گھر میں رہنے کے مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے وبا نے باہر گھومنا شروع کیا انسانوں نے کھڑکیاں کواڑ بند کر کے خود کو چار دیواری میں قید کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ گھر میں خود کو محصور کرنے کے فوائد سے قطع نظر نقصانات کو دیکھیے انسان اور زیادہ پریشانی کے نزدیک جاتا ہے۔ گھر بہت سارے افراد پہ مشتمل ہوتا ہے اور ایک دوسرے کی شکل کے ساتھ ساتھ عقل اور نظریے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ گھر کے افراد ہر وقت آس پاس ہی رہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جو چیز چوبیس گھنٹے آنکھوں کے سامنے رہتی ہے اس سے نفرت ضرور ہو جاتی ہے۔

گھر میں رہنے سے سب سے زیادہ پریشانی شادی شدہ افراد کو ہوتی ہے۔ ان کے پاس جب کوئی کام کرنے کو نہ ہو تو وہ بیوی سے داؤ پیچ کھیلنے میں خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوران یا لڑنے کے بعد تماشائیوں سے بھی کبھی کبھار مڈبھیڑ ہوجاتی ہے۔ چونکہ تماشائی بچے ہوتے ہیں اور اگر بچے زیادہ ہوں، قوی امکان ہے کہ گالی گلوچ کی سرحد کو پھلانگ کر کے جس طرح آٹا گوندھتے ہیں ٹھیک اسی رفتار سے یہ ننھے ننھے بچوں کے جسم پہ مکا دکی وقتاً فوقتاً جاری رکھتے ہیں۔

کوئی کام نہ ہو اور چوبیس گھنٹے چار دیواری میں ہی گزارنے پڑیں تو ایسے واقعات رونما ہونا خلاف معمول نہیں۔ بیوی کے سامنے دن بھر میاں رہے اس سے محبت کم اور دشمنی زیادہ ہونے لگتی ہے۔ پہلے میاں کی ہر فرمائش پر لبیک کہا جاتا تھا اب وہ جب چوبیس گھنٹے سامنے ہی رہتا ہے، اس سے وہ محبت، مروت نہیں رہتی اور تعلقات میں تلخی سی آجاتی ہے۔ اس کی ہر بات ناگوار گزرنے لگتی ہے۔ پہلے اس کا انتظار رہتا تھا، اب اس سے دور رہنے کے بہانے اور حیلے تراشے جاتے ہیں۔

حضرات یہ شادی شدہ افراد کا حال تھا، شدید کنواروں کا حال اس سے مختلف نہیں۔ شادی شدہ افراد بیوی سے گتھم گتھا ہوتے ہیں، کنواروں کو تو یہ سہولت تک میسر نہیں۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس دوست بچتے ہیں لیکن دوست کمینے ہوں مشکلات کا ازالہ نہیں مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ دن بھر گھر میں بیٹھنے، اٹھنے پھر بیٹھنے، لیٹنے اور لیٹ کر اٹھ بیٹھنے سے انسان اکتاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس اکتاہٹ کو دور کرنے کے لیے گپ شپ اور تفریح چاہیے۔

ایسے دنوں میں گپ شپ صرف فون پہ ممکن ہے۔ اپنے فرصت کے لمحات کو غارت کرنا ہو تو دوست کو کال کر کے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ سلام کے بعد جوں ہی آپ کلام شروع کریں گے تو دوست بڑے ہی معتبر لہجے میں معذرت کرے گا کہ ”بھائی میں مصروف ہوں بعد میں بات کرتے ہیں۔“ آپ بھی تہذیب کے دائرے میں رہ کر اس کی بات کی تائید اور مصروفیت پہ حیرانی کا اظہار کر کے فون رکھ دیں گے۔ گویا تفریح کا یہ دروازہ بھی بند ہو گیا۔

گھر میں رہنے سے نہ صرف میاں بیوی کے تعلقات بگڑنے کا اندیشہ رہتا ہے بلکہ بھائی بھائی، بھائی بہن، والد بیٹے میں بھی اختلافات اور کبھی کبھار تیز کلامی جنم لیتی ہے۔ ساس بہو کے جھگڑوں اور رنجشوں سے گھر جو جہنم کا نمونہ بنتا ہے اس کا ذکر ہی چھوڑیں، معمولی معمولی باتوں پہ بھائی بھائی سے لڑتا ہے۔ تلخ کلامی اور لڑنے پہ ہی بات ختم نہیں ہوتی بلکہ ایک دوسرے سے مارپیٹ اور زد و کوب کی نوبت آن پہنچتی ہے۔ جب چوبیس گھنٹے ایک ہفتے کے برابر لگ رہے ہوں ایسے میں لڑنا جھگڑنا، پریشان ہونا اور مزاج میں چڑچڑا پن آنا اچنبھے کی بات نہیں۔ معمولی باتوں پہ غصہ کرنا انسان کا معمول بن جاتا ہے۔ ایسے میں خندہ پیشانی کا مظاہرہ کر کے جھگڑے اور ذہنی تناؤ سے بچا جا سکتا ہے اور وقت کے پہاڑ کو کاٹنے کے لیے کتابوں کا سہارا لیا جاسکتا ہے، لیکن حالات ابتر ہوں ذہن پریشان ہو کتاب بھی معذرت کے لہجہ میں گویا ہوتی ہے کہ مجھ سے دور ہی رہو ان حالات میں تمہیں اپنا ہوش نہیں میرے ساتھ کیسے انصاف کرو گے۔

گھر میں رہ کر کسی کے پاس کوئی کام نہیں، نہ ہی کوئی کام ایسا ہے جس کو کرنے کا ارادہ انسان کر سکتا ہے اس کے باوجود ہر فرد مصروف نظر آتا ہے۔ جو لوگ پہلے بے کار تھے اور شدید قسم کے بیکار ہو گئے ہیں اور جو مصروف تھے وہ بھی چار دیواری کے قیدی ہو گئے ہیں۔ ایسے وقت میں شادی شدہ افراد کے پاس زبردست موقع ہے کہ وہ اپنے قوت صبر کو آزمائے اور بیوی سے تکرار کے بجائے پیار والا اتصال رکھیں۔ کنوارے لوگوں کو بھی چاہیے اپنا محاسبہ کریں اور یہ سوچیں اگر قدرت نے انہیں دلہا بننے کا موقع دیا جس کو وہ اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں کہ کبھی نہ کبھی وہ ضرور گھوڑی چڑھیں گے تو وہ اپنے لیے کس قسم کا جیون ساتھی منتخب کریں گے۔ فی الوقت صرف خواب ہی دیکھیے خواب دیکھنے میں کوئی برائی نہیں ہاں مناسب ہے کہ خواب بھی شرافت کی حد میں رہ کر دیکھیے ان کاموں میں مصروف رہنے سے زندگی خوشگوار ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •