات کا موقف یہ ہے کہ گو کہ ملک میں الیکٹرانک میڈیا کی تعداد کافی ہے، اخبارات و رسائل کی بھی کمی نہیں ہے مگر صحافیوں کو صرف وہی بولنے کی اجازت ہے جو ریاست چاہتی ہے یعنی صحافیوں کی زبان ہو اور ریاست کے الفاظ۔ کئی ویب سائٹس بند کردی گئی ہیں۔ بعض صحافیوں کے کالم اخبارات میں چھپنا بند ہوگئے ہیں۔

کتنے ہی صحافیوں کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ بعض الیکٹرانک میڈیا سے نشر ہونے والے پروگراموں کو آن ائر ہونے تک کی اجازت نہیں ہے۔ صحافیوں کے اغواء ہونے کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوچکا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے پروگراموں میں مہمانوں تک کی شرکت کی باقاعدہ اجازت لینی پڑ رہی ہے۔ بعض ٹی وی چینلز کو بندش تک کا سامنا ہے۔

دوسری جانب ریاست کا موقف یہ ہے کہ ملک کواس وقت ففتھ جنریشن وار فیئر یا ہائبرڈ وار کا سامنا ہے۔ جس کے تحت ملک اور فوج کو بدنام کرکے انتشار پھیلایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، بعض اخبارات اور ویب سائٹس کو ٹول کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ بعض صحافی بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر اس میں شریک ہیں۔

انور غازی 19 جنوری 2020 کے روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں ففتھ جنریشن وار فیئر کی تعریف کچھ یوں کرتے ہیں۔

” دشمن ملک، نان اسٹیٹ ایکٹرز یا ان کے مقامی سہولت کاروں کی جانب سے مسلط کردہ ایسی غیر علانیہ اور خفیہ جنگ جس کے ذریعے ملک میں افراتفری، معاشی بدحالی اور عوام کو کنفیوز اور فکری طور پر منتشر اور منقسم کر دیا جاتا ہے“ ففتھ جنریشن وار فیئر ”کہلاتی ہے۔ یہ ایک طرح کی“ سائبر وار ”بھی ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے لڑی جاتی ہے۔ اس جنگ میں قوم کا مورال ڈاؤن کرنے اور انتشار پھیلانے کے لیے فیک آئی ڈیز اور نامعلوم اکاؤنٹس کے ذریعے شر انگیز ٹویٹس اور پوسٹس، مسلکی، لسانی اور علاقائی خلیج کو گہرا کرنے کے لئے نامعلوم تحریریں، اسی طرح فیک اور ایڈیٹ شدہ وڈیوز وائرل کرکے ملکی وقار کو سبوتاژ کیا جاتا ہے۔“

اب یہ حقیقت تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ آزادیٔ اظہار رائے کے مقدس پردے کے پیچھے خیانت چھپائی جارہی ہے یا پھر ففتھ جنریشن وار فیئر کی آڑ میں بدعنوانی۔ بہرحال صحافت، ریاست کا چوتھا ستون ہوتا ہے۔ جس کا مقام جتنا بلند ہوتا ہے اس کی ذمہ داری بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے اور آزمائش بھی۔ ملک رہے گا تو صحافت بھی ہوگی، حکومت بھی ہوگی اور ادارے بھی۔ دنیا بھر میں پروپیگنڈے کے ماہرین کا صحافت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ایک عام سی بات ہے۔

جس کی وجہ صحافت کی طاقت اور اہمیت ہے۔ دانستہ یا نا دانستہ طور پر صحافت کا غلط استعمال ہونا کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ ہمارے جیسے معاشرے میں کہ جہاں انفرادی یا گروہی مفادات قومی مفادات پر غالب رہتے ہوں وہاں صحافت کے غلط استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ اب غلط کام حب الوطنی کے نا م پر انجام دیے جائیں یا آزادیٔ اظہار رائے کے نام پر، ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا نہ صرف وضع کردہ ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کی ضرورت ہے بلکہ عالمی سیاسی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سنجیدہ اور محتاط طرز عمل اپنانے کی بھی ضرورت آج پہلے سے کہیں گنا زیادہ ہے۔

آخر میں بانی پاکستان کا صحافت اور آزادیٔ صحافت سے متعلق نقطہ نظر جاننا بھی ضروری ہے۔ بانی پاکستان نے امپیریل لیجسلیٹو کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ستمبر 1918 ء میں فرمایا تھا کہ

”میں ایک لمحے کے لئے بھی ایسے مجرم کو معاف نہیں کر سکتا، جو بغاوت، سیاسی بدامنی اور نسلی تعصب پھیلانے کا باعث ہو، مگر ساتھ ہی بے گناہوں اور ایسے صحافیوں کی حفاظت کرنے کے لیے کہتا ہوں جو حکومت پر آزادانہ اور منصفانہ تنقید کر کے حکومت اور عوام دونوں کی خدمت اور تربیت کرتے ہیں۔“

Latest posts by گلزار علی رضوی (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
گلزار علی رضوی کی دیگر تحریریں