تصادم کی جانب بڑھتا سیاسی ڈیڈ لاک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک میں موجودہ سیاسی ڈیڈ لاک پر جن حلقوں کا خیال ہے کہ یہ آگے بڑھ کر تصادم کی شکل اختیار نہیں کرے گا، ان کے پاس اس بارے میں اگر کوئی دلیل ہے، تو صرف ماضی کے وہی حالات و واقعات ہیں، جن میں سیاسی قوتوں نے کئی قدم پیچھے ہٹ کر ملکی مفاد میں پسپائی اختیار کی اور افہام و تفہیم کو ترجیح دیتے ہوئے، پالیسی سازوں کی بالا دستی کو یہ سمجھتے ہوئے تسلیم کیا کہ آنے والا وقت بلآخر بالا دست قوتوں کو آئین و قانون کی پاسداری پر آمادہ کر ہی لے گا۔

اس مصلحت کوشی نے 69 برس تک انتظار کروایا، جو ہنوز جاری ہے۔ ملکی تاریخ پر نظر رکھنے والے لوگ 16 اکتوبر 1951ء کا وہ اندوہناک واقعہ یادوں میں تازہ رکھے ہوئے ہیں، جس دن پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو زندگی کے افق سے ہمیشہ کے لیے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس سمت میں ایک سلسلہ جاری ہو گیا، سیاسی قائدین کو غدار وطن ٹھہرانا، راستے سے ہٹانے کے انتظامات اور اقتدار پر مکمل قبضے کی کارروائیاں اب تک جاری ہیں۔

آج بھی ڈیڈ لاک کے خاتمے پر یقین رکھنے والوں کی تعداد، ماضی کے مقابلے میں کم ضرور ہوئی ہے، لیکن ماضی میں مصلحت کوشی کو مقدم جاننے کی روش پر کار بند لوگ، آج بھی سمجھتے ہیں کہ ماضی کی طرح اسٹیٹس کو کا جاری رکھنا اب بھی ممکن ہے۔

اسٹیٹس کو جاری رہنے کے بارے میں پر امید سوچ کا دار و مدار پالیسی سازوں کی بے پناہ فائر پاور، میڈیا پالیسی پر مکمل کنٹرول اور پروپیگنڈے کے ذریعے عوام کی ذہنی مانیٹرنگ، عوام میں سیاسی اکابرین کی ذات اور کردار کو مشکوک بنانے میں مقتدرہ کی کامیابی جیسے مفروضے پر قائم ہے۔

لیکن وقت نے ستر برس پہلے کی دنیا کو کس قدر بدل ڈالا ہے، اس سے اسٹیٹس کو کے حامی عناصر نا آشنا لگتے ہیں۔ تصادم نا گزیر نہ ہونے کا پختہ یقین رکھنے والے، عوام میں جڑ پکڑ جانے والے اس خیال پر بھی کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں ہیں، کہ موجودہ اپوزیشن سیاسی قیادت اچھی طرح سمجھتی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے مشرقی پاکستان میں شکست کے بعد ذمہ داروں کو سزا دینے سے اجتناب اور تصادم سے گریز کر کے جو غیرمناسب فیصلہ کیا تھا، تصادم کی جگہ مصلحت کوشی سے کام لیا تھا، اس کی کتنی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی تھی۔

پل کے نیچے سے بے تحاشا پانی بہہ نکلنے کے بعد، ضرورت یہ جاننے اور سمجھنے کی ہے کہ کیا پالیسی سازوں نے کوئی ایسا راستہ کھلا چھوڑا ہے کہ ڈیڈ لاک ٹوٹ سکے، یا یہ کہ کیا پالیسی ساز اپنے بے انتہا پھیلے پاؤں سمٹنے کی پوزیشن میں ہیں؟ اس کا با آواز بلند جواب ”نہیں“ میں ہے۔

ملک کی تمام بڑی جماعتوں کو کردار کشی کی بھینٹ چڑھانے، عدالتوں کے ذریعے راستے سے ہٹانے، اور عوامی سیاسی جماعتوں کو مٹا کر ملک کو ”ایک جماعتی“ حکومت مسلط کر کے، پردے کے پیچھے سے کٹھ پتلی نچانے کا عمل، کس طرح ممکن ہے، یہ سمجھانے کو کوئی تیار نہیں۔

حقیقت احوال یہی ہے کہ مقتدرہ کے اختیارات ان حدوں کو چھو چکے ہیں، جہاں سے واپسی خود ان کے کے لیے بھی اب ممکن نہیں رہی۔ چار درجن سے زائد صنعتیں جن میں بینکاری سے لے کر انشورنس تک، اور کھاد بنانے کے کارخانوں سے لے کر شیر فروشی تک، زمین جائیداد کی تجارت سے لے کر، گھر کے سودا سلف کے کاروبار تک، کون سا ایسا کاروبار ہے، جو محکمہ نہ کرتا ہو؟ صرف یہی نہیں بلکہ ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنی ہونے کے باوجود یہ تمام کاروبار نفع بخش بھی نہیں ہیں، بلکہ عوام مجبور ہیں کہ ان کے نقصانات اپنی جیب سے ادا کریں۔

دوسری طرف ترقی یافتہ دنیا، سرد جنگ کے دور میں جس طرح ڈالر برسایا کرتی تھی، اس برسات کے بعد ڈالر کے تعلق سے نا ختم ہونے والا ایک خشک سالی کا دور بھی شروع ہو چکا ہے۔

ڈالر کی یہ قلت کسی نئی سرد جنگ کے شروع ہو جانے کے مفروضے کے باوجود، دنیا ٹوئن ٹاورز کی تباہی یا اس سے پہلے کی سرد جنگ والی دنیا نہیں رہی۔ ملک میں ڈالر کی قلت اور معیشت کی رفتار، منفی میں چلے جانے کا مطلب صرف یہ ہے کہ ملک کی بچی کھچی معیشت میں جس قدر بھی نمی باقی رہ گئی ہے، اسے نچوڑ کر خشک کیا جائے، اور محکمے کے لیے مزید ڈالر کی برسات کی خاطر افتخار عارف کے بارہویں کھلاڑی کی طرح انتظار کیا جائے کہ دنیا میں ہمارے کھیلنے کو ”کوئی حادثہ ہو جائے، کوئی سانحہ ہو جائے“، جب تک ایسا نہ ہو اس وقت تک گھر کے اندر ہی سے جو مل سکے، جھاڑا جاتا رہے۔ اس المیے کی قیمت آئے دن بڑھتی مہنگائی کے عفریت کی صورت میں، ہر خاص و عام ادا کر رہا ہے اور مزید کرنا ہو گی۔ جب کہ آمدنی کا سکڑنا لازمی ٹھہرے گا۔

موجودہ حالات میں، آئندہ برس مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات، اپوزیشن کی زندگی اور موت کا سوال ہیں۔ سینیٹ میں آر ٹی ایس سسٹم نا کارہ بنا کر مسلط کی جانے والی حکومت کے سر پر ایک بار پھر ٹیلرنگ کے ذریعے اکثریت دلا کر، ملک میں تن تنہا ون پارٹی حکومتی راج کا تاج پہنانے کی کوششوں پر اپوزیشن کی گہری نظر بھی ہے اور اس سے پہلے پالیسی سازوں کو ہمیشہ کے لیے، ان کی حدوں میں بھیج دینے کا مصمم ارادہ بھی نظر آتا ہے۔

اس طرح کی صورت احوال میں کوئی سیاسی ڈائلاگ ہوتا نظر نہیں آتا، البتہ ایک امکانی تصادم کے بعد عوامی دور حکومت کی ابتدا ہوتی ضرور نظر آتی ہے، جو ملک و قوم کو ترقی پر گامزن کرے گی۔ یہ کام کسی تصادم سے بچ کے کر لیا جائے، تو یہ ملک کے لیے کہیں بہتر ہو گا۔ گلگت بلتستان کے انتخابات سے محکمے کا دور رہنا بے حد خوش آئند ہے۔ آئندہ دیگر انتخابات میں بھی سول سائیڈ کو اپنی اہلیت اور وسعت کو مضبوط بنانا ہو گا، تا کہ کوئی انگشت نمائی نہ ہو پائے۔

بیرکوں میں واپسی، پارلیمنٹ کے آگے جواب دہی، متعدد الزامات کی تحقیقات کے سوال پر ”ہمارا اپنا اندرونی سسٹم ہے“ نہیں قبول کیا جائے گا۔ اور ہر الزام کی تحقیقات مع مکمل آڈٹ، سول اداروں کی ذمہ داری ہو گی۔ غیر فوجی یا نیم فوجی محکمے کے سربراہ سویلین ہونے چاہیے۔

اب وقت ہے، ماضی میں ملکی مفاد میں مصلحتاً پسپا ہوتی چلی جا رہی سیاسی جماعتوں کے فرائض کی ادائیگی کا، جو یقیناً بہتر اور روشن دن کی نوید ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •