ٹیپو سلطان کے سفیر پیرس میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلطان ٹیپو شہید کی شخصیت اور جد و جہد ایسی نہیں جسے تاریخ فراموش کر سکے۔ سلطان ٹیپو 1782 کے آخر میں تخت پر بیٹھے اور 1799 کو سرنگا پٹم کا دفاع کرتے ہوئے آپ کی شہادت ہو گئی۔ ہندوستان میں یہ دور ہر لحاظ سے پستی کا دور تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا تسلط بڑھ رہا تھا اور ہندوستان کے باسی ایک دوسرے سے دست و گریبان تھے۔  ندوستان کی کوئی بھی ریاست جدید اسلحہ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔ قدرتی طور پر اس صورت حال میں سلطان ٹیپو نے ہندوستان سے باہر اپنے اتحادی ڈھونڈنے شروع کئے۔ اس غرض کے لئے انہوں نے افغانستان ، سلطنت عثمانیہ اور فرانس کی طرف اپنے سفیر روانہ کئے۔

اس کالم میں ہم ان سفیروں کی کاوشوں کا جائزہ لیں گے جنہیں سلطان ٹیپو نے فرانس روانہ کیا تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ میسور کی ریاست اور فرانس کا یہ پہلا رابطہ نہیں تھا۔ جنوبی ہندوستان میں پونڈی چیری کے مقام پر فرانسیسی موجود تھے۔

کہا جاتا ہے کہ سلطان ٹیپو کے والد حیدر علی کے دور میں ایک فرانسیسی ایڈمرل حیدر علی سے مذاکرات کر چکے تھے۔ اور فرانس میں ان روابط کا اتنا چرچا تھا کہ اس وقت فرانس میں ایک تصویر شائع کی گئی تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ فرانسیسی فوجی افسر نے حیدر علی کو کچھ چھڑیاں دی ہیں اور وہ ان چھڑیوں سے انگریز فوجی افسر کے کولہوں کی پٹائی کر رہے ہیں۔

لیکن ان مذاکرات کے نتیجے میں کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا۔ اس کے بعد فرانس کے بادشاہ لوئی ہشت دہم نے انگریزوں سے صلح کا معاہدہ کر لیا تھا۔ اور اب وہ ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی رقابت سے دستبردار ہو گئے تھے۔

اس کے بعد فرانس کے وزیر خزانہ ڈی کیلون نے ایک فرانسیسی ایسٹ انڈیا کمپنی بنائی جس کا مقصد ہندوستان میں تجارت تھا۔ اور اس کے لئے برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی سے معاہدہ کیا۔ فرانس کے ایک طبقہ کا خیال تھا کہ یہ معاہدہ بھی فرانس کی نسبت برطانیہ کو زیادہ فائدہ پہنچاتا ہے اور فرانس کے مفادات کے خلاف ہے۔

فرانس کے بادشاہ نے فرانسیسی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک افسر کو ہدایت دی کہ وہ سلطان ٹیپو سے رابطہ کرے۔ لیکن فرانس کے بادشاہ کا ارادہ صرف تجارتی مفادات کے لئے تعلقات پیدا کرنے کا تھا۔ وہ تجارت کے لئےجنوبی ہندوستان میں اپنی بندرگاہ قائم کرنا چاہتے تھے۔ دوسری طرف سلطان ٹیپو بھی میسور کی اقتصادی ترقی کے لئے کوششیں کر رہے تھے۔ اس کےعلاوہ انہیں نظر آ رہا تھا کہ انہیں جلد انگریزوں سے جنگ کرنی پڑے گی۔ اس کے لئے انہیں اتحادیوں کی ضرورت تھی۔

اس رابطے کو ایک موقع جانتے ہوئے سلطان ٹیپو نے فرانس اپنے سفیر بھجوانے کا فیصلہ کیا۔ سلطان ٹیپو نے جو وفد فرانس بھجوایا اس کی قیادت محمد درویش خان کر رہے تھے۔ اور دوسرے دو سفیر اکبر علی خان اور عثمان علی خان تھے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ان سفیروں کو بھجوانے کا مقصد صرف جنگی معاہدہ کرنا نہیں تھا۔ سلطان ٹیپو نے وفد کو ہدایت کی تھی وہ فرانس سے انجینیر اور ڈاکٹر حاصل کریں جو کہ میسور میں کام کریں۔ اس کے علاوہ سلطان ٹیپو نے فرانس کےبادشاہ سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ گلاس، پورسلین، گھڑیال، ہتھیار اور اون تیار کرنے والے کاریگر میسور بھجوائے۔

یہ سوچ ظاہر کرتی ہے کہ سلطان ٹیپو کے ذہن میں میسور کو ایک صنعتی مرکز بنانے کا منصوبہ تھا۔ اس وفد کو فرانس بھجوانے کا فیصلہ 1786 میں کر لیا گیا تھا لیکن اس دور میں سفر کے جو حالات تھے ان کی وجہ سے یہ وفد 1788 میں فرانس پہنچ سکا۔

بد قسمتی سے وفد پہنچنے سے کچھ ماہ قبل ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ جنگی معاہدے کا امکان معدوم نظر آنے لگا۔ اس وقت فرانس کا بادشاہ بہت کمزور ہو چکا تھا۔ اور اس کی پوزیشن اس قابل نہیں تھی کہ وہ ہندوستان میں انگریزوں سے ٹکر لے سکے۔ چنانچہ اس وفد کے پہنچے سے کچھ ماہ قبل فرانس کے بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ ہندوستان میں پونڈی چیری کے مقام پر موجود فرانسیسی افواج کو ہندوستان سے نکال کر ماریشس بھجوا دیا جائے۔

میسور کا سفارتی وفد 16 جولائی 1788 کو پیرس پہنچا۔ اس کی آمد کے بعد بادشاہ لوئی ہشت دہم کی ہدایت تھی کہ اس وفد سے صرف تجارتی مذاکرات کئے جائیں۔ اس وقت سلطان ٹیپو اور انگریزوں کے ساتھ ان کے تنازعہ کی خبریں پیرس میں بھی مشہور تھیں۔ اس لئے ان کی آمد کا پیرس کے عوام میں کافی چرچا ہوا۔

پیرس کا اخبار جرنل ڈی پیرس اس وفد کی سرگرمیوں کی خبریں باقاعدہ شائع کر رہا تھا۔ اور پیرس کے بہت سے مصوروں نے اس وفد کے افراد کی تصویریں بنائیں۔ یہ تصویریں اب تک محفوظ ہیں۔ پیرس میں ایک ایسا پوسٹر بھی شائع کیا گیا جس کے مرکز میں سلطان ٹیپو کی تصویر تھی اور کونوں میں ان کی سفراء کی تصو یریں تھیں۔ اس وفد کی سرگرمیوں کے بہت کم حالات محفوظ رہ سکے ہیں۔ لیکن اتنا معلوم ہے کہ اس وفد نے پیرس میں ایک فرانسیسی ماہر کی خدمات حاصل کی تھیں اور اس کے ساتھ مختلف فیکٹریوں کا دورہ کیا تھا۔ اور ان میں سے بعض صنعتی اداروں کو دعوت دی تھی کہ وہ میسور آ کر اپنی صنعت قائم کریں۔ ان میں سے ایک ادارہ وال پیپر بنانے کا ادارہ تھا جس کا نام Revellion تھا۔ ایک اور صنعتی ادارہ پورسلین کے برتن بنانے کا تھا۔ ان کی فیکٹری کا دورہ کر کے انہیں میسور میں فیکٹری بنانے کی پیشکش کی گئی تھی۔

لیکن فرانس کا ایک طبقہ اس بات کا مخالف تھا کہ اس مرحلہ پر فرانس کسی اور عالمی مہم جوئی کا حصہ بنے۔ امریکہ کی جنگ آزادی میں لوئی ہشت دہم نے برطانیہ کے خلاف بغاوت کرنے والوں کی جو مدد کی تھی، اس کے نتیجے میں فرانس کی حکومت بری طرح مقروض اور کمزور ہو چکی تھی۔ اس کی کمزوری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ میسور کے وفد کی پیرس میں آمد کے ٹھیک ایک سال بعد انقلاب فرانس کا آغاز ہو گیا اور فرانس کے بادشاہ کو پہلے تخت اور پھر زندگی سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔

یہ سفارت کار تین ماہ پیرس میں رہ کر واپس چلے گئے۔ اس وقت ان منصوبوں پر اس لئے زیادہ پیش رفت نہیں ہو سکی کیونکہ اگلے سال ہی انقلاب فرانس شروع ہو گیا اور فرانس ایک طرح کی خانہ جنگی میں الجھ گیا۔ جب نپولین بطور جرنیل مصر میں تھا تو اس کا ٹیپو سلطان سے رابطہ اور معاہدہ ہوا تھا۔ لیکن اس وقت بھی عملی طور پر فرانس زیادہ مدد نہیں کر سکا تھا۔

 مومی طور یہ سمجھا جاتا ہے 1788 کا یہ وفد عسکری طور پر کوئی پیش رفت نہیں کر سکا تھا۔ میری رائے میں یہ خیال غلط ہے۔ اس وقت امریکہ کے اخبارات بھی سلطان ٹیپو کی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے تھے۔ 1790 میں امریکہ میں شائع ہونے والی خبروں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس وقت فرانس اور سلطان ٹیپو کے درمیان کچھ سمجھوتا موجود تھا لیکن انگریزوں کے ردعمل سے بچنے کے لئے اس سمجھوتے کو ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ یہ تفصیلات آئندہ کسی کالم میں پیش کی جائیں گی۔

ان واقعات سے ایک سبق یہ حاصل کیا جا سکتا ہے کہ اگر کسی طاقتور دشمن کے مقابلے میں کسی اتحادی کی تلاش کی جائے تو یہ جائزہ لے لینا چاہیے کہ اس اتحادی کی اپنی پوزیشن اس قابل ہے کہ وہ اس تنازعہ میں کارآمد ثابت ہو سکے؟ اگرچہ اس وقت سلطان ٹیپو کے لئے یہ جاننا ممکن نہیں تھا کہ فرانس کے بادشاہ کے حالات کتنے دگر گوں ہو چکے ہیں۔

تفصیلات کے لئے ملاحظہ فرمائیں:

A Journal of Decorative Arts, Design History, and Material Culture, vol. 21, no. 1, 2014, pp. 37–68.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •