کوئٹہ سفر نامہ: ویلکم ٹو کوئٹہ


گاڑی کی ورکشاپ میں مرمت کے بعد رات کو معلوم ہوا کہ فورٹ منرو کا راستہ عمیر سمیت بارڈر ملٹری پولیس کے جوانوں نے شب و روز ایک کر کہ کلیر کروا دیا ہے۔ اگلے روز ہم نے صبح سویرے کوئٹہ سفر کا دوبارہ آغاز کیا۔ ایک بار پھر سے سفر سنیہا اور چاچو کی آواز میں سفر کی دعا سے شروع ہوا اور ہم دو گھنٹوں میں فورٹ منرو کے خوبصورت پہاڑوں کے دلکش نظارے اپنے اطراف دیکھتے ہوئے کوئٹہ کی جانب رواں دواں تھے۔ فورٹ منرو میں جاپان کا بنایا سٹیل پل نا صرف پہاڑی راستہ آسان بنا رہا تھا بلکہ خوبصورتی میں بھی اپنی مثال آپ تھا۔ تقریباً چودہ ارب روپے کی خطیر رقم سے بنایا گیا یہ سٹیل پل پنجاب اور بلوچستان کو ملانے کے ساتھ نا صرف گاڑیوں پر تیل کی لاگت کم کرتا ہے بلکہ آسان اور کم وقت میں عوام الناس کو منزل مقصود تک پہنچانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

جاپان کے بنائے سٹیل پل اور فورٹ منرو کے دلکش نظاروں میں بل کھاتی سڑک چند لمحوں کے لیے کسی ترقی یافتہ ملک کا احساس دلا رہی تھی۔ گاڑی میں چلتے ہندوستانی و پاکستانی گانے، اردگرد کے دلفریب نظارے، کم ہوتا موسمی درجہ حرارت، جاپانی آرکیٹیکچر پر تبصروں کے ساتھ ہم اپنی منزل کی طرف ایک خوشگوار احساس کے ساتھ رواں دواں تھے اور وہ سفر باآسانی طے ہوتا نظر آ رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں ہم فورٹ منرو کی دلکشی اور پنجاب کی سرزمین کو خداحافظ کرتے ہوئے قدرتی وسائل سے مالا مال سرزمین بلوچستان میں داخل ہوئے۔

ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اطراف کا پہاڑی سلسلہ مجھے بلوچستان آنے پر خوش آمدید کہہ رہا ہو۔ بارشوں کے انتظار میں مرجھائی ہوئی جھاڑیاں ہمیں اپنے کمزور اور سوکھے پتوں سے سلام کر رہی ہوں۔ سرسبز و شاداب پہاڑی سلسلہ ختم ہو چکا تھا اور ہمارے اطراف بلوچستان کے چٹیل میدان اور سڑک سے دور ہوتے کوہ سلیمان کے پہاڑ نظر آرہے تھے۔

چٹیل میدانوں سے گزرتے ہوئے میں یہ سوچ رہا تھا کہ یہاں کے لوگوں کا ذریعہ آمدن کیا ہوگا بھیڑ بکریاں پالنا بڑا ذریعہ آمدن ہونے کے باوجود چارہ کے لیے کوئی کھیت کھلیان نظر نہیں آرہے تھے۔ چند گھنٹوں بعد ہمارے اردگرد سیب اور بادام کے باغات نے دل موہ لیا۔ سرسبز باغات کی خوبصورتی نے بتایا کہ ہم پنجاب میں جو رس بھرے سیب کھاتے ہیں وہ انہیں باغات سے آتا ہے۔ موسمی لحاظ سے کئی فصلوں کے لیے موزوں ترین سرزمین پر آڑو، بادام، مونگ پھلی جیسی زرمبادلہ دینے والی کئی فصلیں اس لیے کاشت نہیں ہو سکتیں کیونکہ بلوچستان میں زیرزمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے چلی گئی ہے اور صوبے کو ہر دو سال بعد قحط سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پانی کے ذخائر پر توجہ نا دینے کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ زمین کو سیراب کرنے والا بارشوں کا پانی ہر سال ضائع ہو جاتا ہے۔ اس سب کے باوجود چھوٹے بڑے زمینداروں اور کسانوں نے سیب اور بادام کے باغات آباد کر رکھے تھے۔ کئی باغات میں پانی ٹینکرز کی مدد سے لگایا جاتا ہے اور کچھ زمیندار ڈرپ ایریگیشن کی مدد سے درختوں کو پانی لگا کر سرسبز و شاداب رکھتے ہیں۔ بلوچستان میں کاریز آبپاشی کا بڑا ذریعہ ہے۔ اسی ایریگیشن سسٹم کے تحت بلوچستان کے اکثر باغات کو سیراب کیا جاتا ہے۔

دوپہر کا کھانا کھانے کے لیے ہوٹل دیکھتے رہے۔ چچی کی طبعیت یہ ہے کہ وہ مسافر ہوٹلوں سے کھانا کسی صورت نہیں کھاتیں اس لیے جب بھی لمبا سفر کرتی ہیں تو دوپہر کا کھانا خود بنا کر ساتھ لے جاتی ہیں۔ کوئٹہ جانے کی پہلی دو کوششوں میں بھی انہوں نے ایسا کیا۔ لیکن وہ کھانا دونوں سفر کے دوران کھانے کی بجائے پہلے دن گھر کے اوون میں گرم کر کہ جبکہ دوسرے دن سفر کی ناکام کوشش میں چاچو اور میں نے رونگھن کے مقام پر بارڈر ملٹری پولیس کے اہلکار قسمت علی کے ساتھ کھایا۔

اس لیے ماضی قریب میں سفر کی غیریقینی صورت حال میں چچی نے اور نا ہی میری والدہ نے کھانا بنایا۔ اس لیے ہمارے سامنے سفر کے ساتھ ساتھ سب سے بڑا کام ایسا ہوٹل ڈھونڈنا تھا جہاں معیاری کھانا دستیاب ہو۔ چچا نے میرے والد صاحب کو کال کی اور انہوں نے سنگا پور ہوٹل پر بھنڈی اور روش کی تعریف کی۔ ہوٹل کے نام سے ہی خوشی محسوس ہونے لگی کہ کھانا بھی شاید سنگاپور جتنا معیاری ہوگا۔ ہوٹل سے ہم نے بھنڈی، روش، بریانی اور لسی لی اور ہوٹل کے فیملی ہال میں کھانے کی بجائے کسی باغ میں چٹائی ڈال کر کھانے کا فیصلہ کیا۔

سنگاپور ہوٹل سے کھانا لینے کے بعد ہم روانہ ہوئے اور شومئی قسمت کہ ہمیں بیٹھنے کے لیے کوئی سایہ دار جگہ اگلے آدھ گھنٹہ تک نہیں ملی۔ چٹیل میدان اور دھوپ ہمیں گاڑی کے اندر کھانا کھانے کے آپشن پر غور کرنے پر مجبور کر رہی تھی کہ کچھ فاصلے پر ہمیں درخت نظر آنا شروع ہوئے۔ یہ تعداد میں کم مگر سرسبز و شاداب درخت سیب کے باغات تھے۔ گاڑی سائیڈ پہ لگانے کے بعد ہم نے چٹائی باغ میں ڈالی اور کھانے کے لیے بیٹھ گئے۔ کھانا جب شروع کیا تو دماغ میں اونچی دکان کی بجائے سنگاپور ہوٹل کے لیے یہ محاورہ دماغ میں بنا اونچا نام، پھیکا پکوان۔

سنگاپور ہوٹل کے کھانے نے ہمارا روش، بھنڈی، اور بریانی بارے نظریہ بدل دیا۔ چچی جو خود لذیذ کھانے بنانے میں ماہر ہیں انہوں نے صرف لمبے سفر میں بھوک مٹانے کے لیے چند لقمے کھائے۔ بھنڈی جو مجھے عام حالات میں بے حد پسند ہے میں نے اس سے چند لقموں کے بعد ہی لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔ لسی ہم نے شوق سے پی کیونکہ ذائقہ دار تھی اس کے علاوہ ہوٹل والوں نے ہر چیز اچھی طرح ابالی تو ہوئی تھی مگر کوکنگ آئل اور مسالہ جات ڈالنا بھول گئے تھے۔

بے ذائقہ کھانا کھانے کے بعد سفر کا دوبارہ آغاز سرائیکی ڈھول گانوں سے کیا۔ شام کی چائے پینے کے لیے ایک مقامی ہوٹل پر رکے۔ چائے بنانے والے نے چائے بنانے کا حق ادا کیا تھا۔ سامنے سورج مغرب میں پہاڑوں میں اپنی شدت کھو رہا تھا اور سورج غروب ہونے کا وہ منظر نہایت دلفریب تھا۔ سڑک پر رش بڑھ رہا تھا جو اس بات کا احساس دلا رہا تھا کہ منزل قریب آنے والی ہے۔ ایف سی اہلکاروں کی چیکنگ اور ٹریفک کے ایک دم رش پہ میں نے چچا سے سوال کیا کہ کیا کوئٹہ داخل ہو رہے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ابھی کوئٹہ 30 کلومیٹر دور ہے اور ہم اس وقت کچلاک میں ہیں جو آنے والے چند سالوں میں شاید اپنے پھیلاؤ کی وجہ سے کوئٹہ میں ضم ہو جائے۔

کوئٹہ پہنچتے سورج غروب ہوچکا تھا اور رات کا سما تھا۔ چچا کی رہائش کوئٹہ کینٹ میں ہے اور کینٹ میں بوجہ کرونا لاک ڈاؤن میں مہمانوں کا داخلہ ممنوع تھا۔ عید الاضحی کے بعد لاک ڈاؤن ختم ہوچکا تھا لیکن اس کے اثرات کینٹ کی چیک پوسٹس پہ موجود تھے۔ کینٹ میں داخل ہوتے ہوئے ضروری چیکنگ کے بعد چچا نے تعارف کرایا کہ رہائش کینٹ میں ہی ہے جوان نے کارڈ دیکھا اور کوئی اعتراض نا کیا۔ میں ساتھ بیٹھا تھا تو چچا سے میرے بارے دریافت کیا تو انہوں نے کہا بھتیجا ہے جس پر جوان نے میرے شناختی کارڈ کا مطالبہ کیا جو میں نے فوری اپنے والٹ سے نکال کر دکھایا۔

جوان نے ہمیں بتایا کہ قومی شناختی کارڈ کینٹ میں داخل ہونے کے لیے کافی نہیں ہے کیونکہ اس پر پتہ دوسرے شہر کا ہے۔ چچا نے کافی اسرار کیا اور اپنی خوش اخلاق، سماجی و کمیونیکیشن کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر جوان کو یہ بات سمجھانے میں کامیاب ہوگئے کے میں ایک شریف النفس پاکستانی شہری ہوں۔ جس پر جوان نے چچا کو کینٹ کے اندر ان کے گھر جانے کی اجازت دی تاکہ وہ آنے والے دنوں میں ہماری مہمان نوازی احسن انداز میں سرانجام دے سکیں۔ زندگی میں پہلی بار احساس ہوا کہ قومی شناختی کارڈ سے بھی بڑا کوئی کارڈ ہو سکتا ہے۔ خیر بوجھل دل کے ساتھ میں نے خود سے کہا ’ویلکم ٹو کوئٹہ‘ (جاری ہے )

Facebook Comments HS