صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا کا کرونا ٹیسٹ مثبت، دونوں قرنطینہ میں چلے گئے


امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد دونوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جمعے کو اپنے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ اُن کا اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد وہ فوری طور پر قرنطینہ میں چلے گئے ہیں اور وہ اس مرحلے سے آسانی سے گزر جائیں گے۔

امریکی صدر کا کرونا ٹیسٹ ایسے موقع پر مثبت آیا ہے جب وہ انتخابی جلسوں میں شرکت کر رہے ہیں۔

منگل کو انہوں نے ریاست اوہائیو میں پہلے صدارتی مباحثے میں شرکت کی تھی جس کے بعد بدھ کو صدر ٹرمپ نے منی سوٹا میں انتخابی ریلی سے خطاب کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے جمعے کو اپنا ٹیسٹ مثبت آنے سے متعلق ٹوئٹ سے دو گھنٹے قبل ایک ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ اُن کی مشیر ہوپ ہکس کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد انہوں نے بھی ٹیسٹ کرایا ہے جس کے نتیجے کے وہ منتظر ہیں۔

یاد رہے کہ ہوپ ہکس صدر ٹرمپ کی نہایت قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتی ہیں اور وہ اُن کی مشیر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

ہکس نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ منگل کو صدارتی مباحثے کے لیے صدر ٹرمپ کے ہمراہ ریاست اوہائیو کا سفر کیا تھا اور بدھ کو منی سوٹا میں صدارتی مہم کے سلسلے میں ہونے والی ایک ریلی میں بھی شرکت کی تھی۔

ریلی میں شرکت کے بعد جب ہوپ ہکس کا کرونا ٹیسٹ کیا گیا تو اُن میں وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد صدر ٹرمپ اور خاتونِ اوّل کا بھی ٹیسٹ کیا گیا۔

صدر ٹرمپ کے معالج نیوی کمانڈر ڈاکٹرسین کون لی کے مطابق صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ قرنطینہ کے دوران وائٹ ہاؤس میں ہی رہیں گے۔

انہوں نے صحافیوں کو رات تقریباً ایک بجے جاری کیے گئے میمو میں بتایا کہ جمعرات کی شام صدر ٹرمپ کا کرونا ٹیسٹ مثبت ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔

ڈاکٹر سین کون لی کے مطابق وائٹ ہاؤس کی میڈیکل ٹیم صدر ٹرمپ کی دیکھ بھال کرے گی۔ ان کے بقول ملک کے طبی ماہرین اور اداروں کی فراہم کردہ سپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہیں تاہم ڈاکٹر کون لی نے یہ وضاحت نہیں کی کہ وائٹ ہاؤس کو کس قسم کی معاونت فراہم کی گئی ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔  جمعے کو اپنے ایک ٹوئٹ میں عمران خان نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔

Facebook Comments HS

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3333 posts and counting.See all posts by voa