بلوچستان: ایک اور قیمتی اثاثے کا نقصان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قربانی کے جس موڑ پر ابھی ہم کھڑے ہیں
یہاں سارے درد اب برداشت سے پرے ہیں

اتنا تو جنگوں میں بھی نقصان نہیں ہوا ہے۔ جتنے ہمارے لوگ روڈ حادثات میں مرے ہیں۔ حادثات پر حادثات ہوتے ہیں لیکن کوئی یاد نہیں رکھتا دو چار روز بات کر کے پھر کوئی بات نہیں کرتا، مسائل کا تذکرہ سب کرتے ہیں لیکن حل کوئی تلاش نہیں کرتا، جس کیے جی میں جو آئے وہ کہتا ہے مگر کوئی عقل کی بات نہیں کرتا۔

جو چلا گیا دہر دو سارے الزام اس پر
زندوں پر کوئی الزام کیوں نہیں کرتا

ایک اور بڑا حادثہ جس میں قوم کی بیٹی اور تعلیمی اداروں کی ٹاپر جو اس قوم کی مقدر بدلنے کی صلاحیت رکھتی تھی نہ رہی۔ ڈاکٹر شہر بانو جو کہ بولان میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی طالبہ تھی اور اپنا ایک سمیسٹر امریکہ سے سکالرشپ کے ذریعے پڑھ کے آئی تھی اور سب سے بڑھ کر قرآن پاک کی حافظ بھی تھی۔ ایسے قیمتی سرمائے کے بچھڑ جانے کا نقصان صرف خضدار کا نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔

اس روڈ پہ بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں اور بھی ہو رہے ہیں اور مستقبل میں نہ جانے کتنے اور قیمتی جانیں ضائع ہوں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی خاموشی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے اور ہمارے وزیراعظم، وزیراعلٰی، لوکل ذمہ داران اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی ہر طرح سے ہمارے عوام اور نوجوان نسل کے قاتل ہیں۔

میں اپنی پیاری شہید بہن سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں،

میری پیاری بہن میں مجبور، لاچار اور بے بس تھا آپ کے لئے اور آپ سے پہلے شہید ہونے والوں کے لیے کچھ نہ کر سکا، میں چیختا چلاتا رہا اور صدائیں بلند کرتا رہا لیکن یہ اندھے بہرے حکمرانوں کو فنڈز اور بجٹ کی رقم میں زیرو تو نظر آتے ہیں لیکن ان کو ہمارے حادثات میں نعشیں اور آنسو نظر نہیں آتے اور ہماری روتی ہوئی سسکیاں سنائی نہیں دیتی اور انھوں نے ہمارے مسائل کو مذاق بنا رکھا ہے۔

میری پیاری شہید بہن آپ کے ابا جان کی خاموشی نے ہزار سوالات کیے مجھ سے۔ بے بس لاچار غمزدہ باپ کی آہوں، سسکیوں، ہچکیوں اور آہ و بکا سے میرا دل لرز رہا تھا۔ ماحول کی سوگواریت ہمارے اندر تک اتر چکی تھی۔ لگ رہا تھا دکھی باپ کے غم میں ہر چیز نے ماتمی لباس پہن لیا ہے۔ میں بے بسی سے بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کس طرح اس بے بس غمزدہ باپ کی مدد کروں اس کی سسکیوں آہوں کو دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

غمزدہ باپ صبر و استقامت کا پہاڑ تھا۔ پھر بھی اس نے رب کا شکر ادا کیا۔ لیکن اس کا دامن خالی کا خالی ہی رہا زندگی کی آگ برساتی سلگتی حقیقتوں کا صبر سے مقابلہ کیا۔ تو باپ کا پیما نہ صبر چھلک پڑا باپ بیٹی کے عظیم رشتے کے گداز اور نزاکت کو وہی سمجھ سکتے ہیں جن کی بیٹیاں ہیں۔ جو بیٹیوں کا درد محسوس کرتے ہیں کیونکہ بیٹیاں تو معصوم رنگ برنگی تتلیوں کی طرح ہوتی ہیں جو مسائل اور مصائب کی ہلکی آنچ سے ہی مرجھا جاتی ہیں۔

یہ معصوم کلیاں موسم کی ذرا سی سختی سے ہی پھیکی پڑ جاتی ہیں باپ جو ہر مشکل پر مسکراتا رہا لیکن جیسے ہی بیٹی کی شہادت کا سنا اس کے چہرے پر گہری اداسی کا رنگ اترا۔ بیٹی کسی بھی باپ کا حساس حصہ ہوتی ہے میں نے بڑے بڑے مضبوط اعصاب کے والدین کو دیکھا ہے جو وہ بیٹی کے غم میں بدل گئے ٹوٹ کر بکھر گئے۔

اس رشتے پر ذرا سی آنچ آئی نہیں اور باپ کی کمر غم سے جھکی نہیں باپ کی چیخیں نکلی نہیں۔ یہ شخص بھی صبر تشکر کا پہاڑ تھا۔ رونے والوں نے اٹھا رکھا تھا گھر سر پر مگر، عمر کے اس حصے میں کھڑا وہ بزرگ شخص جدائی کا صدمہ برداشت کر نے کی کوششوں میں تھا۔

آپ کا زخمی بھائی جس کو آپ کی شہادت کا علم بھی نہیں تھا، اس کی لاعلمی کا درد اور بار بار بہن کو دیکھنے کی ضد میرے مردہ ضمیر کو بار بار جھنجوڑتی رہی، پر میں کیا کرتا میں بھی ان خاموش، گونگے، بہرے اندھے عوام کا حصہ ہوں جو حادثات پر افسوس تو کرتے ہیں، نعشیں اٹھاتے ہیں اور اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں لیکن افسوس اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز نہیں اٹھاتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نجیب یوسف زہری کی دیگر تحریریں