کیا آپ کے شوہر ایک دہریہ ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ اس دور کی بات ہے، جب آتش جوان تھا اور اپنے مذہبی اور غیر مذہبی اور لا مذہبی دوستوں سے خدا اور مذہب کے موضوعات پر گرما گرم بحثیں کیا کرتا تھا۔ اس دور میں ایک دن خبر آئی، کہ میرے ایک عزیز دہریہ دوست نے امریکہ سے پاکستان جا کر شادی کر لی ہے۔ وہ دوست اپنی بیگم کو لے کر واپس آئے تو میں نے فون پر اپنے دوست اور بھابی جان کو کینیڈا آنے کی دعوت دی۔ چند ماہ بعد وہ دونوں مجھ سے ملنے وہٹبی آ گئے، جہاں میں ایک تین بیڈ روم کے پینٹ ہاؤس میں رہتا تھا۔ میں اس شام اپنے دوست اور بھابی جان کے لیے ایک انڈین ریسٹورنٹ سے خاص کھانا لے کر آیا۔ ایسا کھانا جس میں سیخ کباب ’چکن کڑھائی اور ساگ گوشت کے علاوہ پلاؤ اور نان بھی شامل تھے۔

جب ہم کھانے کی میز پر بیٹھے تو بھابی جان نے کہا، ’سہیل بھائی کیا یہ کھانا حلال ہے؟‘
پہلے تو میں نے سوچا کہ کہہ دوں ’ہاں‘ انہیں بھلا کیا پتا چلے گا۔ لیکن پھر میری سیکولر اخلاقیات نے کہا کہ اگر میں نے ایسا کیا، تو میری بھابی جان کے ساتھ دوستی کی ابتدا ہی ایک جھوٹ سے شروع ہو گی۔ چنانچہ میں نے کہا، ’بھابی جان نہیں۔ یہ گوشت حلال نہیں ہے لیکن میں آپ کے لیے ایک آملیٹ بنا سکتا ہوں اور کل آپ کو ٹورانٹو کے جرارڈ سٹریٹ کے ایک حلال ریسٹورنٹ پر لے جا سکتا ہوں۔‘ چنانچہ اگلے دن جب ہم جرارڈ سٹریٹ کے ایک لاہوری ریسٹورنٹ میں حلال کھانا کھا رہے تھے تو بھابی جان نے کہا:
’سہیل بھائی آپ کو ایک خوشخبری سنانی ہے۔‘
’فرمائیں۔‘
’میں حاملہ ہوں اور آپ دعا کریں کہ ہمارے ہاں ایک بیٹی پیدا ہو؟
میں نے کسی پاکستانی عورت کو پہلی بار بیٹی کی دعا کرواتے سنا تھا۔
‘آپ بیٹی کی دعا کیوں کروانا چاہتی ہیں؟’ میں متجسس تھا۔
کہنے لگیں ’میں مسلمان ہوں اور آپ کے دوست ایک دہریہ ہیں۔ اس لیے وہ ختنوں پر ایمان نہیں رکھتے۔ اگر لڑکی ہوئی تو ختنوں کاکوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔‘

میں نے اپنے دوست سے کہا کہ مذہبی نہیں تو طبی حوالے سے بھی لڑکے کا ختنہ کروانا اچھا ہو گا لیکن وہ نہ مانے۔ میری سیکولر دعا اور بھابی کی مذہبی دعا دونوں قبول نہ ہوئیں اور ان کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔

بیٹا پیدا ہونے کے چند ہفتوں بعد بھابی کے چند رشتے دار ملنے آئے اور یہ جان کر ان کی مذہبی غیرت میں جوش آیا کہ بیٹے کے ختنے نہیں ہوئے۔ جب بھابی جان نے بتایا کہ ان کا شوہر دہریہ ہے تو انہوں نے کہا کہ اسے جلد از جلد طلاق دے دو، کیونکہ تم گناہ کی زندگی گزار رہی ہو۔ بھابی جان نے کہا، میں اپنے شوہر اور بیٹے کے باپ سے محبت کرتی ہوں۔ وہ کہنے لگے تم حقیقی خدا کی خاطر مجازی خدا کو خدا حافظ کہہ دو۔ بھابی جان نے اپنے مذہبی رشتہ داروں کی بات نہیں مانی اور وہ برسوں بعد اب تک ایک خوشحال اور محبت بھری ازدواجی زندگی گزار رہی ہیں۔ میرے دوست اور بھابی کی طویل کامیاب شادی نے مجھ پر یہ ثابت کیا کہ محبت مذہب سے زیادہ طاقتور چیز ہے۔

اپنے دہریہ دوست کی شادی کے بعد میں کئی اور ایسے جوڑوں سے ملا ہوں، جہاں بیوی مذہبی تھیں اور شوہر دہریہ۔ چند دن پہلے میری ایک نئی فیس بک فرینڈ نے جب مجھے بتایا کہ ان کے شوہر بھی دہریہ ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ بہت سے مذہبی لوگوں کے دہریوں کے بارے میں عجیب و غریب خیالات ہیں۔ اگر میں آپ کو چند سوالات بھیجوں تو کیا آپ ان کے جواب دیں گی۔ وہ بخوشی مان گئیں۔ میں آپ کی خدمت میں اپنے سوال اور ان کے جواب پیش کرتا ہوں، تا کہ آپ بھی دہریہ انسانوں اور مخلوط شادیوں کے بارے میں اپنے خیالات ’جذبات‘ اعتقادات اور نظریات پر نظر ثانی کر سکیں۔

سوال: آپ کا اور آپ کے شوہر کا کیا نام ہے؟ شادی کے وقت آپ کی عمریں کیا تھیں؟

جواب: میرا نام عاصمہ اور میرے شاہر کا نام افتخار ہے۔ شادی کے وقت میری عمر چوبیس برس اور ان کی عمر تیس برس تھی۔
سوال: آپ کی شادی کیسے ہوئی؟
جواب: ہماری شادی ایک ارینجڈ شادی تھی۔
سوال: آپ کو کب اور کیسے پتا چلا کہ آپ کے شوہر دہریہ ہیں؟
جواب: منگنی کے بعد ہماری فون پر بات چیت ہونے لگی۔ وہ ماہء رمضان تھا۔ ایک دن میں نے ان سے روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے کہ میں روزوں پر ایمان نہیں رکھتا۔ پھر آہستہ آہستہ مذہب کے موضوع پر مزید بات ہوئی تو پتا چلا کہ موصوف دہریہ ہیں۔

سوال: آپ کے اپنے نظریات کیا ہیں؟
جواب: میں مذہبی ہوں لیکن کٹر مذہبی نہیں۔ نماز روزہ اور دیگر عبادات باقاعدگی سے تو نہیں لیکن اس وقت کر لیتی ہوں جب دل کرے اور روح آمادہ ہو۔ میں ایک خدا کو تو مانتی ہوں لیکن یہ سمجھتی ہوں کہ خدا ہمارے دل و دماغ میں بستا ہے۔ اسی طرح رسول پیامبر بن کر ایک انسان کی طرح دنیا میں آئے اور رواداری اور بہتر اخلاق کا مظاہرہ کر کے ہمیں ایک بہتر انسان بننے کی تلقین کرتے رہے (میں انہیں کسی ’ملا‘ کی طرح کوئی ماورائی مخلوق نہیں سمجھتی)۔

سوال: آپ کے کتنے بچے ہیں اور ان کی عمریں کیا ہیں؟
جواب: ہماری ایک بیٹی ہے، جس کی عمر دس برس ہے۔ یانیہ اس کا نام ہے اور وہ پانچویں کلاس میں پڑھتی ہے۔ ہم ایک ہی بچہ چاہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بیٹا ہویا بیٹی ان میں کوئی فرق نہیں۔
سوال : آپ اس کی تربیت کیسے کرتے ہیں؟
جواب: ہم چاہتے ہیں کہ بحیثیت انسان وہ ایک مکمل انسان بنے۔ اسی لیے ہمارا رویہ اس کے ساتھ دوستانہ ہے۔ ہم اس پر اپنے فیصلے نہیں ٹھونستے۔ ہم اسے اچھے برے کا فرق بتاتے ہیں اور پھر اسے فیصلہ کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔ مذہب کے معاملے میں بھی ہمارے یہی خیالات ہیں۔ ہم نے اسے قرآن پڑھا دیا ہے اور مذہبی تعلیم سے بھی متعارف کروا دیا ہے لیکن بڑے ہو کر مذہب کے حوالے سے وہ جو بھی فیصلہ کرے گی وہ ہمیں منظور ہو گا۔

سوال: آپ کی شادی روایتی شادی سے کیسے مختلف ہے؟
جواب: ہماری شادی روایتی شادی سے اس طرح مختلف ہے کہ منگنی کے بعد فون پر رابطہ قائم کرنے کے بعد، ہم نے شادی کے وقت روایتی رسوم و رواج اور بے جا اخراجات سے پرہیز کیا۔

سوال: دوستوں رشتہ داروں کا آپ کی شادی کے بارے میں کیا رد عمل ہے؟
جواب: میرے شوہر غیر روایتی طور پر زندگی گزارتے ہیں۔ مجھے اپنے لباس پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ میں پردے کی پابند نہیں لیکن دوپٹہ اوڑھتی ہوں۔غیر روایتی زندگی کی وجہ سے کوئی ہمیں ہیرو سمجھتا ہے کوئی ولن۔ مجھے زیادہ پرابلم خواتین کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ کچھ مذہبی لوگ ہمارے دوست ہیں لیکن کچھ بہت برے ریمارکس پاس کرتے ہیں۔ دہریہ ہونے کی وجہ سے بعض مذہبی لوگ سمجھتے ہیں کہ میرے شوہر بے راہ روی کا شکار ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ اس کو کبھی ہدایت نہیں دے گا۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ان مذہبی لوگوں کو جب کوئی مسئلہ در پیش ہو تو اس مسئلے کے حل کے لیے مشورہ کرنے بھی میرے شوہر کے پاس ہی آتے ہیں اور وہ ان کی مدد کرتے ہیں۔

سوال: آپ کی شادی کی کامیابی کا راز کیا ہے؟
جواب: ہماری کامیاب شادی کی بنیادی وجہ ایک دوسرے سے دوستی ہے جو کہ انگیجمنٹ کے دوران میں ہی ہو گئی تھی۔ مزید ہم ایک دوسرے پر اپنے فیصلے مسلط نہیں کرتے۔ ہم ایک دوسرے کی شخصی آزادی کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ میں مذہبی ہوں تو انہوں نے کبھی مجھے اس کے بارے میں روکا ٹوکا نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مذہب ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے۔ اسی طرح میں بھی سمجھتی ہوں، بحیثیت انسان وہ اچھے ہیں۔ اخلاقی اقدار کے حوالے سے بھی۔ سو مجھے کیا کسی کو بھی اختیار نہیں کہ ان کے نظریات پر کمنٹ کرے یا انہیں بدلنے کے لیے اصرار کرے۔ ہماری شادی کے بارہ سالوں میں مذہب کے حوالے سے ہمارا کبھی کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم آپس میں دوستوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 372 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail