انور سادات: اسرائیل کے خلاف جنگ سے اسرائیلی پارلیمان سے خطاب تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

6 اکتوبر 1981ء کو مصر کے دار الحکومت قاہرہ میں یوم فتح کی پریڈ کے موقع پر، اسلام پسندوں کے ہاتھوں، امن کے نوبل انعام یافتہ صدر انور سادات کے قتل کا واقعہ، نا صرف مصر کے داخلی منظر نامے کی تبدیلی کا پیش خیمہ بنا، بلکہ اسے مشرق وسطی کی سیاست میں بھی دور رس نتائج کا حامل سمجھا جاتا ہے۔

انور سادات 25 دسمبر 1918ء کو دریائے نیل کے ڈیلٹائی علاقے کے ایک قصبے میت ابو الکوم کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ 13 بہن بھائیوں میں سے ایک تھے۔ ان کے والد مصری، جب کہ والدہ سوڈانی تھیں۔ انور سادات نے 1938ء میں قاہرہ میں رائل ملٹری اکیڈمی سے گریجویشن کیا اور سگنل کور میں بھرتی ہوئے۔ وہ فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے شامل ہوئے اور انہیں سوڈان میں تعینات کیا گیا، جہاں ان کی ملاقات جمال عبد الناصر سے ہوئی۔ انہوں نے برطانیہ اور شاہ مخالف حرکة الضباط الاحرار تشکیل دی، جس کا مقصد مصر کو برطانوی قبضے سے آزاد کرانا تھا۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران میں، برطانوی افواج کو مصر سے نکال باہر کرنے کے لیے محوری طاقتوں سے مدد کی کوششوں کے الزامات پر، برطانیہ نے انہیں قید میں ڈال دیا۔ انہوں نے 1952ء کی فوجی بغاوت میں حصہ لیا، جس میں شاہ فاروق اول کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ اس انقلاب کے موقع پر انہیں ریڈیو پر قبضہ کرنے اور انقلاب کا اعلان کرنے کا ہدف دیا گیا۔ مصری حکومت میں کئی عہدے سنبھالنے کے بعد 1964ء میں انہیں صدر جمال عبد الناصر کا نائب مقرر کیا گیا۔ انہوں نے اس عہدے پر 1966ء تک اور بعد ازاں 1969ء سے 1970ء تک کام کیا۔ 1970ء میں دل کے دورے سے جمال عبد الناصر کی وفات کے بعد، انہوں نے صدارت سنبھالی۔

انور سادات نے 1971ء میں اسرائیل کے ساتھ مکمل امن کے لیے اقوام متحدہ کو امن تجاویز دیں، لیکن امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ان تجاویز کو قبول نہ کرنے پر یہ کوشش نا کام ہو گئی۔ 1973ء میں سادات نے شام کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف جنگ یوم کپور چھیڑ دی، جس میں اولین کامیابیاں بھی حاصل کیں اور 6 روزہ جنگ میں اسرائیل کے قبضے میں آنے والے جزیرہ نما سینا کو آزاد کرا لیا۔ لیکن جنرل ایریل شیرون کی زیر قیادت اسرائیلی فوج کے تین ڈویژن نے نہر سوئز پار کر کے مصری فوج کا گھیراؤ کر لیا۔ اس موقع پر مصر کے اتحادی سوویت یونین نے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا۔

19 نومبر 1977ء کو سادات عرب دنیا کے پہلے صدر قرار پائے، جنہوں نے اسرائیل کا با ضابطہ دورہ کیا۔ اس دورے میں انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بیگن سے ملاقات کی اور بیت المقدس میں اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔ انہیں اس دورے کی دعوت بیگن نے دی تھی۔ 1978ء میں کیمپ ڈیوڈ میں امن معاہدہ طے پایا، جس پر سادات اور بیگن کو امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اس امن معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل نے مرحلہ وار جزیرہ نما سینا خالی کر دیا اور 25 اپریل 1982ء کو پورا علاقہ مصر کے حوالے کر دیا۔

انور سادات کے اس اقدام کی عرب اور مسلم دنیا میں شدید مخالفت کی گئی، کیوں کہ اسرائیل کے خلاف مزاحمت اور فلسطینیوں کو ان کی سرزمین پر آباد کرنے کی مسلمانوں کی تمام تر امیدیں اس وقت مصر سے وابستہ تھیں۔ اس اقدام سے مصر، عرب دنیا میں تنہا رہ گیا۔ 1979ء میں عرب لیگ نے مصر کی رکنیت معطل کر دی اور اپنا دفتر قاہرہ سے تیونس منتقل کر دیا۔ اس پابندی کا خاتمہ 1989ء میں ہوا اور صدر دفتر ایک مرتبہ پھر قاہرہ منتقل ہوا۔ انور سادات کے دور حکومت کے آخری ایام میں، ان پر اور ان کے اہل خانہ پر بد عنوانی کے الزامات عائد کیے گئے۔

سادات کے عہد صدارت کے خاتمے کے قریب، داخلی پالیسیوں کے خلاف، بطور احتجاج کئی مشیروں نے استعفی دے دیا۔ وزیر دفاع احمد بداوی کی پراسرار موت اور 6 مارچ 1981ء کو لیبیا کی سرحد کے قریب ہیلی کاپٹر گرنے سے 13 فوجی افسران کی ہلاکت پر عوام میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ اس حادثے کے بعد عوام کی جانب سے دو اہم سوالات اٹھائے گئے کہ حادثے کے باوجود ہیلی کاپٹر کا پائلٹ کس طرح زندہ بچ گیا اور مصری فوج کے قانون کے باوجود کہ دو سے زائد جرنیل کسی ایک گاڑی یا ہیلی کاپٹر میں سفر نہیں کر سکتے، 14 جرنیل اس ہیلی کاپٹر میں کیوں سوار ہوئے؟

ستمبر 1981ء میں سادات نے دانشوروں اور تمام نظریاتی تنظیموں کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا اور کمیونسٹوں، اسلام پسندوں، جامعہ کے معلمین، صحافیوں اور طلبا تنظیموں کے کارکنوں کو قید خانوں میں ڈال دیا گیا۔ اس مہم کے دوران میں 1600 افراد زیر حراست لیے گئے، جس کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی۔ اس آپریشن کے ایک ماہ بعد 6 اکتوبر کو قاہرہ میں ”یوم فتح پریڈ“ کے موقع پر انور سادات کو قتل کر دیا گیا۔ یہ قتل فوج میں شامل مصری اسلامی جہاد کے افراد نے کیا، جو اسرائیل کے ساتھ سادات کے مذاکرات اور ستمبر کریک ڈاؤن کے مخالف تھے۔ اس حملے کے دوران میں 7 افراد ہلاک اور 28 زخمی ہوئے۔

اس قاتلانہ حملے میں خالد اسلامبولی نامی ایک فوجی نے سادات کو قتل کیا، جسے بعد ازاں اپریل 1982ء میں سزائے موت دے دی گئی۔ اس مقدمے میں 300 سے زائد اسلام پسندوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں خالد اسلامبولی، ایمن الظواہری، عمر عبد الرحمن اور عبد الحامد کشک بھی شامل تھے۔

اس مقدمے کو عالمی سطح پر بھرپور کوریج ملی اور ایمن الظواہری کے انگریزی زبان پر عبور نے، انہیں ملزمان کا ترجمان بنا دیا۔ بعد ازاں 1984ء میں الظواہری کو رہا کر دیا گیا، جہاں سے وہ افغانستان روانہ ہو گئے اور اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی بن گئے۔ انور سادات کی جگہ نائب صدر حسنی مبارک نئے صدر قرار پائے۔ انور سادات نے دو شادیاں کیں، جن سے ان کی 3 بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔

انور سادات نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں ”انقلاب کی مکمل کہانی“ (1954ء) ”انقلاب کے نا معلوم صفحات“ (1955ء) ”نیل کنارے بغاوت“ (1957ء) ”بیٹا، یہ تمہارے چچا ہیں جمال“ جمال عبد الناصر کے حوالے سے انور سادات کی یادداشتیں (1958ء) ”شناخت کی تلاش: ایک سوانح عمری“ (1978ء) ”انور سادات کی زندگی اور ملک کی کہانی 1918ء کے بعد سے“، نامی کتابیں لکھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •