پاکستان میں ججز کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی کا مطالبہ کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی۔ پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں کی حال ہی میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں جن نکات پر اتفاق ہوا ہے اور جنہیں قرارداد کا حصہ بنایا گیا ہے ان میں ایک نکتہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تقرری کا موجودہ طریقۂ کار تبدیل کیا جانا بھی ہے۔
اس ضمن میں پاکستان بار کونسل کی جانب سے کیے گئے مطالبے کی بھی حمایت کی گئی ہے۔

پاکستان بار کونسل نے 20 ستمبر کو ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس سے مطالبہ کیا تھا کہ ججوں کے تقرر کے لیے آئین کے آرٹیکل 175۔ اے میں درج طریقۂ کار پر نظر ثانی کی جائے۔

بار کونسل کا مطالبہ ہے کہ انیسویں آئینی ترمیم ختم کی جائے۔ نیز اس سے متعلق نیا فورم تشکیل دیا جائے جس میں پارلیمان کا کردار مزید موثر ہو اور تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول انتظامیہ، بار کونسلز اور عدلیہ عددی برابری کے ساتھ ایک ہی پلیٹ فارم پر مل بیٹھ کر شفاف انداز میں خالصتاً میرٹ پر تقرر سے متعلق فیصلے کریں۔

ججز کے تقرر کا موجودہ طریقۂ کار کیا ہے؟

ملک میں اس وقت 19 ویں آئینی ترمیم کے تحت ججز کا تقرر عمل میں لایا جاتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 175۔ اے میں سپریم کورٹ کے ججز کے تقرر کا طریقۂ کار دیا گیا ہے جس میں عدالت عظمیٰ میں جج تعینات کرنے کے اختیارات سپریم کورٹ ہی کے پاس ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن قائم ہے جس میں سپریم کورٹ کے چار سینئر ترین جج، ایک سابق چیف جسٹس جو دو سال کے لیے تعینات ہو گا، اٹارنی جنرل، وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اور پاکستان بار کونسل کی جانب سے نامزد ایک سینئر وکیل شامل ہوتے ہیں۔

اسی طرح اس مقصد کے لیے آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی بھی الگ سے قائم کی گئی ہے جس میں چار اراکین سینیٹ اور چار ہی قومی اسمبلی کے ارکان شامل ہوتے ہیں اور ان میں سے چار کا تعلق حزب اختلاف کی جماعتوں جب کہ چار کا تعلق حکومت سے ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ میں جج کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن جج کی قابلیت اور اس کی پیشہ وارانہ اہلیت دیکھ کر سفارشات مرتب کر کے پارلیمانی کمیٹی کو ارسال کرتی ہے۔

پارلیمانی کمیٹی نامزدگی موصول ہونے کے 14 روز کے اندر سادہ اکثریت سے ان ناموں کی منظوری دیتی ہے اور اگر اس دوران یہ فیصلہ نہ ہو سکے تو عدالتی کمیشن کا ہی فیصلہ حتمی تصور کیا جاتا ہے۔

اگر پارلیمانی کمیٹی کسی نام کو مسترد کرتی ہے تو تین چوتھائی ممبران کی حمایت کے ساتھ اس نام کو مسترد کرنے کی وجوہات کو بھی بیان کر کے سفارشات وزیر اعظم کو ارسال کی جاتی ہیں جس پر جوڈیشل کمیشن اس نام کے بجائے کوئی اور نام پارلیمانی کمیٹی کو ارسال کرتی ہے۔

ججز کے وہ نام جو پارلیمانی کمیٹی منظور کر لیتی ہے۔ اسے بھی وزیر اعظم کو ارسال کیا جاتا ہے جو ان کی تعیناتی کے لیے صدر مملکت کو ایڈوائس بھیجنے کے پابند ہیں۔

ملک کی وکلا تنظیموں نے پارلیمان کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کی جانے والی 18 ویں آئینی ترمیم کو ججوں کے تقرر کے نئے طریقۂ کار کی حد تک سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس پر سماعت کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں فل بینچ نے پارلیمنٹ کو عبوری حکم کے ذریعے ججوں کے تقرر کے طریقے پر نظر ثانی کا کہا تھا۔

اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں 17 رکنی بینچ نے اس آئینی درخواست کے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کی ججز کی تقرری میں رائے کی اہمیت کم کی گئی ہے۔ جب کہ ججوں کے تقرر سے متعلق بنائے گئے پارلیمانی کمیشن کو ججز کے ناموں کو مسترد کرنے کا اختیار دیے جانے کا مطلب انہیں اس عمل میں ویٹو پاور کے اختیارات دینے کے مترادف قرار دیا گیا تھا۔

عدالت کے مطابق اس عمل میں چیف ایگزیکٹو یعنی وزیر اعظم کی جانب سے پارلیمانی کمیشن میں چار ارکان مقرر کرنے کے اختیار سے ججز کے تقرر کا معاملہ سیاست زدہ ہونے کا خدشہ ہے جس سے آئین میں عدلیہ کو حاصل آزادی پر حرف اور اس پر انتظامیہ غالب آ سکتی ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا تھا کہ اسی طرح یہ عمل ججز کے بارے میں آئین میں درج ایک اور شق 68 کی بھی نفی ہو گی جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے کسی بھی جج کی فرائض کی ادائیگی سے متعلق بحث پارلیمان میں نہیں کی جا سکتی۔

اس فیصلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے پارلیمان کو مذکورہ شقوں میں ترمیم کر کے جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس کے ساتھ دو سینئر ترین ججز کے بجائے ججز کی تعداد چار کرنے، پارلیمانی کمیٹی کو کسی نام کو مسترد کرنے کے لیے تین چوتھائی اکثریت لازم قرار دینے اور اگر یہ نام ایک بار پھر جوڈیشل کمیشن سے منظور ہو جائیں تو انہیں ہی حتمی تصور کرنے سمیت پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ان کیمرہ رکھنے سے متعلق تجاویز ارسال کی گئی تھیں۔

اس فیصلے میں سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں ہی آئین میں 2010 میں 19 ویں ترمیم منظور کی گئی تھی۔

بہت سے مبصرین اس ترمیم کو عدلیہ کے حکم پر آئین میں کی جانے والی ترمیم کو اپنی نوعیت کی پہلی مثال قرار دیتے ہیں اور تب سے ملک میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور شریعت کورٹ کے ججز کی تقرریوں کا یہی طریقۂ کار رائج ہے۔

موجودہ طریقۂ کار میں تبدیلی کی ضرورت کیوں؟

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین عابد ساقی کا کہنا ہے کہ ججز کی تقرری کے موجودہ طریقۂ کار کو تبدیل کرنے کے مطالبے کی وجوہات بڑی واضح ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں عابد ساقی کا کہنا تھا کہ ججز کی تقرری کے لیے قائم کیے گئے جوڈیشل کمیشن میں ججز کی اکثریت ہے جس کی وجہ سے کمیشن میں موجود بار کونسل، انتظامیہ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔

وکلا کا مطالبہ ہے کہ کمیشن میں عدلیہ، بار کونسل، پارلیمان اور انتظامیہ کے نمائندوں کی تعداد برابر ہونی چاہیے۔ تاکہ کوئی بھی اکثریت کی وجہ سے دوسرے کی رائے کو دبا نہ سکے اور ایک اتفاق رائے کے ساتھ ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرریاں کی جائیں۔

وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کے مطابق ملک میں عدالتی نظام تباہ ہو چکا ہے اور اب اس سے تعفن پھوٹ رہا ہے اور کسی کو بھی اس نظام پر اعتماد نہیں رہا۔

ان کے بقول نظام کے اندر موجود خامیوں کا طاقتور طبقات فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جب کہ کمزور طبقہ پس رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی اکثریت اس نظام کے وجود سے کوئی فیض حاصل نہیں کر پا رہے۔

عابد ساقی کہتے ہیں ”عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگوں کو پھانسی دیے جانے کے بعد ان کی اپیلوں کے فیصلے ہوتے ہیں جس میں وہ بری ہو جاتے ہیں۔ اس سے بڑا سوالیہ نشان اس نظام پر کیا رہ گیا ہے؟“

اس سوال پر کہ سپریم کورٹ کا کردار ججز کی تقرری میں محدود کیوں ہونا چاہیے؟ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کا کہنا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کے ججز کی رائے کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن بار کونسل کا نکتۂ نظر اس سے الگ ہے۔ اس معاملے پر بار کونسل کی اے پی سی میں سیاسی رہنماؤں نے بھی اس نکتے پر وکلا سے اتفاق کیا تھا کہ سپریم کورٹ کو ججز کے تقرر میں زیادہ اختیارات دینے کی آئینی ترمیم پارلیمان نے کی تھی، سپریم کورٹ نے نہیں۔

ان کے بقول اگر پارلیمان تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے اس طریقۂ کار کو تبدیل کرتی ہے تو ان کے خیال میں سپریم کورٹ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔

’آئین میں 19 ویں ترمیم عدلیہ کے دباؤ میں منظور کی گئی‘

اس سوال پر کہ پیپلز پارٹی کے دور میں پہلے ترمیم منظور ہونے اور اب اس کے خلاف آواز اٹھانے کی وجہ کیا ہے؟ پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر تاج حیدر کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم عدلیہ کے دباؤ کے تحت منظور کی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے جس میثاق جمہوریت پر اتفاق کیا تھا اس میں بھی ججز کے تقرر کا طریقۂ کار کو واضح کیا گیا تھا۔ لیکن عدلیہ کی جانب سے دباؤ کے باعث اسے من و عن آئین کا حصہ نہ بنایا جا سکا۔

انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں پیپلز پارٹی کو مصلحت کی پالیسی اپنانا پڑی اور 18 ویں ترمیم میں دیگر امور کے ساتھ عدلیہ میں ججز کے تقرر میں بھی پارلیمان کی برتری کو ثابت کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کا موقف بالکل واضح ہے کہ وہ ججز جن کی سفارش جوڈیشل کمیشن کرے وہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں۔ ان کا ریکارڈ دیکھا جائے اور جو پارلیمان فیصلہ کرے اسے ہی حتمی تصور کیا جائے۔ بجائے اس کے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو اس میں حتمی فیصلے کا حق ہو۔

تاج حیدر کے بقول عدلیہ نے یہ اختیارات پارلیمان سے لے کر خود رکھ لیے ہیں جس سے اداروں کے درمیان طاقت کا توازن خراب ہوا ہے۔

یاد رہے کہ 19 ویں آئینی ترمیم پیپلز پارٹی کے دور میں پارلیمان سے منظور کر کے آئین کا حصہ بنائی گئی تھی۔

یہاں یہ بھی دلچسپ امر ہے کہ ملک کے آئین میں عدلیہ کے بارے کی جانے والی ترامیم کی کل تعداد پانچ ہے اور یہ تمام ترامیم پیپلز پارٹی ہی کے دو مختلف ادوار میں آئین میں شامل کی گئی ہیں۔

ان میں سے چار پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جب کہ ایک یعنی 19 ویں آئینی ترمیم سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں ہوئی۔

’اپوزیشن کا مطالبہ آزاد عدلیہ پر حملے کے مترادف ہے‘

وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر یہ سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ آخر 19 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے موجودہ اختیارات عدلیہ کو کس کے دور میں دیے گئے تھے؟

انہوں نے کہا کہ 19 ویں آئینی ترمیم کی منظوری مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ہی نے مشترکہ طور پر منظور کرائی تھی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو بھی اس معاملے پر تحفظات ہو سکتے ہیں لیکن ان کے بقول اپوزیشن اس وجہ سے تحفظات کا اظہار کر رہی ہے کیوں کہ اب ان کی مرضی کے ججز عدلیہ کا حصہ نہیں بن رہے جس سے حزب اختلاف کی جماعتوں کو سخت تکلیف لاحق ہے۔ آزاد عدلیہ انہیں دکھ رہی ہے اور ان کے لیے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

انہوں نے ججز کی تقرریوں کے طریقہ کار کی تبدیلی کے مطالبے کو آزاد عدلیہ پر حملے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ایسا کرنے سے قبل سوچ لے کہ اس کے کیا نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

’مشاورت کے عمل کو مزید وسعت دی جائے‘

جنرل پرویز مشرف کے دور میں عدلیہ بحالی تحریک کے اہم رہنما اور وکیل ابرار حسن ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ اس وقت ہائی کورٹ کے ججز کے تقرر کے لیے متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نام تجویز کرتے ہیں لیکن اس میں کوئی خاص معیار نہیں رکھا جاتا۔ اس کے بعد وہ نام جوڈیشل کمیشن میں جاتا ہے جس میں اس نام کو منظور کیا جاتا ہے یا نظر ثانی کے لیے واپس بھیجا جاتا ہے۔

ان کے بقول اگر اس عمل میں سیاسی جماعتوں کا اختیار بڑھا تو خدشہ ہے کہ یہ عمل سیاست زدہ ہو جائے گا۔

ان کے خیال میں بہتر یہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے عمل کو مزید بہتر بنایا جائے۔ اور جوڈیشل کمیشن میں جانے والی نامزدگیوں پر کی جانے والی مشاورت کو مزید وسیع کیا جائے۔ اس میں بار کونسلز کی اہمیت کو بڑھایا جائے۔ کیوں کہ بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز ایسے عہدوں کے لیے اہل افراد کو زیادہ بہتر جانتے ہیں۔

ابرار حسن ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ ججز کے تقرر کی ذمہ داری بہر حال عدلیہ ہی کو ادا کرنی چاہیے اور اس کا کردار سب سے اہم ہی ہونا ضروری ہے۔

ان کے مطابق اس عمل میں بار کونسل کے نمائندے کی حیثیت صرف ربڑ اسٹیمپ کی نہیں ہونی چاہیے۔ بلکہ اس سے بامعنی مشاورت کرنا ضروری ہے تاکہ اس کی رائے کی اہمیت فیصلے میں شامل ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 205 posts and counting.See all posts by voa