امریکی انتخابات میں حصہ لینے والی انڈیا اور پاکستانی نژاد خواتین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خواتین امیدوار

BBC
امریکہ میں تین نومبر کو ہونے والے انتخابات کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ امریکہ کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہیں۔ امریکہ سیاسی اور سماجی دونوں اعتبار سے منقسم ہے اور ملک میں وبا کے باعث ایک لاکھ 95 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں افراد بے روزگار ہیں۔

متعدد شہروں میں بلیک لائف میٹرز تحریک کے مظاہروں کا اختتام تشدد اور پولیس کارروائی پر ہوا۔

تین نومبر کو متعدد مقامی اور ریاستی انتخابات کا انعقاد ہو گا۔ بی بی سی کے نامہ نگار ونیت کھرے نے چند پاکستانی اور انڈین نژاد خواتین کے بارے میں جاننے کی کوشش کی جو ان انتخابات میں اپنی قسمت آزمائیں گی۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ کی آمد پر امریکہ میں خواتین کے ملین مارچ کی تیاری

امریکہ میں خواتین کو میدان جنگ میں لڑنے کی اجازت

امریکی فوج: خواتین اہلکاروں پر جنسی حملوں میں اضافہ

پاکستانی نژاد ثوبینہ ظفر: سان رامن سے میئر کے لیے امیدوار

سان رامن سان فرانسیسکو سے 35 میل مشرق کی جانب ایک خوبصورت شہر ہے۔ پاکستانی نژاد ثوبینہ ظفر سان رامن میں وائس میئر کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں اور اب میئر کا انتخاب لڑنے جا رہی ہیں۔ ان کے والد راجہ شاہد ظفر نے پاکستان میں بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں وفاقی وزیر کے طور پر کام کیا تھا۔

ثوبینہ ظفر نے زوم پر بی بی سی کو بتایا: ’میں انھیں (بے نظیر) کو سراہتے ہوئے بڑی ہوئی ہوں۔‘

وہ شادی کے بعد امریکہ چلی گئیں اور سان رامن جیسے 82000 نفوس کی متنوع آبادی والے شہر میں رہنے لگیں۔

ثوبینہ ظفر پہلی ایشیائی امریکی ہیں جو سٹی کونسل کی اہلکار ہیں۔ وہ بتاتی ہیں: ’شہر میں 52 فیصد افراد سفید فام نہیں ہیں اور یہ سب گذشتہ 10 سے 15 برسوں میں ہوا ہے۔‘

وہ سیاست میں کیسے آئیں؟ ثوبینہ کا کہنا ہے کہ سات برس قبل کانگرس رکن ایرک سوال ویل کے لیے ان کی خدمات نے خدمت خلق کے ان کے جذبے کو بڑھایا۔‘

انھیں ایمرج کیلیفورنیا کے نام سے ایک پروگرام میں ڈیمو کریٹک خواتین کو عہدوں پر کام کرنے کی تربیت دیے جانے کا علم ہوا۔ اس تربیت میں مختلف پس منظر رکھنے والی 40 خواتین تھیں۔

ثوبینہ کے بقول ’اس میں آپ اس بڑے ایکوسسٹم سے منسلک ہوتے ہیں کہ کیسے دفتر چلایا جاتا ہے، کیسے سرکاری عہدوں پر کام کرنے والی خواتین کے ساتھ تعلقات بنائے جاتے ہیں۔‘

’اس تربیت کے بعد میرے دماغ میں جو سوال آیا وہ یہ نہیں تھا کہ کب بلکہ تھا کہ کیسے؟‘

انھوں نے سنہ 2018 میں سٹی کونسل میں پہلی کامیابی حاصل کی اور نومبر 2019 میں ایک سال کے لیے ڈپٹی میئر تعینات ہوئیں۔ کاپریٹ اور ٹیکنالوجی میں ان کا تجربہ ان کے کام آیا۔

ان کا کہنا تھا ’مجھے کچھ بھی کہنے سے پہلے سیکھنا اور سننا پسند ہے۔ یہ ضروری ہے کہ آپ اپنی آواز اس وقت بلند کریں جب کچھ کہنا ضروری ہو اور وہ آپ کے دل کے قریب بھی ہو۔‘

تحفظ، علاقائی ٹریفک، ماحولیاتی تبدیلی ان کے کچھ مقامی مسائل میں سے ایک ہیں جنھیں وہ حل کرنا چاہتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’ہم سب اس ملک میں پناہ گزین ہیں۔ چاہے آپ یہاں 11 نسلوں سے ہیں یا محض ایک نسل پہلے سے ۔ یہ زمین ہم سب کی ہے۔ ‘

’یہ بہت اہم ہے کہ خاص طور پر اب جنوبی ایشیائی برادریوں کے لیے کہ ان کی آواز سنی جائے۔‘

رادھیکا کونال: انڈین نژاد امریکی، نیواڈا کے لیے ریاستی اسمبلی کی امیدوار

رادھیکا ایک سائنسدان ہیں جنھیں 11 ستمبر 2011 کا دن اچھی طرح یاد ہے۔

’میں کسی کو ٹیکسٹ کر رہی تھی، یہ منگل کا دن تھا، میں ایک تجربہ کرنے جا رہی تھی، میں نے اپنے لیب کے ساتھوں کو چلاتے ہوئے سنا۔ اوہ میرے خدایا، اوہ میرے خدایا۔ پوری دنیا میں ٹیلیوژن پر ٹوئن ٹاورز سے اٹھے دھوئیں کے بادلوں کے مناظر نشر ہو رہے تھے۔‘

’اس کے بعد میں نے یہ بیانیہ بھی سنا کہ اپنے ملک واپس چلے جاؤ۔ وہی ہمسائے جو پہلے بہت دوستانہ تعلقات رکھتے تھے اب ویسے نہیں رہے تھے حتیٰ کے انھوں نے اپنے دروازے ہم پر بند کر لیے۔‘

رادھیکا کی سیاست میں آنے کی یہی وجہ بنی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس کا مجھ پر اس قدر اثر ہوا کہ میں وقت کے ساتھ ساتھ بہت حساس ہو گئی۔‘

رادھیکا سنہ 1996 میں اپنی مائیکرو بائیولوجی میں پی ایچ ڈی کرنے امریکہ آئیں ان کا تھیسز کینسر بائیولوجی پر تھا۔ ان کی سیاست میں آنے کی ایک دوسری وجہ قانون سازوں میں سائنسدانوں کی کمی تھی۔

وہ کہتی ہیں ’اگر ہمارے فیصلہ سازوں میں سائنسدان نہیں ہوں گے تو ہم یہ توقع کیسے کر سکتے ہیں کہ لیبارٹری میں تخلیق ہونے والی سائنس کو صحیح طور پر بیان کیا جائے گا۔ ہمارے پاس ایسے فیصلہ ساز نہیں ہیں جو سمجھ سکیں کہ اسے بیان کیسے کرنا ہے۔‘

رادھیکا چاہتی ہیں کہ ریاست کے تنوع میں اضافہ ہو اور صحت اور تعلیم تک لوگوں کی رسائی بڑھے۔

فرح خان: پاکستانی نژاد امریکی، کیلیفورنیا میں اروائن شہر کے میئر کے لیے امیدوار

فرح تین سال کی عمر میں امریکہ آئیں۔ ان کی والدہ کا تعلق لاہور سے ہے اور والد کا تعلق کراچی سے ہے۔ وہ شکاگو اور سان فرانسیسکو میں پلی بڑھیں جس کے بعد وہ 2004 میں جنوبی کیلی فورنیا منتقل ہو گئیں۔

غیر منافع بخش امدادی اداروں کے ساتھ کام کرنے کے بعد انھوں نے سٹی کونسل کے رکن کے لیے انتخاب لڑا۔ وہ سنہ 2016 میں ہار گئی۔ یہ ان کے لیے ایک تجربہ تھا۔

فرح کا کہنا ہے ’جب آپ کسی عہدے کے امیدوار ہوتے ہیں لوگ سمجپتے ہیں یہ بہت شاہانہ ہے لیکن درحقیقت ہے بہت ظالمانہ ہے۔ آپ کو ایسی باتیں بھی سننا پڑتی ہیں کہ شاید یہ شہر اتنے تنوع کے لیے تیار نہیں۔ آپ سے پوچھا جاتا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟ فرح پہلی ایشین خاتون ہیں جو یہاں کونسل کے انتخاب کی امیدوار تھیں۔

ان کے بقول ’آپ کو یہ بھی سننا پڑتا ہے کہ آپ جیسے ناموں والے لوگ شاید ناقابل قبول ہیں۔‘

’ان سب سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے بعد آنے والے لڑکے لڑکیاں کیا سوچتے ہیں؟ انھیں کیسا محسوس ہوتا ہے جب وہ سیاست میں اپنی عدم نمائندگی دیکھتے ہیں۔‘

فرح کا کہنا ہے ’اس چیز نے مجھے دھکیلا اور سنہ 2018 میں دوبارہ انتخاب لڑا اور جیت گئی۔‘ فرح کے مطابق حالیہ میئر کو علم نہیں کے سماج کس قدر منتوع اور ترقی پسند ہو چکا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میرا مقصد ہے کہ میں لوگوں کو قریب لانے کے لیے پل بنوں۔‘

پدما کوپا: انڈین نژاد امریکی، میشی گن میں ٹوری اینڈ کلسن کی امیدوار

پدما کی والدہ 70 کی دہائی میں ان کے والد کے پاس امریکہ آئیں۔ پدما ایک کتابی کیڑا تھیں، ایک مصنف اور ریاضی دان۔ جب ان کے والد نے 1981 میں واپس انڈیا جانے کا فیصلہ کیا تو انھیں لگا کے ان سے مواقع چھین لیے گئے ہیں۔ وہ اس وقت 16 برس کی تھیں۔

لیکن وہ سنہ 1988 میں اپنے ماسٹرز کے لیے پھر سے امریکہ گئیں، ان کے والدین اور بھائیوں نے بھی پی ایچ ڈی کر رکھی تھیں۔ پدما کہتی ہیں ’جب میں میشی گن آئی تو یہاں لوگ دوسری تہذیبوں کے لوگوں سے آشنا نہیں تھے۔‘

ایک انجینیئر اور تجربہ کار پراجیکٹ مینیجر کی حیثیت سے انھوں نے آٹوموٹیو، فنانس اور آئی ٹی کی صنعتوں میں کام کیا۔ پدما نے بین المذاہب خدمات سرانجام دیں اور مقامی سطح پر بھارتیہ ٹیمپل آف میٹرو ڈیٹرائٹ کے لیے رضاکار کے طور پر کام کیا۔

’میں نے مندر کے لیے رضاکارانہ خدمات دیں کیونکہ میں چاہتی تھی کہ بچے اپنی اقدار سے جڑے رہیں۔ کیونکہ جب آپ ایسی جگہ جاتے ہیں جہاں سب گندمی رنگت کے ہیں تو آپ کو محسوس ہوتا ہے آپ الگ نہیں، سکون اور وابستگی کا احساس ہوتا ہے۔‘

پدما کہتی ہیں ’میں چاہتی تھی کہ وہ ہندوازم کو مجموعی طور پر سمجھیں اس طرح جیسے ہم گھروں میں بات نہیں کرتے۔‘ انھیں مقامی سیاستدانوں کے لیے گھر گھر جاکر ملاقاتیں کر کے اہم تجربہ بھی حاصل ہوا تھا۔

انھوں نے سنہ 2018 میں انتخاب جیتا اور اسی نشست کے لیے وہ پھر سے میدان میں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16021 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp