مٹی کی بے چین خوشبو کے بلاوے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گرمیوں کی کڑکتی دھوپ میں تپتی زمین پر کبھی یک دم گھٹا چھانے لگتی ہے امڈتے بادل آتے ہیں اور چھما چھم برکھا برسنے لگتی ہے۔ کھلے میدانوں پھیلے کھیتوں کی صاف۔ پیاسی مٹی پر پہلا چھینٹا پڑتے ہی جو سوندھی سوندھی خوشبو اٹھتی ہے اس میں چھپی چاشنی اک عجیب بے چینی لئے ہوتی ہے۔ اس میں بلاوے ہوتے ہیں۔ جو نہ جانے کب سے بچھڑی روحوں۔ اس پر کھیلتی رہی روحوں کا ہجر محسوس کرتے انہیں بلاوے بھیجتی رہتی ہیں۔ اپنے دیس میں۔ دور کے دیس میں۔ مرضی سے۔ مجبوری سے چلے جانے والے جب کبھی اس خوشبو کا بلاوا محسوس کرتے ہیں تو وہ اچانک۔ جانے کیسے پھر ملن کے لئے بے چین ہو جاتے ہیں۔

کبھی بلاوے، سند یسے ہوتے ہیں
آؤ دیس سے آنے والے بتا
کس حال میں ہیں یاران وطن
کس رنگ میں ہے کنعان وطن
اور کبھی فطرت غیب سے سامان پیدا کرتے ملن کے لئے کھینچ لاتی ہے

اسی کی دہائی کا اواخر ہے۔ پنڈی بھٹیاں اپنے ننھیال گھر میں مسقف صحن کے نیچے ایک کمرے کے آگے بچھے بیضوی سرخ رنگ کے میز کے گرد پڑے بنچوں پر میں اور ماموں زاد بڑے اسلم بھائی اور ان کے کچھ بچے بیٹھے چائے کی چسکیاں لیتے گپ لگا رہے ہیں۔ اچانک میرے منہ سے نکلتا ہے کہ میں نے اپنے انتہائی بچپن سے اس میز اور ان بنچوں کو اسی جگہ اسی رنگ میں پایا ہے۔ کبھی نانا کے ساتھ کبھی ماموں کے ساتھ اور اب چوتھی نسل کے ساتھ بیٹھا ہوں۔

بات ماضی کو ٹٹولتے ماموں کے بچپن کے دوست سرداری لال پہ پہنچی۔ تو میں نے بتایا، مجھے یاد ہے، میرے گھر میں جو بڑے بھائی کی بچپن کا فوٹو ہے، وہ سرداری لال کا کھینچا ہے۔ بتانے لگے کہ پنڈی بھٹیاں کے تمام ہندو سکھ باسی تقسیم کے بعد انتہائی حفاظت سے بارڈر پار پہنچا دیے گئے تھے اور اب بھی سردار لال کے خاندان سے تو رابطہ ہے ہی، کبھی کبھار کوئی بے چین روح کسی طرح خود آ بھی جاتی ہے یا سندیسہ آ جاتا ہے۔ بات کا رخ بے چین مٹی کی خوشبو کے بلاوے کی طرف مڑ چکا تھا

چند سال قبل مشرقی پنجاب کے کسی شہر سے ایک سکھ کا خط ماموں کو آیا اپنا تعارف کراتے یاد کرایا کہ ہمارا مکاں فلاں فلاں گلی میں فلاں تھا۔ لکھا۔ میں کوشش کر رہا ہوں کہ مجھے زیارات یاترا کے لئے ویزا کے ساتھ آبائی قصبہ کو جانے کی اجازت مل جائے آپ مہربانی فرماتے ہمارے مکان کے موجودہ مکینوں کو پوچھ کے بتائیں کہ اگر میں آؤں تو کیا مجھے اجازت دے دیں گے کہ میں اپنے گھر کے نلکے سے اسی طرح ٹونٹی پر منہ رکھ کے خود نلکا چلاتے پانی پی سکوں جس طرح بچپن میں پیا کرتا تھا۔

بتانے لگے۔ ایک سال قبل پنڈی بھٹیاں چنیوٹ روڈ پر شرقی جانب دو چار کلو میٹر پہ واقعہ ایک گاؤں میں پوسٹ مین، انگریزی میں، گاؤں کے ایک بزرگ کے نام، انڈیا سے آیا ایک خط لایا۔ جس کے ایڈریس میں ساتھ لکھا تھا۔ اگر اس نام کا بندہ اب موجود نہ ہو تو گاؤں کے کسی انگریزی پڑھے لکھے بندے کو یہ خط دے دیا جائے۔ بٹھنڈہ انڈیا سے آئے اس سندیسے میں اس نے اپنا اپنے ماں باپ اور رشتے داروں اور اس گاؤں کے باسیوں میں سے جو نام یاد تھے لکھتے ہوئے، اپنے گھر کی تمام نشانیاں لکھتے بتایا تھا، کہ وہ اب ایک بڑا ٹرانسپورٹر ہے اور بٹھنڈہ شہر کا میئر ہے۔ اس لئے اسے پاکستان کا ویزا مل سکنا بہت مشکل ہے۔ اس نے لکھا تھا کہ اگر اصل مخاطب کو یا اس کی بجائے جس کسی کو بھی یہ خط ملے تو اس سے ہاتھ جوڑ کے درخواست ہے کہ میرے والے گھر کے موجودہ مکینوں سے اجازت لے کے صحن میں لگے چولھے ( چولھے کی جگہ کی نشان دہی تھی) کے گرد سے تھوڑی سی مٹی اکھیڑ کے جوابی خط میں لفافہ میں رکھ بھجوا دے، کہ میں اسے چوم لوں اور بچوں کو دکھاؤں۔

میں جنرل بس سٹینڈ فیصل آباد کے سامنے واقع اپنی دکان پر بیٹھا تھا کہ ایک تانگہ آ رکا۔ ارے یہ اپنے اسلم بٹ صاحب ہیں۔ یہ تو کوئی سال بھر کے لئے انگلینڈ گئے تھے۔ ابھی اتنی جلدی۔ لڑکے کو بھگایا کہ ان کا سامان اتار کے لے آئے۔ بٹ صاحب دکان میں داخل ہوتے ہی فرش پر سجدہ ریز ہو گئے۔ رو رہے تھے اور فرش چومتے جا رہے تھے۔ اٹھے اور مجھے گلے لگ کے بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگے۔ ”اوئے شکر ہے میں اپنی مٹی پہ واپس آ گیا۔ اوئے شکر خدا کا کہ میں دو لفظ کسی کے ساتھ بول تو لوں گا۔ انہیں تسلی دی۔ لڑکے کو کھانا چائے لانے کا کہا۔ اب وہ سکون میں تھے۔ یہ انیس سو نوے کے لگ بھگ کی کہانی ہے۔

اسلم بٹ صاحب سے ہمارا گاہک دکاندار سے زیادہ دوستی کا رشتہ تھا۔ انیس سو ستاون میں سمندری شہر کے قریبی گاؤں کے سکونتی، کسٹم کے ایک ایسے سپاہی کی حیثیت سے تعارف ہوا، جو رزق حلال پر یقین رکھتے تھے اور نوکری کے ساتھ اپنے ایک دوست کے ساتھ سمندری اڈے پر موبل آئل اور پارٹس کی چھوٹی سی دکان بنا چکے تھے اور دوسرے چوتھے فیصل آباد ڈیوٹی کے بعد دکان کے لئے ہم سے بھی سامان خرید لے جاتے۔ جب معقول روٹی ملنے لگی تو نوکری چھوڑ دی۔

ان کے بچپن کے دوست نے انگلینڈ سے اسے اپنے خرچے اور ٹکٹ پر سیر سپاٹے اور وقت گزارنے کے لئے بلاتے ویزا کے لئے ضروری کاغذات تک بھجوائے تھے۔ اور کوئی چار ماہ قبل ہی کراچی سے سوار ہونے کے لئے مجھے مل کے سٹیشن روانہ ہوئے تھے۔ اب سال کی بجائے چار ماہ بعد ہی واپس میرے پاس بیٹھے، ہر چند منٹ بعد رونا شروع کرتے۔ مجھے لپٹتے اور واپس اپنی مٹی میں آنے پر خوشی کرتے۔ ذرا سکون ہوا تو بتانے لگے میرا دوست مجھے ایئر پور ٹ سے لے رات گھر رہنے کے بعد صبح سویرے اپنے ساتھ ساحل سمندر (بیچ) پر واقع اپنے نہانے کا سامان بیچنے والے سٹور پر لے گیا تھا۔ یہ چار مہینے دن رات اسی سٹور پہ گزرے تھے۔ جس کا اسے یہ بھی پتا نہ تھا کہ کہاں ہے اور ایڈریس کیا ہے۔ بس صبح شام کھانا مل جاتا۔ کئی مرتبہ گھمانے لے جانے کا وعدہ وفا نہ ہوا۔ بس سارا دن نہانے کے لباس میں ملبوس مرد و زن نظر پڑتے۔ کئی مرتبہ تو لڑکیاں لباس کی فٹنگ چیک کرنے فٹنگ روم جانے کی بھی زحمت نہ کرتیں۔ بٹ صاحب دو ہفتے بعد ہی دوست کی منت کرنے لگے کہ مجھے واپس بھیجو۔ مگر انہوں نے تو سال بھر کے لئے بلایا تھا اور بٹ صاحب کو سمجھ آ چکی تھی یہ سیر سپاٹا اسی بیچ اور کھانے تک اور سامان سجانے کی ڈیوٹی تک محدود تھا۔ وہی ان کے لئے گھر خط بھیجتے اور جواب پڑھ سنا دیتے۔

بتانے لگے میری اداسی اتنی بڑھ چکی تھی کہ ایک روز کچھ فراغت پا کے سٹور سے باہر کچھ دور گیا، تو ایک یہودی کے جوتوں کے سٹور میں گھس کے جوتے دیکھنے لگا۔ اچانک ایک شناسا ڈیزائن کا جوتا نظر پڑا تو پلٹا کر دیکھا۔ جوتے پر پاکستان کا لفظ دیکھتے ہی اس لفظ والی جگہ کو بے تحاشا چومتا جاتا اور روتا جاتا۔ یہودی مالک جو حیران ہو ہو دیکھ رہا تھا، دوڑا آیا اور پوچھنے لگا کیا بات ہے؟ تو میں جوتا آگے کر اتنا ہی کہہ سکا۔ مائی کنٹری۔

وہ مسکرایا۔ مجھے تسلی کی تھپکی دی۔ پھر اپنے گلے پر ہتھیلی اس طرح پھیری جیسے چھری گلا کاٹنے کو پھیرتے ہیں اور بولا۔ ویئر پرائم منسٹر۔ (یعنی جہاں وزیر اعظم کو پھانسی دی گئی تھی) اور میں اپنے دکھ کو دگنا کرتے واپس لوٹ آیا۔ پھر ایک دن بٹ صاحب اپنے دوست کو کہہ بیٹھے کہ کہ اگر تم نے مجھے فوراً واپس نہ بھجوایا تو میں اسی سمندر میں کود کے خود کشی کر لوں گا۔ اور آج بٹ صاحب کوئی چار ماہ بعد میری دکان کے فرش چوم کر وطن کی مٹی کے واپس بلانے پر شکرانے کے سجدے کر رہے تھے۔ میر ے ملازم بٹ صاحب کو سمندری کی بس پہ بٹھانے سامان اٹھا جا لاری اڈے کے اندر جا چکے تھے۔ اور میں کرب کے ساتھ سوچ رہا تھا، کہ دوست کی ”دوستی“ نے مٹی کی خوشبو کی مٹھاس میں جو اضافہ کیا تھا، اس میں کتنا درد شامل ہو گیا ہو گا۔

دو ہزار پانچ کی ابتدا میں ہم کینیڈا میں برامپٹن شہر میں ٹری لائن بولی وارڈ پر منتقل ہوئے تو وہاں کے سینئرز کی ایسوسی ایشن نے ممبر شپ کی دعوت دی۔ زیادہ تر سکھ چند ہندو اور ہم تین پاکستانی تھے۔ گرمیوں میں ہر دو ہفتے بعد سکول کے کمرے میں محفل جمتی۔ سموسے جلیبیاں نمک پارے کے مزے اور گپ شپ ہوتی۔ ہماری دوستی صاحب داد شرما سے، کہ اب بھی ان کے احسان مند ہیں، انہوں نے سینئرز کے لئے یوگا کی آسان ورزشیں سکھائیں، جو بہت سے جسمانی عوارض سے نجات کا باعث بنیں۔

ان میں نندہ صاحب بھی تھے۔ جو ہندوستانی پنجاب کی حکومت کے سیکرٹری کے عہدے سے ریٹائرڈ تھے۔ جب میں نے عرض کیا کہ ہمارے یہاں ایمن آباد میں نندہ خاندان آباد ہیں۔ (میرے کاروباری بہی خواہ پریمئر کارپوریشن کے امتیاز نندہ نے حاکم علی زرداری سے بمبینو سنیما خریدا تھا) تو بتایا کہ جی ہاں، ہم ایمن آباد کے ہی سکونتی ہیں۔ مگر وہاں رہنا یاد نہیں۔ پھر سنانے لگے کہ تقسیم ہند کے وقت ہمارے والد امپیریل بنک آف انڈیا کی راولپنڈی برانچ میں سیکنڈ افسر تھے اور راولپنڈی ہی قیام گاہ تھی۔ ہمیں والد صاحب پہلے ہی دہلی چھوڑ گئے تھے۔

جب فسادات بڑھے تو ان کی برانچ کے سٹاف نے ان کو بنک کی برانچ میں ہی کوئی دو ماہ چھپا رکھا تھا۔ ان دنوں جماعت احمدیہ کا ملکیتی ایک چھوٹا جہاز حکومت پاکستان کی دستاویزات و سامان لانے کے لئے دو چار روز بعد دہلی پنڈی کے درمیان چکر لگاتا۔ (ساتھ نیچی پرواز کرتے رستے میں آنے والے قافلوں کی نشان دہی بھی کرتا اور حکومت پاکستان جہاں ممکن ہوتا۔ فوج بھیج کے ان کی مدد کرتی یہ میرے علم میں تھا) جگہ ہونے پر یہ آتے جاتے مسافروں کو بھی لے آتی۔ بنک سٹاف میں سے ایک روزانہ پتا کرتا اور ایک دن دو گھنٹہ کے نوٹس پر والد صاحب کو کسی طرح نکال ایئر پورٹ پہنچا گیا اور وہ سو روپیہ کرایہ دے کے دہلی پہنچے۔

پھر ایک ایس یو چوپڑا، انڈین پنجاب کی پولیس کے کسی ڈویژن کے اکاؤنٹس آڈٹ افسر مجھ سے چند سال بڑے تھے، ایسوسی ایشن ہر ماہ کسی ایک تفریحی یا تاریخی جگہ کا ٹور رکھتی تو میری گپ شپ چوپڑا صاحب سے زیادہ ہوتی۔ سفاری پارک کی سیر کرتے بتانے لگے کہ اندرون شہر لاہور کے باسی ہیں۔ اردو پڑھ لیتے ہیں، لکھنا بھول چکے۔ بتانے لگے ہماری یہاں ایک تنگ گلی میں بڑی حویلی تھی۔ اور فسادات میں بچ بچا کے انڈیا پہنچ گئے تھے۔ انیس سو پچاس یا اکاون میں دونوں حکومتوں میں معاہدہ ہوا کہ تارکین وطن اگر اپنے متروکہ مکانوں میں کوئی چھپائی دولت یا دفینہ تلاش کر کے لانا چاہتے ہیں تو پولیس کی مدد لے کر نکال لا سکتے ہیں۔

چوپڑا صاحب کے چچا نے انہیں ساتھ لیا۔ وہ کوئی پندرہ سولہ سال کے ہوں گے۔ پرمٹ لے کے (ابھی ویزا پاسپورٹ لاگو نہیں تھا) ضروری کارروائی کرتے، پولیس کے تین چار افراد کے ہمراہ اپنی حویلی جا پہنچے۔ جب تک گھر میں داخلے کی اجازت ملتی چوپڑا صاحب اس گلی اور ملحقہ گلیوں میں اپنے دوستوں کے مکانوں کی چوکھٹوں کو چومتے رہے۔ حویلی کئی حصوں میں تقسیم چھوٹے چھوٹے یونٹوں میں چھے آٹھ خاندانوں میں بٹ چکی تھی۔ چچا بازار سے مزدور کدال ساتھ لائے تھے۔

باورچی خانے میں شکلوں ہی سے خاصے مفلوک الحال لگتے خاندان کی خاتون چولھے پہ ہنڈیا چڑھائے بیٹھی تھی۔ اسے اٹھایا گیا۔ جلتی لکڑیاں پانی سے بجھا کے چولھے والی جگہ پہ کدال چلنا شروع ہو گئی۔ کوئی ایک فٹ کی گہرائی میں ریت کے اندر چمڑے میں لپٹا ایک صندوقچہ برآمد ہوا جس میں ڈیڑھ دو کلو سونے کے اور کچھ چاندی کے زیورات اور چاندی کے سکے تھے۔

خاتون خانہ صدمے سے بیہوش ہو چکی تھی۔ اسے پانی کے چھینٹوں سے ہوش میں لایا گیا۔ ان کی حالت دیکھتے چچا نے ایک معقول رقم اس کی ہتھیلی میں تھمائی اور ہم واپس نکل آئے۔ چوپڑا صاحب کہنے لگے دفینہ ملنے کی خوشی سے زیادہ مجھے یہ غم تھا کہ میں حویلی میں اپنے کمروں میں نہیں جا سکا۔ اس کمرے میں جہاں میرا بستہ تھا۔ اس کمرے میں جہاں ہم چارپائی ڈال سویا کرتے۔ اس چھت پر جہاں ہم پتنگ اڑایا کرتے اور گولیاں کھیلا کرتے۔ اتنی دولت کی پوٹلی پکڑے چچا کو جلد لو ٹنے کی پڑی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ کاش میں گلی میں اخروٹ کھیلتے لڑکوں کے ساتھ چند سال قبل کا بچہ بن کھیل سکتا۔ آج بھی وہ گلی یاد آتی ہے۔ سونا نہیں، ہاں وہ چولھا اور اس کی بکھری مٹی، جسے اس دن اپنے ہاتھوں توڑا تھا (مجھے یاد ہے ان دنوں متروکہ گھروں کے اکثر باسی اپنے گھروں کی ہر وہ جگہ کھود چکے تھے، جہاں انہیں دفینہ چھپے ہو سکنے کا شک ہوتا)۔

اب یہ انیس سو اکانوے کا دسمبر ہے۔ جولائی میں دوسرا اور سخت ہارٹ اٹیک ہونے کے باوجود میں لئیق احمد اپنی اہلیہ اور بڑی بیٹی کے ہمراہ اٹاری سٹیشن سے خصوصی انتظامات کے ساتھ جاتے، قافلے کی ایک بس میں بیٹھا قادیان کی طرف رواں ہوں، جہاں سے چوالیس سال قبل ایک بس میں ہی نکل کے، واہگہ بارڈر پر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتا داخل ہوا تھا۔ بس بٹالہ سے آگے نکل چکی تھی اور میں بیوی اور بیٹی کو بتاتا ہوں کہ ہمارا گھر کیسا تھا اور کیا حالات تھے۔ ہم ہانڈی چولھے پہ دھری چھوڑ گھر سے نکلے تھے اور ایک ہفتے سے زیادہ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں بنے پناہ گزین کیمپ میں رہے تھے۔ اپنی یادداشت میں چھپے مگر کل کی طرح تازہ ہجرت کے واقعات سنا رہا تھا۔ جسے ساتھ بیٹھے دوست بھی سن رہے تھے کہ سب پیدا ہی پاکستان میں ہوئے تھے۔

رات گیارہ بجنے کو تھے۔ بٹالہ کی سرکاری شیشے ٹوٹی ٹپکتی چھت بغیر ترپال کے ہمارا سامان بھگوتی بس قادیان کی حدود میں داخل ہو رہی تھی۔ میں ماحول میں شناسائی ڈھونڈ رہا تھا۔ اچانک بس ایک موڑ مڑی۔ سڑک پر دو رویہ درختوں کی قطار بجلی کے کھمبوں پہ جلتے بلب کی روشنی میں اس کی واقفیت کا پتا دینے لگی۔ بس آہستہ ہونے لگی۔ بائیں طرف بڑی لمبی بلڈنگ کی کھڑکیاں نظر آ رہی تھیں، کہ منہ سے رندھی ہوئی آواز میں چیخ سی نکلی، ‘سکول۔ یہ تو ہمارا سکول ہے۔ یہ تو میرا سکول ہے’۔ یہی تو پناہ گزین کیمپ تھا بس کھڑی ہو گئی اور میں جذبات سے بھری گلو گیر آواز میں بولتا جا رہا تھا۔ بالکل وہی۔ صد فی صد وہی۔ جہاں سے چوالیس سال قبل پاکستان جانے کے لئے سوار ہوئے تھے۔ یا خدا یہ تیری کیا قدرت ہے۔ یہ کیا اتفاق ہے۔ کیا یہ اتفاق ہے؟ بس آہستہ آگے بڑھتی ملحق میدان میں داخل ہوئی۔ اعلان ہوا۔ مردانہ قیام گاہ یہاں ہے۔ مرد حضرات اپنے بستر اور ضروری سامان لئے یہاں اتر جائیں۔

خواتین کی قیام گاہ اندرون شہر ہے۔ میری بیٹی میرے ساتھ اتری۔ میرے لئے بستر اور میرا ضروی الگ کر کے باندھا۔ اور بسیں خواتین کے ساتھ روانہ ہو گئیں۔ ایک رضا کار نے میرا سامان اٹھایا اور ضلع فیصل آباد سے آئے مہمانوں کے لئے مخصوص کمرے کو لے چلا۔ اس نے کچھ فاصلے سے اشارہ کیا آپ کی قیام گاہ اس سامنے والے کمرے میں ہے۔ مجھے ایک اور جھٹکا لگ چکا تھا۔ یہ تو وہی کمرا ہے، جہاں ہم چوالیس سال قبل چند دن گزار چکے تھے۔

کمرے میں ویسی ہی پرالی بچھی ہوئی تھی اور اسی ترتیب سے مہمان اس پر بستر بچھائے لیٹے تھے۔ بس چوالیس سال قبل یہاں میں اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کے خواتین کی قیام گاہ کے پناہ گزین کیمپ میں تھا، اب یہ مرد مہمانوں کے لئے تھا۔ آج پچاس سال کا یہ دل کا مریض اپنے امڈتے جذبات کنٹرول کرتے سوچ رہا تھا، انہی کمروں میں میرے بھائی پڑھتے تھے اور ساتھ پرائمری سیکشن میں سیدھا دوسری میں داخل ہوا تھا۔ مگر یہ کیا؟ یہ کیا کرشمہ تھا؟ یہ کون سی کشش تھی؟ کیا یہ مٹی میرے لئے اتنی بے چین تھی کہ سیدھا اپنے پاس لا اتارا؟ یا اس کی بے چین خوشبو کا بلاوا تھا؟ اس کی چاہت کی شدت تھی جو مجھے سیدھا یہاں لایا، اسی کمرے میں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •