امن کی تلاش میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حال ہی میں کینیڈا کے ایک ٹی وی چینل اور یو ٹیوب پر آغاز کیا جانے والا، ڈاکٹر خالد سہیل اور ڈاکٹر کامران احمد کا پرو گرام ”In Search of Peace“ دیکھا، بہت اچھا لگا۔ ۔ ۔ دل چاہا کہ چند سطور دل چسپی کے لئے اپنے قارئین کی نذر کروں۔

اس پرو گرام کا بنیادی خیال ڈاکٹر خالد سہیل کا ہے۔ اس قبل وہ اور ڈاکٹر بلند اقبال اسی ٹی وی چینل پر: In Search of Wisdom : کے نام سے 36 اقساط پر مشتمل ایک نہایت عمدہ اور دلچسپ پروگرام پیش کر چکے ہیں۔ وہ پروگرام بھی اس پرو گرام کی طرح یو ٹیوب پر موجود ہے اور میں اپنی علمی تسکین کے لئے آج بھی اس سے استفادہ کرتا ہوں۔۔۔

ان دونوں پروگراموں میں ایک مماثلت یہ بھی ہے۔ کہ دونوں پروگراموں کے پیش کار بیک وقت طبیب اور ادیب ہیں۔ مگر دونوں پروگراموں کے روح رواں ڈاکٹر خالد سہیل ہی ہیں، جو ’ہر دم تیار کامران‘ رہتے ہیں۔ نہ خود کبھی تھکتے ہیں اور نہ دوسرے کو تھکنے دیتے ہیں۔ ۔ ۔

ان سرچ آف پیس کا مآخذ Two Candles of Peace نامی کتاب ہے۔ یہ کتاب راقم کو ڈاکٹر کامران نے امسال مارچ میں اسلام آباد میں عنایت کی تھی۔ اس کتاب میں امن کی تمام جہتوں پر بات کی گئی ہے۔ مگر لمبے چوڑے علمی مباحث کی بجائے۔ عام فہم زبان میں، ایک دوسرے کو لکھے گئے، 35، خطوط کے ذریعے، نہایت دلچسپ پیرائے میں، شخصی امن سے لے کر، معاشی، سیاسی، سماجی اور مذہبی امن خراب ہونے کی وجوہات اور اس کے تدارک پرآسان اور دلچسپ طرز پربحث کی گئی ہے۔

آج صبح جب میں نے ”ان سرچ آف پیس“ دیکھا تو میرا دھیان پھر اس کتاب کی طرف چلا گیا۔ جب میں نے کتاب کی ورق گردانی شروع کی تو دنیا میں بد امنی کے حوالے سے بہت سی کھلی حقیقتیں پڑھنے کو ملیں۔ مثال کے طور پر امن کی نوبل انعام یافتہ شخصیات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر سہیل ایک خط میں یوں رقم طراز ہیں :

” ایران کی شیریں عبادی، پہلی مسلمان خاتون ہیں، جن کو 2003 ء میں امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہاتھا: ’بد قسمتی سے، اس سال کی UNDP کی رپورٹ ان لوگوں کے روئیے پر سوالیہ نشان ہے جو دنیا میں امن کی مالا جھپتے نہیں تھکتے۔ اور جنہوں نے Universal Declaration of Human Rights تخلیق کیا تھا۔ کیونکہ آج بھی دنیا میں 1.2 ارب انسان غربت سے نیچے کی سطح پر زندگی بسر کر رہے ہیں کہ ان کی روزانہ کی آمدن ایک ڈالر ہے۔

ایران کی شیریں عبادی کا، بنگلہ دیش کے محمد یونس کی طرح یہ موقف ہے کہ موجودہ وقت میں غربت انسانی حقوق اور امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ آج جب تیسری دنیا کے کروڑوں افراد غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ پہلی دنیا (ترقی یافتہ اقوام) ان کی زبوں حالی کے حوالے سے نہ صرف پہلو تہی کا مجرمانہ رویہ اپنائے بیٹھے ہیں، بلکہ ایسی پالیسیاں بنا رہے ہیں، جن سے انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال،

گوانتا نامو بے میں قید سینکڑوں قیدیوں کی حالت زار ہے۔ جن کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار تو کر لیا گیا، مگر صفائی کا موقع نہیں دیا گیا۔ جو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر، اور جنگی قیدیوں کے حوالے سے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ۔ ۔

امریکی حکومت کا یہ طرز عمل ثابت کرتا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ خود وہ کام نہیں کرتا جس کی تبلیغ وہ دوسرے ممالک اور اقوام کو کرتا ہے۔ ”

”ادب کے نوبل انعام یافتہ، برطانیہ کے مشہور ڈرامہ نگار؛ ہیرالڈ پنٹر نے اپنی تقریر میں بین الاقوامی برادری کو اس طرح للکارا:

”ہماری اخلاقی اقدار کو کیا ہو گیا ہے؟ یہ اقدار کبھی تھیں بھی یا نہیں؟ عالمی شعور جیسے لفظ کا کیا مطلب ہے؟ شعور سے مراد اپنی بھلائی ہی نہیں ہوتا، بلکہ اس سے یہ بھی مراد ہے کہ ہم دوسروں سے کیسا سلوک کرتے ہیں۔ کیا عالمی ضمیر مر چکا ہے؟ گونتا مانو بے کی جانب نظر ڈالئے جہاں سینکڑوں لوگ برس ہا برس سے قید ہیں۔ نہ ان کو عدالت تک رسائی دی گئی اور نہ رہا کیا گیا۔ یوں لگتا ہے کہ وہ جیل میں ہی گل سڑ کر مرینگے۔ کیا یہ جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی نہیں؟ عالمی برادری کیسے یہ سب کچھ نہ صرف برداشت کر رہی ہے بلکہ پہلو تہی بھی کیے ہوئے ہے۔ ۔ ۔“

ڈاکٹر کامران احمد کا خیال ہے کہ امن کا عمل انسانی ذات سے شروع ہوتا ہے۔ انسان سب سے پہلے اپنی ذات کے ساتھ امن پیدا کرے۔ ذاتی امن کی شعائیں پھر اس کے گھر افراد پر پڑیں گی۔ پھر سماج اور باقی دنیا اس سے مستفید ہو سکتی ہے۔ بر صغیر کے تناظر میں، ڈاکٹر کامران امن کا ذاتی، اجتماعی اور نفسیاتی تجزیہ یوں کرتے ہیں : ؒٓ لایسی

” برصغیر اور بالخصوص پاکستان میں ہم لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر ایک نفسیاتی کشمکش کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس خطے کے لوگ اپنے اندر ایک نہائیت گہری تفاوت رکھتے ہیں۔ اس مخمصے کی جڑیں جہاں بہت گہری ہیں وہاں دو رنگی بھی ہیں۔ ان رنگوں کو جاننا ضروری ہے تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمیں کہاں ہونا چاہیے تھا۔ یہ بات بالخصوص پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش پر زیادہ صادق آتی ہے۔ یہ جانے بغیر ہم اس باطنی کشمکش سے چھٹکارہ نہیں پا سکتے جو ہماری ذاتی زندگیوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔

ہمارے نفسیاتی ورثے کی پہلی ’جڑ‘ نو ہزار سال گہری ہے۔ یہ ہمارے ثقافتی ورثے کو بہت منفرد اور مختلف کرتی ہے۔ اس کا ماخذ روحانیت ہے، جس کی کوکھ سے جنم لے کر اس نے اپنی افزائش ذراعت کے ذریعے کی۔ پھر وہ محبت کی سر زمین مہر گڑھ میں جوان ہوئی اور اسی علاقے یعنی موجودہ پاکستان میں پھلی پھولی۔ یہ جڑ امن کے ازلی چشمے سے ہماری نفسیات کے شجر کو محبت، رواداری او ر برداشت کا آب حیات مہیا کرتی ہے۔ ہمارے نفسیاتی ورثے کی دوسری جڑساڑھے تین ہزار سال پرانی ہے۔

جس کا سلسلہ وسطی ایشیا سے جا ملتا ہے۔ وسطی ایشیا کے بطن سے جنم لینے کے بعد یہ جڑ مذہب کی زیر سرپرستی اور پدری نظا م کی گو د میں جوان ہوئی، بر صغیر میں پدری نظام اور مذاہب کی آمد پہلے آریاؤں اور پھر مسلمانوں کے ذریعے ہوئی۔ برہمن پنڈت سنسکرت میں لکھی ’ویداس‘ لائے، ا ن کے پندرہ سو سال بعد بر صغیر میں وارد ہونے والے مسلمان حملہ آوروں، تاجروں اور سیاحوں نے اپنے مذہب سے یہاں کے لوگوں کو روشناس کروایا۔

دونوں مذاہب نے بر صغیر کے باشندوں کی ثقافت، تہذیب اور نفسیات پر گہرے نقوش چھوڑے۔ ان دونوں سلسلوں (جڑوں ) کے بغو ر مطالعے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہماری روح اور ہمارا خمیر روحانی اور قلبی روایات سے منسوب ہیں۔ جو اس اس خطے میں ہزاروں سال سے پھلتی پھولتی رہی ہیں۔ کیونکہ قدیم لوگ ایک دوسرے کے عقیدے اور عبادت گاہوں کا نہ صرف احترام کرتے تھے بلکہ ایک دوسرے کے جشن میں بھی شامل ہوتے تھے۔ بر صغیر میں جب اسلام آیا تو یہ صوفیائے کرام تھے جنھوں نے یہاں کی علاقائی رسوم و روایات کے بیچوں بیچ روادار ی کا چلن ڈالا۔

تمام صوفی سلسلوں میں بلا تمیز قوم و مذہب ایک محبت، ہمدردی اور امید کی بھر پور جھلک نظر آتی ہے۔ بر صغیر میں اسلام کی اشاعت بھی صوفیاء کے مرہون منت ہے۔ لہٰذا یہاں کے با شندوں کی باطنی کشمکش اور نفسیاتی بے کلی دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس خطے میں دوبارہ سے بین المذاہب ہم آہنگی اور روادای ایسی روایات کو فٖروغ دینے کے لئے شعوری کوششیں کی جائیں۔ کیونکہ اس جگہ کا خمیر امن، روحانیت، محبت اور برداشت سے استوار ہے۔

“ ڈاکٹر کامران کے خطوط کا حاصل مطالعہ اور مطمح نظر یہ ہے۔ ”مادر وطن پاکستان، بر صغیر پاک ہند میں بالخصوص اور دنیا کے اندر بالعموم اقتصادی، سماجی اور سیاسی امن قائم کرنے کی شعوری کوششیں ہونی چاہئیں تا کہ وہ وسائل جو قومیں آپس میں محاذ آرائیوں پر خرچ کر رہی ہیں وہ وسائل لوگوں کی سماجی ترقی ؛ تعلیم، صحت، خوراک اور رہائش کی بہتر سہولتیں بہم پہنچانے پر خرچ ہو سکیں۔“

ڈاکٹر کامران پیشے کے اعتبار سے نفسیات دان ہیں اور سر تا پا مادروطن کی محبت سے لبریز ہیں۔ ان کی بر صغیر کی قدیم تاریخ پر گہری نظر ہے۔ ان کے نظریے کے مطابق اس خطے میں امن قائم کرنے کے لیے ہمیں اپنی اصل کی طرف لوٹنا ہوگا۔ جس کا خمیر محبت، برادشت اور رواداری پر استوار ہے۔ کامران احمد نے ”نو ہزار سال پرانے برگد کی کہانی“ کے عنوان سے پاکستان کی قدیم تاریخ پر ایک ڈاکومنٹری بھی بنا رکھی ہے۔ روحانیات ان کا دلچسپی کا علاقہ ہے۔ اور وہ ”طریقت“ کے نام سے روحانیات کی نفسیات پر ایک خوبصورت اور دلچسپ کتاب کے مصنف بھی ہیں۔

کینیڈا کے شہر Whitby میں مقیم ڈاکٹر خالدسہیل ماہر نفسیات کے طور پر گزشتہ نصف صدی سے شمالی امریکہ میں انسانیت کے دکھ، سکھ میں بدلنے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ نفسیات میں ان کی خصوصیت کا علاقہ سائکو تھراپی ہے۔ جس میں ڈاکٹر صاحب کے گرین ذون لونگGreen Zone Living طریقہ علاج نے امریکہ اورکینیڈا میں خاصی پذیرائی حاصل کی ہے۔ بطور ادیب خالد سہیل پینتیس سے اوپر کتب کے مصنف ہیں۔ اور کینیڈا میں ”فیملی آف دی ہارٹ“ کے نام سے قائم کردہ ایک ادبی تنظیم کے روح رواں بھی ہیں۔

دونوں ادیبوں اور طبیبوں کے نظریہ امن کا خلاصہ یہ ہے کہ اقوام عالم اس وقت نازک دوراہے پر کھڑی ہیں۔ ان کے پاس جہاں موت کا وافر سامان موجود ہے۔ وہاں عقل و دانش اور سائنس اور ٹیکنالوجی جیسی متاع بھی۔ اب چاہے تو انسانیت اپنے آپ کو جنگوں کی آگ میں جھونک کر اجتماعی خود کشی کر لے اور چاہے تو دنیا میں اقتصادی امن، سماجی امن اور سیاسی امن پیدا کر کے اس کو جنت ارضی کا نمونہ بنا لے۔ ”امن کی تلاش“ پروگرام ان افراد کے لئے بہت دلچسپی کا باعث اور فائدہ مند ہوگا جن کی رسائی کسی وجہ سے Two Candles of Peace تک نہیں ہو سکی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •